Muhammad Alvi

Muhammad Alvi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Alvi, Digital creator, Jhamat shumali, Bhakkar.

07/08/2026

بھکر ای چالان شروع

پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد
03/08/2026

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

30/07/2026

آج میں ایک ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں جس پر میری گزشتہ ویڈیو کے بعد بہت زیادہ تبصرے آئے کچھ دوستوں نے میری بات سے اتفاق کیا کچھ نے اختلاف کیا اور بعض نے یہ سمجھ لیا کہ شاید میں کسی مخصوص مذہبی پروگرام یا کسی خاص طبقے کے خلاف بات کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے میں ایک بات بالکل واضح کردیناچاہتا ہوں میرا مسئلہ نہ کسی مذہب سے ہے نہ کسی مسلک سےنہ کسی جلوس سے نہ کسی اجتماع سے میرا مسئلہ صرف اور صرف عوامی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں سے ہے اگر کسی دن ایک مذہبی اجتماع ہواگلے دن کوئی سیاسی جلسہ ہو اس کے بعد کوئی سرکاری تقریب ہو یا کسی وی آئی پی کی آمد ۔۔۔ ہو میرا مؤقف ہر جگہ ایک ہی رہے گی

عوام کو غیر ضروری تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
ایک لمحے کے لیے سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک شخص اپنے بیمار والد کو ہسپتال لے جا رہاہےکوئی مزدور اپنی دیہاڑی کے لیے جا رہا ہے۔

کوئی طالب علم امتحان دینے جا رہا ہے۔

کوئی مسافر بس اڈے یا ریلوے اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر اچانک راستے بند ملیں سڑکیں سیل ہوں، جگہ جگہ کنٹینر کھڑے ہوں اور لوگوں کو معلوم ہی نہ ہو کہ جانا کہاں ہے، تو کیا انہیں پریشانی نہیں ہوگی؟

اور اگر وہ اپنی اس پریشانی کا اظہار کریں تو کیا یہ ان کا حق نہیں؟

بعض دوستوں نے کہا کہ "سوشل میڈیا تمہارے باپ کا نہیں۔"

میں ان سے عرض کرتا ہوں:

بالکل درست فرمایا۔

سوشل میڈیا نہ میرا ہے، نہ آپ کا۔

یہ ہر شہری کا پلیٹ فارم ہے۔

اگر کوئی اپنی خوشی شیئر کر سکتا ہے تو اپنی تکلیف بھی بیان کر سکتا ہے۔

اگر کوئی تعریف کر سکتا ہے تو تنقید بھی کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شائستگی اور قانون کے دائرے میں ہو۔

اختلاف ہر انسان کا حق ہے، لیکن نیتوں پر حملہ کرنا کسی کا حق نہیں۔

میرے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ فلاں پروگرام ہونا چاہیے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا بہتر انتظام کے ساتھ یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا؟

میرا جواب ہے:

بالکل ہو سکتا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں لاکھوں افراد کے اجتماعات ہوتے ہیں۔

بڑے مذہبی پروگرام ہوتے ہیں۔

قومی تقریبات ہوتی ہیں۔

کھیلوں کے عالمی مقابلے ہوتے ہیں۔

لیکن وہاں کوشش کی جاتی ہے کہ سیکیورٹی اور عوامی سہولت دونوں ساتھ ساتھ چلیں۔

اب ذرا ایک اور سوال پر غور کریں۔

ہمارے ہاں اکثر کیا ہوتا ہے؟

کسی پروگرام سے پہلے یا دورانِ پروگرام کئی مقامات پر کنٹینر کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔

سڑک مکمل بند کر دی جاتی ہے۔

لوگ گھنٹوں متبادل راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل صرف کنٹینر ہے؟

کیا سیکیورٹی کا مطلب صرف راستہ بند کرنا ہے؟

میرے خیال میں سیکیورٹی کا اصل مقصد خطرے کو روکنا ہے، عوام کو روکنا نہیں۔

اگر کسی مقام پر چیکنگ کرنی ہے تو چیکنگ کیجیے۔

اگر شناخت دیکھنی ہے تو دیکھیے۔

اگر نگرانی بڑھانی ہے تو بڑھائیے۔

اگر نفری کم ہے تو مزید نفری لگائیے۔

لیکن ہر جگہ کنٹینر لگا دینا اور پورا نظام جام کر دینا شاید بہترین حل نہیں۔

بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی سہولت کے بجائے متعلقہ عملے کی سہولت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ایک طرف لوگ دھوپ میں پریشان کھڑے ہوتے ہیں، دوسری طرف چند اہلکار ایک جگہ بیٹھ کر پورے علاقے کو بند سمجھ لیتے ہیں۔

حالانکہ اصل سیکیورٹی تو مسلسل نگرانی کا نام ہے۔

اصل سیکیورٹی یہ ہے کہ آنے جانے والوں پر نظر رکھی جائے۔

مشکوک سرگرمیوں پر توجہ دی جائے۔

زمینی حقائق کو دیکھا جائے۔

صرف رکاوٹ کھڑی کر دینا مکمل سیکیورٹی نہیں ہوتی۔

اور ایک اور اہم بات۔

اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ صرف گاڑی یا موٹرسائیکل خطرہ بن سکتی ہے تو یہ سوچ بھی مکمل نہیں۔

اگر خطرے کا امکان ہے تو وہ مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے۔

اس لیے سیکیورٹی کا نظام جامع ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سڑک بند کرنے تک محدود۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر حل کیا ہے؟

میری نظر میں چند سادہ اور قابلِ عمل تجاویز ہیں:

پہلی تجویز:

کسی بھی بڑے پروگرام سے پہلے مکمل ٹریفک پلان جاری کیا جائے۔

دوسری تجویز:

متبادل راستوں کے بورڈ اور نشانات واضح طور پر لگائے جائیں۔

تیسری تجویز:

ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے خصوصی راستہ ہر حال میں کھلا رکھا جائے۔

چوتھی تجویز:

مکمل سڑک بند کرنے کے بجائے جزوی یا مرحلہ وار بندش کی جائے۔

پانچویں تجویز:

ٹیکنالوجی، کیمروں اور مؤثر چیکنگ کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ ہر مسئلے کا حل صرف کنٹینر نہ بن جائے۔

چھٹی تجویز:

پولیس، ضلعی انتظامیہ، پروگرام کے منتظمین اور مقامی نمائندوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے۔

ساتویں تجویز:

عوام کو کم از کم چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے پہلے مکمل معلومات فراہم کی جائیں تاکہ لوگ اپنے معمولات اسی حساب سے ترتیب دے سکیں۔

میرے نزدیک یہ مسئلہ کسی ایک مذہب، ایک جماعت یا ایک ادارے کا نہیں۔

یہ انتظامی صلاحیت کا مسئلہ ہے۔

جب نظام اچھا ہو تو لوگ خوش ہوتے ہیں۔

جب نظام کمزور ہو تو عوام پریشان ہوتی ہے اور پھر شکایات جنم لیتی ہیں۔

اس لیے ہمیں الزام تراشی کے بجائے حل کی طرف جانا چاہیے۔

میں ایک بار پھر واضح کر دوں:

میری بات کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔

میری بات کا مقصد نفرت پھیلانا نہیں۔

میری بات کا مقصد تقسیم پیدا کرنا نہیں۔

میری بات صرف اتنی ہے کہ مذہبی آزادی بھی محفوظ رہے، سیکیورٹی بھی برقرار رہے اور عوامی سہولت بھی متاثر نہ ہو۔

اگر ہم یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ حاصل کر لیں تو یہی ایک کامیاب اور مہذب معاشرے کی نشانی ہوگی۔

آپ اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔

لیکن آئیے ایک سوال اپنے دل سے پوچھتے ہیں:

کیا بہتر انتظام ممکن ہے؟

اگر جواب ہاں ہے، اور میرے خیال میں جواب ہاں ہے، تو پھر ہمیں اسی بہتر نظام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف، حکمت، برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یارب العالمین

30/07/2026

مرنے سے پہلے یہ کام ضرور کرلیں

29/07/2026

27/07/2026

بھکر شہر کے راستے بند شہری خجل خوار ہورہے ہمارے سیاستدان ستو پی کر سو رہے ہیں

26/07/2026
19/07/2026

کیا واقعی مولانا نے شہداء کی توہین کی ہے؟

‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎

13/07/2026

صحابہ کا جو غلام ہے ہمارا وہ امام ہے


12/07/2026

مفتی تقی عثمانی صاحب کا کرپٹو کرنسی کے ناجائز حرام ہونے کا فتویٰ 👇💯✅

Address

Jhamat Shumali
Bhakkar
30111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Alvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share