06/12/2025
دیہات کے علاقوں میں ایک بات میں اکثر نوٹ کرتا رہتا ہوں کسی کی فوتگی ہو یا شادی بیاہ کی تقریبات اکثر رشتے دار کھانے کی وجہ سے ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں یا روٹھ جاتے ہیں حالانکہ رشتے دار کا تو حق بنتا ہے جس کی غمی یا خوشی میں شریک ہیں اس کیلئے آسانیاں پیدا کریں نہ کہ اسے پریشان کریں سب سے پہلے جو کھانے کی وجہ سے ناراض ہوتے ہیں یا کھانے میں نقص نکالتے ہیں وہ بلکل قریبی رشتے دار ہی ہوتے ہیں تھوڑا لیٹ ہو جائے کھانا تو شور مچا مچا کر پورے محلے بلکہ تیسرے محلے تک خبر پہنچاتے ہیں کہ کھانا لیٹ ہو گیا ہے ایسا کرنا تھا تو بلاتے کیوں یہ وہ طرح طرح کی باتیں بڑھا چڑھا کر ٹوک بازی کرنا سالن پتلا ہو جائے یا گھی زیادہ ہو جائے تو بندے بندے کو کہنا یار سالن جان بوجھ کر خراب کیا کہ لوگ کم کھائیں نہ جانے ایسا کرکے کیا ملتا ہے آپ نے شاید نوٹ کیا ہو بچوں کے نام پر دودھ لے کر دودھ پتی بنا کر عورتیں خود بھی پیتی ہیں اور اپنے مردوں کو بھی پلاتی ہیں کسی نا کسی کچن میں چھپ چھپا کر کچھ لوگ مریض بن کر فرمائشیں کرتے ہیں دودھ دے دو شوگر ہے فلاں کو ہم خود بغیر چینی کے علحیدہ چائے بنا لیں گے فلاں کو بلڈ پریشر ہے اس کا کھانا علحیدہ بنوانا ہے روٹی کھاتے وقت بلکل گرم گرم روٹیاں لینا دو نوالے لگائے پہلی روٹی سائیڈ پر پھر دوبارہ گرم لے لینا اور صرف بوٹیوں کی فرمائش کہ گریبی نہیں صرف دو چار بوٹیاں ڈلوا دو انتظامیہ لوگوں سے الجھ پڑنا کھاتے ہوئے خود اٹھ کر دیگ والا جو گھر کا فرد یا قریبی رشتے دار جو بچارا پوری زمہ داری اور سب کو ایک حساب سے برابر کھانا ڈال کر دے رہا ہوتا ہے ترتیب سے بانٹ رہا ہوتا ہے اس کے پاس جا کر صرف بوٹیاں ہی لینی ہیں اگر بانٹنے والا کہہ دے کہ باقی بھی بیٹھے ہیں ان کو بھی کھلانا ہے کھانا تو پلیٹ پھینک کر روٹھ کے چلے جانا کچھ عورتیں اور مرد ہاتھوں پائی پر بھی آ جاتے ہیں نہیں دیکھتے کہ آگے چھوٹا ہے یا بڑا کونسا تعلق ہے بس پیٹ کی خاطر وہ بھی ایک ٹائم کھانے کیلئے دو چار بوٹیوں کی خاطر سب تعلق رشتے سائیڈ پر رکھ کر پیٹ کو اہمیت دینا افسوس ہی ہوتا ہے کچھ عورتیں خاص کر ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے جہیز کے سامان میں کوئی نہ کوئی چیز چھپانا یا توڑ دینا قیمتی کپڑے کاٹ دینا اس سے کیا حاصل ہوگا بچاری دلہنوں کے بھی واقعات سننے میں آتے ہیں کہ اپنی قریبی رشتے دار نے جان بوجھ کر ایسا میک اپ کیا کہ دلہن بچاری مردوں کی طرح نظر آئے یا بوڑھی عمر کی لگے وجہ کہ پیاری نہ لگے اس کی خوبصورتی نظر نہ آئے ایک خاص قسم کی گروپ بندی ہوتی ہے خاندانوں میں جو عورتیں ہمیشہ خوشیوں میں بھنگ ڈالتی ہیں حقیقت میں اگر سب کچھ لکھ دوں جو میں کسی وجہ سے پردے میں رکھ رہا ہوں کے دیہاتوں کو تو میرا خواب ہے اچھے سے پرموٹ کروں اپنے دیہاتوں کی اچھی سوچ رسمیں پیار محبت احساس کو اجاگر کروں لیکن کچھ تلخ حقیقتیں بھی شئیر کرنی ہیں اور ریکوسٹ کرنی ہے ان کو تبدیل کریں احساس کریں کھانے کو نہیں رشتوں کو اہمیت دیں اگلے کا احساس کریں وہ آپ کو اپنا سمجھ کر آپ کو عزت دے رہا ہے اپنے پاس بلا رہا ہے تو اس کو پریشان نہیں بلکہ پریشانیاں جا کر بانٹیں اسے سکھ دیں اس کو اپنا ہونے کا احساس دیں یہ گھٹیا حرکتیں چائے عورتیں ہوں یا مرد چھوڑ دیں جو نیچ حرکتیں کر رہا ہوتا ہے اگلے کی غمی یا خوشی خراب کرنے کیلئے وہ جو بلاتا ہے اسے بھی پتہ ہوتا ہے اور دیکھنے والے بھی آپ کے کرتوت دیکھ رہے ہوتے ہیں بس رشتے دار سمجھ کر چپ ہو جاتے ہیں پہلے وقتوں میں یہی دیہات کے رشتے دار اپنے رشتے داروں پر جان نچھاور کر دیتے تھے جن کی فصل ہوتی وہ گندم کی بوریاں شادی بیاہ پر اپنوں کو بھجوا دیتے جن کے مال مویشی ہوتے ایک یا دو بڑے جانور گوشت کیلئے بھجوا دیتے ماسی یا پھوپھو لوگ کپڑے حسب توفیق جتنا ہوسکتا بچی کی شادی ہوتی تو بچی کے جہیز کا سامان لڑکے کی شادی ہوتی تو لڑکے کے گھر ماں باپ بہن بھائیوں کا سامان کپڑے خرید کر بھجوا دیتے مالی امداد کرتے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہونے دیتے کہ کس نے کیا دیا اور خوشیوں میں بھرپور خوشیاں مناتے احساس کرتے خود ہفتہ ہفتہ پہلے پہنچ جاتے سارے کام سنبھال لیتے اور شادی کے بعد تمام کام ختم کرکے مکمل چیزیں سمیٹ کر ان کے حوالے کرکے آتے اب تو تعلیم عام ہے شعور ہونا چائیے تھا لیکن افسوس دوسری قومیں آگے بڑھ رہی ہیں اور ہم بہت افسوس کے ساتھ زمانہ جاہلیت سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں وجہ حسد اور دوسرے کو اپنے سے کم تر کرنے کے چکر لیکن رب ایسی قوم اور ایسے لوگوں کو کبھی کامیاب بھی نہیں کرتا اور ہمیشہ رسوائی کی زندگی دیتا ہے ۔
تحریر ✍️بھکر Apna Punjab news 1124 Muhammad Imram Qadri
وسدے دیہات