29/05/2026
ہمارے کچھ صحافیوں کی آنکھوں پر جیسے کالی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ انہیں نہ بھلوال کے مسائل نظر آتے ہیں اور نہ ہی عام عوام کے حقوق پر بات کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہماری صحافت صرف چند بڑے لوگوں اور گلدستہ گروپ جیسے افراد کی تعریفوں اور خوشامد تک محدود ہو چکی ہے۔ صحافیوں کو ان کے قصیدے پڑھنا تو آتا ہے، مگر عام عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا نہیں آتا۔
آج غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں اس قدر پریشان ہو چکی ہے کہ جینا محال بن چکا ہے، مگر ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔ غریب کی آواز کو مسلسل دبایا جا رہا ہے اور اس کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد عوام کی آواز بننا تھا، مگر یہاں صرف ہار پہنانے، تصویریں بنانے اور چند بااثر لوگوں کی تشہیر میں وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جبکہ عام شہری کے دکھ درد سننے والا کوئی نہیں۔