06/03/2022
یہ کسی جانور نہیں انسانوں کا خون ہے جو عبادت گاہ میں بہایا گیا ہے کہیں اور نہیں ہمارے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا واقعہ ہے جس کی آزادی کے بعد جناح صاحب نے فخر سے کہا تھا ہم سب اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں! اتنی آزادی؟؟ اور پھر ہمارا خون گرم ہو جاتا ہے جب کوئی ہمیں دہشتگرد کہتا ہے ہم حقیقت پسند بالکل نہیں دہشت گردی اور کس چیز کو کہتے ہیں کون ہے جو ہمارے ملک کے لیے بدنامی کا باعث بن رہا ہے جو ہم سے زیادہ طاقت رکھتا ہے جو ہمارے آنکھوں میں دھول جھونک لیتا ہے اور ملک میں رہنے والوں کی حفاظت یقینی نہیں بنا پاتے اور انسانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ہماری حفاظت کون کرے گا؟ واقعے کا ذمہ دار کون؟ کس سے فریاد کریں ؟ اور پوچھنا یہ تھا ہمارے عدل کا نظام کب ٹھیک ہو گا؟