فکر آخرت

فکر آخرت Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from فکر آخرت, Digital creator, Bunerwal.

یہاں آپ کو اصلاحی نصیحتیں، سچے اسلامی واقعات، دل کو نرم کرنے والی باتیں، دعا، اذکار، اور آخرت کی یاد ملے گی۔

ہمارا مقصد ہے کہ ہر مسلمان کو زندگی کی اصل منزل— آخرت — کی فکر دلائی جائے اور دل میں ایمان و تقویٰ کی روشنی پیدا ہو۔

25/09/2026

ماں اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ ❤️
ماں کی دعا زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے، اس کی خدمت کریں، اس کی قدر کریں اور اس کے دل کو کبھی نہ دکھائیں۔ 🤲🌹
#ماں #والدین

25/09/2026

ﷺ لبوں پر درودِ پاک، دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ
یہی زندگی کی سب سے خوبصورت دولت ہے۔ ❤️🌹

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

#نعت #درودشریف #مدینہ

🏰⚖️ خلیفہ ہارون الرشید اور قبرستان کی عبرتناک نصیحتیہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کے دل سے دنیا کی محبت کم اور آخرت کی فک...
23/06/2026

🏰⚖️ خلیفہ ہارون الرشید اور قبرستان کی عبرتناک نصیحت

یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسان کے دل سے دنیا کی محبت کم اور آخرت کی فکر پیدا کر دیتا ہے۔
خلیفۂ وقت Harun al-Rashid اپنی سلطنت، عدل و انصاف اور رعایا پروری کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھے۔ ان کے دور میں اسلامی سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ خزانے بھرے ہوئے تھے، لشکر طاقتور تھے، اور بغداد علم و تہذیب کا مرکز بن چکا تھا۔
لیکن اس شان و شوکت کے باوجود ہارون الرشید کو ہمیشہ یہ فکر رہتی تھی کہ کہیں وہ اپنی رعایا کے حالات سے غافل نہ ہو جائیں۔ اسی لیے وہ اکثر رات کے وقت سادہ لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل جاتے تاکہ لوگوں کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
ایک رات وہ اپنے وزیر کے ساتھ بغداد کی گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ موسم خاموش تھا، لوگ اپنے گھروں میں سو چکے تھے اور شہر پر سکوت طاری تھا۔
چلتے چلتے وہ شہر سے باہر ایک قبرستان کے قریب پہنچ گئے۔
قبرستان میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک ضعیف العمر بوڑھا شخص ایک قبر کے سرہانے بیٹھا آہستہ آہستہ رو رہا ہے۔ اس کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں تھے اور آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
ہارون الرشید اس کے قریب گئے اور نہایت نرمی سے پوچھا:
"بابا! اس سنسان رات میں قبرستان میں کیوں بیٹھے ہو؟"
بوڑھے نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا:
"بیٹا! اس قبر میں میرا جوان بیٹا دفن ہے۔ میں اسے یاد کرنے آیا ہوں۔"
پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا اور بولا:
"میرا بیٹا بہت خوبصورت، طاقتور اور مالدار تھا۔ لوگ اس کی عزت کرتے تھے۔ اسے اپنی جوانی پر بڑا غرور تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ابھی تو زندگی بہت پڑی ہے، عبادت اور توبہ بڑھاپے میں کر لوں گا۔ لیکن موت نے اسے مہلت نہ دی۔ ایک معمولی بیماری آئی اور چند دنوں میں وہ اس دنیا سے چلا گیا۔"
یہ کہتے کہتے بوڑھے کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
ہارون الرشید بھی خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔
کچھ دیر بعد بوڑھا بولا:
"تم کون ہو؟"
خلیفہ نے فرمایا:
"میں ایک مسافر ہوں۔"
بوڑھا مسکرایا اور بولا:
"اگر تم واقعی مسافر ہو تو میری ایک نصیحت یاد رکھنا۔"
"دنیا میں جتنے لوگ آئے، سب اپنے آپ کو مضبوط سمجھتے تھے۔ کسی کو اپنی دولت پر غرور تھا، کسی کو اپنے منصب پر، کسی کو اپنی طاقت پر۔ لیکن آج ان سب کی قبریں میرے سامنے ہیں۔"
اس نے قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"یہاں بادشاہ بھی دفن ہیں اور فقیر بھی۔ یہاں امیر بھی ہیں اور غلام بھی۔ مٹی نے سب کو برابر کر دیا ہے۔"
پھر اس نے ایک جملہ کہا جس نے ہارون الرشید کے دل کو ہلا کر رکھ دیا:
"اے مسافر! یاد رکھو، جب انسان قبر میں جاتا ہے تو اس کے ساتھ نہ خزانے جاتے ہیں، نہ محلات، نہ تخت و تاج اور نہ فوجیں۔ صرف اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں۔"
یہ سن کر ہارون الرشید پر رقت طاری ہوگئی۔
انہوں نے قبرستان کی قبروں کی طرف دیکھا اور سوچنے لگے:
"آج میں پوری سلطنت کا حاکم ہوں، لیکن ایک دن مجھے بھی اسی مٹی کے نیچے جانا ہے۔"
ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
بوڑھے نے مزید کہا:
"دنیا کی زندگی ایک خواب کی طرح ہے۔ لوگ مال جمع کرنے، شہرت حاصل کرنے اور دوسروں پر برتری جتانے میں لگے رہتے ہیں، مگر موت اچانک آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔"
"دانشمند وہ نہیں جو دنیا حاصل کر لے، بلکہ دانشمند وہ ہے جو آخرت سنوار لے۔"
یہ الفاظ ہارون الرشید کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئے۔
واپس جاتے ہوئے خلیفہ مسلسل روتے رہے۔
محل پہنچ کر انہوں نے فرمایا:
"آج ایک گمنام بوڑھے نے مجھے ایسی نصیحت دی ہے جو شاید میں عمر بھر نہ بھول سکوں۔"
اور پھر وہ دیر تک نوافل ادا کرتے رہے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے رہے اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں غور کرتے رہے۔
🌹 سبق آموز نکات
📌 موت کسی کو مہلت دیے بغیر آ سکتی ہے۔
📌 جوانی، صحت اور دولت پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔
📌 دنیا عارضی ہے، آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
📌 انسان کا اصل سرمایہ نیک اعمال ہیں۔
📌 قبر میں حسب و نسب، دولت اور عہدہ نہیں بلکہ اعمال کام آتے ہیں۔
📌 عقلمند وہ ہے جو موت آنے سے پہلے اپنی اصلاح کر لے۔
💔 آج ہم دنیا بنانے میں مصروف ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آخرت کے لیے کیا تیار کیا ہے؟
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے توبہ، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
📢 اس عبرتناک واقعے کو ضرور شیئر کریں تاکہ دوسروں کو بھی آخرت کی فکر نصیب ہو، اور مزید اصلاحی واقعات کے لیے "فکرِ آخرت" پیج کو فالو کریں۔

23/06/2026
  🕌  💡  🤲  📖  ☪️  ❤️  🌿  📝  🌸  📢 ٰہی 🤍  🌺 #اخلاقیات 😊  ✨  🕋  📚  🌷  💚  📚  🕌  🌿  🔄  ❤️
23/06/2026

🕌
💡
🤲
📖
☪️
❤️
🌿
📝
🌸
📢
ٰہی 🤍
🌺
#اخلاقیات 😊
✨
🕋
📚 🌷
💚
📚
🕌
🌿
🔄
❤️

⚰️ ایک عبرتناک اور دل ہلا دینے والا واقعہایک شہر میں ایک مالدار شخص رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت، جائیداد، گاڑیاں اور ہر طرح...
22/06/2026

⚰️ ایک عبرتناک اور دل ہلا دینے والا واقعہ

ایک شہر میں ایک مالدار شخص رہتا تھا۔ اس کے پاس دولت، جائیداد، گاڑیاں اور ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ لوگ اس کی دولت دیکھ کر رشک کرتے تھے، لیکن وہ نماز، تلاوت اور دین کے احکام سے غافل تھا۔
جب بھی کوئی اسے نماز کی تلقین کرتا تو وہ کہتا:
"ابھی جوان ہوں، بڑھاپے میں حج بھی کر لوں گا اور عبادت بھی۔"
وقت گزرتا گیا اور وہ اسی غفلت میں زندگی بسر کرتا رہا۔
ایک رات وہ اپنے عالی شان کمرے میں سویا۔ نرم بستر، ٹھنڈا کمرہ اور ہر آسائش موجود تھی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔
رات کے آخری پہر اچانک اس کی طبیعت خراب ہوئی۔ گھر والے اسے ہسپتال لے جانے لگے لیکن موت کا فرشتہ اپنا کام کر چکا تھا۔
صبح جب سورج نکلا تو وہ شخص دنیا میں موجود نہ تھا۔
😢 جنازہ اور قبر
اس کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ رشتہ دار، دوست اور جاننے والے جمع ہوگئے۔ چند گھنٹے پہلے جو شخص اپنی دولت پر ناز کر رہا تھا، اب سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا۔
اس کی قیمتی گاڑیاں، بینک بیلنس اور جائیداد سب پیچھے رہ گئے۔
لوگ اسے قبرستان لے گئے، قبر میں اتارا اور مٹی ڈال دی۔
پھر وہ وقت آیا جسے "قبر کی پہلی رات" کہتے ہیں۔
سب لوگ واپس چلے گئے۔
بیوی چلی گئی... اولاد چلی گئی... دوست چلے گئے... رشتہ دار چلے گئے...
اگر کوئی چیز ساتھ رہ گئی تو صرف اعمال۔
💔 سوچنے کی بات
جس موبائل پر گھنٹوں وقت ضائع کیا جاتا ہے، جس دولت کے لیے نمازیں چھوڑ دی جاتی ہیں، جس دنیا کے لیے حلال و حرام کی پروا نہیں کی جاتی،
یہ سب قبر میں ایک لمحے کے لیے بھی ساتھ نہیں جائیں گے۔
قبر میں نہ کوئی عہدہ کام آئے گا، نہ دولت، نہ شہرت، نہ فالوورز، نہ لائکس۔
صرف نیک اعمال، نماز، تلاوت، صدقہ اور اللہ کی اطاعت کام آئے گی۔
📖 سبق
✨ موت اچانک آتی ہے، اس کی کوئی عمر مقرر نہیں۔
✨ دنیا عارضی ہے، آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔
✨ نماز اور توبہ کو کل پر نہ چھوڑیں۔
✨ قبر کی تنہائی کو یاد رکھیں۔
✨ ہر دن کو زندگی کا آخری دن سمجھ کر گزاریں۔
🤲 دعا
اے اللہ! ہمیں غفلت سے بیدار فرما، نمازوں کا پابند بنا، گناہوں سے توبہ کی توفیق عطا فرما اور قبر و آخرت کی کامیابی نصیب فرما۔ آمین۔
📌 اگر یہ تحریر پسند آئے تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
💚 پیج "فکرِ آخرت" کو فالو، لائک، شیئر اور کمنٹ ضرور کریں تاکہ مزید اصلاحی اور ایمان افروز واقعات آپ تک پہنچتے رہیں

  🕌 #نصیحت 🌹  📖  🤲  💚  🌟  📚  🌺  🕋  ✍️  📝  🌙  💡  🤍  💫  📢  🌿📌 فکر آخرت پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک 👍، شیئر 🔄 اور کمنٹ 💬...
22/06/2026

🕌
#نصیحت 🌹
📖
🤲
💚
🌟
📚
🌺
🕋
✍️
📝
🌙
💡
🤍
💫
📢
🌿
📌 فکر آخرت پیج کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک 👍، شیئر 🔄 اور کمنٹ 💬 ضرور کریں۔

🐍🌿 مکار سانپ اور نیک عمل کی مدد 🌿🐍✨ ایک عبرت آموز حکایتحضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ شکار کے لیے ...
21/06/2026

🐍🌿 مکار سانپ اور نیک عمل کی مدد 🌿🐍

✨ ایک عبرت آموز حکایت
حضرت سیدنا حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ شکار کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک ویران مقام پر پہنچے تو اچانک ایک سانپ ان کی سواری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ اپنی دم پر کھڑا ہو کر نہایت عاجزی سے کہنے لگا:
"اللہ کے لیے مجھے میرے دشمن سے پناہ دے دیجیے، اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ اگر آپ نے میری مدد نہ کی تو میرا دشمن مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔"
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"میں تجھے کہاں چھپاؤں؟"
سانپ بولا:
"اگر آپ نیکی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اپنے پیٹ میں پناہ دے دیجئے۔"
آپ نے پوچھا:
"تو کون ہے اور مجھ سے پناہ کیوں مانگتا ہے؟"
سانپ نے جواب دیا:
"میں مسلمان ہوں، مجھے مسلمان سمجھ کر پناہ دے دیجئے۔"
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا منہ کھول دیا اور سانپ کو اپنے جسم میں داخل ہونے دیا۔
⛰️ دشمن کی تلاش
کچھ دیر بعد ایک نوجوان آیا جس کے کندھے پر تیز دھار تلوار تھی۔ اس نے پوچھا:
"اے شیخ! کیا آپ نے ایک سانپ دیکھا ہے؟ میرا گمان ہے کہ وہ آپ کے پاس سے گزرا ہے۔"
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"میں نے کوئی سانپ نہیں دیکھا۔"
یہ سن کر نوجوان واپس چلا گیا۔
🐍 احسان کا بدلہ دھوکا
جیسے ہی وہ نوجوان گیا، سانپ نے سر نکال کر پوچھا:
"کیا میرا دشمن چلا گیا؟"
آپ نے فرمایا:
"ہاں، اب تم بھی باہر آ جاؤ تاکہ مجھے تکلیف نہ ہو۔"
مگر سانپ نے نہایت مکاری سے کہا:
"اب میں باہر نہیں آؤں گا۔ اب تیرے لیے دو راستے ہیں، یا تو میں اپنے زہر سے تجھے ہلاک کر دوں گا یا تیرے دل میں سوراخ کر دوں گا۔"
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ حیران ہو کر بولے:
"میں نے تیرے ساتھ بھلائی کی، پھر تو میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے؟"
سانپ بولا:
"تو بڑا سادہ ہے! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ میں وہی دشمن ہوں جس نے تیرے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو دھوکے میں ڈالا تھا۔"
یہ سن کر آپ سمجھ گئے کہ یہ شیطان ہے جو دھوکے سے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
🏔️ اللہ تعالیٰ کی مدد
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے سانپ سے کہا:
"اگر تو مجھے مارنا ہی چاہتا ہے تو مجھے پہاڑ پر جانے دے تاکہ میں وہاں اپنی موت کا انتظار کروں۔"
سانپ نے اجازت دے دی۔
آپ پہاڑ پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے منتظر بیٹھ گئے۔ اچانک ایک نہایت خوبصورت نوجوان نمودار ہوا، جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا۔
اس نے پوچھا:
"اے شیخ! آپ یہاں غمگین کیوں بیٹھے ہیں؟"
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔
🌿 نیک عمل کی صورت
نوجوان نے فرمایا:
"میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں۔"
پھر اس نے اپنی چادر سے ایک بوٹی نکال کر کھلائی۔ پہلی بار کھانے سے جسم میں کپکپی پیدا ہوئی۔ دوسری بار کھلانے سے پیٹ میں شدید درد اور ہلچل شروع ہوئی۔ تیسری بار بوٹی کھانے پر سانپ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جسم سے نکل گیا۔
حضرت حمیری بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کو مکمل آرام مل گیا۔
آپ نے اس نوجوان سے پوچھا:
"اے محسن! آپ کون ہیں؟ آج آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔"
نوجوان مسکرایا اور بولا:
"کیا آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟ میں آپ کا نیک عمل ہوں۔ جب آپ نے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھلائی کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ جا کر اپنے بندے کی مدد کرو۔"(حوالہ!ازعیون الحکایات)
✨ سبق آموز نکات
📌 شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس کے دھوکے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔
📌 ہر شخص جو خیرخواہ بن کر آئے ضروری نہیں کہ حقیقت میں خیرخواہ بھی ہو۔
📌 اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا گیا نیک عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا۔
📌 مصیبت اور آزمائش کے وقت نیک اعمال انسان کے کام آتے ہیں۔
📌 اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی غیب سے مدد فرماتا ہے۔
📌 احسان کرتے وقت اخلاص ہو تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ خود عطا فرماتا ہے۔
🤲 دعا
اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے دھوکوں سے محفوظ فرمائے، اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے نیک اعمال کو دنیا و آخرت میں ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
🌹 اگر یہ حکایت پسند آئی ہو تو:
👍 پوسٹ کو لائک کریں
💬 اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں
📤 زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
📢 اور اسلامی و اصلاحی پوسٹس کے لیے
✨ فکر آخرت ✨
کو ضرور فالو کریں۔
جزاکم اللہ خیراً

انکارِ حدیث اور علماء سے بدظن کرنے کی سازش — امت کے لیے ایک بڑا خطرہآج سوشل میڈیا کے دور میں بعض حلقے بڑے منظم انداز میں...
20/06/2026

انکارِ حدیث اور علماء سے بدظن کرنے کی سازش — امت کے لیے ایک بڑا خطرہ

آج سوشل میڈیا کے دور میں بعض حلقے بڑے منظم انداز میں مسلمانوں کے عقائد اور دینی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے لوگوں کے دلوں سے علماء کرام کی عظمت نکالی جائے اور پھر احادیثِ رسول ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ جب ایک مسلمان علماء سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے لیے دین کو اپنی خواہشات کے مطابق سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، اور یہی گمراہی کی ابتدا ہے۔
قرآنِ کریم بار بار رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ "رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔" (الحشر: 7)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ "جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔" (النساء: 80)
اگر صرف قرآن ہی کافی ہوتا اور حدیث کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ بار بار رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم نہ دیتے۔
ذرا غور کیجیے! قرآن میں نماز کا حکم تو موجود ہے، لیکن فجر کی دو رکعتیں، ظہر کی چار رکعتیں، رکوع و سجدہ کا طریقہ، اذان کے الفاظ اور نماز کے دیگر احکام کہاں بیان ہوئے؟ یہ سب ہمیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور سنت سے معلوم ہوتے ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب، حج کے مناسک، نکاح و طلاق کے بے شمار مسائل اور تجارت کے احکام بھی سنتِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتے ہیں۔
اس لیے حدیث کا انکار دراصل دین کے ایک بہت بڑے حصے کا انکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے امت کے تمام ائمہ، محدثین، فقہاء اور مفسرین قرآن کے ساتھ سنت کو بھی دین کی بنیادی دلیل مانتے آئے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فتنہ یہ ہے کہ علماء کرام کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔ عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ علماء کی ضرورت نہیں، ہر شخص خود قرآن کا ترجمہ پڑھ کر مسائل نکال سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ علم والوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہ دیتے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ "اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔" (النحل: 43)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"العلماء ورثة الأنبياء" "علماء انبیاء کے وارث ہیں۔"
علماء کرام نے اپنی زندگیاں قرآن و حدیث کی خدمت میں صرف کی ہیں۔ انہی کی محنتوں کی بدولت آج دین ہم تک صحیح شکل میں پہنچا ہے۔ اگر کوئی شخص علماء سے بدظن ہو جائے تو وہ آہستہ آہستہ دینی رہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر ہر گمراہ شخص اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔
یاد رکھیں! کسی عالم کی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے پورے طبقۂ علماء کو بدنام کرنا انصاف نہیں۔ جس طرح کسی ڈاکٹر کی غلطی سے پورا طبی شعبہ غلط نہیں ہو جاتا، اسی طرح چند افراد کی وجہ سے تمام علماء پر تنقید کرنا بھی درست نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں، مستند علماء سے دین سیکھیں، سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے سے بچیں اور ہر اس آواز سے ہوشیار رہیں جو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت یا علماءِ حق سے دور کرنا چاہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر ثابت قدمی، علماءِ حق کی محبت اور فتنوں سے حفاظت نصیب فرمائے۔ آمین۔

Address

Bunerwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فکر آخرت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share