14/04/2025
حال ہی میں ایلون مسک نے ایک نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایسے روبوٹس کا ذکر کیا گیا ہے جو نو ماہ تک بچے کو اپنے اندر لے کر رکھ سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے حمل اور تولید کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
ایک حالیہ کانفرنس "وی روبوٹ" میں، جو کہ ٹیسلا نے منعقد کی تھی، ایلون مسک نے "آپٹیمس" نامی روبوٹ کا تعارف کروایا۔ یہ روبوٹ مختلف قسم کے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال اور باغبانی شامل ہیں۔ ایلون مسک نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس روبوٹ کو مصنوعی رحم کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جوڑے صرف اپنی نطفہ اور بیضہ فراہم کریں گے، اور باقی عمل روبوٹ کے اندر مکمل ہوگا۔
یہ تجویز مختلف آراء کو جنم دے رہی ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ان جوڑوں کے لیے ایک نعمت ہو سکتی ہے جو قدرتی طور پر بچے پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں یا وہ خواتین جو حمل کے دوران صحت کے خطرات سے بچنا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب، ناقدین اس پر اخلاقی اور سماجی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ماں اور بچے کے درمیان تعلقات پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے اور روایتی ماں بننے کے تصور میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
تکنیکی لحاظ سے، مصنوعی رحم تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لیے انسانی رحم کی قدرتی حالت کی مکمل نقل درکار ہے تاکہ جنین صحیح طریقے سے نشوونما پا سکے۔ اگرچہ اس میدان میں کافی ترقی ہو چکی ہے، لیکن انسانوں پر اس کا اطلاق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
آخر میں، یہ پیش رفت ایک طرف ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کے میدان میں ایک بڑی کامیابی کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن دوسری جانب یہ انسانی معاشرتی اقدار اور اخلاقیات پر گہرے سوالات بھی اٹھاتی ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے، آپ یہ رپورٹ دیکھ سکتے ہیں:
ایلون مسک کا روبوٹک حمل: حقیقت یا فسانہ؟
*Follow me for more interesting stories*