30/01/2026
غزہ کی ملبے میں دبی ہوئی دس ہزار سے زائد فلسطینی لاشیں صرف اعداد نہیں ہیں بلکہ وہ چیخیں ہیں جنہیں دنیا نے سننے سے انکار کر دیا ہے، یہ وہ زندگیاں ہیں جن کے نام، چہرے اور قبریں تک مٹا دی گئیں، جبکہ دوسری طرف ایک واحد اسرائیلی قیدی کی لاش نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مکمل فوجی آپریشن اور بے مثال وسائل استعمال کیے جاتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت کا چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ قابض کے لیے شناخت مقدس بن جاتی ہے، ڈی این اے، فرانزک رپورٹ اور پورا ریاستی نظام حرکت میں آ جاتا ہے، مگر مقبوضہ سرزمین کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے لیے صرف اجتماعی قبریں، بے نام لاشیں اور خاموشی چھوڑ دی جاتی ہے، جیسے ان کا وجود کبھی تھا ہی نہیں۔
غزہ میں ماں اپنے بچے کی لاش کو نہیں پہچان پاتی کیونکہ بمباری نے چہرہ مٹا دیا، باپ ملبے میں اپنے خاندان کے نشان ڈھونڈتا رہتا ہے، اور دنیا اس منظر کو محض ایک خبر بنا کر آگے بڑھ جاتی ہے، یہی وہ اخلاقی تضاد ہے جو آج کی عالمی طاقتوں کے ضمیر پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ انسان کی قدر کی جنگ ہے، جہاں ایک جان کی قیمت پوری فوجی مہم ہے، اور ہزاروں جانوں کی قیمت صرف خاموشی، جہاں ظلم اتنا منظم ہو چکا ہے کہ اسے قانون کا نام دے دیا گیا ہے، اور مظلوم کی چیخ کو شور کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
غزہ کے ملبے تلے دبی ہوئی لاشیں آج بھی گواہی دے رہی ہیں کہ انصاف اندھا نہیں بلکہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کر چکا ہے، اور تاریخ جب یہ باب لکھے گی تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ کتنے مارے گئے، بلکہ یہ ہوگا کہ جب انسانیت دفن ہو رہی تھی تو دنیا کہاں کھڑی تھی۔