01/09/2025
یہ ہیں رومولس، رمس اور خالِیسی — وہ لومڑی نما بھی نہیں، مگر ہاں، طاقتور وولف کے خاکے میں پلے ہیں
تحریر : Kashif Ali
بریکنگ نیوز: جنوبی برفانی دَور کا سب سے پہلے زندہ ہونے والا “ڈائر وولف” — رومولس اور رمس
کیا ہوا؟
ڈلاس (امریکہ) کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی Colossal Biosciences نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ تاریخ میں ڈائر وولف (Aenocyon dirus) کو “ڈی-ایکسٹِنکشن” (de-extinction) کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا ہے — کم از کم ایک ورژن بھلے ہی ہو ۔
کیسے ممکن ہوا؟
سائنسدانوں نے 13,000 سال پرانا ایک دانت اور 72,000 سال پرانا ایک کھوپڑی کا فوسل سے DNA نکالا ۔
اس قدیم DNA سے پتہ چلنے والے 20 ممکنہ "ڈائر وولف" خصوصیات (traits) کو جدید گری وولف (gray wolf) کے 14 کلیدی جینز میں CRISPR اور دیگر جینیاتی ترمیم (gene-editing) ٹیکنالوجیز کے ذریعے شامل کیا گیا ۔
اس کے بعد یہ جینیاتی ترمیم شدہ خلیات کلوننگ اور سومیٹک سیل نیوکلیئر ٹرانسفر (SCNT) کے ذریعے مرکزی حملی (embryos) تیار کیے گئے اور انہیں گھریلو کتوں (dogs) میں بطور ماں تولد کے لیے استعمال کیا گیا ۔
نتیجہ؟
تین بقایا (genetically engineered) کتے نما پوپیز جنہیں رومولس، رمس (دونوں نر، 6 ماہ کے) اور خالِیسی (مادہ، 2 ماہ کی) کے نام دیے گئے، آج ایک 2,000 ایکڑ پر محیط محفوظ ریزرو میں رکھے گئے ہیں ۔
یہ جنگلی، مضبوط بدن اور ہلکے رنگ کے بال رکھتے ہیں اور اب تک کے Gray Wolves کی نسبت بڑے ہیں — مثلاً رمس و رومولس کا وزن تقریبا 80 پاؤنڈ (36 کلوگرام) ہے ۔
سائنسدانوں کا موقف
Colossal کے چیف سائنس آفیسر Beth Shapiro کا کہنا ہے کہ اصل مقصد ایک "پرفیکٹ جینیاتی نقل" تیار کرنا نہیں، بلکہ وہ "functional de-extinction" چاہتے ہیں — یعنی ایسی خصوصیات جو ماحولیاتی ڈائر وولف کے کردار کو دوبارہ فعال کر سکیں ۔
اس کے مطابق species classification تو انسانی بنائی ہے، اور یہ تجربه بنیادی طور پر حیاتیاتی خدمات (ecosystem functions) کے حوالے سے ہے ۔
ناقدین کیا کہتے ہیں؟
کچھ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ یہ فقط "تبدیلی شدہ گری وولف" ہیں، حقیقی ڈائر وولف نہیں ।
IUCN Species Survival Commission Canid Specialist Group نے واضح کیا کہ یہ تین جانور نہ ڈائر وولف ہیں، نہ ان کی پروکسی (proxy) — اور نہ ہی یہ کسی ماحولیاتی فائدے یا conservation میں کوئی حقیقی کردار ادا کرتے ہیں ۔
خود Beth Shapiro نے مئی 2025 میں اعتراف کیا کہ یہ “گری وولف ہیں جن میں 20 ترمیم شدہ جین ہیں” — "dire wolves" کی اصطلاح صرف روزمرہ کی بول چال میں استعمال ہوتی ہے ۔
خلاصہ جدول
پہلو تفصیل
سائنسدانوں کی دعوے ڈائر وولف phenotype والے پہلی موجودہ نسل
حقیقت گری وولف DNA میں جینیاتی ترمیم — حقیقی ڈائر وولف نہیں
اہمیت gene-editing اور conservation biotech میں پیش رفت
تنازع ماحولیاتی اثرات، اخلاقی مسئلے، classification پر اختلافات
یہ تاریخی لمحہ، چاہے ابھی تک بحث میں گھرا ہوا ہے، بلاشبہ synthetic biology اور conservation genomics میں ایک سنگِ مِیل ہے۔
آیا یہ مستقبل میں گم شدہ انواع کو واپس لانے کا راستہ کھولے گا؟ یا پھر یہ محض سائنسی اور اخلاقی ڈیبیٹ کا آغاز ہے؟ وقت بتائے گا۔