07/08/2026
*بریکنگ نیوز*
*سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں کے متعدد طلبہ کے رزلٹ میں 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کا ’’Fee Issue‘‘، BISE راولپنڈی سے وضاحت طلب*
*چکوال (اے پی سی نیوز)*
*گوجر خان/راولپنڈی: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے ایس ایس سی فرسٹ اینول امتحان 2026 کے نتائج میں سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں، تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے متعدد طلبہ کے رزلٹ کے ساتھ ایک ہی رقم 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کے ’’FEE ISSUE‘‘ کے طور پر ظاہر ہونے کا غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے بورڈ کے فیس اور امتحانی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔*
*6 اگست 2026 کو جاری کیے گئے رزلٹ گزٹ میں مذکورہ سکول کے متعدد طلبہ کے نام اور رول نمبرز کے ساتھ مختلف نتائج اور نمبرز درج ہیں، تاہم ان کے ریکارڈ میں بار بار “FEE ISSUE 633500/- RUPEES” تحریر کیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر ان امیدواروں میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو باقاعدہ طور پر PASS قرار دیے گئے ہیں۔*
*گزٹ کے مطابق رول نمبر 915458 سفیان علی 976 نمبروں کے ساتھ A+ گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945693 محمد طلحہ 1021 نمبروں کے ساتھ A+ گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945723 محمد سمیع اللہ 734 نمبروں کے ساتھ B گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945807 رامش علی 665 نمبروں کے ساتھ C گریڈ میں پاس ہے جبکہ رول نمبر 945817 شہزیب حیدر 637 نمبروں کے ساتھ C گریڈ میں کامیاب ہے، لیکن ان کامیاب امیدواروں کے ریکارڈ کے ساتھ بھی 633500 روپے کا Fee Issue درج ہے۔*
*اسی سکول کے طالب علم محمد ارسلان، رول نمبر 945788 کے آن لائن رزلٹ میں بھی “RE-APPEAR” کے ساتھ یہ تحریر موجود ہے کہ 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کے Outstanding Dues جمع کرانے کے بعد تفصیلی نتیجہ جاری کیا جائے گا۔*
*اس صورتحال نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ اب سوال صرف ایک طالب علم کے رزلٹ کا نہیں رہا بلکہ ایک ہی سکول کے متعدد طلبہ کے ریکارڈ میں ایک ہی رقم کے بار بار ظاہر ہونے کا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 633,500 روپے آخر کس مد میں ہیں؟ کیا یہ رقم سکول، طلبہ، داخلہ فیس، امتحانی فیس، رجسٹریشن، کسی سابقہ بقایا، کسی انتظامی معاملے یا بورڈ کے کسی مخصوص فیس اکاؤنٹ سے متعلق ہے؟*
*ابھی تک اس بارے میں بورڈ کی جانب سے کوئی واضح عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی، اس لیے اس رقم کو حتمی طور پر سکول یا طلبہ کے واجبات قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم ایک ہی ادارے کے متعدد امیدواروں کے رزلٹ میں ایک ہی رقم کا ظاہر ہونا وضاحت طلب معاملہ ضرور ہے۔*
*یہاں ایک اہم قانونی اور اخلاقی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بورڈ نے طلبہ کی رجسٹریشن مکمل کی، ان کے داخلے منظور کیے، امتحانی فیس وصول کی، انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی اور ان کے امتحانات بھی منعقد کر لیے تو اگر کسی ادارے کے ذمے کوئی بقایا جات موجود ہیں، تو اس کا بوجھ طلبہ کے نتائج پر ڈالنا کس حد تک مناسب ہے؟ اگر واقعی کوئی مالی تنازع سکول یا ادارے اور بورڈ کے درمیان ہے تو اس کے فریقین اور ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے، جبکہ طلبہ کو اس معاملے میں فریق بنائے بغیر ان کے تعلیمی نتائج اور مستقبل کو متاثر ہونے سے بچانا بھی ضروری ہے۔*
*اگر یہ رقم طلبہ کے ذاتی واجبات ہیں تو بورڈ کو واضح کرنا ہوگا کہ ہر طالب علم کے ذمہ عین 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کیسے واجب ہوئے۔ اگر یہ کسی مشترکہ فیس یا ادارہ جاتی معاملے سے متعلق ہے تو پھر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس رقم کو طلبہ کے انفرادی رزلٹ ریکارڈ میں کیوں ظاہر کیا گیا اور بعض طلبہ کا تفصیلی نتیجہ کیوں روکا گیا۔*
*مزید سوال یہ ہے کہ اگر Fee Issue کی وجہ سے نتائج متاثر ہوئے ہیں تو کامیاب طلبہ کے نمبرز اور گریڈ جاری کرتے ہوئے ان کے ریکارڈ میں بھی یہی رقم کیوں درج کی گئی؟ کیا بورڈ کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں کسی مخصوص ادارے کا فیس ریکارڈ متعدد طلبہ کے ساتھ منسلک ہوگیا ہے، یا واقعی کسی قانونی و مالی بنیاد پر یہ رقم ان امیدواروں کے رزلٹ سے وابستہ ہے؟*
*BISE*
*راولپنڈی انتظامیہ کو اس معاملے پر فوری اور واضح وضاحت دینی چاہیے کیونکہ والدین اور طلبہ کے لیے 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کی رقم اور ’’Fee Issue‘‘ کی اصطلاح کسی بھی طرح معمولی معاملہ نہیں۔ اگر کسی سکول یا ادارے کے ساتھ بورڈ کا مالی تنازع ہے تو اس کی نوعیت واضح کی جائے اور اگر طلبہ اس تنازع کے فریق نہیں تو ان کے نتائج کو اس رقم سے مشروط کرنے کی بنیاد بھی سامنے *لائی جائے۔*
*دوسری جانب اگر بورڈ کے قواعد کے تحت یہ رقم واقعی طلبہ کے رزلٹ سے منسلک ہے تو متعلقہ ضابطہ، فیس شیڈول اور واجبات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔*
*یہ معاملہ صرف ایک سکول یا چند طلبہ کا نہیں بلکہ بورڈ کے امتحانی ریکارڈ کی شفافیت اور کمپیوٹرائزڈ نظام کی درستگی کا بھی امتحان ہے۔ BISE راولپنڈی کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر واضح کرے کہ سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں کے متعدد طلبہ کے رزلٹ میں ایک ہی 633,500 روپے کا Fee Issue کیوں ظاہر ہو رہا ہے، اس رقم کی نوعیت کیا ہے، اس کا اصل ذمہ دار کون ہے، اور اگر یہ طلبہ کے ذاتی واجبات نہیں تو ان کے نتائج کو اس رقم سے مشروط کرنے کی بنیاد کیا ہے۔*
*اس حوالے سے متعلقہ سکول کے مالک سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے عوامی پریس کلب ضلع چکوال کو اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ہم بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یہ مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔*
*والدین اور طلبہ اب بورڈ انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی وضاحت اور نتائج کے حوالے سے حتمی صورتحال کے منتظر ہیں۔*