Dhudialnama Chakwal

Dhudialnama Chakwal Best page for local news of District Chakwal and nationwide updates across the country.

08/08/2026

*پنجاب ایمرجنسی سروسز*
*ریسکیو1122 چکوال*
*08 اگست 2026*

*تلہ گنگ، نکہ کہوٹ کے قریب کار اور موٹرسائیکل میں تصادم، تین افراد شدید زخمی، ریسکیو 1122 کا بروقت رسپانس*

تلہ گنگ: تفصیلات کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم چکوال کو نکہ کہوٹ سے کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ کار اور موٹرسائیکل کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ریسکیو سروسز کی مدد درکار ہے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم چکوال نے قریبی ریسکیو پوائنٹ سے ایمبولینس سروس کو جائے حادثہ پر روانہ کر دیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر تینوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور مزید طبی امداد کے لیے سٹی ہسپتال تلہ گنگ منتقل کر دیا۔

حادثے میں 60 سالہ بشیر ولد قطب دین کو سر پر شدید اندرونی چوٹ کا شبہ تھا جبکہ ناک اور منہ سے شدید خون بہہ رہا تھا۔ 30 سالہ دختر نوید کے ماتھے کے بائیں جانب گہرا زخم آیا، جبکہ 30 سالہ عاطف بشیر ولد محمد بشیر بھی حادثے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق یہ حادثہ تیز رفتاری کے سبب پیش آیا۔

ریسکیو 1122 چکوال شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ دورانِ سفر رفتار کو قابو میں رکھیں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

*بریکنگ نیوز**سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں کے متعدد طلبہ کے رزلٹ میں 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کا ’’Fee Issue‘‘، BISE راو...
07/08/2026

*بریکنگ نیوز*

*سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں کے متعدد طلبہ کے رزلٹ میں 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کا ’’Fee Issue‘‘، BISE راولپنڈی سے وضاحت طلب*

*چکوال (اے پی سی نیوز)*
*گوجر خان/راولپنڈی: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے ایس ایس سی فرسٹ اینول امتحان 2026 کے نتائج میں سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں، تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے متعدد طلبہ کے رزلٹ کے ساتھ ایک ہی رقم 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کے ’’FEE ISSUE‘‘ کے طور پر ظاہر ہونے کا غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے بورڈ کے فیس اور امتحانی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔*

*6 اگست 2026 کو جاری کیے گئے رزلٹ گزٹ میں مذکورہ سکول کے متعدد طلبہ کے نام اور رول نمبرز کے ساتھ مختلف نتائج اور نمبرز درج ہیں، تاہم ان کے ریکارڈ میں بار بار “FEE ISSUE 633500/- RUPEES” تحریر کیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر ان امیدواروں میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو باقاعدہ طور پر PASS قرار دیے گئے ہیں۔*

*گزٹ کے مطابق رول نمبر 915458 سفیان علی 976 نمبروں کے ساتھ A+ گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945693 محمد طلحہ 1021 نمبروں کے ساتھ A+ گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945723 محمد سمیع اللہ 734 نمبروں کے ساتھ B گریڈ میں پاس ہے، رول نمبر 945807 رامش علی 665 نمبروں کے ساتھ C گریڈ میں پاس ہے جبکہ رول نمبر 945817 شہزیب حیدر 637 نمبروں کے ساتھ C گریڈ میں کامیاب ہے، لیکن ان کامیاب امیدواروں کے ریکارڈ کے ساتھ بھی 633500 روپے کا Fee Issue درج ہے۔*

*اسی سکول کے طالب علم محمد ارسلان، رول نمبر 945788 کے آن لائن رزلٹ میں بھی “RE-APPEAR” کے ساتھ یہ تحریر موجود ہے کہ 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کے Outstanding Dues جمع کرانے کے بعد تفصیلی نتیجہ جاری کیا جائے گا۔*

*اس صورتحال نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ اب سوال صرف ایک طالب علم کے رزلٹ کا نہیں رہا بلکہ ایک ہی سکول کے متعدد طلبہ کے ریکارڈ میں ایک ہی رقم کے بار بار ظاہر ہونے کا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 633,500 روپے آخر کس مد میں ہیں؟ کیا یہ رقم سکول، طلبہ، داخلہ فیس، امتحانی فیس، رجسٹریشن، کسی سابقہ بقایا، کسی انتظامی معاملے یا بورڈ کے کسی مخصوص فیس اکاؤنٹ سے متعلق ہے؟*

*ابھی تک اس بارے میں بورڈ کی جانب سے کوئی واضح عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی، اس لیے اس رقم کو حتمی طور پر سکول یا طلبہ کے واجبات قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم ایک ہی ادارے کے متعدد امیدواروں کے رزلٹ میں ایک ہی رقم کا ظاہر ہونا وضاحت طلب معاملہ ضرور ہے۔*

*یہاں ایک اہم قانونی اور اخلاقی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بورڈ نے طلبہ کی رجسٹریشن مکمل کی، ان کے داخلے منظور کیے، امتحانی فیس وصول کی، انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی اور ان کے امتحانات بھی منعقد کر لیے تو اگر کسی ادارے کے ذمے کوئی بقایا جات موجود ہیں، تو اس کا بوجھ طلبہ کے نتائج پر ڈالنا کس حد تک مناسب ہے؟ اگر واقعی کوئی مالی تنازع سکول یا ادارے اور بورڈ کے درمیان ہے تو اس کے فریقین اور ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے، جبکہ طلبہ کو اس معاملے میں فریق بنائے بغیر ان کے تعلیمی نتائج اور مستقبل کو متاثر ہونے سے بچانا بھی ضروری ہے۔*

*اگر یہ رقم طلبہ کے ذاتی واجبات ہیں تو بورڈ کو واضح کرنا ہوگا کہ ہر طالب علم کے ذمہ عین 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کیسے واجب ہوئے۔ اگر یہ کسی مشترکہ فیس یا ادارہ جاتی معاملے سے متعلق ہے تو پھر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس رقم کو طلبہ کے انفرادی رزلٹ ریکارڈ میں کیوں ظاہر کیا گیا اور بعض طلبہ کا تفصیلی نتیجہ کیوں روکا گیا۔*

*مزید سوال یہ ہے کہ اگر Fee Issue کی وجہ سے نتائج متاثر ہوئے ہیں تو کامیاب طلبہ کے نمبرز اور گریڈ جاری کرتے ہوئے ان کے ریکارڈ میں بھی یہی رقم کیوں درج کی گئی؟ کیا بورڈ کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں کسی مخصوص ادارے کا فیس ریکارڈ متعدد طلبہ کے ساتھ منسلک ہوگیا ہے، یا واقعی کسی قانونی و مالی بنیاد پر یہ رقم ان امیدواروں کے رزلٹ سے وابستہ ہے؟*
*BISE*
*راولپنڈی انتظامیہ کو اس معاملے پر فوری اور واضح وضاحت دینی چاہیے کیونکہ والدین اور طلبہ کے لیے 6 لاکھ 33 ہزار 500 روپے کی رقم اور ’’Fee Issue‘‘ کی اصطلاح کسی بھی طرح معمولی معاملہ نہیں۔ اگر کسی سکول یا ادارے کے ساتھ بورڈ کا مالی تنازع ہے تو اس کی نوعیت واضح کی جائے اور اگر طلبہ اس تنازع کے فریق نہیں تو ان کے نتائج کو اس رقم سے مشروط کرنے کی بنیاد بھی سامنے *لائی جائے۔*

*دوسری جانب اگر بورڈ کے قواعد کے تحت یہ رقم واقعی طلبہ کے رزلٹ سے منسلک ہے تو متعلقہ ضابطہ، فیس شیڈول اور واجبات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔*

*یہ معاملہ صرف ایک سکول یا چند طلبہ کا نہیں بلکہ بورڈ کے امتحانی ریکارڈ کی شفافیت اور کمپیوٹرائزڈ نظام کی درستگی کا بھی امتحان ہے۔ BISE راولپنڈی کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر واضح کرے کہ سائنس فاؤنڈیشن سسٹم سکول ڈھوں کے متعدد طلبہ کے رزلٹ میں ایک ہی 633,500 روپے کا Fee Issue کیوں ظاہر ہو رہا ہے، اس رقم کی نوعیت کیا ہے، اس کا اصل ذمہ دار کون ہے، اور اگر یہ طلبہ کے ذاتی واجبات نہیں تو ان کے نتائج کو اس رقم سے مشروط کرنے کی بنیاد کیا ہے۔*

*اس حوالے سے متعلقہ سکول کے مالک سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے عوامی پریس کلب ضلع چکوال کو اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ہم بورڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یہ مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔*

*والدین اور طلبہ اب بورڈ انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی وضاحت اور نتائج کے حوالے سے حتمی صورتحال کے منتظر ہیں۔*

چکوال (اے پی سی نیوز) تھانہ روات راولپنڈی میں تعینات اے ایس آئی ساجد ثقلین کی شاندار تفتیش، عدالت سے ملزم کو سزاتھانہ رو...
07/08/2026

چکوال (اے پی سی نیوز)
تھانہ روات راولپنڈی میں تعینات اے ایس آئی ساجد ثقلین کی شاندار تفتیش، عدالت سے ملزم کو سزا
تھانہ روات راولپنڈی میں تعینات اے ایس آئی ساجد ثقلین کی مؤثر تفتیش اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے نتیجے میں مقدمہ نمبر 162/26 میں معزز عدالت نے ملزم طیب ریاض کو جرم ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت 15،15،15 سال قید اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
مقدمے کی تفتیش کے دوران شواہد اکٹھے کرنے، قانونی تقاضے پورے کرنے اور کیس کو مؤثر انداز میں عدالت کے سامنے پیش کرنے پر اے ایس آئی ساجد ثقلین کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ میرٹ پر تفتیش، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق کارروائی ہی انصاف کی فراہمی کی بنیاد ہے۔ عدالتی فیصلہ پولیس کی مؤثر تفتیش اور قانونی کارروائی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

07/08/2026

پٹرول پمپ مقررہ ریٹ سے زائد رقم وصول نہیں کر سکتے، اوورچارجنگ پر کارروائی ہوگی

اسلام آباد: پٹرول پمپ مالکان متعلقہ پٹرولیم مصنوعات کے لیے مقررہ ریٹ سے ایک روپیہ بھی زائد وصول نہیں کر سکتے۔ مقررہ قیمت سے زیادہ رقم لینا اوورچارجنگ کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر قانونی و انتظامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Petroleum Products (Petroleum Levy and Climate Support Levy) Ordinance, 1961 کی دفعہ 4 کے تحت پٹرولیم مصنوعات کو مقررہ فروخت قیمت سے زائد پر فروخت کرنے کی ممانعت ہے، جبکہ OGRA کے قواعد میں بھی مقررہ قیمت سے زائد وصولی کو Overcharging قرار دیا گیا ہے۔

صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ زائد رقم وصول ہونے کی صورت میں پٹرول پمپ کی رسید، ڈسپلے، میٹر ریڈنگ، تاریخ اور وقت کا ثبوت محفوظ کریں اور OGRA یا متعلقہ حکام کو شکایت کریں۔

قانونی اصول واضح ہے: متعلقہ پٹرول پمپ کے لیے جو ریٹ مقرر ہے، صارف سے اس سے زائد رقم وصول نہیں کی جا سکتی۔

07/08/2026

چکوال میں سرکاری نرخ سے زائد پیٹرول کی فروخت؟ ٹوٹل پارکو پمپ پر 332.32 روپے فی لیٹر ریٹ، انتظامیہ حکومت کے اعلان کردہ نرخوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام
چکوال (اے پی سی نیوز)
چکوال: حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کے اعلان کے باوجود چکوال میں سرکاری مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر پیٹرول کی فروخت کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ چکوال نورنگ کے قریب مین پنڈی روڈ پر واقع ٹوٹل پارکو (بخاری پیٹرولیم) پر پیٹرول کی قیمت 332 روپے 32 پیسے فی لیٹر درج ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے مقررہ تازہ سرکاری قیمت 329 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے۔

اس طرح دونوں نرخوں میں 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کا واضح فرق موجود ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ صورتحال محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ ویڈیو میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ ویڈیو میں سرکاری نرخ سے زائد قیمت کے بارے میں سوال کیے جانے پر پمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نرخ راولپنڈی کے لیے ہے، جبکہ چکوال تک پیٹرول پہنچانے کی اضافی لاگت کے باعث یہاں قیمت زیادہ رکھی گئی ہے۔

انتظامیہ سے براہِ راست جواب طلب

اب اصل سوال ڈپٹی کمشنر چکوال، اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ پرائس کنٹرول حکام سے ہے:

کیا حکومت پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ پیٹرول کی قیمت چکوال میں نافذ نہیں؟

اگر سرکاری نرخ 329 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے تو 332 روپے 32 پیسے کس قانون، نوٹیفکیشن یا اجازت کے تحت وصول کیے جا رہے ہیں؟

کیا کسی پٹرول پمپ کو سرکاری اعلان کردہ قیمت سے زائد رقم وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے؟

اگر ایسا کوئی قانونی اختیار موجود ہے تو اس کا نوٹیفکیشن عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟

اور اگر ایسا کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں تو پھر سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والے پمپس کے خلاف کیا کارروائی جا رہی ہے؟

کیا چکوال کے لیے الگ پٹرول ریٹ ہے؟

پمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف بھی قابلِ وضاحت ہے کہ حکومت کا مقرر کردہ نرخ ’’راولپنڈی کے لیے‘‘ ہے۔

اگر واقعی ایسا ہے تو متعلقہ حکام عوام کو بتائیں کہ چکوال کے لیے پیٹرول کی الگ سرکاری قیمت کس نے مقرر کی، کب مقرر کی اور اس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟

کیا وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ ضلع وار مقرر کیے جاتے ہیں یا ملک بھر میں مقررہ قیمت کا اطلاق ہوتا ہے؟

اگر چکوال کے لیے الگ نرخ ہے تو اس کا باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن کہاں ہے؟

شہریوں کا سخت سوال

چکوال کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت جب پیٹرول کی قیمت کم کرتی ہے تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ مختلف جواز پیش کرکے صارفین سے اضافی رقم وصول کی جائے۔

شہریوں کا طنزیہ مگر انتہائی اہم سوال ہے:

کیا چکوال پاکستان میں نہیں؟

اگر حکومت کا مقرر کردہ نرخ چکوال میں نافذ ہے تو سرکاری قیمت سے زیادہ وصولی کیوں؟

اور اگر چکوال میں واقعی الگ نرخ نافذ ہے تو اس کا سرکاری ثبوت عوام کے سامنے کیوں نہیں؟

ضلعی انتظامیہ کی خاموشی بھی سوالیہ نشان

یہ معاملہ صرف ایک پٹرول پمپ تک محدود نہیں۔ اصل سوال ضلعی انتظامیہ کی نگرانی اور پرائس کنٹرول کے نظام پر بھی اٹھتا ہے۔

اگر ایک پٹرول پمپ پر سرکاری نرخ سے زائد قیمت واضح طور پر سامنے آ رہی ہے اور اس حوالے سے ویڈیو بھی موجود ہے تو متعلقہ محکموں نے خود نوٹس کیوں نہیں لیا؟

کیا چکوال میں پٹرول پمپس کی قیمتوں کی باقاعدہ چیکنگ کی جا رہی ہے؟

اگر چیکنگ ہوتی ہے تو سرکاری نرخ سے زائد قیمت کیسے مقرر کی گئی؟

اور اگر انتظامیہ کو اس صورتحال کا علم نہیں تو پھر پرائس کنٹرول کا پورا نظام کس کے لیے قائم کیا گیا ہے؟

اوگرا اور متعلقہ حکام بھی وضاحت کریں

اس معاملے میں اوگرا اور متعلقہ محکمہ پٹرولیم سے بھی وضاحت ضروری ہے کہ کیا کسی پٹرول پمپ کو سرکاری مقررہ قیمت سے زائد ریٹ پر پیٹرول فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

اگر اجازت ہے تو اس کی شرائط کیا ہیں؟

اور اگر اجازت نہیں تو پھر چکوال میں اس مبینہ زائد قیمت کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟

عوام کو جواب چاہیے، خاموشی نہیں

چکوال کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے فوری طور پر موقع پر انسپکشن کرے، پٹرول پمپ کا ریکارڈ چیک کرے، سرکاری نرخ اور فروخت ہونے والے نرخ کا موازنہ کرے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرے۔

ساتھ ہی پٹرول پمپ انتظامیہ سے بھی واضح جواب لیا جائے کہ 332 روپے 32 پیسے فی لیٹر قیمت کس سرکاری اجازت کے تحت مقرر کی گئی ہے۔

اگر قیمت قانونی ہے تو عوام کو ثبوت دکھایا جائے، اور اگر غیر قانونی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عوام کو محض وضاحتیں نہیں، قانون کے مطابق واضح جواب اور عملی کارروائی چاہیے۔

#چکوال #پٹرول #اوگرا #جوابدہی

07/08/2026

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا آج ملک گیر احتجاج، 510 مقامات پر دھرنوں کا اعلان
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف آج (جمعہ) ملک بھر میں 510 مقامات پر پرامن دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج شام 4 بجے شروع ہوگا اور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور عوامی مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی

07/08/2026

حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں
میں کمی کا اعلان
پیٹرول 3 روپے 19 پیسے
جبکہ ڈیزل فی لیٹر
ایک روپے 50 پیسے
سستا کردیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

06/08/2026

حادثہ
*جیٹھل اڈا چک بیلی خان روڈ پر ڈمپر والے نے ایک راہگیر کو کچل دیا ذرائع کے مطابق یہ حادثہ صبح 9:15 پہ جیٹھل چک بیلی خان روڈ پہ پیش آیا راہگیر کی حالات انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے زخمی کو 1122 والے چکوال ہاسپیٹل لے گے ہیں جبکہ ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار*

بشکریہ سرکال نیوز

05/08/2026

چکوال: ضلع بھر میں ای چالان سسٹم کا آغاز

ضلع چکوال میں آج سے ای چالان (E-Challan) سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ چکوال پولیس کے مطابق شہری ٹریفک قوانین، رفتار کی مقررہ حد، لین ڈسپلن، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ای چالان جاری کیا جائے گا۔

05/08/2026

*بریکنگ نیوز*

*عوام الناس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ضلع چکوال میں آج سے ای چالان (E-Challan) سسٹم کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں، دورانِ ڈرائیونگ احتیاط برتیں اور محفوظ سفر کو یقینی بنائیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ای چالان جاری کیا جائے گا۔ قانون کی پابندی، آپ کی اور دوسروں کی حفاظت کی ضمانت ہے۔*

*رپورٹ: ساجد بلوچ*
*رپورٹر اپڈیٹس میڈیا گروپ*

Address

Chakwal

Telephone

03135785799

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dhudialnama Chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dhudialnama Chakwal:

Shortcuts

Share

Category