SWAN KE AWAZ

SWAN  KE AWAZ Swan Ke awaz Only For Local News Network Organisation

16/04/2018

یو سی تھنیل کمال کی عوام مایوسی کا شکار
۔یو سی تھنیل کمال کی عوام عرصہ 35 سال سے مایوسی کا شکار اور تا حال اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے ۔ struggle for rights of thanil kamal کے ڈائریکٹر چوہدری اسحاق خان مغل نے سواں نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں میں احساس محرومی کی بنیادی وجہ ہمارے منتخب کردہ سیاسی نمائندے یو سی تھنیل کمال کے مسائل کو اور نہ ہی لوگوں کے بنیادی حقوق کو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی ان مسائل کو حل کرنے کی طرف کوئی توجہ دی جاتی ہے ان وجوہات کا سبب ہم خود بنتے ہیں کیونکہ ہم بغیر سوچ سمجھ کے ان کا انتخاب کرتے ہیں۔اور دوسری سب سے بڑی وجہ ان لیڈروں کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں۔اور نہ ہی وہ ہمارے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں۔ہماری لوکل لیڈرشپ بھی اندھی تقلید سے باہر نکل نہیں پاتی۔حالیہ ضمنی الیکشن میں ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے نے جو وعدے ہم سے کیے گئے تھے وہ بھی وہ وفا نہ کر سکے ۔ اور ابھی 2018 کا الیکشن آنے والا ہے اور یہی عوامی نمائندے ہماری دہلیز پر آپ کو سبز باغ دکھانے کے لئے جلوہ گر ہوں گے ۔یو سی تھنیل کمال کی عوام نے ان سیاسی نمائندوں سے مایوس ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت فنڈ اکھٹا کر کے ترقیاتی کام کیے ہیں جو کہ ان سیاسی نمائندوں کے لئے شرم کا مقام ہے اور یہ عوامی نمائندے 2018کے الیکشن میں یو سی تھنیل کمال کی عوام کا سامنا کیسے کریں گے۔

مندرہ تا چکوال ریلوے لائن کو بحال کیا جائے۔پنڈ داخلی ہراج(نیوز ڈیسک )۔مندرہ تا چکوال ریلوے لائن کی تاریخ یعنی (Histry )ک...
12/11/2015

مندرہ تا چکوال ریلوے لائن کو بحال کیا جائے۔
پنڈ داخلی ہراج(نیوز ڈیسک )۔مندرہ تا چکوال ریلوے لائن کی تاریخ یعنی (Histry )کی بات کی جائے تو بہت ہی پرانی ہے۔
As the Potohar region particularly the district of Chakwal has been martial area for ages, the British rulers laid down the railway track here in the early 20th century. The track was laid down in three stretches. On May 1, 1915, the 44.04-km-long Mandra-Dhudial section was opened while the Dhudial-Chak-Naurang and Chakwal-Bhoun sections were opened on June 1, 1915, and January 15, 1916, respectively. The track was the sole source of transportation for the people of the area and remained so till the early 1980s.
لیکن بقول سٹیشن ماسٹر شیخ اقبال علی جب میں نے1986میں چارج لیا۔
When I took the charge as the station master of the Bhoun Railway Station in 1986, the number of passengers was very thin. Sometimes hardly a ticket was sold but the train had to run irrespective of the number of passengers,148 recalls Sheikh Iqbal. 147The train used to take four to five hours to reach Rawalpindi while the passenger vans would only take one-and-a-half hour to cover the distance.That was why people started preferring the passenger vans,he added.
جب 1993میں نواز شریف اقتدار میں آئے۔تو ان کی کابینہ کے خوراک و زراعت کے وزیر عبدالمجید ملک نے ریلوے لائن کو خریدا اور میاں محمد نواز شریف کی اتفاق فونڈری کو بیچ دیا۔جب مشرف نے میاں محمد نواز شریف کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا۔
During the Musharraf era when Chakwal saw an industrial change as cement plants were set up in the district, a hope for the revival of the Mandra-Bhoun railway track rekindled when in 2007 the then district nazim Sardar Ghulam Abbas requested President Musharraf for restoring the track during a public meeting at Choa Saidan Shah. The transportation of cement from Salt Range to different areas of the country and coal from Karachi to these cement plants was considered easy by the train. Later, on the directive of Musharraf, the then federal minister for railways Sheikh Rashid Ahmed visited Chakwal on June 26, 2007.Later in 2010, the Supreme Court formed a commission and directed it to submit a report on the condition of the railway track and other infrastructure. 147We visited the track and found that a lot of land had been encroached while the buildings of the railway stations crumbled,148 senior lawyer Haroon Irshad Janjua, who being the general secretary of the Chakwal Bar Association assisted the commission. 147After the submission of the report, the apex court also issued a directive to the authorities for the revival of the track,148 he added.
مندرہ تا چکوال ریلوے لائن چکوال کی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔چکوال کی عوام نے میاں محمد نواز شریف کو 2013 کے قومی الیکشن میں بھاری اکژیت سے کامیاب کیا۔اور حالیہ 31اکتوبر کے بلدیاتی الیکشن میں بھی کامیا ب کیا ہے۔چکوال کی عوام وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف اوروزیراعلی پنجاب میاں محمدشبہازشریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مندرہ تا چکوال ریلوے لائن کو جلد از جلد بحال کیاجائے۔
رپورٹ۔چوہدری عطا خان مغل

10/11/2015

نیوز ڈیسک اور اپنا سواں نیوز کو یونین کونسل دلہہ اور یونین کونسل تھنیل کمال سے اعزازی رپورٹر کی ضرورت ہے۔
برائے رابطہ نمبر۔03365938693/03215018515

10/11/2015

ہراج تا دلہہ روڈ دوبارہ مرمت کیا جائے۔اہلیان علاقہ
پنڈ داخلی ہراج۔(نیوز ڈیسک ؍ اپنا سواں نیوز)۔ ہراج تا دلہہ روڈجو کہ موٹروے نیلہ دلہہ انٹرچینج سے لنک کرتا ہے۔ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔اس روڈ کو بھی دوسرے روڈ کی طرح کارپٹ روڈ بنایا جائے موضع ہراج،پنڈ،نارنگ سیداں،جبی،کڑاہی،نکہ،نروال،ڈہوک مرید،منگوال، لطیفال کا یونین کونسل دلہہ اور یونین کونسل تھنیل کمال کے ساتھ اسی روڈ کی وجہ سے رابطہ ہوتا ہے۔اہلیان علاقہ کا ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے اس مسلئے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔رپورٹ ۔چوہدری عطا خان مغل

10/11/2015
04/11/2015

Pakistan Cricket Team centurion Mohammad Hafeez says he has never faced more reverse swing bowling than at any other stage in his career when he batted against James Anderson and Stuart Broad.
What did you make of their battles with each other out in the middle? http://goo.gl/3xnboQ

04/11/2015

قصبہ دھیدوال کے قریب روڈ کنارے کھڑے ٹرک سے موٹر سائیکل کی ٹکر،،پانچ سالہ بچہ جاں بحق ،دو خواتین شدید زخمی ہو گئی

مسلم لیگ ن نے 41 یونین کونسلیں جیتی ہیں۔ سر دار ذوالفقارعلی دلہہ رپورٹ ۔چوہدری عطا خان مغل
04/11/2015

مسلم لیگ ن نے 41 یونین کونسلیں جیتی ہیں۔ سر دار ذوالفقارعلی دلہہ رپورٹ ۔چوہدری عطا خان مغل

Address

Village Pind Mughlan P/o. Narang Chakwal
Chakwal
48800

Telephone

00923215018515

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SWAN KE AWAZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SWAN KE AWAZ:

Share