Chakwal News Digital

Chakwal News Digital Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Chakwal News Digital, News & Media Website, Tehsil Chowk, Chakwal.

Chakwal News Digital🇵🇰
Which is the leading news social media network of Chakwal covering Local news, culture news , crime news , political news, current affairs ..!!

🚀 Grow Your Business with Powerful Meta Ads!Take your brand to the next level with professional Facebook, Instagram & Wh...
23/05/2026

🚀 Grow Your Business with Powerful Meta Ads!

Take your brand to the next level with professional Facebook, Instagram & Whatsapp marketing services.
📈 Reach more customers
🎯 Target the right audience
💰 Increase sales & engagement

📲 WhatsApp: 03335916466
🌐

23/05/2026

چکوال سیف سٹی کیمروں سے ای چالان کے دعوے پر ابہام، متعلقہ حکام کی تردید تفصیلات کمنٹ میں 👇

اپنی قیمتی رائے کمنٹ میں دیںانتباہی نوٹچکوال نیوز ڈیجیٹل ایک آزاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد عوامی مسائل، خبروں ...
23/05/2026

اپنی قیمتی رائے کمنٹ میں دیں
انتباہی نوٹ

چکوال نیوز ڈیجیٹل ایک آزاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد عوامی مسائل، خبروں اور مختلف سماجی معاملات کو عوام تک پہنچانا ہے۔ پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی آراء، تبصرے اور عوامی رائے صرف اظہارِ خیال کے زمرے میں آتے ہیں

چکوال نیوز ڈیجیٹل کسی فرد، ادارے یا تنظیم کے خلاف نفرت، اشتعال انگیزی یا ذاتی کردار کشی کی حمایت نہیں کرتا۔ اگر کسی خبر یا پوسٹ پر متعلقہ فریق مؤقف یا وضاحت دینا چاہے تو پلیٹ فارم اس کے حقِ جواب کو مکمل اہمیت دے گا
*انتظامیہ چکوال نیوز ڈیجیٹل*











23/05/2026

چکوال سیف سٹی کیمرے فعال، قانون پر عمل نہ کرنے والے لوگوں کے چالان شروع،عید کے بعد چالان گھروں میں پہنچے گے
انچارج ٹریفک پولیس

معروف صحافی و کالم نگار راجہ افتخار احمد کی فیس بک وال سے ۔۔۔۔!!
23/05/2026

معروف صحافی و کالم نگار راجہ افتخار احمد کی فیس بک وال سے ۔۔۔۔!!

*شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا**✍🏻 پروفیسر عظمت شہزاد عظمی*11/12 مئی کو یونی ورسٹی آف چکوال میں انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹ...
23/05/2026

*شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا*

*✍🏻 پروفیسر عظمت شہزاد عظمی*

11/12 مئی کو یونی ورسٹی آف چکوال میں انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ میرے خیال میں یونی ورسٹی آف چکوال میں یہ پہلی ہم نصابی سرگرمی تھی جس طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد خطے میں جاری جارحیت ، سیاست اور مختلف ممالک کی جنگی صلاحیتوں بارے آگاہی تھا۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں کسی بھی شعبے میں تحقیق کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ آج تک انسان نے صحت و ٹیکنالوجی حتی کہ جس شعبہ میں بھی ترقی کی اس کا سہرا یونی ورسٹیوں کے ہی سر ہے۔ آپ تحقیق کر لیجیے یورپ کی یونی ورسٹیوں میں سوشل سائنسز کی کس قدر اہمیت ہے وہاں بین المذاہب مطالعہ بھی کیا جاتا ہے اور سماجی و معاشرتی مسائل پر مباحث کے لیے بین الاقوامی سطح پر سیمینار منعقد کروائے جاتے ہیں جدید قوموں کی ترقی راز بھی علم و تحقیق میں مضمر ہے۔لہذا مذکورہ کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور اس مقصد سراسر معلوماتی و علمی تھا نہ تو کوئی بیرونی فنڈنگ تھی نہ ایسا کوئی مقصد تھا جس طرح سے اس کو پیش کیا گیا اس طرح کا پروپیگنڈہ طللبہ کے علمی اور مذہبی جذبات بھی مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ہر حوالے سے کامیاب علمی سرگرمی تھی اور طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کو بھی سراہنا ضروری ہے جنھوں نے محدود وسائل میں ایسی شان دار کانفرنس منعقد کروائی۔ اس کانفرس میں جہاں دیگر ممالک کی دفاعی صلاحیتوں بارے آگاہی تھی وہیں اسرائیل کی دفاعی صلاحیت کے بارے میں طلباء کے ایک گروپ نے تحقیقی کام کر رکھا تھا یہ محض نصابی سرگرمی تھی۔ تاہم چند روز بعد سوشل میڈٰیا پر اس تحقیقی سرگرمی کی جانچ کیے بنا ایک طوفان کھڑا ہوا جس کے نتیجے میں کانفرنس کا اصل مقصد سبوتاژ کر دیا گیا۔بھلا ہو چیٹ جی پی ٹی کا کہ ہر کہ و مہ اب لکھاری بن چکا ہے اور ہمارے ہاں کوئ علمی و ثقافتی سرگرمی تو ہوتی نہیں ہے لہذا سبھی کو تفریح کا ساماں میسر ہوا اور سب نے دل کھول کر بھڑاس نکالی۔
یہ چلن اس معاشرے میں اب عام ہو چکا ہے کہ لوگ کسی واقعے کی تحقیق اور حقائق کو جانچنے کی زحمت کرنے کی بجائے بس پتھر مارنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔کچھ لوگ ایسی صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔آج ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی عملی تصویر بن چکا ہے ہم نے علمی و تحقیقی میدان میں کیا ہی ترقی کرنی ہے کہ پولیو کے قطروں سے لے کر کورونا ویکسین حتی کہ پیناڈول تک کے لیے ہم محتاج ہیں لہذا کل کو ہماری غیرت جوش میں آگئ اور ہم نے ادویات کا بائیکاٹ کر دیا تو پھر دم درود سے ہی کام چلانا پڑے گا ۔رہی بات قومی حمیت کی تو وہ اتنی ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ مقروض ہے اور آئ ایم ایف کی قسط نہ ملے تو روزی روٹی کے لالے پڑ جائیں۔ ہم غیر ملکی پراڈکٹس کے بنا سانس نہیں لیتے کوئ گھر ایسا نہیں جہاں اسرائیلی پراڈکٹس موجود نہیں ہیں یہ جو ہم موبائل اور جدید ٹیکنالوجی کی دیگر اشیا سے اپنے شب و روز رنگیں کرتے ہیں ان کی ایجاد کا سہرا بھی غیروں کے ہی سر ہے۔چلیے یہ تو ہماری مجبوری ہے کہ ہم بیرون دنیا کے ہاتھوں کے طرف دیکھ دیکھ جیتے ہیں ورنہ زندگی کی گاڑی کیسے چلے گی؟ہمیں اپنے گریباں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم بحثیت انسان کس نہج پر کھڑے ہیں ۔سوشل میڈیا کے اس شور شرابے میں پیش پیش ایک دوست کا تعلق شہر کے سب سے بڑے آفس سے ہے مجھے ان کی نیت پر شک تو نہیں ہے لیکن افسوس ضرور ہوا کہ مذکورہ آفس نے میں بزرگ ،بوڑھے چھوٹے ،بڑے صبح سے شام تک ذلیل ہوتے ہیں رشوت خوری کا بازار گرم رہتا ہے۔مجال ہے کہ اس ظلم کے خلاف ان کے قلم میں کبھی جنبش آئ ہو۔بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے ہوتے ہیں اور اردگرد ہونے والے مظالم سے نظریں چرا کے مقبول بیانیے سے واہ واہ سمیٹنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے ۔ رشوت خوری،بلیک میلنگ اور غریب کے استحصال کے خلاف آواز نہ اٹھانا بھی جرم ہے۔ہماری حب الوطنی کا یہ حال ہے کہ اگر یورپ اور امریکہ کے ویزے کھول دیے جائیں تو یقین جانیے اس ملک میں ایک بھی دانش ور ایسا نہ ہو جو پہلی پرواز سے وہاں جانے کا خواہاں نہ ہو۔غدر کے زمانے میں مرزا غالب نے کرنل براؤن کو کہا تھا کہ میں آدھا مسلمان ہوں' استفسار پر مرزا نے فرمایا تھا کہ "شراب پیتا ہوں سور نہیں کھاتا
خدا ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین

23/05/2026

پنجاب بھر میں عید الاضحی پر 26 سے 28 مئی تک چھٹیاں ہوں گی، نوٹیفکیشن جاری

پرچم، نمائشیں، اور معنی کی سیاست!!افتخار حیدر، ایڈووکیٹیونیورسٹی آف چکوال میں حالیہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب شعبۂ بین ...
23/05/2026

پرچم، نمائشیں، اور معنی کی سیاست!!

افتخار حیدر، ایڈووکیٹ

یونیورسٹی آف چکوال میں حالیہ تنازع اُس وقت سامنے آیا جب شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی جانب سے منعقدہ ایک تعلیمی نمائش میں اسرائیل کے قومی پرچم کی نمائش نے عوامی توجہ حاصل کر لی۔

بی بی سی اردو کے مطابق یہ تقریب “اسٹریٹیجک اسٹینڈرڈز” کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں طلبہ کے مختلف گروپس نے پاکستان، بھارت، چین، روس، جاپان، امریکہ اور شمالی کوریا سمیت مختلف ممالک کی نمائندگی کی۔ ہر وفد نے اپنی معلوماتی اسٹالز پر خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، معاشی حالات، ثقافتی پہلوؤں اور جغرافیائی سیاسی کردار پر روشنی ڈالی، اور ساتھ ہی متعلقہ ممالک کے قومی پرچم بھی آویزاں کیے۔

تاہم جیسے ہی اسرائیلی پرچم کی تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں، ردِعمل فوری اور منقسم تھا۔ جو چیز ایک تعلیمی مشق کے طور پر ترتیب دی گئی تھی، اسے جلد ہی ایک سیاسی بیان کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ پرچم توجہ کا مرکز بن گیا، جبکہ تعلیمی سیاق و سباق عوامی نظر سے اوجھل ہو گیا۔

یونیورسٹی آف چکوال میں ایک پروفیسر نے سوشل میڈیا پر ہونے والے احتجاج کی لہر کو “سوشل میڈیا کی نئی ابیگیلز” قرار دیا، اور اسے آرتھر ملر کے ڈرامے دی کروسیبل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جذباتی اشتعال اکثر عوامی مباحثے میں سیاق اور عقل پر حاوی ہو جاتا ہے۔

تاہم یہ تشریح مکمل طور پر قائل کرنے والی نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور مخصوص تناظر رکھنے والی حقیقت پر ایک ہی تاریخی مثال مسلط کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔

ایسے معاملات میں عوامی ردِعمل کوئی منظم قوت نہیں ہوتا، بلکہ یہ جذباتی ردِعمل، سیاسی یادداشت، جزوی معلومات اور حقیقی تشویش کا بکھرا ہوا امتزاج ہوتا ہے۔ اسے ایک متحد “ابیگیل نما” رجحان تک محدود کرنا ایک پیچیدہ سماجی منظرنامے کو سادہ بنا دینا ہے۔

ضلع میں ایک اور معتبر آواز، جو عمومی طور پر اس معاملے میں سخت تنقیدی مؤقف رکھتی ہے، اس بار اپنے تبصرے میں خود کو روک نہ سکی اور ایک سخت گیر مؤقف اختیار کیا، اور دیگر نکات کے ساتھ یہ استدلال پیش کیا کہ مسئلہ دراصل پرچم خود نہیں تھا—جو لہرایا نہیں گیا بلکہ محض نصب کیا گیا تھا۔

اسرائیل 14 مئی 1948 کو قائم ہوا، اور اسی سال اس کا قومی پرچم باضابطہ طور پر اختیار کیا گیا، اگرچہ اس کا علامتی ڈیزائن ریاست کے قیام سے پہلے کا ہے۔ تب سے یہ پرچم تبدیل نہیں ہوا، حالانکہ اسرائیل کی سیاسی اور علاقائی حقیقتیں مسلسل ارتقا پذیر رہی ہیں۔

لہٰذا پرچم محض کپڑا نہیں ہوتا۔ یہ تاریخ، یادداشت اور سیاسی وزن کا حامل ہوتا ہے۔ جب یہ عوامی دائرے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی تعبیر صرف ادارہ جاتی نیت کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ ذاتی تجربات اور سیاسی جذبات کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔

ایڈورڈ سعید ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سیاسی حقیقتیں غیر جانب دار حقائق سے زیادہ بیانیے اور نمائندگی کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ فرانز فینن یہ دکھاتے ہیں کہ علامات کو تسلط اور مزاحمت کی تاریخوں سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اقبال احمد نے دلیل دی کہ جواز کبھی محض قانونی نہیں ہوتا؛ یہ تاریخی تضادات، سیاسی یادداشت اور حل طلب تنازعات سے جڑا رہتا ہے۔

عالمی سیاست میں اسرائیل کی قانونی حیثیت کا سوال طویل عرصے سے متنازع رہا ہے اور یہ محض علمی مباحث تک محدود نہیں بلکہ سفارتی عمل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

یہ اقوامِ متحدہ کی بحثوں، ووٹنگ کے رجحانات، اور کبھی کبھار واک آؤٹس یا علامتی احتجاج کی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔

بہت سے ممالک اور سیاسی تحریکوں کے نزدیک جواز کا تعلق قبضے، بستیوں کی توسیع، اور فلسطین کے حل طلب مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔

اس سے ایک مستقل کشمکش پیدا ہوتی ہے—ایک طرف قانونی تسلیم شدگی اور دوسری طرف سیاسی قبولیت۔
تاہم اس متنازع فضا کو پورے معاشروں کے بارے میں اخلاقی عمومی بیانات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیل کے اندر خود نمایاں سیاسی اور فکری تنوع موجود ہے—ریاستی پالیسی کی مضبوط حمایت سے لے کر گہری داخلی تنقید اور اختلاف تک۔

بہت سے افراد شہریت اور حکومتی اقدامات میں فرق کرتے ہیں، اور قومی شناخت کو ان سیاسی فیصلوں سے الگ دیکھتے ہیں جو ان کے نام پر کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کو ریاستی پالیسی کے ساتھ یکساں قرار دینا اس حقیقت کو نظر انداز کرنا ہے کہ جدید سیاسی معاشرے کیسے کام کرتے ہیں۔

یہ دوہری حقیقت—بیرونی سطح پر جواز پر سوال اور اندرونی سطح پر تنوع—یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کیوں پرچم جیسے علامتی عناصر بین الاقوامی اور تعلیمی ماحول میں اتنے حساس بن جاتے ہیں۔ یہ کبھی غیر جانبدار علامات نہیں ہوتیں بلکہ تاریخی بیانیوں، جاری تنازعات اور غیر حل شدہ سیاسی موقف کا نچوڑ ہوتی ہیں۔

مجھے فن لینڈ میں ایک بین الاقوامی علمی کانفرنس کے بعد کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جہاں ایک اسرائیلی مندوب، جو ایک نہایت erudite اسکالر تھیں، عوامی بس میں سفر کر رہی تھیں۔ ایک مسافر—جو کسی دوسرے ملک کا ماہرِ تعلیم تھا—نے صرف اس وجہ سے انہیں قریب بیٹھنے کی اجازت نہ دی کہ ان کے لباس پر “اسرائیل” لکھا ہوا تھا۔ وہ واضح طور پر پریشان تھی۔اس واقعے نے ایک طویل فکری تبادلے کو جنم دیا، جس میں مشترکہ اخباری مضامین اور حتیٰ کہ ایک مجوزہ مشترکہ کتاب بھی شامل تھی، اگرچہ وقت کی کمی کے باعث وہ مکمل نہ ہو سکی۔

پاکستان واپسی پر میں نے ان کا انٹرویو دی نیوز انٹرنیشنل میں شائع کیا، جس میں ان کی علمی حیثیت کو اجاگر کیا گیا۔
یہ لمحہ میرے ساتھ اس لیے رہا کیونکہ اس نے دکھایا کہ جواز کئی سطحوں پر کام کرتا ہے۔

ایک ریاست بین الاقوامی قانون میں باضابطہ طور پر تسلیم شدہ ہو سکتی ہے، مگر روزمرہ کے روابط میں ادراک ادارہ جاتی شناخت پر غالب آ سکتا ہے۔

علامات اکثر فوری طور پر سمجھی جاتی ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی سیاسی یا قانونی تناظر سامنے آئے۔
یہ کوئی منفرد معاملہ نہیں۔

بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد ایسے تجربات سے واقف ہوتے ہیں۔ پاکستانی بھی بعض اوقات عالمی سرخیوں کے محدود زاویے سے دیکھے جاتے ہیں—دہشت گردی سے منسلک کر دیا جاتا ہے یا مختار مائی یا ملالہ یوسفزئی جیسے واقعات تک محدود کر دیا جاتا ہے—چاہے ہمارا معاشرہ کتنا ہی متنوع اور پیچیدہ کیوں نہ ہو۔ ایسے تصورات، چاہے کتنے ہی غلط ہوں، یہ دکھاتے ہیں کہ شناخت کس تیزی سے ایک سٹیریو ٹائپ میں ڈھل سکتی ہے۔

اسی طرح افراد اُن سیاسی بیانیوں کے حامل بن جاتے ہیں جو انہوں نے خود تشکیل نہیں دیے ہوتے۔

چکوال کا واقعہ بھی اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تعلیمی ادارے نمائندگی اور مشق کے ذریعے کام کرتے ہیں، جبکہ عوامی مکالمہ یادداشت، حساسیت اور سیاسی تجربے کے تحت چلتا ہے۔ جب یہ دونوں منطقیں ٹکراتی ہیں تو معنی غیر مستحکم ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی ردِعمل کو ایک ہی زمرے میں محدود نہ کیا جائے۔ آن لائن ردِعمل متنوع ہوتے ہیں—جذباتی اظہار سے لے کر سیاسی دلائل اور حقیقی تشویش تک۔

اصل مسئلہ ردِعمل نہیں، بلکہ وہ رفتار ہے جس سے سیاق و سباق ختم ہو جاتا ہے جب تصاویر اپنے اصل ماحول سے باہر گردش کرنے لگتی ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ مشق خالصتاً تعلیمی تھی، جس کا مقصد بین الاقوامی تعلقات اور تقابلی حکمتِ عملی کا عملی مظاہرہ کرنا تھا۔

آج یونیورسٹیوں کے لیے اصل چیلنج صرف تعلیمی ڈیزائن نہیں بلکہ ابلاغی ذمہ داری بھی ہے: یہ اندازہ لگانا کہ جب علامات منظم ماحول سے نکل کر غیر منظم ڈیجیٹل دنیا میں جائیں گی تو انہیں کیسے سمجھا جائے گا۔

چکوال کا تنازع صرف ایک پرچم کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس بات کا معاملہ ہے کہ جب علامات سیاق و سباق سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہیں تو معنی کیسے بدل جاتے ہیں۔ اور اسی خلا میں—نیت اور تعبیر کے درمیان—بہترین تعلیمی مشقیں بھی غیر ارادی سیاسی بیانات میں تبدیل ہو سکتی ہیں!!

چکوال کی تحصیل میں کلر کہار کے انتظامی اور ترقیاتی منظر نامے میں تبدیلیاں آنے والی ہیں، اس علاقے کو مزید پرکشش سیاحتی او...
23/05/2026

چکوال کی تحصیل میں کلر کہار کے انتظامی اور ترقیاتی منظر نامے میں تبدیلیاں آنے والی ہیں، اس علاقے کو مزید پرکشش سیاحتی اور پکنک کی جگہ کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ان ہدایات پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد خطے میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔ توقع ہے کہ کلر کہار کو ایک خوبصورت مقام کے طور پر مزید ترقی دی جائے گی، جس میں زائرین کے لیے اپ گریڈ شدہ سہولیات ہیں۔

سیاحت کو فروغ دینے میں چین کے تعاون سے کئی ترقیاتی منصوبے جلد شروع ہونے کی امید ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد رسائی کو بہتر بنانا، مہمانوں کے تجربے کو بڑھانا اور مقامی سیاحت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
Source : Peadistan

23/05/2026

یونیورسٹی آف چکوال میں متنازع جھنڈے کے معاملے پر انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر سید علی رضا کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا

یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی جھنڈے کے معاملے پر سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز  نے اپنے فیس بک پیج پر یونیو...
23/05/2026

یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی جھنڈے کے معاملے پر سابق صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے اپنے فیس بک پیج پر یونیورسٹی آف چکوال میں جھنڈے والے تنازعے پر بی بی سی اردو کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایک صارف کے کمینٹ کے جواب میں کہا کہ یہاں لوگ اکثر بغیر کسی پس منظر کے اور بغیر کسی معقول وجہ کے کچھ باتوں پر بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ جب آپ ماڈل یونائیٹیڈ نیشنز کا سیشن کرتے ہیں تو ہر ملک کی نمائندگی ضروری ہوتی ہے، چاہے آپ اس ملک کو پسند کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں۔
اب سوچیں، ہندوستان پاکستان کے مسئلے پر بحث کیسے ہو سکتی ہے اگر ہندوستان کا نمائندہ ہی موجود نہ ہو؟ ظاہر ہے کہ یہ نمائندہ دراصل ایک طالب علم ہوتا ہے جو ہندوستان کا کردار ادا کرتا ہے اور اپنی پوری کوشش سے فورم کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن وہ یہ کردار اپنے ملک کے پرچم کے بغیر یا اپنے ملک کے کسی علامتی نشان کے بغیر کیسے ادا کرے؟

Address

Tehsil Chowk
Chakwal
48800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chakwal News Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chakwal News Digital:

Share