16/05/2026
بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانیت دن بہ دن ختم ہوتی جا رہی ہے۔
ایک غریب بزرگ اپنی دو معصوم پوتیوں کے ساتھ دوائی لے کر گھر واپس آ رہا تھا۔ راستے میں آموں کا باغ آیا تو ننھی بچیوں کے دل میں آم کھانے کی خواہش جاگ اٹھی۔ انہوں نے اپنے دادا سے ضد کی تو اس مجبور بزرگ نے درخت سے ایک بھی آم نہیں توڑا، صرف زمین پر گرے ہوئے چند آم اپنی پوتیوں کے لیے اٹھا لیے۔
اتنے میں باغ کا مالک غصے میں آگیا۔ اس نے نہ اس بزرگ کی عمر دیکھی، نہ ان معصوم بچیوں کے آنسو۔ اس ظالم نے سب کے سامنے اس بےبس دادا کو مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کے ہاتھ بھی باندھ دیے۔
وہ ننھی بچیاں چیختی رہیں، روتی رہیں اور بار بار کہتی رہیں:
“ہم نے کوئی آم نہیں توڑا… ہم نے صرف نیچے گرے ہوئے آم اٹھائے ہیں…”
مگر افسوس، اس سنگدل انسان کے دل میں ذرا سا بھی رحم نہ آیا۔
وہ بزرگ بھی ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگتا رہا، لیکن ظلم کرنے والے کا دل نہ پگھلا۔
آج سوال یہ ہے کہ آخر غریب کی عزت اتنی سستی کیوں ہو گئی ہے؟
کیا چند آم ایک انسان کی عزت، اس کی سفید داڑھی اور معصوم بچیوں کے آنسوؤں سے زیادہ قیمتی ہو گئے ہیں؟