GOSHA CHAMAN

GOSHA CHAMAN Mohammad Siddiq Madani is well-known columnist in Pakistan
+923337752771
[email protected]
www.siddiqmadani.webs.com

نادرا پاکستان ۔۔۔۔۔ خدمات ، توقعات اور موجودہ مسائلتحریر حافظ محمد صدیق مدنی ممبر یوتھ پارلیمنٹ پاکستان قومی ڈیٹابیس اور...
15/04/2025

نادرا پاکستان ۔۔۔۔۔ خدمات ، توقعات اور موجودہ مسائل
تحریر حافظ محمد صدیق مدنی
ممبر یوتھ پارلیمنٹ پاکستان

قومی ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) پاکستان کا وہ معتبر ادارہ ہے جو عوام کی شناخت، رجسٹریشن اور اہم شہری دستاویزات کے اجراء کا ذمہ دار ہے۔ اس ادارے نے وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عوامی سہولت کے لیے کئی اقدامات کیے جن میں سب سے نمایاں آن لائن نظام اور حالیہ متعارف کردہ "پاک آئی ڈی" موبائل ایپ ہے۔ اس ایپ کے ذریعے عوام گھر بیٹھے شناختی کارڈ کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں اپنی دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور بایومیٹرک تصدیق کے ساتھ درخواست مکمل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام نے بظاہر عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی اور ایک امید جاگی کہ اب دفاتر کی لمبی قطاروں اور دھکم پیل سے نجات مل جائے گی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نادرا کی یہ آن لائن سہولت عوام کی ضروریات پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ ہزاروں افراد کی شکایات ہیں کہ ان کی درخواستیں ہفتوں تک نظر انداز کی گئیں اور جب انہیں آخر کار کھولا گیا تو بغیر کسی اطلاع یا وضاحت کے مسترد کر دیا گیا۔ یہ عمل نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ عوام کے اعتماد اور وقت کا صریحاً ضیاع ہے۔ نادرا کی جانب سے دعوے صرف اشتہارات تک محدود ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سروسز کا معیار اتنا ناقص ہے کہ نہ کوئی رہنمائی دستیاب ہے ، نہ وضاحت اور نہ ہی اپیل کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے۔ میری ذاتی مثال اس ناکامی کی ایک واضح علامت ہے۔ میں نے تین مرتبہ آن لائن شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی اور ہر بار تقریباً اٹھارہ دن انتظار کے بعد بغیر کوئی وجہ بتائے درخواست منسوخ کر دی گئی۔ میری ٹریکنگ آئی ڈی 888888943137 ہے۔ مسئلہ صرف اتنا تھا کہ ہمارا ضلع "چمن" پانچ سال قبل ضلع قلعہ عبداللہ سے علیحدہ ہوا تھا لیکن نادرا کی لائبریری میں تاحال اس کا اندراج نہیں تھا۔ ہم نے مختلف ذرائع سے آواز بلند کی اور احتجاج کے بعد ضلع چمن کو نادرا لائبریری میں شامل کروا دیا۔ اس کے بعد درخواست میں صرف ضلع چمن کا اندراج کروانا تھا جو کہ ایک معمولی کام تھا لیکن اس کے باوجود تین بار میری درخواستیں مسترد کی گئیں، نہ کوئی کال آئی، نہ ای میل، نہ ہی کسی قسم کی وضاحت کی گئی۔
یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کسی شہری کی درخواست کو بغیر اس سے پوچھے بغیر کوئی وجہ بتائے کیوں مسترد کیا جاتا ہے؟ کیا آن لائن سہولت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہے یا مزید اذیت دینے کے لیے؟ نادرا جیسے قومی ادارے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی تشہیری مہمات میں عوام کو سبز باغ دکھائے اور عملی طور پر ان کے وقت اور اعتماد کا قتل کرے۔ اس صورتحال پر خاموشی ناقابل قبول ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان یوتھ پارلیمنٹ میں نادرا کی ناقص آن لائن سروسز کے خلاف قرارداد پیش کی جائے گی اور اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ وزیر اعظم پاکستان کے سٹیزن پورٹل اور وفاقی محتسب کو باضابطہ شکایات جمع کروائی جائیں گی تاکہ ان اداروں کو عوامی مسائل کا ادراک ہو اور اصلاح کی کوئی سبیل نکلے۔ ہم نادرا کے اعلیٰ حکام سے یہ پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناقص اور غیر جوابدہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اگر واقعی آن لائن سہولت فراہم کرنا ادارے کی صلاحیت سے باہر ہے تو پھر عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے واضح طور پر بتایا جائے۔ ہم دفاتر کی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں لیکن اس سے بہتر ہے کہ مہینوں انتظار کے بعد بغیر اطلاع ہماری درخواستیں مسترد نہ کی جائیں۔ عوامی خدمت کے دعووں کو عملی جامہ پہنانا نادرا کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔

شیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ھم سے بچھڑ گئے۔ (آج پہلی برسی)تحریر: مولانا حافظ محمد صدیق مدنیا...
03/08/2023

شیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ھم سے بچھڑ گئے۔ (آج پہلی برسی)
تحریر: مولانا حافظ محمد صدیق مدنی

اللہ تعالیٰ کا امت مسلمہ پر یہ بڑا کرم ہے کہ ہر دور میں وہ اپنے دین کی حفاظت، تبلیغ، اشاعت اور دفاع کاکام اپنے منتخب بندوں سے لیتا رہا ہے۔ اس طرح ایک طرف کتاب وسنت کے ابدی رہنماء اصول ہر دور میں اجاگر ہوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف حق کے متلاشی حضرات کی رہنمائی ہوتی رہتی ہے ساتھ ہی مسلمانوں کی اصلاح کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ علمائے امت اور صلحائے امت صدیوں سے اس خدمت میں مصروف ہیں۔ کتاب وسنت کی تبلیغ واشاعت، علوم کی ترویج، فنون کی تدوین، مسائل کے استنباط اور نتائج کے استخراج کے عظیم خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دین کے اصولوں اور جزئیات کا زبردست ذخیرہ ملت اسلامیہ کے پاس موجود ہیں یہ سب حضور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اس تربیت کا نتیجہ ہے جس سے صحابہ کرامؓ فیض یاب ہوئے۔ اور انہوں نے یہ اثاثہ تابعین کو اور انہوں نے تبع تابعین کو منتقل کیا اور علمائے حق آج تک اس مبارک اور عظیم ورثے کی حفاظت کرکے اسے آئندہ نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کہ اب تک یقین نہیں ہے
جمعیت علماء اسلام س پاکستان کے سابق مرکزی سالار اعلیٰ اوربلوچستان کے قدیم اور معروف دینی درسگاہ الجامعہ بحرالعلوم جامع مسجد نور گھوڑا ہسپتال روڈ چمن کے بانی و مہتمم حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ ایسی شخصیت تھے کہ اس کے شجر سایہ دار تلے پہنچ کر ہر کس و ناکس راحت وسکون پاسکتا تھا۔ پورے پاکستان میں آپ ؒ کومولانا چمنی صاحب کے نام سے پہچانا جاتاتھا۔ حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ کی شخصیت ایسی دل نواز، حیات افروز اور ایسی باغ و بہار تھی کہ جس کی خصوصیات کو ایک مختصر تحریر میں سمانا مشکل ہے۔ ہر فن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص ملکہ عطاء فرمایا تھا۔ زندگی کے آخر میں حدیث کے فروغ میں بہت خدمت کی اور اس فن حدیث میں پورے پاکستان اور افغانستان میں اچھے اساتذہ علمائے کرام ہیں ان میں سے تھے۔ شیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی صاحب ؒ ہر فن کی معلومات کا خزانہ تھے، وقت مناظر اسلام تھے،
حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ خوبصورت، درمیانہ قد، سفید ریش بزرگ تھے۔ کوئی اگر آپ ؒ کو دیکھتا تا آنکھ ہٹانے کو اس کا دل نہ چاہتا۔ رنگ گوراسرخی مائل تھا۔ چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی، ڈاڑھی پوری سنت کی مطابق تھی، چہرہ بارعب تھا۔ غصے کے وقت ان کے چہرے پر جلال کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ بات کرتے تو ہر کوئی ان کی گفتگو سے ان کا گرویدہ ہوجاتا۔ صاف صاف الفاظ میں گفتگو فرماتے، جس سے کوئی بھی ان کی بات سمجھے بغیر نہیں رہتا۔ شیخ الحدیث مولانا فتح محمد چمنی کو اللہ تعالیٰ نے جو خطابت کا ملکہ عطاء فرمایا تھاوہ اہل عجم میں شاذونادر ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔خاص طور پر پشتو اور اردو تقریریں، جو اتنی بے ساختہ، سلیس، رواں اور شگفتہ ہیں کہ ان کے فقرے فقرے پر ذوق سلیم کو حظ ملتا ہے۔ ان میں قدیم و جدید اسالیب اس طرح سے جمع ہوکر یکجان ہوگئے ہیں کہ سننے والے جزالت وسلالت دونوں کا لطف ساتھ ساتھ محسوس کرتا۔ حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ کا شمار ایسے ہی علمائے حق میں ہوتا ہے جنہوں نے پوری زندگی علوم دینیہ کی خدمت اور امت مسلمہ کی اصلاح میں صرف فرمائی۔ وہ نہ صرف مفسرعہد مدبر عصر، عالم بے بدل، فاضل اجل اور فقیہ دوراں تھے بلکہ راہ سلوک کے بے مثل امام تھے۔ ان کی وفات سے نہ صرف علمی دنیا اجڑ گئی بلکہ دنیائے سلوک کا آفتاب غروب ہوگیا۔ وہ حقیقت میں ہمارے عظیم اسلاف کی یادگار تھے۔وہ عالموں کے عالم تھے ان کی زندگی ہم سب کیلئے مشعل راہ اور نمونہ ہدایت تھی ان پر شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ المعرودف مولانا چمنی صاحب صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں 1953 میں حاجی کرم خان کاکوزئی کے گھرگھوڑا ہسپتال چوک چمن میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں تعلیم کے حصول کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم کلی ارمبی کاکوزئی قلعہ عبداللہ میں اپنے دو ماموں مولوی عبدالستار نوراللہ مرقدہ اور مولوی محمد میر نوراللہ مرقدہ اور اپنے آبائی وطن چمن میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی نائب امیر اور سابق ممبر قومی اسمبلی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالغنی شہیدنوراللہ مرقدہ اور کلی لاجور گلستان میں پیر سید حاجی علی آغا اور سید قطب الدین آغا صاحبان سے حاصل کی اور بعد ازاں 1972 میں اعلٰی تعلیم کیلئے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ گوجرانوالہ گئے وہاں شیخ الحدیث، استاد العلماء اور بانی دارالعلوم حقانیہ حضرت مولاناعبدالحق نوراللہ مرقدہ اور ممبر قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ جان سے پڑھتے رہے۔ آخر میں بیماری کی وجہ سے 1980میں آخری دورہ حدیث مدرسہ مطلع العلوم کوئٹہ سے کرکے دینی علوم سے فراغت حاصل کی۔ مولوی صاحب مرحوم نے 1980 سے دو اگست 2022 تک تدریسی خدمات کیساتھ سیاسی اور سماجی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے۔ دو اور تین اگست کے درمیانی شب ساڑھے دو بجے پر دل کی دورہ پڑنے اور کوئٹہ کے سول ہسپتال میں انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں جن سے اللہ رب العزت نے بڑے بڑے کام لئے جن کا وجود پورے ملک کیلئے ایک عظیم نعمت تھا جن کے کردار پر آج تک کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکا دوست تو دوست دشمن بھی انکے کردار کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ذاتی اوصاف سے مولانا صاحب ایک بلند پایہ انسان تھے ہر لحظہ مسکرانے کی عادت مزاج میں نرمی، طبیعت میں انکسار، استقامت، عزیمت، علم، حلم ووقار،تدبر، فراست، ذہانت اور اخلاق کو گوندھ کراگر انسانی وجود تیار کیا جائے تو وہ حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ ہوں گے۔حضرت کی زندگی کے تمام گوشے آج ہمارے سامنے ہیں۔بظاہر تو ہر کوئی دینداری و پاکبازی کا دعویدار ہوتا ہے، لیکن حقیقت کی کسوٹی پر کچھ ہی لوگ اتر پاتے ہیں اسی کیساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج دنیامیں صاحب دل اور خداترس لوگوں کی کمی ضرور ہیں لیکن نایاب نہیں۔ کائنات کا وجود ہی ایسی لوگوں کے دم سے ہیں جن کے دل خوف خدا سے لبریز ہوں اور جن کے دماغ پر ہمہ وقت آخرت کا فکر سوار ہو، جن کے زبانیں ذکر الٰہی سے تروتازہ اور جن کی ہر حرکت اور زندگی کے ہر ہر سانس اطاعت الٰہی اور سنت نبوی کا نمونہ ہو۔ انھیں عظیم انسانوں میں ایک نام حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ کا نمایاں ہے اور وہ ایک عظیم انسان اور ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کے دل میں اللہ رب العزت اور اس کے رسول حضور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت، ملت اسلامیہ کا درد اور پوری انسانیت سے خیرخواہی کا جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ دراصل حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ کی شخصیت کی تصویر اتنی پھیلی ہوئی ہے اور اسکے درخشاں گوشے سامنے ہیں کہ ان سب کا احاطہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مولانا صاحب کے اندر ایک داعی حق، ایک متکلم اسلام، ایک مفکر حیات، ایک ادیب، ایک سیاسی قائد، ایک تنظیم کار اور ایک بیباک مجاہد بیک وقت جمع تھے۔ ان کی شخصیت سیاسی وتاریخی اور علمی وانقلابی ہر دو لحاظ سے بے حد اہم ہے۔ اور پھر اس کیساتھ حسن کردارکے اجتماع نے ان کو اپنے دور کی ایک عبقری شخصیت بنادیا ہے مگرکسی ایسی جامع شخصیت کے حسن کو دوسروں تک منتقل کرنا ٹیڑی کھیر ہے۔اسکے یہ معنی نہیں کہ اس کام کو کیا ہی نہ جائے۔کوشش ہی کی راہ کامیابی کی منزل کو جاتی ہے۔
حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ کی انتہائی نمایاں خصوصیت تھی کہ سیاست اور علاقائی مصروفیات میں اس درجہ انہماک کے باوجود ان کا علمی استحصار اور علمی ذوق پوری طرح برقرار رہا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نور اللہ مرقدہ اپنے زندگی میں نظریہ سیکولرزم کے بہت مخالف تھے۔ سیکولرزم نظریئے کیخلاف ایک کتاب بھی تصنیف کی تھی۔ جب کبھی کسی علمی مسئلے کی بات آتی تو معلوم ہوتا کہ اس کے تمام مالہ و ما علیہ پوری طرح مولانا صاحب کے نگاہ میں ہیں اور جب اس موضوع پر بات کرتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی علمی کتاب کا درس ہورہاہے۔بلوچستان کے شہر چمن کا ایک قدیم دینی اور تعلیمی ادارہ مدرسہ بحرالعلوم چمن گھوڑا ہسپتال روڈ چمن میں ایک تعزیتی مولانا فتح محمدچمنی کانفرنس سے حضرت مولانامفتی فدا محمد، مولاناندا محمد حقانی اور حافظ سیف الرحمان صدیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ جامع الکمالات انسان تھے۔ اللہ تعالٰی نے بہت سی خوبیوں سے انہیں نوازا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی عالم دین میں بیک وقت اتنے کمالات جمع نہیں دیکھے۔ آپ بہت بڑے محدث، فقہی، فن منطق کے ماہر فلسفی، اصول پسند، فصیح و بلیغ ہونے کیساتھ ایک عظیم مقرر بھی تھے۔ مجمع میں تمام حاضرین کو اپنے دلائل اور اخلاص سے متاثر کرلیا کرتے تھے کسی کو تابع و گرویدہ بنانا انہی کاکام تھا۔ آپ ظاہری و باطنی، دینی و دنیاوی، علمی اور غیرعلمی کے تمام خوبیوں کا مجموعہ تھے۔بہر حال آپ کی پوری زندگی خدمت اسلام میں گزری اور نہایت لطیف مزاج کے مالک تھے اور آپ کا ہم سے جدا ہونا ایک صبر آزما سانحہ ہے جس میں چشم ماتم گسار خداجانے کب تک اشک بار رہے گی اور موت کے ظالم ہاتھوں نے ایک ایسی ہستی کو ہم سے جدا کردیا جس سے ملک کے تمام مذہبی لوگ ہدایت حاصل کرتے تھے۔
اللہ رب العزت ہمیں ان کے اسلامی نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ (آمین ثم آمین)


https://mbuchaman.wordpress.com/2023/07/29/shaikh-molana-fateh-muhammad-chamani-nowarallah-marqadaho/

28/11/2020

اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں سے دنیامیں بہت کام لیاہے ، آج آسٹریلیا ہو یا سوئزرلینڈ دنیاکے جتنے ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں سائنس کی روشنی نظرآتی ہے وہ سب کی سب مسلمانوں کی کتابوں سے تحقیقات کی بدولت ہے۔
تو میں یہ عرض کررہاتھاکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوسب کچھ دیا ہے، مسلمانوں کی آبادی بھی کثیر ہے، مادی وسائل بے پناہ ہیں اس کے باوجود مسلمان مجبور اور ذلت کی زندگی گذاررہے ہیں، کیوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ تم لوگ بھوک وافلاس اورغربت میں مبتلا ہوجاؤگے ، ڈراس بات کاہے کہ تم میں آپس میں پھوٹ نہ پڑجائے ، پھوٹ ایک ایسامرض ہے جوساری قوم اورمعاشرے کوہلاک وتباہ کر دیتاہے ۔آج دنیامیں مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہے لیکن اتحادسے محروم ہے۔

http://unnpakistan.com/%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%...
20/04/2015

http://unnpakistan.com/%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c/

آج کل ان واقعات میں جو تیزی آئی ہے وہ انتہائی قابل تشویش ہے اور ان پر مسلمانوں کا رد عمل فطری ہے اور مغرب یہ جانتا بھی ہے لیکن اِن کے سدباب کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھا رہا۔اْس ذات پرقربان ہوں جس کی محبت ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر محبت سے بڑھ کر عظیم ہے اور ہر مسلمان کے لیے باعث عزت اور باعثِ افتخ…

فرانسیسی جریدے نے توھین آمیز خاکے شائع کرکے امت مسلمہ کی دلی آزاری کی.تحریر : محمدصدیق مدنی
24/01/2015

فرانسیسی جریدے نے توھین آمیز خاکے شائع کرکے امت مسلمہ کی دلی آزاری کی.
تحریر : محمدصدیق مدنی

23/01/2015
08/12/2014

12.Human Rights and Islam.inp

انسانی حقوق اور اسلام

تحریر۔ محمدصدیق مدنی۔ چمن

اسلام انسانی حقوق کے اہم محافظ ہیں اور حقوق انسانی کا مفہو م یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتا، وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے، اپنی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اور آفات ومصائب کے ازالہ کے سلسلہ میں دوسرے انسانوں کے تعاون کا محتاج ہے، اس قضیہ کے پیش نظر ہر انسان کا یہ عقلی و طبعی حق بنتا ہے کہ دوسرااس کی مدد کرے،اس کے حقوق و فرائض کا لحاظ رکھے۔انسان کے بنیادی اور فطری حقوق کے تحت جن جن امور کو شامل کیاجاتا ہے ان میں حقوق اِنسانی کا جامع ترین تصور، انسانی مساوات کا حق، انسانی عزت وآبرو کی حفاظت، انسانی جان ومال اورجائداد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا حق، آزادی ضمیر کا حق ضروریات زندگی کا انتظام، انسانی حقوق میں فرد ومعاشرے کی رعایت، بچوں کے حقوق کی حفاظت،اسی طرح انسانوں کے معاشی وثقافتی اور تعلیمی حقوق نمایاں حیثیت کے حامل ہیں ۔حقوقِ انسانی کا جامع ترین تصور اسلام نے دیا: مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہے، اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکے اس کے باوجود مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں ، لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، بشری نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ملی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے دنیا میں کسی کا حق ادا نہیں کیا تو آخرت میں اس کو ادا کرنا پڑے گا ورنہ سزا بھگتنی پڑے گی، حتیٰ کہ جانوروں کے آپسی ظلم وستم کا انتقام بھی لیا جائے گا۔ اللہ کے رسول اللہ نے فرمایا: حق والوں کو ان کے حقوق تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے روز ادا کرنے پڑیں گے، حتیٰ کہ بے سنگھے بکرے کو سینگھ والی بکری سے بدلہ دیا جائے گا۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور بنیادی حق ہے اس لیے کہ جان سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اس کے اردگرد زندگی کی سرگرمیاں گھومتی ہیں ، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی، سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی درندوں کو انسانی جان کا احترام سکھایا، اور ایک جان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن پاک میں بھی اس کی تائید کی گئی چنانچہ ارشاد باری ہے: جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے، یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کا قتل کیا، اور جو اس کی زندگی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اسی طرح ارشاد نبوی ہے: رحم کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہے: اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔ اور مال کے تحفظ کو یوں موکد کیاگیا ہے، ارشاد ربانی: اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، واضح رہے کہ انسانی زندگی کی بقائ کے لیے مال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔جس طرح حق زندگی اور تحفظ مال، انسان کے بنیادی حقوق ہیں ، اسی طرح عزت وآبرو کا تحفظ بھی انسان کا بنیادی حق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ وہ اس سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے نام سے مت پکارو۔ اسلامی معاشرہ میں چونکہ ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں کسی کا کسی پر بے جادباؤ نہیں ، ہر ایک آزاد اور خود مختار ہے اس لیے اسلام نے انسان کی شخصی آزادی کی بقائ کے لیے انسان کی نجی اور پرائیویٹ زندگی میں مداخلت سے دوسروں کو روکا ہے اور خواہ مخواہ کی دخل اندازی ،ٹوہ بازی اور بلا اجازت کسی کے گھر میں دخول سے منع کیا ہے۔ ارشاد حق ہے: مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں ) کے گھروں میں گھروالوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہواکرو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ (بعض) گمان گناہ ہے اور ایک دوسرے کے حال کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ اسی طرح اسلام میں مذہب اور ضمیر واعتقاد کے تحفظ کی گارنٹی یوں دی گئی: دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے، ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات سے عاری ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیرمسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پرمجبور کیا ہو، یا کسی قوم کو مارمار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔دنیا بھر میں 10 دسمبر کوانسانی حقوق کاعالمی دن منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے منشور کی تیاری کے وقت انسانی حقوق کاموضوع مختلف ممالک کے نمائندوں کی توجہ کامرکزتھا۔اسی مشترکہ نظریہ کے پیش نظر جنوری 1947 میں انسانی حقوق کمیشن تشکیل پایاجس کے بعد1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد 10دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن قرار دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ کوجاری ہوئے عرصہ گذرچکا ہے جس کامشترکہ مقصد دنیا کے ہرانسان کیلئے آزادی کی نعمت اورظلم وناانصافی نیزہرطرح کے امتیازی سلوک سے نجات تھا تاہم انسانی حقوق کی فراہمی کا معاملہ اب صرف ایک سیاسی نعرے میں تبدیل ہو چکا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی حقوق کی حمایت ایک گرانقدرکام ہے لیکن ایسے وقت میں نہیں جب انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹیں مغرب کیلئے ایک سیاسی ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگئی ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانی حقوق کامسئلہ دوسرا رخ اختیارکرچکاہے اوراسی وجہ سے دنیاکے بہت سے ممالک انسانی حقوق کی بعض شقوں میں تبدیلی کے خواہاں اورانھیں بطورہتھکنڈہ استعمال کئے جانے کیخلاف ہیں ۔ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کی عالمگیریت کامطلب یہ نہیں ہے کہ ایک گروہ کاطرزفکرتمام قوموں پرمسلط کردیاجائے بلکہ اس کامطلب تمام قوموں اورثقافتوں کے حقوق کی منصفانہ ضمانت دینا ہے جبکہ امریکا اور مغربی ممالک انسانی حقوق کے نام پر اپنا نظریہ اور ثقافت دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

محمدصدیق مدنی کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی قانونی دستاویزات کا مختلف ثقافتوں بالخصوص ڈیڑہ ارب سے زیادہ انسانوں کے دین اسلام کی ثقافت سے عاری ہونابھی ایک امتیازی رویہ ہے اوراسی وجہ سے آج امریکہ اوربعض مغربی حکومتیں اس سے ناجائزہ فائدہ اٹھارہی ہیں اوراسے اسلام سے دشمنی کیلئے ہتھکنڈہ بنائے ہوئے ہیں ۔دنیا بھر کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کی دستاویزات، اصول وقوانین اورمیکانیزم میں ان کی دینی تعلیمات کومدنظررکھاجائے اورخاص طور پراقوام متحدہ کایہ فرض بنتاہے کہ وہ انسانی حقوق کی آڑ میں امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے شروع کردہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی حمایت ترک کرکے دنیا بھر کے انسانوں کیلئے انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔جن مغربی ممالک نے منشور حقوقِ انسانی کی داغ بیل ڈالی تھی، آج وہی ممالک حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ آئے دن ان ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ مفکرین و مدبرین نے اس کے بہت سے اسباب متعین کیئے ہیں ، لیکن حقوق انسانی پر ڈاکہ زنی کا بنیادی سبب ان انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے کسی داخلی قوتِ نافذہ کا فقدان ہے، علاوہ ازیں مغرب کے حقوق انسانی کا فلسفہ صرف اس کے مفادات کے اردگرد گھومتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقوقِ انسانی ایک نظریہ بن کر رہ گیا، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوقِ انسانی کے صحیح نفاذ اور ان کو عملی زندگی سے مربوط کرنے کے لیے فکر آخرت سے جوڑدیا جس کے باعث بندوں کے اندر حقوقِ انسانی کی رعایت وحفاظت کی ایسی اسپرٹ پیدا ہوگئی کہ بندہ از خود حقوق انسانی کا محافظ بن جاتا ہے۔

Address

Office Daily Shamshad Chaman Taj Road P. O Box 5 Chaman Pakistan +923337752771
Chaman
86000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GOSHA CHAMAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to GOSHA CHAMAN:

Share