15/02/2026
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے
ابتداء میں ملاقات کا مقصد واضح کیا گیا کہ زیرِ دستخطی عدالت کا معاون اور دوست کی حیثیت سے آیا ہے تاکہ عدالتی حکم کے مطابق رہائشی حالات کا جائزہ لے سکے۔ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی اور شام 4:30 بجے اختتام پذیر ہوئی۔
درخواست گزار نے بتایا کہ وہ متعدد مقدمات میں گرفتار رہے۔ پہلے دو ماہ ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں رہے، پھر اکتوبر 2023 میں ایڈیالہ جیل منتقل ہوئے، جہاں سے اب تک وہیں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منتقلی کے بعد سے وہ ایک ہی مخصوص حصے میں رکھے گئے ہیں اور تقریباً دو سال چار ماہ سے تنہائی میں قید ہیں۔
انہوں نے انٹرویو کے آغاز میں اپنی تیزی سے کم ہوتی بینائی کا معاملہ اٹھایا، جو گزشتہ تین ماہ میں شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ سابق سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کا تبادلہ 16.01.2026 کو ہو چکا ہے اور ان کی جگہ ساجد بیگ تعینات ہوئے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل (6/6) تھی۔ اس کے بعد دھندلاہٹ اور نظر کی کمزوری شروع ہوئی۔ بعد میں اچانک دائیں آنکھ کی مکمل بینائی چلی گئی۔ پمز ہسپتال کے ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف نے معائنہ کیا اور بتایا کہ خون کے لوتھڑے (Blood Clot) کی وجہ سے شدید نقصان ہوا ہے۔ علاج (بشمول انجیکشن) کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
زیرِ دستخطی نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار شدید ذہنی دباؤ اور تکلیف میں نظر آئے، آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور بار بار رومال استعمال کر رہے تھے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق درخواست گزار اس وقت ڈاکٹر محمد عارف (پمز) کے زیرِ علاج ہیں۔ روزانہ تین مرتبہ بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول چیک کیے جاتے ہیں۔ تاہم مکمل طبی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ خاندان کی جانب سے 06.02.2026 کی ایک میڈیکل رپورٹ فراہم کی گئی، جس پر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے دستخط تھے، مگر اس میں مکمل تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
درخواست گزار نے بتایا کہ عمر کے پیش نظر انہیں باقاعدہ خون کے ٹیسٹ اور ذاتی معالجین (ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف) تک رسائی کی ضرورت تھی، مگر متعلقہ عرصے میں یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ تقریباً تین ماہ تک صرف آئی ڈراپس دیے جاتے رہے، جس سے کوئی بہتری نہیں آئی اور بالآخر دائیں آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 73 سال کی عمر کے باوجود گزشتہ دو برسوں میں دانتوں کے معائنے یا علاج کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ انہوں نے متعدد بار درخواست کی۔