Umarzai Media Center

Umarzai Media Center سپورٹس ۔نیوز
Funny .Sports.breaking News .Talk Shows

03/09/2026

عمرزئی بازار مکمل طور پر کھلا ہوا ہے آپ کے علاقے میں جماعت اسلامی کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کیا صورتحال ہے۔؟

03/09/2026

شاہین سلطانہ کی تازہ ترین خیالات۔۔

آج جماعت اسلامی کے طرف سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے آپ آج کے احتجاج میں شرکت کرینگے؟ جواب کمنٹ میں دیجئے
03/09/2026

آج جماعت اسلامی کے طرف سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے آپ آج کے احتجاج میں شرکت کرینگے؟ جواب کمنٹ میں دیجئے

بابائے کرکٹ محمد اشرف خان عمرزئی — ایک عہد کا نامکچھ لوگ صرف اپنی زندگی نہیں گزارتے بلکہ اپنے کردار، محبت، خلوص اور خدمت...
02/09/2026

بابائے کرکٹ محمد اشرف خان عمرزئی — ایک عہد کا نام
کچھ لوگ صرف اپنی زندگی نہیں گزارتے بلکہ اپنے کردار، محبت، خلوص اور خدمت سے ایک پورے عہد کی پہچان بن جاتے ہیں۔ بابائے کرکٹ محمد اشرف خان عمرزئی بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے عمرزئی کی کرکٹ کو صرف کھیل نہیں سمجھا بلکہ اسے نوجوانوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا ذریعہ بنایا۔
محمد اشرف خان کا تعلق ایک جاگیردار اور خوشحال گھرانے سے تھا، مگر ان کی طبیعت میں غرور، تکبر یا اپنی حیثیت کا رعب نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ نہایت سادہ مزاج، ملنگ طبیعت اور کشادہ دل انسان تھے۔ ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ وہ دولت اور حیثیت کے بجائے انسان کی صلاحیت اور کردار کو اہمیت دیتے تھے۔کرکٹ سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔ جب وہ کسی نوجوان کھلاڑی میں ٹیلنٹ اور آگے بڑھنے کی صلاحیت دیکھتے تو صرف تعریف کرکے نہیں رکتے تھے بلکہ اس نوجوان کی عملی مدد بھی کرتے۔ کئی کھلاڑیوں کو اپنی جیب سے کرکٹ کِٹ، بیٹ، بال اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ کسی باصلاحیت نوجوان کی راہ میں صرف اس لیے رکاوٹ نہ آئے کہ اس کے پاس وسائل نہیں۔یہی وجہ تھی کہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی انہیں اپنا محسن سمجھتے تھے۔ محمد اشرف خان صرف میدان کے کنارے کھڑے ہو کر کھلاڑیوں کو دیکھنے والے شخص نہیں تھے بلکہ ان کے دکھ، مشکلات اور ضروریات کو سمجھنے والے سرپرست تھے۔ وہ کھلاڑیوں کو دور دراز علاقوں کے ٹورز پر لے جاتے، ان کے لیے سہولیات کا بندوبست کرتے اور انہیں یہ احساس دلاتے کہ اگر صلاحیت موجود ہو تو وسائل کی کمی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک خوبصورت مسکراہٹ رہتی تھی، جبکہ گفتگو اور فیصلوں میں تدبر، بردباری اور سنجیدگی نمایاں ہوتی تھی۔ وہ مالدار ضرور تھے، لیکن ان کی اصل دولت ان کے دل کی فراخی تھی۔ وہ اپنا قیمتی وقت ان لوگوں کے ساتھ گزارتے جنہیں معاشرے میں شاید کم وسائل کی وجہ سے کم اہم سمجھا جاتا تھا۔ ان کے لیے غریب کھلاڑی کسی سے کم نہیں تھا؛ وہ صلاحیت دیکھتے تھے، جیب نہیں۔محمد اشرف خان کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی تھی کہ انہوں نے کرکٹ کو نوجوانوں کی امید بنا دیا۔ ان کے دور میں بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کو یہ حوصلہ ملتا تھا کہ کوئی ان کی صلاحیت کو دیکھنے والا، ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینے والا موجود ہے۔اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ محض کرکٹ کے شائق نہیں تھے بلکہ اپنے علاقے کے لیے ایک غیر رسمی کرکٹ اکیڈمی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے پاس نہ شاید کسی بڑے ادارے کا نام تھا اور نہ ہی کسی سرکاری اکیڈمی کا عہدہ، لیکن ان کا گھر، ان کی محفل، ان کا میدان اور ان کا دل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک اکیڈمی کی مانند تھا۔وہ نوجوانوں میں کھیل کا جذبہ پیدا کرتے، انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی سرپرستی کرتے۔ یہی وہ کردار ہے جو کسی انسان کو اس کی زندگی کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔آج جب ہم محمد اشرف خان عمرزئی کو یاد کرتے ہیں تو صرف ایک شخص کی یاد نہیں آتی بلکہ عمرزئی کی کرکٹ کا ایک پورا دور آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ وہ دور جب کھیل کے ساتھ محبت تھی، کھلاڑیوں کے ساتھ خلوص تھا اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ذاتی مفاد کے بغیر کی جاتی تھی۔ان کی رحلت نے صرف ایک خاندان یا چند دوستوں کو نہیں بلکہ پورے کھیل کے حلقے کو ایک عظیم سرپرست سے محروم کر دیا۔ اسی لیے اہلِ عمرزئی کا یہ احساس بالکل فطری ہے کہ محمد اشرف خان کے جنازے کے ساتھ گویا عمرزئی کی کرکٹ کا بھی ایک جنازہ نکل گیا۔ کیونکہ جس شخص نے برسوں تک کرکٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی محبت، وقت اور وسائل دیے، اس کی کمی صرف ایک فرد کی کمی نہیں بلکہ ایک پورے کردار اور ایک پورے دور کی کمی ہے۔ایسے لوگ دوبارہ آسانی سے پیدا نہیں ہوتے۔ دولت بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہے، مگر دولت کو دوسروں کی صلاحیتیں سنوارنے کے لیے خرچ کرنے کا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ عہدے بہت لوگوں کے پاس ہوتے ہیں، مگر نوجوانوں کو سہارا دینے والا دل ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ محمد اشرف خان کی اصل پہچان بھی یہی تھی کہ انہوں نے جو کچھ اللہ نے انہیں دیا، اس میں دوسروں کو بھی شریک کیا۔
آج ان کے شاگرد، دوست اور وہ کھلاڑی جن کی انہوں نے کسی نہ کسی موقع پر مدد کی، یقیناً انہیں دعاؤں میں یاد کرتے ہوں گے۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کے ہاتھوں سے سنورنے والی زندگیاں اور اس کی دی ہوئی امیدیں اسے زندہ رکھتی ہیں۔بابائے کرکٹ محمد اشرف خان عمرزئی بلاشبہ عمرزئی کی کرکٹ کی تاریخ کا ایک روشن باب تھے۔ ان کی خدمات، سادگی، سخاوت، خلوص اور نوجوانوں سے محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم محمد اشرف خان عمرزئی کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

02/09/2026

عوامی نیشنل پارٹی ضلع چارسدہ کا موقف سامنے آ گیا۔۔۔

02/09/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی و تحصیل ذمہ داروں کا محمد جان خان کے رہائش گاہ زرباب گڑھی آمد۔ تنظیمی امور پر تبادلہ خیال۔۔

02/09/2026

شکیل بشیر خان کا محمد جان خان کے رہائش گاہ آمد۔۔ مختلف امور پر تبادلہ خیال۔۔۔

02/09/2026

پچاس ہزار بجلی بل آنے پر بزرگ شہری دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔۔

01/09/2026

سیاست مقدس پیشہ تھا جنہیں بدقسمتی سے گالی بنا دیا گیا۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی کونسل کے رکن سعادت اللہ خان

آپ اپنی رائے کمنٹ میں دیجئے۔۔Awami National Party Shakeel Bashir Khan Official Muhammad Jan Khan Umerzai Sharafat Khan  ...
01/09/2026

آپ اپنی رائے کمنٹ میں دیجئے۔۔
Awami National Party
Shakeel Bashir Khan Official
Muhammad Jan Khan Umerzai
Sharafat Khan

Mashal TV مشال ٹی وی

کا سے نصف صدی کی رفاقت
سوشل میڈیا پر محمد جان خان کے حوالے سے گرم خبریں زیرِ گردش ہیں کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی سے اپنی طویل وابستگی ختم کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم، تاحال اس حوالے سے کوئی واضح اور حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے ان خبروں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے انتظار اور تصدیق ضروری ہے۔پارٹی سیاست میں اختلافِ رائے، ناراضگی اور گلے شکوے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بہت سے لوگوں نے سیاسی جماعتیں تبدیل کیں اور بعض نے اپنی سیاسی وابستگیاں بھی ختم کیں، لیکن ہر سیاسی کارکن کا سفر اور حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔میری ذاتی رائے میں محمد جان خان کی عوامی نیشنل پارٹی کے لیے خدمات، طویل سیاسی رفاقت اور وابستگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس جماعت کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزارا ہے۔ یہ محض چند سالوں کی سیاسی وابستگی نہیں بلکہ تقریباً نصف صدی پر محیط ایک سفر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی نیشنل پارٹی سے محمد جان خان کے خاندانی مراسم بھی گہرے اور پرانے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ جذباتی اور خاندانی نوعیت بھی رکھتا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی معاملے پر محمد جان خان ناراض ہو، اختلافِ رائے رکھتے ہو یا وقتی طور پر خاموشی اختیار کریں۔ سیاست میں ایسے مرحلے آتے رہتے ہیں۔ لیکن میری نظر میں اتنی طویل رفاقت کو اچانک ختم کرنا ان کے لیے ایک انتہائی مشکل فیصلہ ہوگا۔میرا ذاتی تجزیہ یہی ہے کہ اگر محمد جان خان ناراض بھی ہیں تو یہ ناراضگی وقت کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان کے لیے عوامی نیشنل پارٹی سے مکمل طور پر رشتہ توڑنا یا کسی دوسری جماعت میں شامل ہونا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔لہٰذا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو فی الحال حتمی فیصلہ قرار دینا مناسب نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ چند دن کی ناراضگی ہو اور آنے والے دنوں میں معاملات دوبارہ معمول پر آ جائیں۔سیاست میں اختلافاتپق آتے جاتے رہتے ہیں، مگر نصف صدی کی رفاقت، خاندانی مراسم اور برسوں کی سیاسی خدمات کا رشتہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ میری ذاتی رائے میں محمد جان خان عوامی نیشنل پارٹی نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کسی دوسری جماعت میں جائیں گے؛ اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اے این پی کی ضلعی ؛ صوبائی اور مرکزی قیادت ان کو اسانی سے جانے بھی نہیں دیگی۔ میرا تو یہی خیال ہے آپ اپنی رائے کمنٹ میں دیجئے
تجزیہ محمودجان عمرزئی

Address

Umarzai Tangi Road
Charsadda
25000

Telephone

+923136691899

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umarzai Media Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Umarzai Media Center:

Shortcuts

Share