23/12/2025
#پشاور
پشاور میں آج گلگت بلتستان کے طلبہ کا ایک اہم سٹڈی سرکل منعقد ہوا جس میں پشاور یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور اور نمل پشاور سے مختلف شعبہ جات کے طلبہ نے شرکت کی۔ اس بیٹھک کا مقصد گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی، سماجی اور تعلیمی حالات پر سنجیدہ غور و فکر کرنا اور گلگت بلتستان کے طلبہ کی سیاسی و قومی تنظیموں کی اہمیت اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر اجتماعی سوچ پیدا کرنا تھا۔
سٹڈی سرکل میں شریک طلبہ نے اس حقیقت پر متفقہ طور پر گفتگو کی کہ ماضی میں ریاستی پالیسیوں کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کو فرقوں، علاقوں اور شناختوں میں تقسیم کر کے کمزور کیا گیا، جس کا نقصان آج بھی تعلیمی اداروں اور معاشرتی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ شرکاء نے اس تقسیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ کو فرقہ واریت اور علاقہ پرستی سے بالاتر ہو کر ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہونا ہوگا۔
اس سٹڈی سرکل میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تعلیمی ادارے صرف ڈگری حاصل کرنے کی جگہ نہیں بلکہ سیاسی شعور، قومی آگاہی اور فکری تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ اس لیے گلگت بلتستان کے طلبہ اپنی قومی و سیاسی شناخت کو تعلیمی اداروں میں فعال کریں گے، اپنی سرزمین کی جغرافیائی، تاریخی اور عالمی اہمیت کو سمجھیں گے اور نئی نسل کو منظم، باشعور اور نظریاتی راستہ فراہم کریں گے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تشدد، دھونس، انتہاپسندی اور غیر جمہوری طریقۂ کار نہ صرف ہمارے معاشرے کو کمزور کرتے ہیں بلکہ ہماری قومی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام رجعتی رویّوں کا مکمل خاتمہ کر کے جدید تعلیم، سائنسی سوچ، مکالمے اور منظم جدوجہد کو اپنایا جائے گا۔
سٹڈی سرکل کے اختتام پر یہ مشترکہ عزم سامنے آیا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ ملکی و عالمی سطح پر اپنے خطے کے حالات کو اجاگر کریں گے، عوام کے حقِ خود ارادیت اور حقِ ملکیت کے لیے آواز بلند کریں گے اور ایک باوقار، باخبر اور متحد قوم کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
خلیق دیامیری