16/10/2025
آپ نے دیکھا ہوگا کہ گاؤں میں کھیتوں کے اندر ہل چلاتے ہوئے ٹریکٹر پر ڈرائیور نے اونچی آواز میں گانے لگا رکھے ہوتے ہیں.
وہ موسیقی اتنی تیز آواز میں ہوگی کہ ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی زمینوں سے لیکر دور گاؤں کے اندر گلیوں میں گونجتی رہتی ہے، جہاں تک آواز پہنچتی ہے ہر کوئی جان جاتا ہے کہ فلاں جگہ ٹریکٹر پر گانے چل رہے ہیں،اب ہوتا یہ ہے کہ ٹریکٹر پر بیٹھے ڈرائیور کو انجن کی چنگھاڑ، اور ہل کھینچنے کے زور میں سوائے شور کے اس موسیقی کا کوئی بول بھی پلے نہیں پڑ رہا ہوتا اور نہ وہ حقیقی معنوں میں اس موسیقی سے لطف کشید کرتا ہے، بس اس کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ زمین کے سینے پر ہل چلاتے ہوئے اپنی تنہائی کو شور شرابے کی نذر کرکے اپنا وقت گزار لیتا ہے. بالآخر کوئی راہگیر یا سر پر گٹھڑی اٹھائے کوئی کسان اسے روک کر بتاتا ہے کہ گاؤں کی اک مینار والی مسجد سے اذان کی آواز آرہی ہے لہٰذا اب تو گانے بند کر دو.
حضرات و خواتین شاید آپ کو یہ بات عجیب محسوس ہو مگر ہمارے کردار کی برائیاں بھی ٹریکٹر پر چنگھاڑتی ہوئی اس موسیقی کی مانند ہوتی ہیں جن سے ارد گرد والے تو بخوبی واقف ہوجاتے ہیں مگر ہم خود لاعلم رہتے ہیں. اور برائیاں بھی ایسی جن سے نہ تو لطف کشید ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔۔۔