07/04/2026
پاکستان کے صحت کے نظام کی حقیقت — بجٹ، عالمی درجہ بندی اور زمینی حقائق:
• پاکستان میں صحت کے شعبے پر حکومتی خرچ انتہائی کم ہے۔ حالیہ اکنامک سروے (2024-25) کے مطابق حکومت صرف تقریباً 0.9% GDP صحت پر خرچ کر رہی ہے، جو کہ بہت کم ہے۔
• عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق کسی بھی ملک کو بہتر ہیلتھ سسٹم کے لیے کم از کم 5% GDP صحت پر خرچ کرنا چاہیے، لیکن پاکستان اس سے بہت پیچھے ہے۔
• مجموعی طور پر (سرکاری + نجی خرچ) پاکستان کی ہیلتھ اسپینڈنگ تقریباً 2.5% – 2.9% GDP ہے، جبکہ دنیا کا اوسط تقریباً 6–7% ہے۔
• عالمی سطح پر صحت پر خرچ کے لحاظ سے پاکستان کا درجہ بہت نیچے ہے، تقریباً 165th–170th ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
• فی کس صحت پر خرچ بہت کم ہے (تقریباً $40–50 فی شخص سالانہ)، جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
• پاکستان میں صحت کے اخراجات کا بڑا حصہ عوام اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں (تقریباً 50% سے زیادہ)، یعنی حکومت کی ذمہ داری عوام پر منتقل ہو جاتی ہے۔
• ملک میں صرف تقریباً Rs. 925 ارب صحت کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔
• ہسپتالوں اور سہولیات کی کمی واضح ہے:
- صرف تقریباً 1,600 سے کچھ زیادہ ہسپتال
- ہزاروں بیسک ہیلتھ یونٹس، مگر وسائل محدود
• ڈاکٹرز کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن مریضوں کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے نظام دباؤ کا شکار ہے۔
• صحت کے بنیادی اشاریے (indicators) بھی تشویشناک ہیں:
- بچوں کی اموات کی شرح اب بھی زیادہ
- اوسط عمر تقریباً 67 سال
عوام کے لیےحقیقی پیغام:
• جب حکومت صحت پر صرف 1% کے قریب خرچ کرے گی، تو ہسپتالوں میں سہولیات کیسے بہتر ہوں گی؟
• جب بجٹ کم ہوگا، تو:
- ادویات کم ہوں گی
- مشینیں خراب یا غیر موجود ہوں گی
- ڈاکٹرز پر بوجھ بڑھے گا
• اس کے باوجود ڈاکٹرز محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں — یہ ان کی نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہے۔
• عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ:
"ڈاکٹر علاج کرتا ہے، نظام نہیں بناتا — نظام حکومت بناتی ہے۔"
• اگر ہمیں بہتر صحت کا نظام چاہیے تو:
- حکومت کو بجٹ بڑھانا ہوگا
- پالیسی بہتر بنانی ہوگی
- اور عوام کو صحیح ذمہ دار کو پہچاننا ہوگا
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام ڈاکٹرز کی محنت پر چل رہا ہے، نہ کہ مضبوط حکومتی سپورٹ پر۔