Dr Muhammad Talha Sarfraz

Dr Muhammad Talha Sarfraz Doctor,writer, Digital creator �

⚠️ شنگلز (Herpes Zoster) — ایک تکلیف دہ بیماری جسے نظر انداز نہ کریںاگر آپ کو بچپن میں چکن پاکس ہوا تھا، تو یہی وائرس بر...
04/05/2026

⚠️ شنگلز (Herpes Zoster) — ایک تکلیف دہ بیماری جسے نظر انداز نہ کریں

اگر آپ کو بچپن میں چکن پاکس ہوا تھا، تو یہی وائرس برسوں بعد دوبارہ جاگ سکتا ہے…

🔥 ایک طرف جلن یا درد
🔴 پھر پانی والے دانوں کی پٹی جیسا نشان

اکثر لوگ شروع کا درد نظر انداز کر دیتے ہیں…
اور بعد میں مہینوں تک رہنے والی تکلیف (nerve pain) کا شکار ہو جاتے ہیں۔

💊 یاد رکھیں:
ابتدائی 72 گھنٹوں میں علاج شروع ہو جائے تو بیماری کافی حد تک قابو میں آ سکتی ہے۔

👨‍⚕️ خدارا درد اور دانوں کو معمولی نہ سمجھیں — بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

"ڈاکٹر ڈاکو ہے" — یہ جملہ کیوں عام ہو گیا؟آج پاکستان میں جب کوئی مریض یا اس کے لواحقین غصے میں آکر ڈاکٹر کو "ڈاکو" کہتے ...
16/04/2026

"ڈاکٹر ڈاکو ہے" — یہ جملہ کیوں عام ہو گیا؟
آج پاکستان میں جب کوئی مریض یا اس کے لواحقین غصے میں آکر ڈاکٹر کو "ڈاکو" کہتے ہیں، تو دراصل وہ اپنے دکھ، اپنی بے بسی اور ایک ناکام نظامِ صحت کے خلاف چیخ رہے ہوتے ہیں…
لیکن بدقسمتی سے یہ چیخ غلط سمت میں نکلتی ہے۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ:
پاکستان اپنے ہیلتھ بجٹ میں بہت کم خرچ کرتا ہے (جی ڈی پی کا تقریباً 1–2٪)
عالمی سطح پر صحت کے نظام میں ہمارا درجہ بہت نیچے ہے
سرکاری ہسپتالوں میں:
ادویات کی کمی
بستروں کی کمی
ڈاکٹروں اور نرسوں کی شدید قلت
جدید مشینری کا فقدان
یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے… نہ کہ ایک ڈاکٹر کی۔
ڈاکٹر کس حالات میں کام کر رہا ہے؟
ذرا ایک سرکاری ہسپتال کا منظر سوچیں:
ایک ڈاکٹر کے پاس روزانہ 100 سے 200 مریض آتے ہیں
ایک مریض کو دینے کے لیے صرف 2–3 منٹ
24-24 گھنٹے کی ڈیوٹی
نہ مناسب تنخواہ، نہ سیکیورٹی
اوپر سے ہر وقت مریضوں کا دباؤ اور لواحقین کا غصہ
یہ وہی ڈاکٹر ہے جو اپنی نیند، اپنی فیملی، اپنی صحت قربان کر کے کسی اور کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکومت نے کیا کیا؟
یہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے…
حکومت نے:
صحت کے نظام کو مضبوط نہیں کیا
بجٹ نہیں بڑھایا
ہسپتالوں کی حالت بہتر نہیں کی
اور جب عوام پریشان ہوئی…
تو اس غصے کو اصل ذمہ داروں کی طرف جانے دینے کے بجائے ایک آسان ہدف کی طرف موڑ دیا گیا — یعنی ڈاکٹر۔
ڈاکٹر "سافٹ ٹارگٹ" کیوں بن گیا؟
کیونکہ:
ڈاکٹر سامنے موجود ہوتا ہے
وہی مریض سے بات کر رہا ہوتا ہے
وہی بری خبر دیتا ہے
وہی فوری طور پر دستیاب ہوتا ہے
جبکہ اصل ذمہ دار:
پالیسی بنانے والے
بجٹ کنٹرول کرنے والے
نظام چلانے والے
وہ عوام کی نظروں سے دور ہوتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
ڈاکٹر:
نہ دوائیوں کی قیمت طے کرتا ہے
نہ ہسپتال کے وسائل کنٹرول کرتا ہے
نہ بجٹ بناتا ہے
وہ صرف ایک کوشش کرتا ہے…
آپ کو بچانے کی، آپ کی تکلیف کم کرنے کی۔
ایک جذباتی حقیقت
جب آپ کسی ڈاکٹر کو "ڈاکو" کہتے ہیں…
تو یاد رکھیں:
وہی ڈاکٹر:
رات 3 بجے آپ کے مریض کو دیکھ رہا ہوتا ہے
عید کے دن بھی ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے
اپنی فیملی چھوڑ کر آپ کے لیے کھڑا ہوتا ہے
اور کئی دفعہ…
وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی مریض کو نہیں بچا پاتا…
پھر بھی وہی سب سے زیادہ الزام سہتا ہے۔
پیغام عوام کے لیے
❝ ڈاکٹر آپ کا دشمن نہیں ہے…
وہ بھی اسی نظام کا شکار ہے جس کا آپ ہیں۔ ❞
اصل جنگ:
عوام vs ڈاکٹر نہیں
بلکہ عوام + ڈاکٹر vs خراب نظام ہونی چاہیے
اگر ہم نے آج بھی سچ نہ پہچانا…
تو کل کوئی ڈاکٹر اس پیشے میں آنا نہیں چاہے گا…
اور نقصان صرف عوام کا ہوگا۔

پاکستان کے صحت کے نظام کی حقیقت — بجٹ، عالمی درجہ بندی اور زمینی حقائق:• پاکستان میں صحت کے شعبے پر حکومتی خرچ انتہائی ک...
07/04/2026

پاکستان کے صحت کے نظام کی حقیقت — بجٹ، عالمی درجہ بندی اور زمینی حقائق:

• پاکستان میں صحت کے شعبے پر حکومتی خرچ انتہائی کم ہے۔ حالیہ اکنامک سروے (2024-25) کے مطابق حکومت صرف تقریباً 0.9% GDP صحت پر خرچ کر رہی ہے، جو کہ بہت کم ہے۔
• عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق کسی بھی ملک کو بہتر ہیلتھ سسٹم کے لیے کم از کم 5% GDP صحت پر خرچ کرنا چاہیے، لیکن پاکستان اس سے بہت پیچھے ہے۔
• مجموعی طور پر (سرکاری + نجی خرچ) پاکستان کی ہیلتھ اسپینڈنگ تقریباً 2.5% – 2.9% GDP ہے، جبکہ دنیا کا اوسط تقریباً 6–7% ہے۔
• عالمی سطح پر صحت پر خرچ کے لحاظ سے پاکستان کا درجہ بہت نیچے ہے، تقریباً 165th–170th ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
• فی کس صحت پر خرچ بہت کم ہے (تقریباً $40–50 فی شخص سالانہ)، جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
• پاکستان میں صحت کے اخراجات کا بڑا حصہ عوام اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں (تقریباً 50% سے زیادہ)، یعنی حکومت کی ذمہ داری عوام پر منتقل ہو جاتی ہے۔
• ملک میں صرف تقریباً Rs. 925 ارب صحت کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔
• ہسپتالوں اور سہولیات کی کمی واضح ہے:
- صرف تقریباً 1,600 سے کچھ زیادہ ہسپتال
- ہزاروں بیسک ہیلتھ یونٹس، مگر وسائل محدود
• ڈاکٹرز کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن مریضوں کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے نظام دباؤ کا شکار ہے۔
• صحت کے بنیادی اشاریے (indicators) بھی تشویشناک ہیں:
- بچوں کی اموات کی شرح اب بھی زیادہ
- اوسط عمر تقریباً 67 سال
عوام کے لیےحقیقی پیغام:
• جب حکومت صحت پر صرف 1% کے قریب خرچ کرے گی، تو ہسپتالوں میں سہولیات کیسے بہتر ہوں گی؟
• جب بجٹ کم ہوگا، تو:
- ادویات کم ہوں گی
- مشینیں خراب یا غیر موجود ہوں گی
- ڈاکٹرز پر بوجھ بڑھے گا
• اس کے باوجود ڈاکٹرز محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں — یہ ان کی نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہے۔
• عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ:
"ڈاکٹر علاج کرتا ہے، نظام نہیں بناتا — نظام حکومت بناتی ہے۔"
• اگر ہمیں بہتر صحت کا نظام چاہیے تو:
- حکومت کو بجٹ بڑھانا ہوگا
- پالیسی بہتر بنانی ہوگی
- اور عوام کو صحیح ذمہ دار کو پہچاننا ہوگا
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام ڈاکٹرز کی محنت پر چل رہا ہے، نہ کہ مضبوط حکومتی سپورٹ پر۔

💉 IV Multivitamin Drips = Fast Recovery؟ 🤔یا صرف ایک مشہور مِتھ؟آج کل ہر کوئی کہہ رہا ہے:"ڈاکٹر صاحب، ایک وٹامن ڈرپ لگا ...
27/03/2026

💉 IV Multivitamin Drips = Fast Recovery؟ 🤔
یا صرف ایک مشہور مِتھ؟

آج کل ہر کوئی کہہ رہا ہے:
"ڈاکٹر صاحب، ایک وٹامن ڈرپ لگا دیں، جلدی ٹھیک ہو جاؤں!"

لیکن سچ کیا ہے؟ 👇

⚠️ حقیقت یہ ہے:
اگر آپ کو صرف عام کمزوری، وائرل بخار یا تھکن ہے…
تو IV ملٹی وٹامن ڈرپ جادو نہیں ہے۔

✔ زیادہ تر کیسز میں:

- اچھی خوراک 🥗
- پانی 💧
- آرام 😴
ہی آپ کو قدرتی طور پر ٹھیک کرتے ہیں

💡 IV ڈرپس کب ضروری ہیں؟

- شدید ڈی ہائیڈریشن
- الیکٹرولائٹ امبالنس
- یا خاص میڈیکل کنڈیشنز

❌ ہر کسی کو ڈرپ لگوانا نہ صرف غیر ضروری ہے
بلکہ انفیکشن اور اخراجات کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے

📢 یاد رکھیں:
"ہر ڈرپ صحت نہیں… کبھی کبھی صرف فیشن ہوتی ہے!"

اپنی صحت کو سمجھیں، ٹرینڈ کو نہیں ✔️


Dr. Muhammad Talha

🌡️ موسم بدلتے ہی وائرل بخار کیوں بڑھ جاتا ہے؟چنیوٹ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں اس وقت وائرل انفیکشنز تیزی سے پھیل رہے ...
25/03/2026

🌡️ موسم بدلتے ہی وائرل بخار کیوں بڑھ جاتا ہے؟

چنیوٹ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں اس وقت وائرل انفیکشنز تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

⚠️ عام علامات:
✔ بخار
✔ جسم درد
✔ گلا خراب
✔ کھانسی
✔ کمزوری

💊 کیا کریں؟
✔ زیادہ پانی اور ORS استعمال کریں
✔ پیراسیٹامول بخار کے لیے
✔ آرام کریں (Rest is treatment!)
✔ اینٹی بائیوٹک خود سے ہرگز نہ لیں

🚨 کب فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں؟
❗ بخار 3 دن سے زیادہ رہے
❗ سانس لینے میں دشواری
❗ بہت زیادہ کمزوری یا بے ہوشی

👨‍⚕️ یاد رکھیں: ہر بخار ٹائیفائیڈ نہیں ہوتا، اور ہر کھانسی میں اینٹی بائیوٹک ضروری نہیں ہوتی۔

— ڈاکٹر محمد طلحہ

🌙✨ عید مبارک ✨🌙تمام اہلِ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک!اللہ تعالیٰ اس بابرکت دن کی خوشیوں کو آپ کی زندگی میں ہمیش...
21/03/2026

🌙✨ عید مبارک ✨🌙

تمام اہلِ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک!

اللہ تعالیٰ اس بابرکت دن کی خوشیوں کو آپ کی زندگی میں ہمیشہ قائم رکھے، آپ کی عبادات کو قبول فرمائے، اور آپ کو صحت، کامیابی اور خوشحالی سے نوازے۔
آئیے اس عید پر اپنے اردگرد موجود لوگوں، خاص طور پر ضرورت مندوں کے ساتھ خوشیاں بانٹیں اور محبت و اخوت کو فروغ دیں۔
دعا ہے کہ یہ عید ہم سب کے لیے امن، سکون اور نئی امیدوں کا پیغام لے کر آئے۔
ڈاکٹر محمد طلحہ

نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور ...
11/03/2026

نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور زمانہ ایجاد “شوگر کنٹرول کیچڑ” ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب اس انقلابی دریافت کی خبر پاکستان کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز اور امریکہ کے ممبرز کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز تک پہنچی تو دونوں اداروں نے فوراً شوگر کی پانچ سالہ اسپیشلائزیشن بند کرنے پر غور شروع کر دیا۔

اب ڈاکٹر حضرات بھی مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دوائیاں، ٹیسٹ اور ڈائٹ پلان سب چھوڑ دیں… سیدھا شاہ عالم پل پہنچیں اور کیچڑ تھراپی کروائیں!

نوٹ: علاج سے پہلے پینٹ اوپر کر لیں، ورنہ شوگر کے ساتھ کپڑے بھی کنٹرول ہو جائیں گے!

افطار میں اعتدال🌙 افطار میں اعتدال صحت کے لیے ضروری ہےاکثر لوگ افطار میں بہت زیادہ تلی ہوئی چیزیں کھا لیتے ہیں جس سے بدہ...
11/03/2026

افطار میں اعتدال
🌙 افطار میں اعتدال صحت کے لیے ضروری ہے
اکثر لوگ افطار میں بہت زیادہ تلی ہوئی چیزیں کھا لیتے ہیں جس سے بدہضمی اور معدے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
✔ افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کریں
✔ پھل اور ہلکی غذا شامل کریں
✔ زیادہ تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں
✔ کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کریں

اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال:ایک خاموش مگر خطرناک وباآج کے دور میں اینٹی بایوٹکس کا غیر ضروری اور بے جا استعمال ایک سن...
04/02/2026

اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال:ایک خاموش مگر خطرناک وبا

آج کے دور میں اینٹی بایوٹکس کا غیر ضروری اور بے جا استعمال ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ ادویات نہ صرف عطائیوں (Quacks) کے ذریعے بلکہ بعض میڈیکل اسٹورز سے بھی بغیر نسخے کے آسانی سے دستیاب ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
اینٹی بایوٹکس دراصل صرف بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ نزلہ، زکام، فلو، وائرل بخار، یا جسمانی درد میں اینٹی بایوٹکس کا کوئی کردار نہیں۔ اس کے باوجود، لوگ معمولی علامات پر خود ہی اینٹی بایوٹکس لینا شروع کر دیتے ہیں، جو وقتی طور پر شاید تسلی دے دے مگر طویل مدت میں شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔
عطائی حضرات بغیر مناسب تشخیص کے طاقتور اینٹی بایوٹکس تجویز کرتے ہیں، جبکہ بعض میڈیکل اسٹور والے بھی مریض کی حالت جانے بغیر ادویات فراہم کر دیتے ہیں۔ اس عمل کا سب سے خطرناک نتیجہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس (Antibiotic Resistance) ہے، جس میں بیکٹیریا ان دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بیماریاں جن کا علاج پہلے آسان تھا، اب جان لیوا بن سکتی ہیں۔
اینٹی بایوٹکس کا غلط استعمال صرف فردِ واحد نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ جب مزاحم بیکٹیریا پھیلتے ہیں تو ہسپتالوں میں علاج مشکل ہو جاتا ہے، علاج مہنگا پڑتا ہے، اور اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اس سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف اور صرف ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ عوام کو چاہیے کہ:
👈بغیر مستند ڈاکٹر کے نسخے کے اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں
👈مکمل کورس پورا کریں
👈پرانی یا بچی ہوئی دوائیں دوبارہ استعمال نہ کریں

اینٹی بایوٹکس نعمت ہیں، مگر غلط استعمال کی صورت میں یہی نعمت زحمت بن سکتی ہے۔
اپنی صحت اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

🧠 آج کی صحت کی بات — ذہنی دباؤ کے بارے میں ہے ۔“ہر تھکا ہوا چہرہ جسمانی بیماری نہیں ہوتا،کچھ لوگ اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہی...
12/01/2026

🧠 آج کی صحت کی بات — ذہنی دباؤ کے بارے میں ہے ۔
“ہر تھکا ہوا چہرہ جسمانی بیماری نہیں ہوتا،
کچھ لوگ اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔”
نیند نہ آنا، چڑچڑاپن، دل کی گھبراہٹ، سر درد
یہ سب ذہنی دباؤ کی خاموش علامات ہو سکتی ہیں۔
👉 بات کرنا کمزوری نہیں
👉 مدد لینا شرمندگی نہیں
👉 ذہنی صحت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسمانی.

اپنا خیال رکھیں، کیونکہ احتیاط، علاج سے بہتر ہے۔
ڈاکٹر محمد طلحہ
Al Khalil Medicare
Arain Medicare, Mandar Road, Chiniot

آج ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں۔اکثر مریض کہتے ہیں:"ڈاکٹر صاحب، پہلے آ جانا چاہیے تھا"بیماری ایک دن میں خطرناک نہیں بنتی...
27/12/2025

آج ایک بات دل سے کہنا چاہتا ہوں۔
اکثر مریض کہتے ہیں:
"ڈاکٹر صاحب، پہلے آ جانا چاہیے تھا"
بیماری ایک دن میں خطرناک نہیں بنتی،
ہماری تاخیر اسے خطرناک بناتی ہے۔
اگر بروقت تشخیص ہو جائے تو
بڑی سے بڑی بیماری قابو میں آ سکتی ہے۔
اپنی صحت کو آخری ترجیح نہ بنائیں۔
وقت پر آنا بھی علاج کا حصہ ہے۔
— Dr. Muhammad Talha
Al Khalil Medicare, Chiniot

Address

PK Surgimed Hospital Fatima Chowk Chiniot, Al Khalil Medicare Mandar Road Chiniot
Chiniot
35400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Talha Sarfraz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share