17/06/2026
ڈرتے ڈرتے میں کسی طرح کالج پہنچ گئی۔ چھٹی کے وقت جب سب لڑکیاں کالج کے دروازے سے نکلیں تو میں بھی باہر نکل آئی، لیکن جانے کیوں آج مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ بس پر چلی جاتی ہوں، لیکن نہیں، کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ یہ سوچ کر آہستہ آہستہ چلنے لگی کہ شاید بس رستے میں مل جائے۔ اچانک ایک اسکوٹر آ کر میرے بالکل سامنے رکا۔ دل کی دھڑکن کے ساتھ میری رفتار بھی بڑھ گئی
👇👇
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہمارے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج تھا۔ ابو اور چچاؤں کا لیدرایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ دفتر کا کام والد صاحب کے ذمہ تھا، اسی لیے وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتے تھے۔ دونوں پھوپھیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں اور گھر کا سارا انتظام دادی جان نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالتی تھیں۔ ہم دو بہن بھائی تھے، جبکہ بڑے چچا، عبد الکریم، کے بھی دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چھوٹے چچا کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ دادی جان اپنی بہن کے رشتہ داروں کی شادی میں گئیں۔ وہاں انہوں نے ماہ نور کو دیکھا اور اُسے چھوٹے چچا کے لیے پسند کر لیا۔ ماہ نور نہایت خوبصورت لڑکی تھی، لیکن دادی نے اس کے اطوار و عادات جاننے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ انہوں نے چچاجان سے ماہ نور کا ذکر کیا، تو بیٹے نے ماں کی پسند کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا، اور دادی کی کوششوں سے ماہ نور ایک ماہ کے اندر اندر ہماری چچی بن گئیں۔
وہ بلاشبہ خوبصورت تھیں، مگر ایک ہفتے بعد ہی اُن کی عادات کھل کر سامنے آنے لگیں۔ انہیں اپنے حسن کا پورا ادراک تھا، اور اُن کے خیال میں کام کرنے سے حسن میلا ہو جاتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ کام کرنے کے لیے نہیں، بلکہ آرام کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔ شروع کے دنوں میں سب نے ان کا احترام کیا اور خدمت بھی، جس سے انہیں یہ گمان ہوا کہ دولہا کے گھر والوں کا فرض ہے کہ وہ ان کی خدمت کریں اور ان کا حد درجہ احترام بھی۔ اس زعم میں نہ انہوں نے بڑے چھوٹے کا لحاظ رکھا، نہ کوئی تمیز۔ ایک ماہ یوں ہی گزر گیا، وہ اپنی “چھوٹی ہوئی بہو” والی حیثیت پر قائم رہیں۔ سارا دن ٹی وی دیکھتیں یا سوتی رہتیں، لیکن دادی کو یہ سب قبول نہ تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ دوسری بہوؤں کی طرح یہ بھی گھریلو کام کاج میں برابر کی شریک ہوں۔ ایک دن ہم سب، بشمول دادی جان، نانی امی کے گھر گئے۔ تائی گھر پر تھیں؛ انہیں بخار تھا اور وہ کمزوری سے نڈھال تھیں۔ ان کی دس سالہ بیٹی، میری کزن ماریہ، نے ماہ نور سے کہا کہ امی کو بخار ہے، وہ بہت کمزور ہو گئی ہیں۔ کچھ کھانے کو بنا دیں۔ ماہ نور نخوت سے بولیں کہ وہ یہاں تم لوگوں کے لیے روٹیاں پکانے نہیں آئی ہے۔
ماریہ چپ چاپ وہاں سے چلی آئی۔ اس نے کچن میں جا کر خود کھانا بنانے کی کوشش کی، مگر بدقسمتی سے خود کو جلا بیٹھی۔ اسی وقت تایا ابا آگئے، وہ ماریہ کو فوراً اسپتال لے گئے اور تائی کے لیے دوا اور کھانا بھی لے آئے۔ شام کو جب دادی جان کو ساری صورتِ حال معلوم ہوئی تو ان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی۔ انہوں نے چھوٹے چچا اور چچی کو خوب ڈانٹ پلائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دن دونوں اپنا سامان پیک کر کے چلے گئے۔ جاتے ہوئے چھوٹے چچا نے کہا کہ جس گھر میں میری بیوی کی عزت نہیں، وہاں میں نہیں رہ سکتا۔ مجھے میرا حصہ چاہیے، میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ دادی جان نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی، لیکن ماہ نور کے اکسانے پر وہ ماں، بہن، بھائیوں، غرض سب کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے میکے جا بیٹھے۔ تایا اور ابو کو اس بات کا بے حد افسوس ہوا۔ انہوں نے بھی انہیں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، مگر سب بے سود رہا۔ آخرکار تایا اور ابو نے مجبور ہو کر کراچی والا بزنس چھوٹے چچا کے حوالے کر دیا۔ دادی جان کو اپنا چھوٹا بیٹا سب سے زیادہ عزیز تھا، اسی لیے وہ چچا حفیظ کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
ان دنوں ابو فیصل آباد میں تھے۔ دادی کی وفات کے بعد ہم بھی فیصل آباد ابو کے پاس چلے آئے اور لاہور کا سارا کاروبار تایا جان کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں تین بھائی، جنہوں نے ترقی کا سفر اکٹھے شروع کیا تھا، بکھر کر رہ گئے۔ فیصل آباد میں ابو کرائے کے گھر میں رہتے تھے اور نیا گھر تعمیر کروا رہے تھے۔ جب گھر مکمل ہو گیا تو امی نے قرآن خوانی کروانے کا فیصلہ کیا۔ میں ہمسایوں میں قرآن خوانی کی دعوت دینے نکلی۔ یہ میری اور صائمہ کی پہلی ملاقات کا دن تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کوئی دوست ملی، کیونکہ مجھے شروع سے ہی تنہائی سے انجانے خوف سا محسوس ہوتا تھا۔ قرآن خوانی کے بعد سب عورتیں چلی گئیں، لیکن میں نے صائمہ کو روک لیا۔ اس دن میں اور صائمہ نے آپس میں خوب باتیں کیں۔ اس نے بتایا کہ وہ دو بہن بھائی ہیں، والدین کی لاڈلی ہے اور یہ لوگ اس محلے میں نئے آئے ہیں کیونکہ اس کے بھائی کی اس شہر میں پوسٹنگ ہوئی ہے۔ وہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ روز روز کی ملاقات نے ہماری دوستی کو مضبوط کر دیا۔ کبھی وہ ہمارے گھر آ جاتی اور میں اس کے گھر چلی جاتی۔ ایک دوسرے کو روز کی رپورٹ دینا ہماری عادت بن چکی تھی۔انہی دنوں بڑی پھوپھی ہمارے گھر آئیں۔ وہ اپنے چھوٹے صاحبزادے رمیز کے لیے میرا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا، سب سے بڑھ کر اپنا تھا، اس لیے ہماری منظوری ہو گئی۔
پھوپی چاہتی تھیں کہ ہمارا نکاح جلد ہو جائے کیونکہ رمیز کو ہائر اسٹڈیز کے لیے امریکہ جانا تھا۔ پھوپی کی خواہش کے مطابق میرا نکاح رمیز کے ساتھ ہو گیا۔ میں بہت خوش تھی کیونکہ وہ مجھے پسند تھا اور اب میں خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کر رہی تھی۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2025/09/sub-kuch-tumhara.html