Kashif Nadeem

Kashif Nadeem Content Writer For Facebook Digital Marketing Promotions and ads on Posts please WhatsApp +923116986459

ڈرتے ڈرتے میں کسی طرح کالج پہنچ گئی۔ چھٹی کے وقت جب سب لڑکیاں کالج کے دروازے سے نکلیں تو میں بھی باہر نکل آئی، لیکن جانے...
17/06/2026

ڈرتے ڈرتے میں کسی طرح کالج پہنچ گئی۔ چھٹی کے وقت جب سب لڑکیاں کالج کے دروازے سے نکلیں تو میں بھی باہر نکل آئی، لیکن جانے کیوں آج مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ بس پر چلی جاتی ہوں، لیکن نہیں، کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ یہ سوچ کر آہستہ آہستہ چلنے لگی کہ شاید بس رستے میں مل جائے۔ اچانک ایک اسکوٹر آ کر میرے بالکل سامنے رکا۔ دل کی دھڑکن کے ساتھ میری رفتار بھی بڑھ گئی
👇👇
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہمارے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم رائج تھا۔ ابو اور چچاؤں کا لیدرایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ دفتر کا کام والد صاحب کے ذمہ تھا، اسی لیے وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتے تھے۔ دونوں پھوپھیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں اور گھر کا سارا انتظام دادی جان نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالتی تھیں۔ ہم دو بہن بھائی تھے، جبکہ بڑے چچا، عبد الکریم، کے بھی دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چھوٹے چچا کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ دادی جان اپنی بہن کے رشتہ داروں کی شادی میں گئیں۔ وہاں انہوں نے ماہ نور کو دیکھا اور اُسے چھوٹے چچا کے لیے پسند کر لیا۔ ماہ نور نہایت خوبصورت لڑکی تھی، لیکن دادی نے اس کے اطوار و عادات جاننے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ انہوں نے چچاجان سے ماہ نور کا ذکر کیا، تو بیٹے نے ماں کی پسند کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا، اور دادی کی کوششوں سے ماہ نور ایک ماہ کے اندر اندر ہماری چچی بن گئیں۔

وہ بلاشبہ خوبصورت تھیں، مگر ایک ہفتے بعد ہی اُن کی عادات کھل کر سامنے آنے لگیں۔ انہیں اپنے حسن کا پورا ادراک تھا، اور اُن کے خیال میں کام کرنے سے حسن میلا ہو جاتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ کام کرنے کے لیے نہیں، بلکہ آرام کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔ شروع کے دنوں میں سب نے ان کا احترام کیا اور خدمت بھی، جس سے انہیں یہ گمان ہوا کہ دولہا کے گھر والوں کا فرض ہے کہ وہ ان کی خدمت کریں اور ان کا حد درجہ احترام بھی۔ اس زعم میں نہ انہوں نے بڑے چھوٹے کا لحاظ رکھا، نہ کوئی تمیز۔ ایک ماہ یوں ہی گزر گیا، وہ اپنی “چھوٹی ہوئی بہو” والی حیثیت پر قائم رہیں۔ سارا دن ٹی وی دیکھتیں یا سوتی رہتیں، لیکن دادی کو یہ سب قبول نہ تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ دوسری بہوؤں کی طرح یہ بھی گھریلو کام کاج میں برابر کی شریک ہوں۔ ایک دن ہم سب، بشمول دادی جان، نانی امی کے گھر گئے۔ تائی گھر پر تھیں؛ انہیں بخار تھا اور وہ کمزوری سے نڈھال تھیں۔ ان کی دس سالہ بیٹی، میری کزن ماریہ، نے ماہ نور سے کہا کہ امی کو بخار ہے، وہ بہت کمزور ہو گئی ہیں۔ کچھ کھانے کو بنا دیں۔ ماہ نور نخوت سے بولیں کہ وہ یہاں تم لوگوں کے لیے روٹیاں پکانے نہیں آئی ہے۔

ماریہ چپ چاپ وہاں سے چلی آئی۔ اس نے کچن میں جا کر خود کھانا بنانے کی کوشش کی، مگر بدقسمتی سے خود کو جلا بیٹھی۔ اسی وقت تایا ابا آگئے، وہ ماریہ کو فوراً اسپتال لے گئے اور تائی کے لیے دوا اور کھانا بھی لے آئے۔ شام کو جب دادی جان کو ساری صورتِ حال معلوم ہوئی تو ان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی۔ انہوں نے چھوٹے چچا اور چچی کو خوب ڈانٹ پلائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دن دونوں اپنا سامان پیک کر کے چلے گئے۔ جاتے ہوئے چھوٹے چچا نے کہا کہ جس گھر میں میری بیوی کی عزت نہیں، وہاں میں نہیں رہ سکتا۔ مجھے میرا حصہ چاہیے، میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ دادی جان نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی، لیکن ماہ نور کے اکسانے پر وہ ماں، بہن، بھائیوں، غرض سب کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے میکے جا بیٹھے۔ تایا اور ابو کو اس بات کا بے حد افسوس ہوا۔ انہوں نے بھی انہیں سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، مگر سب بے سود رہا۔ آخرکار تایا اور ابو نے مجبور ہو کر کراچی والا بزنس چھوٹے چچا کے حوالے کر دیا۔ دادی جان کو اپنا چھوٹا بیٹا سب سے زیادہ عزیز تھا، اسی لیے وہ چچا حفیظ کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔

ان دنوں ابو فیصل آباد میں تھے۔ دادی کی وفات کے بعد ہم بھی فیصل آباد ابو کے پاس چلے آئے اور لاہور کا سارا کاروبار تایا جان کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں تین بھائی، جنہوں نے ترقی کا سفر اکٹھے شروع کیا تھا، بکھر کر رہ گئے۔ فیصل آباد میں ابو کرائے کے گھر میں رہتے تھے اور نیا گھر تعمیر کروا رہے تھے۔ جب گھر مکمل ہو گیا تو امی نے قرآن خوانی کروانے کا فیصلہ کیا۔ میں ہمسایوں میں قرآن خوانی کی دعوت دینے نکلی۔ یہ میری اور صائمہ کی پہلی ملاقات کا دن تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کوئی دوست ملی، کیونکہ مجھے شروع سے ہی تنہائی سے انجانے خوف سا محسوس ہوتا تھا۔ قرآن خوانی کے بعد سب عورتیں چلی گئیں، لیکن میں نے صائمہ کو روک لیا۔ اس دن میں اور صائمہ نے آپس میں خوب باتیں کیں۔ اس نے بتایا کہ وہ دو بہن بھائی ہیں، والدین کی لاڈلی ہے اور یہ لوگ اس محلے میں نئے آئے ہیں کیونکہ اس کے بھائی کی اس شہر میں پوسٹنگ ہوئی ہے۔ وہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ روز روز کی ملاقات نے ہماری دوستی کو مضبوط کر دیا۔ کبھی وہ ہمارے گھر آ جاتی اور میں اس کے گھر چلی جاتی۔ ایک دوسرے کو روز کی رپورٹ دینا ہماری عادت بن چکی تھی۔انہی دنوں بڑی پھوپھی ہمارے گھر آئیں۔ وہ اپنے چھوٹے صاحبزادے رمیز کے لیے میرا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا، سب سے بڑھ کر اپنا تھا، اس لیے ہماری منظوری ہو گئی۔

پھوپی چاہتی تھیں کہ ہمارا نکاح جلد ہو جائے کیونکہ رمیز کو ہائر اسٹڈیز کے لیے امریکہ جانا تھا۔ پھوپی کی خواہش کے مطابق میرا نکاح رمیز کے ساتھ ہو گیا۔ میں بہت خوش تھی کیونکہ وہ مجھے پسند تھا اور اب میں خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کر رہی تھی۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2025/09/sub-kuch-tumhara.html

لڑکی کے چاند سے چہرے پر نظر پڑتے ہی خان صاحب جیسے پلک جھپکنا بھول گئے۔ وہ فوراً منشی جی کو ساتھ لے کر ان کے گھر سے نکل گ...
17/06/2026

لڑکی کے چاند سے چہرے پر نظر پڑتے ہی خان صاحب جیسے پلک جھپکنا بھول گئے۔ وہ فوراً منشی جی کو ساتھ لے کر ان کے گھر سے نکل گئے۔ ۔جب چاند میاں گھر لوٹے تو ان کے چہرے پر سکون و مسرت کے ملے جلے آثار تھے۔ اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ خان صاحب نے اپنے لیے حور کا رشتہ مانگا ہے۔ یہ سن کر ان کی بیوی یکدم سنسنی میں آ گئیں کیونکہ خان صاحب اور حور کی عمر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
👇👇
نانا کا نام چاند محمد تھا۔ سب انہیں چاند میاں بلاتے تھے۔ وہ ایک زمیندار کے منشی تھے۔ میٹرک پاس تھے اور جب میٹرک کے طالبعلم تھے، تبھی سے زمیندار سعد خان صاحب کے والد کے پاس ملازم تھے۔ تب سعد بھی شہر میں گریجویشن کر رہے تھے۔ ان کی گریجویشن مکمل کرنے سے قبل ہی ان کے والد نے ان کی شادی اپنے بڑے بھائی کی بیٹی سے کر دی تھی اور جب انہوں نے بی اے کیا، تو وہ دو بچوں کے باپ بن چکے تھے۔ کچھ دنوں بعد بڑے زمیندار صاحب کا انتقال ہو گیا۔ سعد اکلوتے تھے۔ اپنے والد کے تمام اثاثے اور زمینداری انہیں وراثت میں مل گئی۔ سعد صاحب بہت اچھے اخلاق کے اور خدا ترس زمیندار تھے۔

چاند میاں ان کی بہت عزت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے کئی بار بہت مشکل حالات میں اس عریب منشی کی مدد کی تھی۔ تبھی وہ اپنے محسن کے لیے جان دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ ان کی شادی خالہ زاد سے ہوئی تھی اور اس شادی کے اخراجات بھی سعد صاحب کے والد نے اٹھائے تھے۔ چاند میاں کی ایک ہی بیٹی تھی۔ اس بچی کے بعد دو لڑکے ہوئے، مگر اوائل عمر میں وفات پا گئے، بعد میں اولاد نہ ہوئی۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ اس کا نام انہوں نے حوریہ رکھا تھا۔ کہتے تھے کہ میری بیٹی حور جیسی خوبصورت ہے، تب ان کی بیوی ہنس کر کہتیں، کیا تم نے کبھی کسی حور کو دیکھا ہے جو بیٹی کو حور بلاتے ہو؟ یہ جیسی بھی ہے، میرے لیے تو حور ہی ہے، وہ جواب دیتے تھے۔

سارا دن چاند میاں سعد صاحب کے ڈیرے پر ہوتے اور حوریہ اپنے چھوٹے سے گھر میں ماں کے ساتھ رہتی۔ وہ اپنے گھر کے آنگن میں اکیلے ہی کھیل کر جوان ہو گئی۔ ماں اُسے گھر سے باہر کھیلنے نہیں دیتی تھی۔ خور نے اپنے گھر کی دہلیز سے کبھی کبھار ہی قدم نکالا ہو گا، وہ بھی جب کبھی اس کی ماں اپنے رشتہ داروں سے ملنے یا ان کے ہاں شادی یا غمی کے موقع پر جاتی تو بیٹی کو ساتھ لے جاتی۔ خور کو اس خاتون نے کبھی زمیندار کے گھر بھیجا، نہ خود وہاں جاتی تھی۔ وہ گھر میں گاؤں کی بچیوں کو کلام پاک پڑھاتی تھیں۔ بچیاں آتیں تو حور خوش ہو جاتی اور ان کے ساتھ کبھی کبھار کھیلنے کی کوشش کرتی۔ چاند میاں کی بیوی پابند صوم و صلوٰۃ تھی، کم سنی سے ہی اپنی بچی کو خود قرآن مجید پڑھایا اور نماز بھی سکھائی۔ خور پانچ وقت نماز کی پابندی کرتی تھی۔ اس کے چہرے پر نور تھا۔ اس کا پاکیزہ چہرہ چاند کی طرح دکھتا تھا۔ خور کو کبھی زمانے کی ہوا نہ لگی، نہ ہی اس نے کبھی اپنی ماں سے، گھر سے باہر یا ارد گرد جانے کی ضد کی۔ چاند میاں کی عادت تھی کہ سارا دن سعد صاحب کی طرف رہتے، ان کے بچوں کو اُٹھاتے، گھماتے پھرتے، اسکول لاتے لے جاتے، مگر انہوں نے کبھی اپنی بیٹی کی طرف توجہ نہ دی، اس کو اسکول بھی داخل نہ کرایا۔

بے شک وہ اس سے پیار کرتے تھے، مگر اس کے لاڈ اٹھانے کا وقت انہیں کم ہی ملتا تھا۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا اور چاند میاں کی بیٹی اب چودہ برس کی ہو چکی تھی۔ وہ بہت حسین نکلی تھی۔ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت اور سلیقہ مند بھی تھی۔ سارے گاؤں میں اس بچی کی تعریف ہوتی تھی۔ ماں کو حور کی شادی کی فکر تھی۔ جب وہ سولہ برس کی ہوئی، تو وہ چاند میاں کے پیچھے پڑ گئیں کہ لڑکی کے ہاتھ پیلے کرنے کی کرو۔ منشی جی کہتے، ہماری ایک ہی تو بیٹی ہے، ابھی اس کی عمر کیا ہے؟ اتنی جلدی اس کی شادی کی کیوں پڑی ہے؟ چند دن اور ماں باپ کے گھر کا سکون لینے دو اور دعا کرو کہ کوئی اچھا رشتہ مل جائے تو کر دیں گے شادی بھی۔ میری تو ہر وقت یہی دعا ہے کہ گھر بیٹھے بیٹی کا اچھا رشتہ آجائے، ہمیں کسی سے رشتہ مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بس خدا اس کا نصیب اچھا کرے۔ میاں بیوی میں اکثر ایسی ہی باتیں ہوتی رہیں۔

ایک دن سعد صاحب کہیں شکار پر جا رہے تھے۔ وہ منشی کو ساتھ لے جانے کے لیے خود ان کے گھر آگئے۔ چاند میاں کے لیے یہ عزت افزائی تھی کہ سعد اللہ خان صاحب خود چل کر ان کے دروازے تک آئے تھے۔ انہوں نے سعد صاحب کو گھر کے اندر بٹھایا، تاہم کچھ محل سے ہو گئے کیونکہ وہ غریب آدمی تھے، کچا سا مکان تھا۔ انہیں اپنے گھر کا کوئی کونہ اس لائق نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنے مالک کو وہاں بٹھائیں اور ان کی حیثیت کے مطابق خاطر تواضع کریں۔ گھر میں صرف چھاچھ موجود تھی، لہٰذا بیٹی سے کہا، حور، ایک گلاس چھاچھ بھر کر مالک کے لیے لے آ۔ سعد جان چار پائی پر بیٹھے تھے کیونکہ گھر میں کرسی نہیں تھی۔ خور چھاچھ لے آئی اور ان کو دینے کے لیے گلاس آگے بڑھایا۔ لڑکی کے چاند سے چہرے پر نظر پڑتے ہی خان صاحب جیسے پلک جھپکنا بھول گئے۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2025/08/aorat-ek-khelona.html

اس پراسرار مخلوق نے فی الحال مجھے کچھ نہیں کہا تھا. میں فرش پر بیٹھی اپنے چہرے کو اپنے گھنٹوں سے لگائے بیٹھی تھی. کہ اچا...
17/06/2026

اس پراسرار مخلوق نے فی الحال مجھے کچھ نہیں کہا تھا. میں فرش پر بیٹھی اپنے چہرے کو اپنے گھنٹوں سے لگائے بیٹھی تھی. کہ اچانک میں نے اپنا دایاں ہاتھ قالین پر رکھا، جونہی میں نے ہاتھ اٹھایا، وہ خون سے تر ہو گیا، جبکہ قالین پر کوئی خون نظر نہیں آ رہا تھا. میں نے اپنے ہاتھ کو پھٹتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور ایک نظر اس عورت کی طرف دوڑائی جو اب تک بیڈ پر نیم دراز پڑی تھی
👇👇
ایک رات میں اپنے کمرے میں پینٹنگ کر رہی تھی، کوئی ڈیڑھ بجے کا وقت تھا، اور ہر طرف مکمل خاموشی تھی، سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں سو رہے تھے، اور میں اپنے کمرے میں اکیلی تھی. میرا کمرا باقی کمروں سے ذرا ہٹ کر تھا، اس کی کھڑکی باہر لان کی طرف کھلتی تھی اور اس رو میں اور کوئی کمرہ نہیں تھا، کمرے کے ڈور کے سامنے اور سائیڈ پہ صحن تھا، اسلئیے باقی گھر والوں کے رومز تک میری آواز پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

تو یوا یوں کہ پینٹنگ کرتے کرتے میری نظر کھڑکی سے باہر لان میں پڑی، تو کیا دیکھتی ہوں کہ سفید رنگ کے چمکتے اور اجھلتے لباس میں کھڑا ایک وجود میری طرف مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا ہے، میں ایکدم سے خوفزدہ ہو گئی اور پینٹنگ برش پھینک کر فوراً سے کھڑکی کی طرف بھاگی، جھٹ سے کھڑکی بند کی، اور کھڑکی کے ساتھ کمر لگا کر کھڑی ہو گئی، میرا سانس پھول گیا اور جسم پسینے سے شرابور ہو گیا. پھر میں نے جلدی سے گلاس میں پانی ڈال کے پیا، اور باقی بچا ہوا پانی کا گلاس بیڈ کی سائید ٹیبل پر رکھا، گلاس دھڑام سے زمین پر گر کر ٹوٹ گیا اور اس میں موجود پانی نے خون کی شکل اختیار کر لی. میں نے مڑ کر دیکھا تو بے اختیار میری چیخ نکل گئی۔

اور میں اپنے روم کے ڈور کو کھول کر باہر نکلنے کیلئے آگے بڑھی. جیسے ہی میں نے ڈور کا لاک کھولنے کی کوشش کی، میرے ہاتھ پہ ایک زور کی اسٹک بجی، جیسے کوئی مجھے لاک کھولنے نہ دینا چاہتا ہو، میں نے ایک بار دوبارہ کوشش کی تو پھر وہی اسٹک کا وار ہوا. میں جلدی سے واپس مڑی اور اپنا موبائل اٹھا کے اپنی مما، پاپا، بہن، بھائی، کزنز سب کو کال کی لیکن سب کا نمبر بند آرہا تھا، میں اور بھی بوکھلا گئی کہ ایک ساتھ سب کے نمبر کیسے بند ہو سکتے ہیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، میں نے غصے سے موبائل بیڈ پر پھینکا، جب کھڑکی کی طرف دیکھا تو ایک چلتا ہوا سایہ نظر آیا، میں بمشکل سانس لیتے ہوئے بند کھڑکی پر پردہ کرنے کیلئے آگے بڑھی تو کھڑکی کو کسی نے دھیرے سے کھٹکھٹایا. میں ڈر کے ایک بار پھر چیخنے لگی تو میری چیخ جیسے گلے میں ہی اٹک گئی. پردہ آگے کرنے کے بعد میں بھاگ کے کمرے کے کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی۔

میرے دل کی دھڑکن ہر گزرتے لمحے کیساتھ تیز ہو رہی تھی اور میرا جسم مارے خوف کے تھر تھر کانپ رہا تھا، میں مسلسل "آیت الکرسی" کا وِرد کر رہی تھی، لیکن الفاظ کی ادائیگی بہت مشکل سے ہورہی تھی، کبھی میری زبان میرے ہونٹوں کے نیچے آ جاتی اور کبھی دانت ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے۔

میں کمرے کے کونے میں بے حس و حرکت بیٹھی کانپ رہی تھی، کہ اچانک کمرے کا ڈور نوک ہوا، اور ساتھ ہی میری مما کی آواز آئی، ارم بیٹا دروازہ کھولو، میں ہوں. پہلے تو میرے ذہن میں آیا کہ رات کے اس وقت مما کیوں میرے کمرے میں آئیں گی، عام طور پر کبھی ایسا نہیں ہوا تھا، لیکن خوف کا اس قدر غلبہ تھا کہ میں جلدی سے اٹھ کر دروازے کی طرف لپکی، جیسے ہی میں نے لاک کھولنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا، دروازہ خودبخو کھل گیا اور کالے کپڑوں میں ملبوس ایک خوبصورت بڑی بڑی چمکدار آنکھوں والی عورت میرے کمرے میں داخل ہوئی، میں نے تھوک نگلتے ہوئے کانپتی آواز میں اس سے پوچھا، آآپپپپ کووون؟

وہ کچھ نہ بولی اور اندر آکر بیڈ پر نیم دراز ہو گئی، میں اسے نظرانداز کر کے دروازے سے باہر جانے کیلئے تیزی سے مڑی، تو دروازہ زوردار آواز سے بند ہو گیا، اور میرے کھولنے پر بھی نہ کھلا. مارے خوف کے میں لڑکھڑاتے قدموں سے تین چار انچ ہی چل سکی اور فرش پر گر گئی، میرے وجود کا ایک ایک حصہ اکڑ چکا تھا، اور کبھی اس قدر ڈھیلا ہو جاتا کہ جیسے مجھ میں ہڈیوں کی جگہ صرف گوشت ہی گوشت ہو۔

میرے کمرے میں لیمپ کی روشنی تھی، اور مجھے ہمیشہ سے ہلکی روشنی پسند تھی. اچانک میرے لیمپ کی روشنی آن، آف ہونے لگی، اور بیڈ پر لیٹی اس عورت کے کپڑوں کا رنگ بدل کر کبھی سرخ ہو جاتا، کبھی زرد، کبھی نیلا اور کبھی سفید. وہ سارا منظر دیکھ کر میری ہچکی بندھ گئی (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2023/11/purisrar-raat-urdu-story.html

جس روز شوہر نے دوسری عورت کے ساتھ گھر میں قدم رکھا، مہرو کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کئی دن تک کونوں کھدروں میں وہ منہ چھپا ...
16/06/2026

جس روز شوہر نے دوسری عورت کے ساتھ گھر میں قدم رکھا، مہرو کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کئی دن تک کونوں کھدروں میں وہ منہ چھپا کر روتی رہی۔ ایک روز روتے روتے بے ہوش ہو گئی۔ مہرو کو سال بھر تک بھائی نے واپس اس کے سسرال نہیں جانے دیا۔ اس دوران اس کی سوتن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔
👇👇
واحد بخش، مہرو کا چچا زاد تھا۔ ان کی نسبت بھی بچپن سے طے تھی۔ جوانی آئی تو بچپن کا پیار رنگ لایا اور نوعمری کے خوابوں میں شوخ و شنگ رنگ بھرنے لگے۔ شادی کے دن تک دونوں گھرانوں میں محبت قائم رہی تھی۔ ان کو زمانے سے بھی ٹکر نہ لینی پڑی اور شادی دھوم دھام سے ہو گیا۔

شادی کے بعد مہرو کی زندگی کے دن کتنے سہانے تھے۔ لگتا تھا ساری دنیا کی خوشیاں اس کے قدموں میں ہوں۔ واحد بخش اب رفیقِ زندگی بن چکا تھا اور اس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ مہرو کی ذرا سی تکلیف برداشت نہ کرتا تھا، مگر مہرو سے جانے کون سی بھول ہو گئی کہ چند سال بعد ہی اچانک اس کی پھولوں بھری زندگی میں انگاروں کا طوفان اس شدت سے آیا کہ زندگی جل کر راکھ ہو گئی۔ ایک روز وہ کھیتوں میں گنے لینے گئی، تو ایک عورت نے بتایا: “مہرو! سنا ہے تیرا واحد کسی البیلی کے چکر میں ہے۔” اسے یقین نہ آیا کہ اس کی محبت کا بٹوارہ بھی ہو سکتا ہے۔ “یہ بات تم سے کس نے کی ہے؟” اس نے عورت سے پوچھا۔ “اپنے گھر والے سے، اس معاملے کے چرچے تو سارے گاؤں میں ہیں۔ ایک تو ہی بے خبر ہے۔” “مجھ جیسی کوئی عورت ناگن بن کر میری دولت کے اس خزانے کو لوٹ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔” اس نے یقین سے کہا تھا، مگر جب ناگن کا زہر آہستہ آہستہ اس کی ہنستی بستی زندگی کو نیلا کرنے لگا، تو وہ ٹھٹھر کر رہ گئی۔

یہ سچ تھا کہ عزیز از جان رفیقِ حیات ایک اور دوشیزہ کے دامِ الفت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ پھر وہ کچھ ہوا کہ مر جانا بھی اس کے اختیار میں نہ رہا، اس وقت تک وہ تین بیٹیوں کی ماں بن گئی تھی۔ جب شوہر منہ نہ لگائے، تو جینے کو کیونکر جی چاہتا۔ اپنا آپ مٹا کر بھی وہ واحد بخش کو اپنی دنیا میں واپس لانے میں ناکام رہی تھی۔ وہ اس کو آوازیں دیتی، پکارتی، مگر اس کو مہرو کی کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کسی جادوگرنی نے اس کے شوہر پر جادو کر دیا ہے۔ بالآخر وہ دن بھی اس نے دیکھ لیا کہ رفتہ رفتہ اس کا محبوب دور ہوتا چلا گیا اور واحد بخش کی نئی محبت کی کشتی پرلے کنارے جا لگی۔ وہ اب اس گھر میں ساس (چاچی) کے سہارے رہ رہی تھی، جو کہتے تھے کہ: “تو ہی ہماری بہو اور اس گھر کی مالک ہے، ہماری تین پوتیوں کی ماں ہے، ہم کسی اور عورت کو تیری جگہ تسلیم نہ کریں گے۔” وہ اپنے بیٹے کی مہرو سے بے رخی کو دیکھ رہے تھے اور مہرو کے صبر کو بھی، جس نے شوہر کی بے رخی کے طمانچے، اس کی بیزاری و بے وفائی کے گھاؤ اپنے دل پر سہے، مگر اپنی محبت اور خدمت گزاری میں کمی نہ آنے دی اور نہ ساس سسر کو رنجش کا موقع دیا تھا۔

تھک ہار کر وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ اب نہ شکوہ شکایت کرتی اور نہ کوئی فرمائش، جیون ساتھی تب بھی خفا رہتا۔ گرم گرم کھانا اس کے سامنے لا کر رکھتی، وہ دھتکار دیتا۔ ہاتھ جوڑتی کہ کھانا تو کھا لو، وہ ہاتھ جھٹک دیتا۔ اپنی محبت کا واسطہ دے کر کہتی کہ: “کسی عورت سے دل لگا لیا ہے تو بتا دو”, تو وہ مارنے پیٹنے لگتا۔ تب وہ اتنا روتی کہ اس کے آنسوؤں سے واحد بخش کے پیر بھیگ جاتے، مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ مہرو کو دھکا دے کر گھر سے نکل جاتا۔ ساس سسر بیٹے کی اس سنگدلی پر دم بہ خود تھے۔ ان کا واحد کبھی ایسا سفاک تو نہ تھا اور مہرو کے معاملے میں تو اس کا دل ریشم کی طرح نرم تھا۔ ماں باپ کے سمجھانے پر اس نے ان سے بھی بات چیت ختم کر دی۔ اس اثنا میں اللہ نے مہرو کو ایک بیٹا بھی دے دیا، مگر واحد نے بیٹے کی شکل دیکھی نہ گود میں لیا۔ وہ صاحباں کو بیاہ کر گھر لانا چاہتا تھا اور باپ اس کی اجازت نہ دیتا تھا۔ اس خاموش اور سرد جنگ سے ہار کر بالآخر بوڑھے باپ کا انتقال ہو گیا۔

باپ کے مرنے سے رہا سہا لحاظ جاتا رہا اور وہ ماں کی خفگی کو نظر انداز کر کے اپنی البیلی کو بیاہ کر گھر لے آیا۔ جس روز شوہر نے دوسری عورت کے ساتھ گھر میں قدم رکھا، مہرو کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2026/06/aowrat-ya-nagin.html

16/06/2026

خدا کا خوف کرو زاہدہ، ہماری شادی کو سترہ سال ہو چکے ہیں۔ تم کوئی اداکارہ نہیں ہو جو بڑھاپے میں بھی طلاق لے کر دوسری شادی کر کے ویلیو بناتی پھرو۔ ہم نے تمہیں عزت دی ہے، ہر بات مانی ہے، کبھی تمہیں ذہنی اذیت نہیں دی، کبھی جبر نہیں کیا۔ زاہدہ نے کہا، مجھے کسی کے فلسفے کی ضرورت نہیں، مجھے بس طلاق چاہیے۔
👇👇
یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف میرا گھر جلا، بلکہ وہ گھر بھی اجڑ گیا جو اُس کا اپنا تھا۔ اس نادان عورت نے آگ خود اپنے ہاتھوں سے لگائی، گھر کو جلا کر تماشہ دیکھتی رہی، اور خود بھی تماشہ بن گئی۔ زاہدہ میری نند تھی اور بدقسمتی سے میری بھابھی بھی بن گئی۔ ہمیں اسکول کے زمانے سے خبر تھی کہ وہ محلے کے ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی۔ مگر اس نے یہ بات کسی سے نہ کہی، اگر کہتی تو شاید گھر والے اس کا ساتھ دیتے، یا شاید نہیں۔ اسی خوف سے اُس نے دل کی بات دل ہی میں رکھ لی۔

انہی دنوں اُس کے رشتے کی بات چل نکلی، اور والدین نے اس کی شادی میرے بڑے بھائی سے طے کر دی۔ وہ چپ چاپ روتی رہی مگر کسی کو کچھ نہ بتایا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ سب یہی سمجھتے رہے کہ لڑکیاں رخصتی کے وقت روتی ہیں، یہی دستور ہے۔ اس کی شادی میرے بھائی سے ہو گئی۔ زاہدہ نے شادی کے بعد بھی کبھی یہ اعتراف نہ کیا کہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔ بس یہی کہتی رہی کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ مگر بھلا کسی لڑکی کی بات کون سنتا ہے؟ جب لڑکیاں شادی کے قابل ہو جائیں تو والدین یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ پیلے کر کے ایک بڑے فرض سے سبکدوش ہونا ہے۔ یوں وہ میری نند سے میری بھابھی بن گئی۔ دل میں محبت کی چنگاری دبائے، وہ ایک طویل عمر تک اسی آگ میں سلگتی رہی۔ دل پر جبر کیے، میرے بھائی کے ساتھ گزارا کرتی رہی اور سولہ سترہ سال گزار دیے۔ اس دوران اُس کے کئی بچے بھی ہو گئے۔

میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ باقی سب شادی شدہ تھے۔ میری شادی بھی گھر والوں نے زاہدہ کے چھوٹے بھائی سے کر دی۔ وہ میری سسرال سے تھی اور میں اُس کی سسرال سے۔ یعنی وہ میری بھابھی اور میں اس کی بھابھی بن گئی۔ میرے شوہر ریاض اور دیور احسان، دونوں کویت میں ملازمت کرتے تھے۔ زاہدہ کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ اس کے دو بھائی بیرونِ ملک کماتے ہیں۔ ایک دن میرے بھائی نے اپنی بیٹی ساحہ کا رشتہ زاہدہ کے بھائی فیضان کے لیے بھیجا، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس انکار پر زاہدہ نے میرے بھائی کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ کہنے لگی، تمہارے بھائی نے میرے بھائی کے رشتے سے انکار کیوں کیا؟ اب میں بھی تمہارے گھر نہیں رہوں گی اور تمہاری بہن ماجده کو طلاق دلواؤں گی۔ زاہدہ چار بچوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی بات کو زمین آسمان تک لے جاتی تھیں۔

ایک دن کسی بات پر میرے بھائی سے جھگڑا ہوا اور وہ میکے چلی گئیں۔ وہاں بھی سکون سے نہ رہیں، الٹا مجھ پر دباؤ ڈالنے لگیں کہ میں اپنے بھائی بہنوں سے تعلق ختم کر لوں۔آخرکار، میرے بھائی بڑی منت سماجت کے بعد انہیں واپس لے آئے۔ دراصل یہ میری بھابھی کی غلطی تھی کہ انہوں نے اپنے دل میں زبردستی کا گٹھا باندھ رکھا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھیں کہ جب وہ روتی ہیں تو شوہر پریشان ہو جاتا ہے، منت سماجت کرتا ہے، تو وہ اس جذباتی بلیک میلنگ کو ایک ہتھیار بنا چکی تھیں۔ ایک دن صاف کہہ دیا کہ میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ بچے بڑے ہو چکے ہیں، اب میں علیحدگی چاہتی ہوں۔ تم طلاق دے دو۔

میرے بھائی نے کہا کہ اگر تم خلع لوگی تو میری بہن کا کیا ہوگا جس کی تم نے شادی اپنے بھائی سے کرائی؟ کیا اسے بھی طلاق دلواؤ گی؟ زاہدہ نے کہا کہ ہاں، دلواؤں گی۔ تم فکر نہ کرو، وہ خود واپس آجائے گی۔ بھائی نے کہا کہ خدا کا خوف کرو زاہدہ، ہماری شادی کو سترہ سال ہو چکے ہیں۔ تم کوئی اداکارہ نہیں ہو جو بڑھاپے میں بھی طلاق لے کر دوسری شادی کر کے ویلیو بناتی پھرو۔ ہم نے تمہیں عزت دی ہے، ہر بات مانی ہے، کبھی تمہیں ذہنی اذیت نہیں دی، کبھی جبر نہیں کیا۔ زاہدہ نے کہا، مجھے کسی کے فلسفے کی ضرورت نہیں، مجھے بس طلاق چاہیے۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2025/08/bhabi-ka-ishq.html

رات کا کوئی پچھلا پہر ہوگا جب صلہ کی کھٹا ک سے آنکھ کھل گئی اس نے اپنی دائیں جانب دیکھا. رخ موڑ احمر گہری نیند میں تھا. ...
16/06/2026

رات کا کوئی پچھلا پہر ہوگا جب صلہ کی کھٹا ک سے آنکھ کھل گئی اس نے اپنی دائیں جانب دیکھا. رخ موڑ احمر گہری نیند میں تھا. صلہ نے پھر آنکھیں موند لیں تھوڑی دیر بعد صلہ کو لگا کوئی کچن میں ہے. اسے آہٹ محسوس ہورہی تھی وہ سمجھی بچے ہونگے کچن میں وہ ہمت کرکے اٹھی سلیپر پہنا اور کچن کی طرف چلد دی. کچن میں لائٹ جل رہی تھی اور کھٹ پٹ ابھی بھی ہورہی تھی صلہ دروازے کے پاس پہنچی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
👇👇
یہ گھر بہت اچھا ہےاور نہایت معقول قیمت پر آپ ک مل جائے گا پراپرٹی بروکر نے احمر کو کنوینس کرتے ہوے بتایا جو احمر کو کوئی چوتھا گھر دیکھا رہا تھا ۔ احمر ایک ملٹی نشنل کمپنی میں بطور مینجر کام کرتا تھا کمپنی شہر سے دور ایک قصبے میں فرم لگا رہی تھی لینڈ خرید لی گئی تھی احمر کی کارکردگی اور ایمان داری ریکھ کر کمپنی نے اسے وہاں جاکر اپنی ناگرانی میں کام کروانے کی لیے بیھجااس لیے احمر اس قصبے میں کوئی اچھا سا گھر دیکھ رہا تھا تاکہ شہر سے اپنے بیوی بچوں سمیت یہاں شفٹ ہوسکے اس نے ایک پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کیا کہ وہ اسے کوئی اچھا سا کم قیمت میں مکان۔دلا دے پر احمر کو کوئی گھر پسند نہیں آرہا تھا لوکیشن۔اچھی ہوتی تو قیمت بہت ہوتی قیمت کم۔ہوتی تو گھر اچھا نہ ہوتا لیکین یہ گھر احمر کو۔پسند آیا تھا فلی فرنشڈ گھر تھا قیمت بھی کم تھی اور آبادی سے تھوڑا دور تھا جہاں فل پرئوسی کا احساس ہوتا تھا اور احمر چونکہ تنہائی پسند تھا اس لیے اس نے یہ گھر خریدنے کا آرادہ کر لیا ۔۔

ٹھیک ہے مسٹر کمال مجھے یہ گھر پسند ہے ۔ آپ کاغزات ریڑی کروا لیں احمر نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر طیرانہ نگاہ پورے گھر پر ڈال کر کہا ۔۔۔
او دیٹس گریٹ تو پھر میں ایک دو دن میں کاغز ریڑی کروا کر آپ کو انفام کر دوں گا بروکر نے جلدی سے ہاتھ ملایا اور احمر کو لے کر باہر آگیا

احمر خوش تھا کہ اسے اس کے مطلب کا گھر مل گیا ہے وہ بھی انتہائی کم قیمت پر
وہ یہ خوش خبری اپنی بیوی کو جلدی سےسنانا چاہتا تھا جو پریگنٹ تھی یہاں کی آب وہوا بھی سازگار تھی یہ قصبہ پہاڑی سلسلے میں واقع تھا چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے چاروں اطراف سے گھیرا ہوا تھا قصبے کے بازار سے گزرتے ہوے اس نے محسوس کیا کہ یہاں کہ لوگ خوش اخلاق نہیں ہیں انکے چہروں پر عجییب سی کراہتگی نمایاں ہے جو اسے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے احمر نے دل میں سوچا شاید یہ لوگ اجنبی شخص کو دیکھ کر پریشان ہوگئے ہیں۔اس لیے اسے دل۔میں بدگمانیوں کو جگہ نہیں۔دینی چاہیے وہ واپس شہر آگیا گھر آکر اپنی بیوی صلہ آٹھ سالہ بیٹی ستارہ اور چھ سال کے عماد کو بتایا کہ میں نے نیا گھر خرید لیا ہے بہت جلد ہم۔وہاں شفٹ ہوجائیں گے جسے سن کر صلہ اور عماد تو بہت خوش ہوئے لکین ستارہ کا موڈ آف ہوگیا وہ یہاں سے نہیں جانا چاہتی تھی کیونکہ یہاں۔اسکے بہت سے دوست تھے اور نئی جگہ پر جانا اسے پسند نہیں تھا ۔۔۔کیا ہوا تارہ بیٹا آپ خوش نہیں ہوئی یہ سن کر احمر نے بڑے پیار سے پوچھا ۔۔

نہیں باپا مجھے نہیں جانا کہیں اور میرا سکول۔یہاں ہے اور میرے سارے فرینڈ بھی میں۔انکو چھوڑ کر کہی بھی نہیں جاوں گی دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر حفگی سے کہا ۔۔ بیٹا وہ جگہ آپ کو بہت پسند آئے گی دیکھ لینا نیا سکول ہوگا اور نئے دوست بنا لینا وہاں آپ کا الگ سے کمرہ بھی ہوگا احمر نے لالچ دیا ۔۔ یا سچ میں میرا الگ سے کمرہ ہوگا تو پھر ٹھیک ہے ہم۔وہاں۔ضرور جائیں گے ستارہ نے اپنی بڑی بڑی پلکیں جپکا کر کہا ۔۔
گھر کے کاغز مکمل ہوچکے تھے اور احمر نے پیمنٹ بھی کر دی تھی آج وہ لوگ گھر میں۔شفٹ ہو گئے تھے صلہ اور ستارہ کو نیا گھر بہت پسند آیا تھا یہ تین کمروں پہ مشتمل گھر تھا ایک کمرہ نیچے ایک ہال اور ساتھ کچن دو کمرے اوپر احمر اور صلہ نے نیچے والا کمرہ سیٹ کرلیا کیونکہ وہ زیادہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی اور ستارہ اور عماد کو اوپر والا ایک کمرہ سیٹ کردیا اور ایک کمرے میں فالتو سامان رکھ کر لاک کر دیا اگلے دن صبح ناشتے پر احمر نے بچوں کو بتایا کہ آج وہ فیکٹری کی سائٹ دیکھنے جائے گا وہ گھر میں رہیں اور ماما کو زیادہ تنگ نہ کریں تھوڑے دنوں میں وہ انہیں کیسی اچھے سکول میں داخل کروا دے گا وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اس جگہ پہنچا جہاں فیکٹری بنا تھی آرکیٹکٹ اور ٹھیکیدار اس کا پہلے سے وہاں انتظار کررہے تھے ۔

احمرگاڑی سے اترا سب نے گرم جوشی سے اسکا استقبال کیا سب نے باری باری اپنا تعارف کرایا میرا نام آصف ہے اور اس جگہ کا نقشہ میں نے تیار کیا ہے اور یہ ہمارے ٹھیکیدار صاحب ہیں چوہدری فاروق صاحب ایک موٹے آدمی کی طرف اشارہ کیا جس نے سفید کلف لگا سوٹ پہنا ہوا تھا اور یہ فارسٹ آفیسر سلمان صاحب ایک خوش شکل اور وجیہہ پچیس چھبیس سالہ نوجوان کی طرف اشارہ کیا یہ ہم۔پر نظر رکھیں گے کہ کہیں ہم جنگل کے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے اس بات سے سب قہقہہ لگا کر۔ہنسے
نہیں ایسی کو ئی بات نہیں ہے میں۔بس اس لیے یہاں ہوں کہ۔آپ قانون کے دایرے میں راہ کر درخت کاٹیں بے مقصد درخت نہ کاٹے جائیں اپنے سر سے ٹوپی اتارتے ہوے اس نے کہا ۔۔
آپ۔بے فکر رہیں یہاں کوئی بھی کام۔غیر قانونی نہیں ہوگا احمر نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوے مسکرا کر کہا کہا۔۔۔
یہ جگہ پہاڑی جنگلات سے متصل تھی وہاں بہت بڑے بڑے اور گھنے قداور درخت تھے جنہیں کاٹ کر فیکٹری بنا تھی ۔۔
میں ایک بار جگہ کا معائنہ کرنا چاہتا ہوں احمر نے آرکیٹک آصف سے کہا
جی کیوں نہیں آیے وہ۔احمر کو اپنی جیپ میں بیٹھا کر جنگل کے اندرونی حصے میں لے آیا اوبڑ کھابڑ راستوں پر جیپ دوڑتی آگے بڑھتی جارہی تھی ایک جگہ احمر نے جیپ روکنے کو کہا ۔۔
کیا ہوا سر آصف نے احمر سے پوچھا
یہ باقیات کس چیز کی ہیں ایک عمارت کا کھنڈر جس کے بنیادیں ہیں باقی راہ گئی تھی اس کے اوپر ایک بہت بڑا دیو ہیکل جنگلی پیپل اُگا ہوا تھا اسکی جڑیں کھنڈر کےملبے پر ایسے پھیلی ہوئی تھیں جڑوں نے بنیادوں کو مظبوطی سے ایسے پکڑا ہوا تھا کہ کہیں وہ بکھر ہی نہ جائیں
پتہ نہیں۔سر یہ تو مقامی لوگ۔ہی بتا سکتے ہیں اس حصے میں بھی آج پہلی بار آیا ہوں آصف نے گردن اٹھا کر پیپل کی اٹھان کو دیکھتے ہوے کہا احمر کو لگا اسے کوئی دیکھ رہا ہے وہ جب سے یہاں آیا ہے کیسی کی نظروں کے مسلسل حصار میں ہے نظروں کی تپش اپنے اپر محسوس کر رہا تھا۔

پر کوں یہاں ایسے دور دور تک کوئی زی روح نظر نہیں آرہا تھا احمر۔تھوڑا آگے گیا وہ گھوم پھر کر اس جگہ کو دیکھنا چاہتا تھا کوئی چیز احمر کے پیروں سے ٹکرائی اس نے جھک کر دیکھا وہ بہت پرانااور پیاراصلیبی کراس تھا جیسے احمر نے اٹھا کر جیب میں رکھ لیا اور پیپل کے تنے کو دیکھنے لگا وہ کوئی ساٹھ ستر سال پرانا درخت لگتا تھا جس کا پھیلاو بہت زیادہ تھا۔ مجھے لگتا ہمیں چلنا چاہیے بہت دیر ہورہی ہے اور اندھیرا بھی بڑھ رہا ہے۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2023/11/khofnak-aahat-part-1.html

15/06/2026

ان لوگوں نے چائے میں نشہ ملا دیا تھا، جس کی وجہ سے چند منٹ میں فہد بے ہوش ہو گئے اور ان ظالموں نے طلاق کے کاغذات پر ان کے انگوٹھے لگوا لیے۔ جب ہوش آیا تو ان لوگوں نے یہ کہہ کر انہیں گھر سے نکال دیا کہ “تم نشہ کرتے ہو اور ہم نشئیوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے۔” فہد نے حیرت سے پوچھا کہ “تم لوگ ایسا کیوں کر رہے ہو؟” تو جواب ملا: “تم نے ہماری بہن کو طلاق دے دی ہے، اب تمہارا ہم سے کوئی رشتہ نہیں رہا، لہذا ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔” یہ سن کر فہد کے ہوش اڑ گئے
👇👇
فہد خان میرے والد کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کے والدین فوت ہو چکے تھے، ان دنوں یہ بہن بھائی چھوٹے تھے اور زمانے کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ جوں توں پل کر جوان ہوئے تو یہ تینوں بھائی اپنی بہن لالہ رخ سے بہت پیار کرنے لگے۔ بڑی مشکلوں سے رقم جمع کر کے انہوں نے اپنی اکلوتی بہن کی شادی کی۔ جس شخص سے لالہ رخ کی شادی ہوئی اس کا نام احمر تھا اور وہ ایک بڑھئی کی دکان پر لکڑی کا کام کرتا تھا۔

احمر نے ابتدا میں لالہ رخ کے ساتھ اچھا رویہ رکھا۔ شادی کے بعد اس کے کام میں بھی روز بہ روز ترقی ہوتی گئی اور گھر میں خوش حالی آگئی۔ تین بچے ہوئے اور یہ کنبہ سکھ چین سے زندگی بسر کرنے لگا۔ لالہ رخ بہت صابر لڑکی تھی اور شوہر اس سے خوش تھا، پھر نہ جانے ان کی خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی کہ احمر ایک دوست کی وجہ سے غلط راہ پر چل پڑا اور ایک غیر عورت کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔ لالہ رخ اس بات سے بے خبر تھی، تاہم وہ شوہر کے بدلتے رویے پر حیران ضرور تھی۔ رفتہ رفتہ وہ بیوی بچوں سے غافل ہوتا گیا۔ لالہ رخ نے سمجھا کہ شاید اپنی دکان اور ملازم رکھنے کی وجہ سے کام بڑھ گیا ہے، اسی لیے احمر پریشان رہتا ہے اور ہم پر توجہ نہیں دے پاتا۔ جب کافی عرصے تک یہی سلسلہ رہا اور اس کا رویہ مزید خراب ہو گیا، تو اس سے خاموش نہ رہا گیا اور وہ روز پوچھنے لگی کہ “آپ کیوں اس قدر الجھے اور پریشان رہتے ہیں؟ حالانکہ ہمارے پاس سب کچھ ہے۔”

بیوی کا سوال سن کر وہ خاموش رہ جاتا، بالآخر ایک دن اسے غصہ آگیا، وہ آپے سے باہر ہو گیا اور نہ جانے کیا کیا بکنے لگا۔ لالہ رخ بے چاری سہمی ہوئی شوہر کی صورت تکتی رہی کہ آخر اسے ہوا کیا ہے؟ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ احمر رات کو دیر سے گھر آتا اور وہ دیر تک اس کے انتظار میں جاگتی رہتی، پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے گھر آنا ہی چھوڑ دیا۔ کئی کئی دن اور راتیں گزر جاتیں، انتظار میں اس کا دم گھٹتا رہتا۔ یوں ہی کڑھتے ہوئے وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ ایک بار وہ ہفتے بعد گھر آیا تو لالہ رخ نے پوچھا: “کیا معاملہ ہے؟ تم کہاں جاتے ہو اور یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ اگر نہیں بتاؤ گے تو میں بڑے بھائی سے کہہ دوں گی کہ وہی تم سے پوچھیں۔” یہ سن کر احمر نے اسے خوب مارا پیٹا اور گھر سے نکال دیا کہ جاؤ اور اپنے بڑے بھائی کے گھر رہو۔ وہ روتی پیٹتی بھائیوں کے پاس چلی گئی۔ بھائیوں نے فریاد سنی اور کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ احمر نے دوسری شادی کر لی ہے۔ یہ خبر سن کر وہ بہت روئی۔ بڑے بھائی فہد خان کو اپنی اس اکلوتی بہن سے بے حد محبت تھی۔ وہ بہنوئی کے پاس گئے اور بہت سمجھایا کہ تمہارے بچے برباد ہو جائیں گے، مگر وہ نہ مانا۔ اگر صرف بہن کی بات ہوتی تو فہد خاموش ہو جاتے، مگر اب تین بھانجیوں کا مستقبل بھی داؤ پر تھا۔ وہ اتنے خوش حال نہ تھے کہ چار افراد کے کنبے کا بوجھ اٹھا سکتے، اور اگر اٹھا بھی لیتے تب بھی بہن کا گھر اجڑتے دیکھنا آسان نہ تھا، کیونکہ بچوں کو ہر حال میں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بہنوئی کی اس قدر منت سماجت کی کہ وہ بچوں کی خاطر اپنی پہلی بیوی کو رکھنے پر راضی ہو گیا، لیکن اس نے یہ شرط رکھی کہ “جس عورت سے میں نے دوسری شادی کی ہے، اگر وہ خود طلاق لینا چاہے تو میں دے دوں گا۔”

اس دوسری عورت کا نام رشیدہ تھا۔ مجبوراً فہد کو بہن کی خاطر رشیدہ کے پاس جانا پڑا۔ فہد نے اس کی خوشامد کی اور واسطے دیے کہ “تمہاری اولاد نہیں ہے، مگر میری بہن کے تین چھوٹے بچے برباد ہو جائیں گے۔ تم احمر سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔” اس پر وہ بولی: “اگر تم اتنے ہی مجبور ہو کر آئے ہو تو میری بھی ایک شرط ہے۔ مجھے سہارے کی ضرورت تھی، تمہارے بہنوئی نے خداترسی کر کے مجھ سے نکاح کیا اور سہارا دیا۔ اگر تم مجھ سے شادی کر لو اور مجھے رہنے کو چھت مل جائے تو میں اسے طلاق دے دیتی ہوں۔” فہد خان بہن کا گھر بچانے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تھے، اس لیے بغیر سوچے سمجھے راضی ہو گئے۔ رشیدہ کو بھی یہ شخص احمر سے بہتر لگا، چنانچہ اس نے احمر سے طلاق لے کر فہد سے شادی کر لی۔ ایسا کرنے سے بہن کا گھر تو بچ گیا لیکن فہد خود نہ بچ سکے۔ وہ جس گھر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتے تھے وہ بہت چھوٹا تھا، اس لیے انہوں نے قریب ہی ایک مکان کرایے پر لیا اور رشیدہ کو وہاں لے آئے۔ وہ بھی فرنیچر کا کام کرتے تھے اور سخی ہونے کی وجہ سے ان کی ساکھ اچھی تھی۔

انہوں نے رشیدہ کو بہت عزت اور محبت سے رکھا اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس کا خیال رکھا۔ وہ اسے کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہونے دیتے تھے، حالانکہ وہ ایک بدزبان اور بداخلاق عورت تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جاتی اور بازاری گالیاں دیتی تھی۔ فہد اس لیے درگزر کر دیتے تھے تاکہ گھر کا سکون برباد نہ ہو، اور وہ کچھ دیر بول کر خود ہی خاموش ہو جاتی تھی۔ خدا جانے وہ عورت ہر وقت غصے میں کیوں رہتی تھی؟ وہ فہد کو شوہر کا درجہ دیتی تھی نہ دل سے ان کی عزت کرتی تھی۔ وقت گزرنے لگا اور تین سال بعد اللہ نے فہد کو بیٹے سے نوازا، جس پر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ بیٹے کا منہ چومتے نہ تھکتے اور دیوانوں کی طرح اس پر جان چھڑکتے تھے۔

بیٹے کا نام جلال رکھا گیا۔ فہد کے بھائی بھی جلال سے بہت محبت کرتے تھے اور ہر دوسرے تیسرے دن اسے دیکھنے آتے، لیکن رشیدہ کو ان کا آنا ناگوار گزرتا تھا۔ فہد کے بھائیوں کو اس بات کا احساس تھا، وہ رشیدہ کو ناپسند کرتے تھے لیکن بھائی اور بھتیجے کی خاطر چلے آتے تھے۔ یہ بچہ ان کے خاندان کا پہلا لڑکا تھا کیونکہ باقی سب بھائیوں کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، اس لیے وہ سب جلال پر جان دیتے تھے۔ ایک دن رشیدہ بازار گئی ہوئی تھی اور فہد گھر پر تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ (مکمل ناول کے لیے دیا ہوا لنک اوپن کر لیا کریں۔ شکریہ)
👇👇
https://sublimegate.blogspot.com/2026/06/chalbaz-biwi.html

Address

Chishtian Mandi

Telephone

+923006986459

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Nadeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kashif Nadeem:

Share