23/05/2026
چترال (رپورٹ:حذیفہ کاکاخیل)
ارضِ چترال کی تاریخی اور عظیم الشان شاہی مسجد چترال میں آج بروز ہفتہ ایک انتہائی سادہ، پروقار اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو نوجوان طالب علم محمد فیضان کی جانب سے مختصر ترین مدت میں حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے اعزاز میں سجائی گئی تھی۔ اس پررونق اور ایمانی ماحول سے لبریز محفل میں چترال کی جید علمی، دینی اور سماجی شخصیات نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
اس مبارک محفل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ حفظِ قرآن کی سعادت پانے والے خوش نصیب طالب علم محمد فیضان، شاہی مسجد چترال کے قدیم، مایہ ناز اور ہردل عزیز استاذ مرحوم قاری شعیب احمد صاحب کے بھتیجے ہیں۔ قاری شعیب احمد صاحب مرحوم کی دینی خدمات کو چترال میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور ان کے بھتیجے کا یہ اعزاز یقیناً ان کے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا علمی و روحانی اثاثہ ہے۔
تقریب میں علم و حکمت کے چراغوں نے شرکت کی، جن میں دارالعلوم چترال کے معزز اساتذہ کرام اور چترال کے نامور و معروف معالج ڈاکٹر گلزار احمد صاحب نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ علاقے کی دیگر کئی اہم اور معزز سماجی و علمی شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
تقریب کا سب سے رقت آمیز اور خوبصورت لمحہ وہ تھا جب طالب علم محمد فیضان نے کلامِ الٰہی کا اپنا آخری سبق خطیب شاہی مسجد چترال و صدر دارالعلوم چترال کی خدمت میں پیش کیا۔ جب مسجد کے در و دیوار معصوم آواز میں تلاوتِ قرآن سے گونج اٹھے تو حاضرینِ مجلس کے دل اللہ کی حمد و ثنا سے بھر گئے۔
اس موقع پر خطیبِ محترم اور صدر دارالعلوم چترال نے قرآن مجید کی عظمت، اس کی تلاوت اور اسے سینے میں محفوظ کرنے والے حفاظِ کرام کے بلند مرتبے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہدایت کا سرچشمہ ہے اور جو بچہ اسے حفظ کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے والدین اور پورے معاشرے کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔
صدر دارالعلوم چترال نے مختصر مدت میں یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے پر حافظ محمد فیضان، ان کے والدین اور ان کے جملہ خاندان کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔ یہ خوبصورت اور روح پرور تقریب اپنے روایتی حسن کے ساتھ، امتِ مسلمہ کی سربلندی، ملک و ملت کی سلامتی اور بالخصوص چترال کی امن و ترقی کے لیے مانگی جانے والی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔