Chitral News Plus CNP

Chitral News Plus CNP news update

چترال (رپورٹ:حذیفہ کاکاخیل)ارضِ چترال کی تاریخی اور عظیم الشان شاہی مسجد چترال میں آج بروز ہفتہ ایک انتہائی سادہ، پروقار...
23/05/2026

چترال (رپورٹ:حذیفہ کاکاخیل)
ارضِ چترال کی تاریخی اور عظیم الشان شاہی مسجد چترال میں آج بروز ہفتہ ایک انتہائی سادہ، پروقار اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو نوجوان طالب علم محمد فیضان کی جانب سے مختصر ترین مدت میں حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے اعزاز میں سجائی گئی تھی۔ اس پررونق اور ایمانی ماحول سے لبریز محفل میں چترال کی جید علمی، دینی اور سماجی شخصیات نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

اس مبارک محفل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ حفظِ قرآن کی سعادت پانے والے خوش نصیب طالب علم محمد فیضان، شاہی مسجد چترال کے قدیم، مایہ ناز اور ہردل عزیز استاذ مرحوم قاری شعیب احمد صاحب کے بھتیجے ہیں۔ قاری شعیب احمد صاحب مرحوم کی دینی خدمات کو چترال میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور ان کے بھتیجے کا یہ اعزاز یقیناً ان کے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا علمی و روحانی اثاثہ ہے۔

تقریب میں علم و حکمت کے چراغوں نے شرکت کی، جن میں دارالعلوم چترال کے معزز اساتذہ کرام اور چترال کے نامور و معروف معالج ڈاکٹر گلزار احمد صاحب نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ علاقے کی دیگر کئی اہم اور معزز سماجی و علمی شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

تقریب کا سب سے رقت آمیز اور خوبصورت لمحہ وہ تھا جب طالب علم محمد فیضان نے کلامِ الٰہی کا اپنا آخری سبق خطیب شاہی مسجد چترال و صدر دارالعلوم چترال کی خدمت میں پیش کیا۔ جب مسجد کے در و دیوار معصوم آواز میں تلاوتِ قرآن سے گونج اٹھے تو حاضرینِ مجلس کے دل اللہ کی حمد و ثنا سے بھر گئے۔

اس موقع پر خطیبِ محترم اور صدر دارالعلوم چترال نے قرآن مجید کی عظمت، اس کی تلاوت اور اسے سینے میں محفوظ کرنے والے حفاظِ کرام کے بلند مرتبے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہدایت کا سرچشمہ ہے اور جو بچہ اسے حفظ کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے والدین اور پورے معاشرے کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔

صدر دارالعلوم چترال نے مختصر مدت میں یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے پر حافظ محمد فیضان، ان کے والدین اور ان کے جملہ خاندان کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔ یہ خوبصورت اور روح پرور تقریب اپنے روایتی حسن کے ساتھ، امتِ مسلمہ کی سربلندی، ملک و ملت کی سلامتی اور بالخصوص چترال کی امن و ترقی کے لیے مانگی جانے والی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

ملک میں گولی و گالی کی سیاست عام، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں  حافظ نعیم الرحمنہرشعبہ...
16/05/2026

ملک میں گولی و گالی کی سیاست عام، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں حافظ نعیم الرحمن

ہرشعبہ میں کرپشن و اقربا پروری کا راج ہے، تعلیم غریب کی دسترس سے دور ہوگئی

نوجوان مایوس نہ ہوں، اعتماد، اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا چترال میں بنوقابل تقریب سے خطاب

چترال : 16 مئی 2026ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہنگی اور طبقاتی ، ہر شعبہ میں کرپشن اقربا پروری کا راج ہے ، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں، بنو قابل گیم چینجر (Game Changer) بن گیا، مفت آئی ٹی تعلیم کی فراہمی کے الخدمت پاکستان کے اس پروگرام میں اب تک چودہ لاکھ پچاس ہزار بچے رجسٹرڈ ہوچکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال میں بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، سیکرٹری جنرل الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان وقاص انجم جعفری اور امیر ضلع وجہیہ الدین نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ مغفرت شاہ، عبدالحق ، بنو قابل کے چیف ایگزیکٹو شاہد اقبال ، عمیر ادریس اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام مفت آئی ٹی تربیت میں داخلہ کی تقریب میں ہزاروں طلبا و طالبات نے امتحان دیا۔ امتحان پاس کرنے والوں کو مختلف دورانیے کے پروگرامات میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ بنو قابل کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس میں آئی ٹی کے علاوہ ٹیکنیکل کورسز (Technical Courses) کو بھی شامل کردیا گیا ہے، ملک میں ہزاروں کی تعداد میں آئی ٹی لیبارٹریز (IT Labs) تیار ہوچکی ہیں، بنو قابل کو مزید وسیع کرتے ہوئے اسے زی کنیکٹ (Z-Connect) کا نام دے دیا گیا ہے اور اس پروگرام میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، نوجوان اپنے دین سے رشتہ مضبوط کریں، پاکستان عظیم قربانیوں سے وجود میں آیا، نئی نسل ملک سے مایوس نہ ہو بلکہ اعتماد سے متحد ہوکر آگے بڑھے۔ نوجوان دین اور جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی خدمت کریں اور جماعت اسلامی کی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جہاں ایک طرف حکومت پر نوجوان نسل کو معیاری اور مفت تعلیم فراہمی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے وہیں ہم اپنے حصہ کا چراغ بھی جلا رہے ہیں، قوم کو مایوسی اور اندھیروں کی دلدل سے نکالیں گے، نوجوانوں کی مدد سے انقلاب برپا کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام جس مقصد کے تحت عمل میں آیا بدقسمتی سے وہ مقاصد اناسی برس گزرنے کے باوجود بھی حاصل نہیں ہوئے، اشرافیہ ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ہیں، افسر شاہی کا راج ہے، عوام کو انصاف نہیں ملتا، غریب کے بچے کی تعلیم تک دسترس نہیں ، ظلم کا نظام قائم ہے، عوام اور خصوصی طور پر ملک کے نوجوان اپنے حق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کریں اور موجودہ فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ انہوں نے چترال کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، حکمران پارٹیاں ایک ہی قسم کی ہیں، کوئی بھی عوام کو حق دینے کے لیے تیار نہیں، جماعت اسلامی پرامن مزاحمت سے قوم کو اس کا حق دلائے گی۔

چترال(محمدرحیم بیگ سے) ہسپتال منیجمنٹ کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت ایم۔ایس۔ڈاکٹر فیاض علی رومی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لویر...
13/05/2026

چترال(محمدرحیم بیگ سے) ہسپتال منیجمنٹ کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت ایم۔ایس۔ڈاکٹر فیاض علی رومی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لویر چترال منعقد ھوئی۔ڈی۔ایم۔ایس۔ڈاکٹر اسرارالدین،اور کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گیے ایجنڈے پر عملدرآمد ہسپتال کے مختلف شعبہ جات میں فراہم کردہ سہولیات سے شرکا کو آگاہ کیا گیا۔ایم۔ایس۔نے بتایا کہ کہ عنقریب سی۔سی۔یو۔ یونٹ کا افتتاح کیا جائے گا۔یونٹ میں تمام ضروری مشینری کی تنصب کا عمل مکمل ھوگئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈائیلائسیس یونٹ میں ضرورت کے مطابق اسٹاف تعینات کردئیے ہیں۔ایم۔ایس۔نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لوئر چترال دو اضلاع کو سروس فراہم کرتاھے جس سے ہسپال پر کافی بوجھ پڑتا ھے۔جبکہ ہسپتال میں اسٹاف کی کمی ھے۔کمیٹی اراکین نے ڈیلی ویجز اسٹاف کی بھرتی،لیب کیمیکل کی خریداری،ڈاکٹر کالونی کو پینے کے صاف پانی کی فراہی،زچہ وبچہ ہسپتال میں دھوبی گھاٹ کی تعمیر اور ڈاکٹروں کی ڈیوٹی روم کی مرمت کی منظوری دی۔ کمیٹی ممبران نے مریضوں کو فراہم کی گئی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہسپتال انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔

چترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازیچترال (محمدرحیم بیگ سے) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الا...
12/05/2026

چترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی

چترال (محمدرحیم بیگ سے) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) چترال کے زیر اہتمام ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
جلسے سے گرینڈ الائنس کے ضلعی صدر ضیاء الرحمن، صوبائی رہنما خیر اللہ حواری، وقار احمد، مولانا محمد قاسم، محمد اشرف، سلیم عباس، نثار احمد، سعود آزاد اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں سرکاری ملازمین شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکومتی پالیسیوں نے ملازمین میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ملازمین نے مطالبہ کیا کہ نئی پینشن اصلاحات واپس لے کر پرانا پینشن سسٹم بحال کیا جائے، اسکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کا عمل فوری روکا جائے، تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے۔ علاوہ ازیں ملازمین کی اپ گریڈیشن سے متعلق رکے ہوئے نوٹیفیکیشنز فوری جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
مظاہرین نے بعد ازاں چترال پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، جہاں شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔

تحریر:امتیاز احمد۔.                                                  فطرت کے مہمان اور ہماری ذمہ داری.چترال فطرت کا وہ ح...
11/05/2026

تحریر:امتیاز احمد۔. فطرت کے مہمان اور ہماری ذمہ داری.
چترال فطرت کا وہ حسین خطہ ہے جہاں پہاڑ، دریا اور وادیاں ایک مکمل ماحولیاتی توازن کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی نظام کا ایک نہایت اہم اور خوبصورت حصہ وہ پرندے ہیں جو ہر سال ہزاروں میل کا سفر طے کرکے یہاں آتے ہیں۔
یہ پرندے وسطی ایشیا اور سائبیریا کے سخت سرد علاقوں سے ہجرت کرکے چترال کی نسبتاً معتدل وادیوں کو ایک عارضی آرام گاہ بناتے ہیں۔ چترال چونکہ مرکزی فلائی وے پر ایک نسبتاً چھوٹا مگر نہایت اہم مختصر قیام کا مقام ہے، اس لیے ہر سیزن میں یہاں ہزاروں سے لے کر لاکھوں تک پرندے مختصر یا درمیانی قیام کرتے ہیں۔ وہ یہاں کچھ دیر آرام کرتے ہیں، خوراک حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے طویل سفر کی طرف آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ان میں کونج، راج ہنس، جنگلی بطخیں، لق لق، شاہین اور چیلیں شامل ہیں۔ ان کی موجودگی صرف وادی کے حسن میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ یہاں کا ماحول ابھی تک کسی حد تک زندہ اور متوازن ہے۔
موسمِ بہار میں جب وادیاں سبز لباس پہن لیتی ہیں تو چھوٹے پرندوں کی چہچہاہٹ ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ فاختہ اور دیگر مقامی پرندے دیہی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ کھیتوں، دریا کناروں اور درختوں کے درمیان تیزی سے اڑتے چھوٹے پرندے فطرت کو ایک مسلسل حرکت اور زندگی دیتے ہیں۔
اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ پرندے ہمارے “مہمان” ہیں۔ ہر سال آتے ہیں، کچھ وقت گزارتے ہیں اور خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ان مہمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟
بدقسمتی سے شکار اور ماحولیاتی دباؤ نے ان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ جدید طریقوں اور بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کی وجہ سے ان پرندوں کے لیے محفوظ جگہیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔
حالانکہ یہ پرندے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ کیڑوں کو قابو میں رکھتے ہیں، بیجوں کی ترسیل میں مدد دیتے ہیں اور قدرتی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کی کمی پورے ماحول، زراعت اور حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ پرندے ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے مہمان ہیں۔ اور مہمانوں کے ساتھ احترام، حفاظت اور ذمہ داری کا رویہ ہی تہذیب کی پہچان ہوتا ہے۔
چترال کی اصل شناخت اس کے پہاڑ، دریا اور یہ پرندے ہیں۔ اگر یہ محفوظ رہے تو زندگی بھی متوازن رہے گی، اور اگر ہم نے انہیں کھو دیا تو ہم صرف پرندے نہیں بلکہ اپنے ماحول کا ایک قیمتی حصہ کھو بیٹھیں گے۔

چترال (اسٹاف رپورٹر)لوئر چترال پولیس نے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادیضلعی انتظامیہ ک...
09/05/2026

چترال (اسٹاف رپورٹر)لوئر چترال پولیس نے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عیدالاضحی کے موقع پر لوئر چترال سے مال مویشی دوسرے اضلاع منتقل کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کے خصوصی احکامات کی روشنی میں لواری ٹنل پر ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مال مویشیوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکا جاسکے۔
انچارج چوکی لواری ٹنل PASi نثار احمد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دوران ڈیوٹی کارروائی کرتے ہوئے لوئر چترال سے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔
ملزم ساجد علی خان سکنہ چکیاتن دیر اپر کو گرفتار کرکے ملزم کے خلاف تھانہ عشریت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج رجسٹر ہوکر مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

غزالہ انجم صاحبہ کا دورہ لٹکوہ۔چترال(رپورٹ:یوسف زیب) ایم این اے غزالہ انجم صاحبہ نے ہز ہائی نس پرنس آغا خان کے متوقع دور...
09/05/2026

غزالہ انجم صاحبہ کا دورہ لٹکوہ۔

چترال(رپورٹ:یوسف زیب) ایم این اے غزالہ انجم
صاحبہ نے ہز ہائی نس پرنس آغا خان کے متوقع دورۂ چترال کے سلسلے میں لٹکوہ، دروشپ کے دیدار گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر لٹکوہ جاتے ہوئے راستے کی خستہ حالی کا بھی نوٹس لیا۔
انہوں نے اسماعیلی کونسل کے عمائدین اور صدور صاحبان سے تفصیلی گفتگو کی، جبکہ بڑی تعداد میں زائرین کی متوقع آمد کے پیشِ نظر تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی لی۔ ایم این اے صاحبہ نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زائرین کو سہولیات کی فراہمی، ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل اور سڑکوں کی ہمواری کے لیے این ایچ اے حکام اور این ایچ اے نارتھ سے براہِ راست رابطہ کرنے اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے اسماعیلی کمیونٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور پرنس کریم آغا خان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر لٹکوہ روڈ کے حوالے سے اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئےک یقین دہانی کرائی کہ ان شاء اللہ آئندہ پانچ سالوں میں لٹکوہ روڈ کو گرم چشمہ تک ترقیاتی اسکیم میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ کے رہنما کوثر ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے، جنہوں نے چترال، خصوصاً لٹکوہ کے لیے پارٹی کی خدمات کا تذکرہ کیا اور سڑک کے مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
آخر میں لٹکوہ کے عمائدین نے ایم این اے صاحبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔

آزاد اور خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے_مہر عبدالمتینلاہور(سٹاف رپورٹر)یومِ صح...
03/05/2026

آزاد اور خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے_مہر عبدالمتین

لاہور(سٹاف رپورٹر)یومِ صحافت کے موقع پر چیئرمین اتحاد پریس کلب® مہر عبدالمتین نے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور آزاد و خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافیوں کو پیش آنے والے خطرات اور آزادیِ صحافت پر بڑھتے ہوئے حملے نہایت تشویشناک ہیں، جو نہ صرف صحافی برادری بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔
مہر عبدالمتین نے کہا کہ صحافی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام تک سچائی پہنچاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں دھمکیوں، تشدد، جھوٹے مقدمات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف بغیر مکمل تحقیقات مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جس سے یقیناً صحافیوں کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل آزادیِ صحافت کے منافی ہے اور اس سے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ حق و سچ لکھنے والے صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل ایک بااختیار تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے، جو معاملات کا گہرائی سے جائزہ لے اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یومِ صحافت ہمیں اس عہد کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ ہم صحافت کے اصولوں، سچائی اور دیانتداری پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین بنائے جائیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔آخر میں چیئرمین اتحاد پریس کلب® مہر عبدالمتین نے تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور اتحاد پریس کلب® ہمیشہ صحافیوں کے حقوق، تحفظ اور آزادیِ صحافت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

موضوع! ہراسمنٹ عیاشی یا تربیت کی کمی              تحریر! شہاب ثنا لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے مرد نہیں، بھیڑیے ہیںمعاشرہ ...
27/04/2026

موضوع! ہراسمنٹ عیاشی یا تربیت کی کمی
تحریر! شہاب ثنا

لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے مرد نہیں، بھیڑیے ہیں
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے، اور انسانیت کی بنیاد احترام، عزت اور احساسِ ذمہ داری پر ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ کچھ لوگ اپنی حرکات سے نہ صرف اپنی ذات کو بلکہ پورے معاشرے کو شرمندہ کر دیتے ہیں۔ جو لوگ لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں، وہ خود کو مرد کہلانے کے لائق نہیں ہوتے، کیونکہ مردانگی کا تعلق طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔ایک حقیقی مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کی عزت کرے، اسے تحفظ دے اور اس کے وقار کا خیال رکھے۔ لیکن جو شخص کسی لڑکی کو تنگ کرتا ہے، اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے یا اسے خوفزدہ کرتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے خطرہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی سوچ بیمار اور رویہ درندگی پر مبنی ہوتا ہے۔
ای انوس نیویس گینیان گانی نمازگارو ٹائم پھوپھوکان گورزینی بستام اچی گیاوا شام بیتی اوشوئی چھاؤنیو سیرا گیکو ای برار موبائلا ای ژورو ای ہاش دھمکی دویاں کی اسپہ دی رونزیتام اسیتانی چیچیقان ۔ ہے برار ہتے ژورو تین ران کی تیز تان نوغ واٹس ایپ نمبرو متین دیت کی نو پراو اوا ہایا سیرا اسوم یا تان سورو اوغو دریم یا تا کال ریکارڈنگ اور میسجز سوشل میڈیا پھائے لاکوم دوسانا نو تیز دیت ورنہ ۔۔ ای وحشی درندہ غیریستائے۔کھوارا نیوشیکو مقصد ہایا کی اسپہ چترالیاں شوم نظریں لاڑینیان اسپہ بدنام بیتی سوسی مزید بدنام نو بام ۔اور ہایا ای انوسو واقعہ نو ہایا ہمیشہ بویاں اسپہ مہذب چترالی ہانی شوم کیچہ ہوتام کی ہانوں ای عورتو عزتو ہوش نو کوکو باش ۔
لڑکیوں کو ہراساں کرنا کبھی بھی مردانگی کی علامت نہیں رہا، بلکہ یہ انسان کے اندر چھپی ہوئی کمزوری، عدم تربیت اور اخلاقی پستی کا عکاس ہے۔ حقیقی مرد وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، اپنے رویّے اور اپنی سوچ سے دوسروں کو تحفظ اور عزت کا احساس دے، نہ کہ خوف اور اذیت کا۔۔لہٰذا، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کو ہراساں کرنا بہادری نہیں، بلکہ اخلاقی شکست ہے۔ ایک سچا مرد وہی ہے جو عورت کو تحفظ، عزت اور وقار دے—کیونکہ عزت دینے والا ہی درحقیقت عزت پانے کا حقدار ہوتا ہے۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو درست کریں۔ مرد اپنی نگاہ اور نیت کو پاکیزہ بنائیں، اور عورت اپنی عزت و وقار کو اپنی پہچان بنائے۔ اپنی ماں باپ کی عزت کو اپنا ڈھال بنائے ایرے غیرے سے بات کرکے اپنے آپ کو تماشا مت بنائیں کہ بات سوشل میڈیا یا خودکشی تک جا پہنچے ۔۔جب دونوں اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے، تبھی ایک مہذب، محفوظ اور باعزت معاشرہ وجود میں آئے گا، جہاں نہ ہراسانی ہوگی اور نہ اس کا کوئی جواز۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہراسانی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ جب تک ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے، تب تک یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بیٹوں کی تربیت میں احترامِ نسواں کو بنیادی حیثیت دیں، تعلیمی اداروں کو آگاہی پھیلانی چاہیے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے عملدرآمد کروانا چاہیے۔اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں، خاموشی توڑیں اور ہر اس عمل کے خلاف کھڑے ہوں جو کسی کی عزت کو مجروح کرتا ہو۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت خود کو محفوظ محسوس کرے، اور جہاں مرد اپنی مردانگی کو عزت، برداشت اور اخلاق سے ثابت کریں، نہ کہ ظلم اور ہراسانی سے۔۔۔
خوش رہیں اختلاف کی اجازت ہے ۔۔
شہاب ثنا ۔۔

چترال(محمدرحیم بیگ سے)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چترال کے سینئر رہنما اور وی سی سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہ می...
24/04/2026

چترال(محمدرحیم بیگ سے)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چترال کے سینئر رہنما اور وی سی سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہ میر نے چترال کی اہم شاہراہوں، بالخصوص چترال-مستوج روڈ کی انتہائی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاحت، معیشت اور عوامی زندگی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
چترال پریس کلب میں چترال یونیورسٹی کے طلباء کے نمائندہ وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خراب حالت نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں بلکہ تعلیمی و معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اس موقع پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف)، اسلامی جمعیت طلبہ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
امین الرحمن شاہ میر نے خصوصاً یونیورسٹی روڈ کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس مسئلے پر وہ طویل عرصے سے اپنی مدد آپ کے تحت آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ ویلی کی زرعی پیداوار بروقت منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ مریضوں، طلباء اور عام شہریوں کو بھی آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خستہ حال سڑکیں مستقبل میں سی پیک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ممکنہ تجارتی روابط کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی چترال مہتر فاتح الملک کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر چترال سے ملاقات کے بعد یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متعلقہ سڑک پر اتوار سے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے اپنی احتجاجی تحریک اتوار تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے چیو پل کے قریب یونیورسٹی طلباء کے لیے انتظار گاہ تعمیر کرنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکام کا شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ اگر اتوار کو کام کا آغاز نہ ہوا تو چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
امین الرحمن شاہ میر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ سیاحتی سیزن کے آغاز اور شندور فیسٹیول کی آمد کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر نہ صرف سیاحت متاثر ہوگی بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Address

Chitral

Telephone

+923449449288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral News Plus CNP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitral News Plus CNP:

Share