07/01/2026
موضوع ! خون سے لیکر سہارے تک ایک امید ایک مثال
تحریر! شہاب ثنا
یتیم بچوں کا خیال رکھنے والا انھیں سیر و تفریح کروانے سے لیکر انسانیت کیلئے خون جمع کرکے جان بچانے والا ، معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے والا ، بھوکوں کو نوالہ اور مظلوموں کی آواز بننے والا سماجی کارکن
دراصل انسانیت کی خدمت کی زندہ مثال ہوتا ہے۔
اس معاشرے میں جہاں بہت سے بچے اپنوں کی شفقت سے محروم ہیں، وہیں کچھ فرشتہ صفت انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان یتیم بچوں کے لیے ماں باپ کا سایہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سماجی کارکن ہے جو سمیع الدین رئیس کے نام سے جانا جاتا ہے یہ نوجوان دن رات خون کے عطیات سے لیکر غریبوں کی علاج معالج تک زندگی اور موت کےدرمیان کھڑی ایک امید کی شمع بن کر جلتا رہتا ہےیقیناً اس معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو شہرت، دولت یا تعریف کے خواہاں نہیں ہوتے، بلکہ انسانیت کی خدمت کو ہی اپنا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ خون کے عطیات جمع کرنے سے لیکر تابوت فراہم کرنے تک سمیع بھائی بھی ایسا ہی ایک خاموش ہیرو ہے جو زندگی اور موت کے درمیان کھڑی امید کی شمع بن کر جلتا رہتا ہے۔
یہ سماجی کارکن دن ہو یا رات، خوشی ہو یا غم، ہر وقت ایک فون کال کا منتظر رہتا ہے۔ کسی حادثے میں زخمی انسان ہو، کسی ماں کی زچگی کا نازک لمحہ ہو یا کسی بچے کی جان خطرے میں ہو — یہ کارکن فوراً حرکت میں آ جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو خون عطیہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے، ان کے خوف دور کرتا ہے اور انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے چند قطرے کسی کی پوری زندگی بن سکتے ہیں۔
خون کے عطیات جمع کرنے والا سماجی کارکن صرف خون نہیں جمع کرتا، بلکہ وہ لوگوں کے دلوں میں ہمدردی، احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کا جذبہ بھی بیدار کرتا ہے۔ یقیناً ایسے سماجی کارکن ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں۔۔۔اس جوان کی ایک ہی خواہش ہے کہ انسانیت خوش رہیں ۔۔یہ جوان یتیم بچوں کو صرف سہارا ہی نہیں دیتا بلکہ انہیں خوشیوں سے بھرپور زندگی کا احساس بھی دلاتا ہے۔
یہ سماجی کارکن آج کل حمیدہ ایجوکیشن اینڈ بورڈنگ اکیڈمی چترال کے یتیم بچوں کے ساتھ سیر پر ہے یہ سیر کے لمحے ان ننھے فرشتوں کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتے۔ بچوں کی آنکھوں میں چمک، چہروں پر مسکراہٹ اور معصوم قہقہے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ محبت اور توجہ زخم خوردہ دلوں کو بھی شفا دے سکتی ہے۔ پارک، تفریحی مقامات اور قدرتی مناظر میں یہ بچے خود کو تنہا نہیں بلکہ ایک خاندان کا حصہ محسوس کرتے ہیں۔ سمیع الدین رئیس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے، ان کی باتیں سنتا ہے، ان کے خوابوں کو سچ مانتا ہے اور انہیں یقین دلاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا مقصد صرف سیر کروانا نہیں بلکہ ان کے دلوں میں امید، خود اعتمادی اور مستقبل کی روشنی جگانا ہے۔
سمیع الدین رئیس بھائی درحقیقت آپ ہمارے ہیرو ہیں سماجی کارکن ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں۔ یہ لوگ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسانیت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتی ہے، اور یتیم بچوں کے چہروں پر آئی ہوئی ایک مسکراہٹ پوری انسانیت کی جیت ہوتی ہے۔۔۔۔
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں ۔۔
شہاب ثنا ۔۔