13/04/2026
مظلوم پرندے اور ظالم شکاری!
فاختہ ایک نہایت معصوم، بے ضرر اور خوبصورتی کی علامت پرندہ ہے۔ اس کی مدھر آواز فطرت کے حسن میں سکون اور امن کا رنگ بھرتی ہے۔ یہ پرندے اکثر مہمان ہوتے ہیں جو بہار کی آمد کے ساتھ پہاڑی علاقوں، خصوصاً چترال کا رخ کرتے ہیں اور قدرتی ماحول کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔
مگر افسوس، ان مہمان پرندوں کی میزبانی محبت سے نہیں بلکہ بندوق کی نوک پر کی جاتی ہے۔ گولیوں کی بوچھاڑ ان کے نازک وجود کو چھلنی کر دیتی ہے۔ چند لمحوں کے شوق اور وقتی تفریح کے لیے ان خوبصورت اور پُرامن پرندوں کا شکار ایک ایسا ظلم ہے جو نہ صرف دل کو دکھ دیتا ہے بلکہ فطرت کے حسن کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ پرندے صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا بے دریغ شکار فطری توازن کو بگاڑ سکتا ہے اور نایاب نسلوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
میں اپنے تمام دوستوں اور احباب، خصوصاً شوقیہ شکاری حضرات سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے چند لمحوں کی تفریح کی خاطر ان نایاب اور پُرامن پرندوں کی نسل کشی نہ کریں۔ یہ مہمان ہیں—ان کی حفاظت کرنا ہماری اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ایسے علاقوں میں شکار پر مؤثر پابندی عائد کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ فطرت کی یہ خوبصورتی آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔
آئیں، مہمان پرندوں کا خیرمقدم محبت سے کریں، نہ کہ گولیوں سے۔