Chitral Peaceful Valley

Chitral Peaceful Valley Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Chitral Peaceful Valley, Media/News Company, Chitral.

Wellcome Showcasing the breathtaking landscapes of Chitral, the unique Kalash culture, and the peaceful lifestyle.Sharing the beauty of Chitral its culture, nature, and traditions, politics through photography,Videography & storytelling.follow us.

11/05/2026

لوئر چترال کے علاقے Andahti میں دریائے ارکاری میں اوٹر (Otter) دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو مقامی لوگوں کے لیے خوشی اور حیرت کا باعث ہیں۔ اوٹر ایک نہایت ذہین، پھرتیلا اور خوبصورت آبی جنگلی جانور ہے جو صاف اور ٹھنڈے پانیوں والے دریاؤں میں رہنا پسند کرتا ہے۔
اوٹر ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی موجودگی کسی بھی دریا کے صاف اور صحت مند ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ یہ عموماً مچھلیاں کھاتا ہے اور زیادہ تر خاموش ماحول میں رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آلودگی، غیر قانونی شکار اور دریاؤں میں انسانی مداخلت اوٹر کی نسل کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ مقامی عوام سے اپیل ہے کہ اس نایاب جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور قدرتی ماحول کو محفوظ بنائیں۔

Ace Fishing : Wild Catch

11/05/2026

Updated Culture 🤣 Hya Kya xago Ishtok Hya Kya ishnari ?

The most delicious mulberry from Chitral Pakistan 🇵🇰.
10/05/2026

The most delicious mulberry from Chitral Pakistan 🇵🇰.

وادی لٹکوہ کے پُرامن اور خوبصورت گاؤں رونی انداہتی (یوسی شغور) کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ گاؤں میں دریا...
08/05/2026

وادی لٹکوہ کے پُرامن اور خوبصورت گاؤں رونی انداہتی (یوسی شغور) کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

گاؤں میں دریا عبور کرنے کے لیے پیدل پل نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ، مریض، خواتین اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سکول اور ہسپتال قریب ہونے کے باوجود پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو خطرناک راستوں سے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ عارضی لفٹ بھی اب خستہ حال ہو چکی ہے، مگر مقامی لوگ مجبوری میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اسی کے ذریعے آمدورفت کرتے ہیں۔

اہلیانِ رونی انداہتی نے ضلعی انتظامیہ، سیاسی و سماجی شخصیات، AKDN اور خصوصاً SRSP سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گاؤں کے لیے محفوظ پیدل پل تعمیر کیا جائے
تاکہ عوام کی دیرینہ مشکلات ختم ہو سکیں۔

Admin Chitral peaceful valley


گرم چشمہ روڈ حقائق، ناانصافیاں اور عوامی مطالبہتحریر؛ محمد شریف گرم چشمہ (دوراہ پاس) روڈ سے متعلق حقائق واضح کرتے ہیں کہ...
30/04/2026

گرم چشمہ روڈ حقائق، ناانصافیاں اور عوامی مطالبہ

تحریر؛ محمد شریف

گرم چشمہ (دوراہ پاس) روڈ سے متعلق حقائق واضح کرتے ہیں کہ اس اہم منصوبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور عوام کو بارہا محض اعلانات اور نمائشی اقدامات سے بہلانے کی کوشش کی گئی۔

2018 میں شاہد خاقان عباسی نے اس روڈ کا افتتاح کیا، حالانکہ اس وقت نہ تو یہ منصوبہ وفاقی تحویل میں تھا اور نہ ہی کسی کنٹریکٹر کے حوالے کیا گیا تھا۔ مزید برآں، زمین کی خریداری کے لیے صرف 1 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جو اس بڑے منصوبے کے لیے نہایت ناکافی اور محض نمائشی اقدام تھا۔

بعد ازاں 6 مئی 2020 کو عمران خان کی حکومت نے اس سڑک کو وفاقی دائرہ اختیار میں شامل کیا، اور 22 دسمبر 2020 کو اسے باضابطہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی دور میں زمین کی خریداری کے لیے تقریباً 4 ارب روپے کا PC-1 وفاقی حکومت کو جمع کرایا گیا، جبکہ مجموعی تعمیر کے لیے تقریباً 8 ارب 14 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل ہوا اور گرم چشمہ سے شاشالیم تک کے حصے کے ٹینڈر بھی جاری کیے گئے۔

تاہم رجیم چینج کے بعد احسن اقبال (وفاقی وزیر منصوبہ بندی) نے زمین کے PC-1 (تقریباً 4 ارب روپے) کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ کوئی ترجیحی منصوبہ نہیں ہے۔ بعد ازاں فارم 47 کی حکومت آنے کے بعد 2024 کے پہلے بجٹ میں اس منصوبے کو مکمل طور پر PSDP سے نکال دیا گیا، حالانکہ یہ منصوبہ عملدرآمد کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی مشینری روڈ پر موجود ہے اور سالانہ بنیادوں پر مینٹیننس کا کام جاری ہے، مگر مستقل تعمیر کے بجائے عارضی مرمت پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں کہ ہر سال مینٹیننس کے نام پر افتتاح کر کے عوام کو مزید گمراہ کیا جائے۔

یہ منصوبہ چونکہ وفاقی نوعیت کا ہے، اس لیے صوبائی حکومت اس پر براہِ راست فنڈز خرچ نہیں کر سکتی، جس کے باعث تمام ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دوٹوک مؤقف اور عوامی مطالبہ:
گرم چشمہ روڈ کو فوری طور پر دوبارہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل کیا جائے
زمین کی خریداری اور مکمل تعمیر کے لیے درکار فنڈز جاری کیے جائیں
یا کم از کم مینٹیننس فنڈز کو مرحلہ وار مستقل اور معیاری تعمیر پر خرچ کیا جائے
مزید یہ کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے بار بار دعوے کرتے ہیں اور وزراء و مشیروں کے دورے کرواتے ہیں، مگر عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ اگر اس بار بھی یہ منصوبہ PSDP میں شامل نہ کیا گیا تو علاقے کے عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔
یہ منصوبہ عمران خان کے دور میں PSDP میں شامل ہو کر تکمیل کے قریب تھا، مگر بعد میں اسے ختم کر دیا گیا—جو کہ ایک سنگین ناانصافی ہے۔
گرم چشمہ روڈ کی جغرافیائی، معاشی اور سیاحتی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ اس کو مزید نظر انداز کرنا علاقے کی ترقی روکنے کے مترادف ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

24/04/2026

شاہ رحیم الحسینی 20 مئی سے 26 مئی تک پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کے دوران وہ گلگت بلتستان اور چترال میں جماعت کو دیدار دیں گے,, جبکہ اسلام آباد میں حکومتی عہدیداران سے بھی ملاقات کریں گے..

23/04/2026

شندور پولو فیسٹیول 11 جون 2026 کو منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

20/04/2026

چترال کے ہر دلعزیز شخصیت گل اکبر چترالی پر وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں ان کے چہرے پر گہرے چوٹ آئے ہیں۔ ہماری سماجی پستی کی...
16/04/2026

چترال کے ہر دلعزیز شخصیت گل اکبر چترالی پر وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں ان کے چہرے پر گہرے چوٹ آئے ہیں۔ ہماری سماجی پستی کی انتہا دیکھیے کبھی ان ملنگ لوگوں کو مذاق کا ذریعہ بنا دیتے ہیں اور ان سے کچھ الٹا پلٹا بلوا کر ہنس لیتے ہیں، کبھی ان کی معمولی سی بات ہمیں بری لگتی ہے جس پر ہم دل برداشتہ ہو کر ان پر بدترین تشدد 💔کرتے ہیں.

مظلوم پرندے اور ظالم شکاری!فاختہ ایک نہایت معصوم، بے ضرر اور خوبصورتی کی علامت پرندہ ہے۔ اس کی مدھر آواز فطرت کے حسن میں...
13/04/2026

مظلوم پرندے اور ظالم شکاری!

فاختہ ایک نہایت معصوم، بے ضرر اور خوبصورتی کی علامت پرندہ ہے۔ اس کی مدھر آواز فطرت کے حسن میں سکون اور امن کا رنگ بھرتی ہے۔ یہ پرندے اکثر مہمان ہوتے ہیں جو بہار کی آمد کے ساتھ پہاڑی علاقوں، خصوصاً چترال کا رخ کرتے ہیں اور قدرتی ماحول کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں۔

مگر افسوس، ان مہمان پرندوں کی میزبانی محبت سے نہیں بلکہ بندوق کی نوک پر کی جاتی ہے۔ گولیوں کی بوچھاڑ ان کے نازک وجود کو چھلنی کر دیتی ہے۔ چند لمحوں کے شوق اور وقتی تفریح کے لیے ان خوبصورت اور پُرامن پرندوں کا شکار ایک ایسا ظلم ہے جو نہ صرف دل کو دکھ دیتا ہے بلکہ فطرت کے حسن کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ پرندے صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا بے دریغ شکار فطری توازن کو بگاڑ سکتا ہے اور نایاب نسلوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

میں اپنے تمام دوستوں اور احباب، خصوصاً شوقیہ شکاری حضرات سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے چند لمحوں کی تفریح کی خاطر ان نایاب اور پُرامن پرندوں کی نسل کشی نہ کریں۔ یہ مہمان ہیں—ان کی حفاظت کرنا ہماری اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ایسے علاقوں میں شکار پر مؤثر پابندی عائد کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ فطرت کی یہ خوبصورتی آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔

آئیں، مہمان پرندوں کا خیرمقدم محبت سے کریں، نہ کہ گولیوں سے۔

Address

Chitral

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral Peaceful Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitral Peaceful Valley:

Shortcuts

Share