29/08/2026
Kausar 🖊️
محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ وفاقی فنڈز سےبوزوند روڈ ایک کلومیٹر بلیک ٹاپ کےافتتاح کےموقع پر فرماتی ھیں کہ وفاق ھم سے تعاون نہیں کررھا ایم این اے غزالہ ایک ارب کا فنڈ کیوں نہیں لاتی۔ایم این اے غزالہ اور انکی حکومت چترال میں کام کیون نہیں کرتی؟ وغیرہ وغیرہ۔
محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ !
فی الوقت چترال میں صرف وفاق مسلم لیگ ن اور ایم این اے غزالہ صاحبہ کام کررھی ھیں آپ کے تو اپنے ضلعی صدر آپ پر کرپشن کے الزامات لگا چکےھیں۔
میں بروغل روڈ کے "عہد نامہ بونٹ" کے ایک ماہ کے اندر کام کرنے پر بات نہیں کرتا اور نہ ھی اس پر جاتا ھوں کہ آپ بطور ڈپٹی اسپیکر اپر و لوئر چترال میں کونسےکام کیے ھیں ذرا انکی تفصیل دیجئے۔
میں لواری اپروچ روڈ شندور روڈ کیلاش ویلیز روڈ اور دانش اسکول وزیراعظم یوتھ لون و لیپ ٹاب اسکیم پر نہیں جاتا صرف دانش اسکول بیس ارب کا منصوبہ ھے لیکن یہ تو بتا دیجئے کہ ریشن بجلی گھر کےبارے وہ وعدہ وعید کیا ھوئے؟
پیڈو صوبائی محکمہ ھے بجلی فی یونٹ پیڈو کا طے کردہ ھے اب پیڈو وفاق سے 7روپے پہ بجلی لے کے عوام کو 13 روپے پر بجلی دے رھاھے تو زمہ دار صوبائی محکمہ پیڈو ھے اور پیڈو سے پوچھنے کے زمہ دار آپ ھیں محترمہ اسپیکر صاحبہ نہ کہ ایم این اے غزالہ صاحبہ ۔
پچھلی بار وزیراعظم میاں شہباز شریف نے عوام کے مشکلات کو مدنظر رکھ کے خوامخواہ صوبائی پیڈو کے بقایاجات وفاق سے پیسکو کو دلوا کے اپر چترال کا دیرینہ مسلہ حل کیا تھا جبکہ آپ کا پیڈو دوبارہ پیسکو کو بل کی ادائیگی نہ کرکے ایک خبر کے مطابق چار ارب کو بھی کراس کرچکاھے۔
محترمہ اسپیکر صاحبہ ! بتائیے یہ مجرمانہ غفلت کس کی ھے اور کیا ایسی مجرمانہ غفلت پر آپ سمیت محکمہ پیڈو مجرم نہیں ھیں؟
بخدا اسی مجرمانہ غفلت کو بنیاد بناکر ریشن کے عوام عدالت گئے تو پیڈو میں کرپشن اور بدنظمی کا وہ پنڈورا بکس کھلے گا کہ شاید پرویز خٹک تک سب مجرم ٹھرین۔
جہان تک این ایچ اے کاموں کا تعلق ھے کا کریڈیٹ لینے کی کوشش کرکے آپ اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتیں۔چترال کے عوام سادہ لوح ضرور ھیں لیکن اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ آپ کی حکومت اور آپکی کارکردگی کو نظر انداز کرسکیں۔
مولکھو کےعوام کئی دنوں بونی بازار میں دھرنے پہ بیٹھے تھے آپ وھاں جانے کی زحمت نہ کی جونہی ایم این اے غزالہ وھاں اظہار ھمدردی کرکے ایکشن لینے کی یقین دھانی کی تو آپ ھوش میں آگئیں ۔لیکن جو کام مولکھو بلیک ٹاپ پہ کیاگیا ھے اس کے معیار پر بھی وافقان حال معترض ھیں۔
آج سرزمین ریشن دریا برد ھورھاھے اسکی بنیادی وجہ آپ کی جماعت اور اب دو سالوں سے آپ بھی ھیں۔
ایریگیشن کے محکمے میں اربوں کرپشن ھورھیں ھیں صرف دس کروڑ آر سی سی پروٹیکشن وال ڈال دیا جاتا تو ریشن محفوظ تھا مگر اب بھی صوبائی حکومت اور تبدیلی کے منتخب نمائندے مجرمانہ طور پر خاموش ھیں ۔
اللہ مرحوم ایکسن سی اینڈ ڈبلیو کو بخش دے اس کی موت کیسے واقع ھوئی اس پر بھی کم از کم جے آئی ٹی بنانی چاھئے تھی بہرحال حقیقت یہ ھے پی ٹی آئی اب ایک ناکام نااھل اور کرپٹ کاکروچ کا جھتہ بن چکاھے۔نوجوان اب جان چکےھیں کہ انکو کس طرح جھوٹے خواب دیکھاکےدھوکہ دیا جاچکاھے۔اب مزید اس جال میں نہیں پھنسینگے۔ان شاءاللہ۔
محمد کوثر ایڈوکیٹ جنرل سیکٹری مسلم لیگ ن چترال و فوکل ٹو ایم این اے غزالہ انجم صاحبہ۔