Geo Chitral

Geo Chitral جیو چترال حق کی اواز سچ کی اواز چترال کی اواز 🇵🇰
(2)

  Kausar 🖊️ محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ وفاقی فنڈز سےبوزوند روڈ ایک کلومیٹر بلیک ٹاپ کےافتتاح کےموقع پر فرماتی ھیں کہ وفاق ...
29/08/2026

Kausar 🖊️
محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ وفاقی فنڈز سےبوزوند روڈ ایک کلومیٹر بلیک ٹاپ کےافتتاح کےموقع پر فرماتی ھیں کہ وفاق ھم سے تعاون نہیں کررھا ایم این اے غزالہ ایک ارب کا فنڈ کیوں نہیں لاتی۔ایم این اے غزالہ اور انکی حکومت چترال میں کام کیون نہیں کرتی؟ وغیرہ وغیرہ۔

محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ !
فی الوقت چترال میں صرف وفاق مسلم لیگ ن اور ایم این اے غزالہ صاحبہ کام کررھی ھیں آپ کے تو اپنے ضلعی صدر آپ پر کرپشن کے الزامات لگا چکےھیں۔

میں بروغل روڈ کے "عہد نامہ بونٹ" کے ایک ماہ کے اندر کام کرنے پر بات نہیں کرتا اور نہ ھی اس پر جاتا ھوں کہ آپ بطور ڈپٹی اسپیکر اپر و لوئر چترال میں کونسےکام کیے ھیں ذرا انکی تفصیل دیجئے۔

میں لواری اپروچ روڈ شندور روڈ کیلاش ویلیز روڈ اور دانش اسکول وزیراعظم یوتھ لون و لیپ ٹاب اسکیم پر نہیں جاتا صرف دانش اسکول بیس ارب کا منصوبہ ھے لیکن یہ تو بتا دیجئے کہ ریشن بجلی گھر کےبارے وہ وعدہ وعید کیا ھوئے؟
پیڈو صوبائی محکمہ ھے بجلی فی یونٹ پیڈو کا طے کردہ ھے اب پیڈو وفاق سے 7روپے پہ بجلی لے کے عوام کو 13 روپے پر بجلی دے رھاھے تو زمہ دار صوبائی محکمہ پیڈو ھے اور پیڈو سے پوچھنے کے زمہ دار آپ ھیں محترمہ اسپیکر صاحبہ نہ کہ ایم این اے غزالہ صاحبہ ۔

پچھلی بار وزیراعظم میاں شہباز شریف نے عوام کے مشکلات کو مدنظر رکھ کے خوامخواہ صوبائی پیڈو کے بقایاجات وفاق سے پیسکو کو دلوا کے اپر چترال کا دیرینہ مسلہ حل کیا تھا جبکہ آپ کا پیڈو دوبارہ پیسکو کو بل کی ادائیگی نہ کرکے ایک خبر کے مطابق چار ارب کو بھی کراس کرچکاھے۔

محترمہ اسپیکر صاحبہ ! بتائیے یہ مجرمانہ غفلت کس کی ھے اور کیا ایسی مجرمانہ غفلت پر آپ سمیت محکمہ پیڈو مجرم نہیں ھیں؟
بخدا اسی مجرمانہ غفلت کو بنیاد بناکر ریشن کے عوام عدالت گئے تو پیڈو میں کرپشن اور بدنظمی کا وہ پنڈورا بکس کھلے گا کہ شاید پرویز خٹک تک سب مجرم ٹھرین۔

جہان تک این ایچ اے کاموں کا تعلق ھے کا کریڈیٹ لینے کی کوشش کرکے آپ اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتیں۔چترال کے عوام سادہ لوح ضرور ھیں لیکن اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ آپ کی حکومت اور آپکی کارکردگی کو نظر انداز کرسکیں۔

مولکھو کےعوام کئی دنوں بونی بازار میں دھرنے پہ بیٹھے تھے آپ وھاں جانے کی زحمت نہ کی جونہی ایم این اے غزالہ وھاں اظہار ھمدردی کرکے ایکشن لینے کی یقین دھانی کی تو آپ ھوش میں آگئیں ۔لیکن جو کام مولکھو بلیک ٹاپ پہ کیاگیا ھے اس کے معیار پر بھی وافقان حال معترض ھیں۔

آج سرزمین ریشن دریا برد ھورھاھے اسکی بنیادی وجہ آپ کی جماعت اور اب دو سالوں سے آپ بھی ھیں۔
ایریگیشن کے محکمے میں اربوں کرپشن ھورھیں ھیں صرف دس کروڑ آر سی سی پروٹیکشن وال ڈال دیا جاتا تو ریشن محفوظ تھا مگر اب بھی صوبائی حکومت اور تبدیلی کے منتخب نمائندے مجرمانہ طور پر خاموش ھیں ۔

اللہ مرحوم ایکسن سی اینڈ ڈبلیو کو بخش دے اس کی موت کیسے واقع ھوئی اس پر بھی کم از کم جے آئی ٹی بنانی چاھئے تھی بہرحال حقیقت یہ ھے پی ٹی آئی اب ایک ناکام نااھل اور کرپٹ کاکروچ کا جھتہ بن چکاھے۔نوجوان اب جان چکےھیں کہ انکو کس طرح جھوٹے خواب دیکھاکےدھوکہ دیا جاچکاھے۔اب مزید اس جال میں نہیں پھنسینگے۔ان شاءاللہ۔

محمد کوثر ایڈوکیٹ جنرل سیکٹری مسلم لیگ ن چترال و فوکل ٹو ایم این اے غزالہ انجم صاحبہ۔

Guess the name of mountain 😍
29/08/2026

Guess the name of mountain 😍

29/08/2026

دروش شیشی کوہ میں ایک شخص نے محض ایک درخت کی خاطر دوسرے شخص کو گولی مار کر قتل کر دیا
😭😭

29/08/2026

Rashuno Royn Su Nboi La 1 Ganto Pachan Raho Kholaw Kore Royan Fariq Arani Warana Ha Saf Choyo Hatn Durn Baso Boghaw Oshtani 🤣

29/08/2026

5 Rupyai Ge Pakistana Khtum Hoi
Rashuno Brargini De Guzara Korur La 5 rupya Unit Kicha Bti Boi
🙏🙏🙏🙏

  Ali Khan 🖊️ ریشن میں ٹیرف میں اضافی نرخوں کے خلاف منظم دھرنا جاری تھا، مگر افسوس کہ ہمارے بڑے ایک بار پھر عوام کو مایو...
29/08/2026

Ali Khan 🖊️
ریشن میں ٹیرف میں اضافی نرخوں کے خلاف منظم دھرنا جاری تھا، مگر افسوس کہ ہمارے بڑے ایک بار پھر عوام کو مایوس کر گئے۔

عوام 36 گھنٹے مسلسل احتجاج پر بیٹھے رہے۔ یوں اچانک بڑوں نے فیصلہ کیا کہ دو گھنٹوں کے لیے روڈ کھولتے ہیں، پھر بند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تحریک کو نقصان پہنچا اور نوجوان مایوس ہو کر چلے گئے۔

آج بھی وہی ہوا، نوجوان اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے تھے، لیکن تحریک کے بڑے ہمیشہ کی طرح کمپرومائز کی سیاست کرتے رہے، جس کے باعث عوامی تحریک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

میری گزارش ہے کہ آئندہ ایسی عوامی تحریکوں کی قیادت نوجوانوں کے حوالے کی جائے، کیونکہ نوجوان نہ صرف اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں بلکہ اپنے مؤقف پر سمجھوتہ بھی نہیں کرتے۔
شکریہ

29/08/2026

21 گنٹھے گزرنے کے بعد بھی ریشن میں احتجاج جاری سیاسی نمائدے نظروں سے اوجھل
صوبائی حکومت کی ناکامی ظاہر

29/08/2026

Kura Behti Asuni Seyasi Lothorowan ??
21 Gantha Hoi Rah Bnd Ahtijaj Jari Bo Afsos

کسی سے کوئی گلہ نہیں، گلہ صرف اُن والدین سے ہے۔ایک ماں اور ایک باپ اپنی پھول جیسی بیٹی کو اتنی کم عمری میں ایک عمر رسیدہ...
28/08/2026

کسی سے کوئی گلہ نہیں، گلہ صرف اُن والدین سے ہے۔

ایک ماں اور ایک باپ اپنی پھول جیسی بیٹی کو اتنی کم عمری میں ایک عمر رسیدہ مرد کے ہاتھ کیسے سونپ سکتے ہیں؟ یہ سوال دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ والدین تو اپنی اولاد کے لیے مسیحا اور سایہ دار درخت کی مانند ہوتے ہیں؛ دھوپ خود برداشت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو سکون ملے، مشکلات خود جھیلتے ہیں تاکہ اولاد کا مستقبل بہتر ہو۔

مگر جب وہی والدین اپنی کم سن بیٹی کو اس عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دیں، جب اسے گڑیا سے کھیلنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنے خواب سجانے کی عمر ہو، تو یہ صرف افسوس کی بات نہیں بلکہ سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ہم اپنی بچیوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟

ایک کم سن بچی کو ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں میں دھکیل دینا اس کے بچپن، تعلیم، خوابوں اور ذہنی سکون پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ والدین کو اپنی بیٹی کے لیے محفوظ مستقبل کا دروازہ کھولنا چاہیے، نہ کہ ایسے فیصلے کا بوجھ اس کے ننھے کندھوں پر ڈالنا چاہیے جس کے لیے وہ ابھی ذہنی طور پر تیار ہی نہیں۔

بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بیٹی تو گھر کی رونق اور والدین کی امید ہوتی ہے۔
اس کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، خواب ہونے چاہئیں، مستقبل ہونا چاہیے—نہ کہ کم عمری میں زندگی بھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ۔

اگر یہ شادی واقعی قانونی عمر سے کم بچی کی ہے تو متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور بچی کے تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، سوال صرف اتنا ہے: جس بیٹی کو دنیا کی ہر تکلیف سے بچانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اُسی کو اتنی کم عمری میں ایک ایسے فیصلے کے حوالے کیوں کر دیا گیا جس کے اثرات شاید وہ پوری زندگی برداشت کرے؟
fans

کم عمر بچی کی شادی—ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہچترال میں مبینہ طور پر ایک کم عمر بچی کی شادی کی یہ تصویر سامنے آئی ہ...
28/08/2026

کم عمر بچی کی شادی—ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ

چترال میں مبینہ طور پر ایک کم عمر بچی کی شادی کی یہ تصویر سامنے آئی ہے، جس نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر بچی کی عمر واقعی قانونی عمر سے کم ہے تو یہ محض ایک خاندانی معاملہ نہیں بلکہ بچے کے بنیادی حقوق، تحفظ اور مستقبل سے جڑا انتہائی حساس مسئلہ ہے۔

کم عمری میں شادی بچوں سے ان کا بچپن، تعلیم اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق چھین لیتی ہے۔ اس عمر میں شادی کے نتیجے میں بچیوں کو ذہنی دباؤ، گھریلو ذمہ داریوں، تعلیم سے محرومی اور مستقبل میں صحت و سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات والدین اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے کم عمر بچے کو ایسی زندگی میں دھکیل دیتے ہیں جس کے لیے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تیار نہیں ہوتا۔

ہم حکومتِ وقت، ضلعی انتظامیہ، چائلڈ پروٹیکشن اداروں، پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیا جائے۔ سب سے پہلے بچی کی عمر اور شادی کی قانونی حیثیت کی باقاعدہ تصدیق کی جائے، اور اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو بچی کے والدین سمیت شادی میں ملوث تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ کسی خاندان کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ایک معصوم بچے کے تحفظ، تعلیم، عزت اور مستقبل کا سوال ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ان کے بہتر مستقبل کی بنیاد بنیں۔

چائلڈ پروٹیکشن کے تمام متعلقہ ذمہ داران سے اپیل ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بچی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

> بچوں کی شادی نہیں، ان کا مستقبل محفوظ کریں۔
Muhammad Talha Mahmood

Address

Chitral KPK
Chitral
17050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Geo Chitral posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Geo Chitral:

Shortcuts

Share