Descovery Khot

Descovery Khot کھوت، اپر چترال کی خوبصورتی، مقامی خبریں اور لوگوں کے درمیان محبت و اتحاد کو دنیا تک پہنچانے کا پلیٹ فارم۔

اپر چترال کھوت تورکھو کی خوبصورت ترین اور بلند ترین قدرتی اسٹیڈیم شاقلشٹ کھوت  میں سالانہ منعقد ہونے والا یہ شاندار فیسٹ...
29/06/2026

اپر چترال کھوت تورکھو کی خوبصورت ترین اور بلند ترین قدرتی اسٹیڈیم شاقلشٹ کھوت میں سالانہ منعقد ہونے والا یہ شاندار فیسٹول ۔۔ جشن شاق لشٹ کھوت ۔۔۔ 2026 آپ کا منتظر ہے ۔
فطرت ، کھیل اور ثقافت کا نایاب اور حسین امتزاج ہے ۔
اگر آپ نے کبھی اپر چترال کی بلندی ، ٹھنڈی ہوا اور ہزاروں لوگوں کو ایک ساتھ آپس میں خوش گپیاں لگاتے ہوئے اور قہقہے لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے تو یہ موقع مت گنوائیں ۔
شاقلشٹ فیسٹول کھوت اب پاکستان کا ایک پہچانا ہوا ماؤنٹین ایونٹ بن چکا ہے ۔
آئیں کھیلیں ، کھائیں اور شاقلشٹ کی یادیں ساتھ لے جائیں ۔
سیاح حضرات کی کیمپنگ کے لئے مکمل سہولیات موجود ہیں ۔
شاقلشٹ کا موسم نہایت ساز گار خوشگوار ، قدرتی طور پر سر سبز و شاداب ، قدرتی گراؤنڈ جہاں بیک وقت فٹ بال ، کرکٹ اور ولی بال کے تینوں میچز الگ الگ گراؤنڈ میں منعقد کرانے کے لئے میدان دستیاب ہیں ۔
یہ صرف شاق لشٹ ہی کی خصوصیت ہے جس کے ارد گرد اونچے نوکیلے اور برف کی چادر اوڑھے ہوئے خوبصورت پہاڑ ، اونچائی سے گرتی ہوئ قدرتی آبشاریں ، شور مچاتے اور قدرتی حسن کو دوبالا کرتی ندی نالے اور ساتھ کھلا وسیع میدان اپنے بطن میں سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے مسحور کن ہوائیں یہ تمام قدرتی نظارے شاق لشٹ کھوت کے سر کا سہرا ہیں ۔
اس ایونٹ میں کھیلوں کے بادشاہ بادشاہوں کے کھیل پولو ، اعصاب شکن فٹ بال کے میچز ، تکنیکی صلاحیتوں سے بھر پور کرکٹ کے گیم اور ہائی جمپ کرکے کھیلے جانے والے ولی بال سمیت دیگر روایتی گیمز جن میں کھمشیر غاڑ ، بوڈی دیک ، پاٹیک دیک ، سیاہ کھمان شوٹنگ ، سمیت دیگر انڈور گیمز مثلاً کیرم بورڈ ، تاش اور لڈو بھی شامل ہیں۔
اس کے علاؤہ روایتی لذیذ کھانے غلمندی ، چھیراشاپک ، لاژیک ، سینے دیگر ٹریڈشنل فوڈز بھی دستیاب ہوں گے ۔
ایونٹ میں پیرا گلائڈنگ ، مشاعرے اور نائٹ شو کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔
چترال بھر سے پولو ، فٹبال ، کرکٹ اور ولی بال کے لیجنڈ پلیرز اس ایونٹ میں اپنے کھیل کا جادو جگائیں گے ۔
لہذا ہم ایڈوانس چترال بھر سے کھلاڑیوں اور سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔
منجانب ۔۔ آرگنائزر کمیٹی شاق ویلفئیر سوسائٹی کھوت
نجم الدین نجمی
چیئرمین SWS کھوت

*تحریر: سیف الدین سیفی*  *9 جون 2026ء*جب 12,500 فٹ کی بلندی پر شندور کے میدان میں گھوڑوں کے سموں سے دھول اٹھتی ہے، جب بر...
10/06/2026

*تحریر: سیف الدین سیفی*
*9 جون 2026ء*

جب 12,500 فٹ کی بلندی پر شندور کے میدان میں گھوڑوں کے سموں سے دھول اٹھتی ہے، جب برف پوش چوٹیوں کے بیچ پولو کی گیند ہوا میں تیرتی ہے، تو دو آوازیں ایسی ہیں جو اس سارے منظر کو لفظوں میں ڈھال دیتی ہیں۔ وہ آوازیں ہیں *وسیع الدین آکاش* اور *نور الہدیٰ یفتالی* کی۔

اور اب خبر آئی ہے کہ *شندور پولو فیسٹیول 2026* کے لیے ایک بار پھر انہی دونوں معروف کمنٹیٹرز کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ یہ انتخاب نہیں، شائقینِ پولو کے دلوں کی آواز ہے۔

*کمنٹری نہیں، کہانی*
پولو دیکھنا ایک بات ہے، پولو کو "محسوس" کرنا دوسری بات۔ آکاش اور یفتالی صاحب وہ ہنر جانتے ہیں۔ ان کی کمنٹری صرف "گول ہو گیا" اور "فاؤل ہو گیا" تک محدود نہیں۔

جب آکاش صاحب مائیک سنبھالتے ہیں تو لگتا ہے شندور خود بول رہا ہے۔ وہ کھلاڑی کا تعارف کراتے ہیں تو اس کے گاؤں، اس کے گھوڑے کی نسل، اور اس کے باپ دادا کی پولو روایت تک بتا دیتے ہیں۔ ان کے جملے میں شندور کی ہوا، دریائے غزر کی روانی، اور چترال کے چناروں کی سرسراہٹ ہوتی ہے۔

اور جب نور الہدیٰ یفتالی صاحب کا نمبر آتا ہے تو منظر بدل جاتا ہے۔ ان کی آواز میں ایک ادبی ٹھہراؤ ہے۔ وہ جب حملے کو بیان کرتے ہیں تو شاعری ہو جاتی ہے: *"دیکھئے جناب، علی شاہ کا گھوڑا ہوا سے باتیں کر رہا ہے، اور گیند اس کے سٹک سے ایسے لپٹی ہے جیسے بچہ ماں سے"*۔ سامعین کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

*شندور اور ان کا رشتہ*
یہ دونوں حضرات پچھلے کئی سال سے شندور فیسٹیول کا حصہ ہیں۔ انہوں نے سردی، بارش، آکسیجن کی کمی — سب کچھ برداشت کر کے پولو سے محبت نبھائی ہے۔

شندور میں کمنٹری کرنا کراچی کے اسٹیڈیم میں کمنٹری کرنے جیسا نہیں۔ یہاں مائیک کے سامنے بیٹھنا بھی ایک مقابلہ ہے۔ 12 ہزار فٹ پر سانس پھولتی ہے، مگر ان کی آواز نہیں پھولتی۔

یفتالی صاحب نے ایک بار بتایا تھا: *"شندور میں جب ہم بولتے ہیں تو لگتا ہے ہم نہیں، یہ پہاڑ بول رہے ہیں۔ ہم تو صرف وسیلہ ہیں"*۔

*2026: پھر وہی انتظار، پھر وہی ولولہ*
شندور پولو فیسٹیول چند دنوں بعد متوقع ہے۔ چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی۔ مگر اس بار میدان سے باہر بھی ایک مقابلہ ہوگا — آکاش کے جوش اور یفتالی کے سوز کا۔

آکاش صاحب جہاں جوشیلے لمحے کو گرما دیتے ہیں: *"او ہو ہو... کیا سٹروک لگایا ہے جناب! یہ تو گیند نہیں، بجلی تھی بجلی!"*
وہیں یفتالی صاحب تاریخی تناظر جوڑ دیتے ہیں: *"یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں 1936 میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ نے پہلا ٹورنامنٹ کرایا تھا۔ آج اسی مٹی پر ہمارے شہزادے تاریخ دہرا رہے ہیں"*۔

*دو مختلف اسلوب، ایک محبت*
آکاش صاحب کی طاقت ان کی لوک ذہانت ہے۔ وہ کھیل کو عوامی زبان دیتے ہیں۔ کوئی بھی دیہاتی، کوئی بھی شہری، سب کو سمجھ آ جاتی ہے کہ میدان میں ہو کیا رہا ہے۔

یفتالی صاحب کی طاقت ان کا مطالعہ ہے۔ وہ پولو کو صرف کھیل نہیں، ثقافت سمجھ کر بیان کرتے ہیں۔ ان کی کمنٹری سن کر نوجوان گوگل پر "پولو کی تاریخ" سرچ کرنے لگتے ہیں۔

مگر دونوں میں ایک بات مشترک ہے: *پولو سے عشق*۔ اور یہی عشق مائیک کے ذریعے ہزاروں دلوں تک پہنچتا ہے۔

*شندور کا اصل حسن*
شندور فیسٹیول صرف گھوڑے، گیند اور کھلاڑی نہیں۔ شندور ایک تہذیب ہے۔ اور اس تہذیب کے دو بڑے ترجمان آکاش اور یفتالی ہیں۔

جب یہ دونوں مائیک پر ہوتے ہیں تو ریڈیو پاکستان، گلگت بلتستان اور چترال کے ہر گھر میں لوگ کام چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ گاڑیوں میں سفر کرنے والے ڈرائیور والیوم بڑھا دیتے ہیں۔

کیونکہ سب کو پتا ہے: *"میچ کوئی بھی جیتے، کمنٹری تو آکاش اور یفتالی ہی جیتیں گے"*۔

*2026 کے لیے نیک خواہشات*
وسیع الدین آکاش اور نور الہدیٰ یفتالی صاحب کو ایک بار پھر شندور فیسٹیول 2026 کی کمنٹری کے لیے منتخب ہونے پر دلی مبارکباد۔

امید ہے اس سال بھی آپ کی آوازیں شندور کی وادیوں میں گونجیں گی، اور دنیا بھر کے پولو شائقین کو "چھتِ دنیا" پر کھیلے جانے والے اس عظیم کھیل سے جوڑے رکھیں گی۔

شندور کو آپ کی ضرورت ہے۔ اور پولو کو آپ کی آواز کی۔

اللہ آپ دونوں کو صحت دے، استقامت دے۔ اور 2026 کا فیسٹیول تاریخ کا سب سے یادگار فیسٹیول ثابت ہو۔ آمین۔

_نوٹ: شندور جانے والے تمام سیاحوں سے گزارش ہے کہ میچ کے دوران کمنٹیٹرز کے کیبن کا خاص خیال رکھیں۔ شور نہ کریں تاکہ یہ لوگ سکون سے دنیا کو شندور کی کہانی سنا سکیں۔_

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَتورکہو اجنو سے تعلق رکھنے والے سیف الدین بھائی آغا خان ہسپتال کراچی میں انتقا...
06/06/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

تورکہو اجنو سے تعلق رکھنے والے سیف الدین بھائی آغا خان ہسپتال کراچی میں انتقال فرما گئے ہیں۔

مرحوم کینسر کے موزی مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ ایک سال سے آغا خان ہسپتال کراچی میں زیرِ علاج تھے۔

نمازِ جنازہ آج صبح 9:00 بجے مدرسہ امام محمد، سہراب گوٹھ کراچی میں ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی میت آج دوپہر 1:00 بجے کراچی سے پشاور روانہ کی جائے گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، ان کی کامل بخشش فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

چترال کے رحمت اللہ شہزاد کو انٹرنیشنل ویزا حاصل کرنے کا اعزاز، یو این ڈی پی کے لیے منتخبچترال کے علاقے اجنو تورکہو سے تع...
19/05/2026

چترال کے رحمت اللہ شہزاد کو انٹرنیشنل ویزا حاصل کرنے کا اعزاز، یو این ڈی پی کے لیے منتخب

چترال کے علاقے اجنو تورکہو سے تعلق رکھنے والے رحمت اللہ شہزاد نے نہ صرف بین الاقوامی سفر کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے بلکہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ ۔

رحمت اللہ شہزاد اس وقت بکر آباد چترال میں مقیم ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ان کی ایک نمایاں پہچان تبلیغی جماعت سے وابستگی ہے، جس کے تحت وہ نہ صرف پاکستان کے مختلف حصوں بلکہ کئی بیرونی ممالک میں دین کی خدمت انجام دے چکے ہیں۔

ان کے اب تک کے بین الاقوامی تبلیغی سفر میں بنکاک، ہانگ کانگ، سری لنکا، لاوس، بنگلہ دیش، مکاو، انڈیا، زمبیا جیسے ممالک شامل ہیں، جبکہ وہ آئندہ فیجی اور برازیل جیسے ممالک کے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں۔

یہ بھی چترال کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے کہ رحمت اللہ شہزاد کو چترال کی تاریخ میں ان چند خوش نصیب افراد میں شمار کیا جا رہا ہے جنہوں نے متعدد ممالک کے لیے انٹرنیشنل ویزا حاصل کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی قابلیت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال بھی ہے۔انٹرنیشنل ویزا کے حامل افراد دنیا کی کسی بھی ممالک کا اسی ایک ہی ویزا سے سفر کرسکتے ہیں ، رحمت اللہ شہزاد شاید اپنے علاقے سے پہلی شخصیت ہیں جنھیں یہ ویزا دیا گیا ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی میں رحمت اللہ شہزاد کا شمار فیڈرل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے قابل، دیانت دار اور باصلاحیت افسران میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں ان کی شاندار کارکردگی اور محنت کے پیش نظر انہیں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی (UNDP) کے ایک اہم پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا اعزاز اور چترال کے لیے باعثِ فخر ہے۔

رحمت اللہ شہزاد کی یہ کامیابی علاقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے کہ دیانت، محنت، علم اور دینی وابستگی انسان کو عالمی سطح پر کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتی ہے۔

چترال سے تورکہو کھوت تک کرایہ 1200 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کرنا غریب عوام کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب...
19/05/2026

چترال سے تورکہو کھوت تک کرایہ 1200 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کرنا غریب عوام کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب روڈ کچا تھا، سفر نہایت مشکل، طویل اور خطرناک ہوا کرتا تھا، تب بھی لوگ یہی گاڑیاں استعمال کرتے تھے۔ اس وقت گاڑیوں کو پانچ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگتا تھا، ایندھن اور گاڑیوں کی خرابی کا خرچہ الگ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ مگر اب جبکہ سڑک تارکول ہو کر شاگرام تک پہنچ چکی ہے، سفر پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان، محفوظ اور مختصر ہوگیا ہے، اور وہی سفر اب تقریباً دو گھنٹوں میں مکمل ہورہا ہے۔
ایسے میں کرایہ کم ہونے کے بجائے یکدم 1200 سے بڑھا کر 2000 روپے کر دینا آخر کہاں کا انصاف ہے؟ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب بہتر سڑک کی وجہ سے گاڑیوں کا خرچہ، وقت اور ایندھن بھی تو کم ہوا ہے۔ غریب عوام آخر کب تک اس طرح من مانی فیصلوں کا شکار بنتی رہے گی؟
اسی طرح پشاور سے چترال آنے جانے والی بعض گاڑیوں کے ڈرائیورز نے بھی اپنی مرضیاں مسلط کر رکھی ہیں۔ نہ کسی سرکاری کرایہ نامے کی پابندی نظر آتی ہے اور نہ ہی قانون کا خوف۔ عوام بے بسی کے عالم میں اضافی کرائے ادا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ہم اپر چترال اور لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے، سرکاری کرایہ نامے پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اور عوام کو ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
عوام پر رحم کیجئے، کیونکہ مہنگائی نے پہلے ہی غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔
✍️۔۔معاویہ سرحدی۔

15/05/2026

ڈیزاسٹر 2024 کی مد میں ہونے والی 53 کروڑ روپے کی مبینہ میگا کرپشن کے خلاف میں نے وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ خیبرپختونخوا میں تمام ٹھوس شواہد جمع کرا دیے ہیں۔

میں ممبر قومی اسمبلی این اے 1 چترال عبداللطیف صاحب کے فوکل پرسن، اپر چترال کے دونوں تحصیل چیئرمین صاحبان، انصاف لائرز فورم، ڈرائیور یونین چترال، ولیج کونسل کے چیئرمین صاحبان، نوجوانانِ چترال، اور سوشل و سول سوسائٹی کے تمام معزز افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کرپشن کے خلاف قراردادیں ہمارے ساتھ جمع کرائیں۔

ان شاء اللہ، امید ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب ان تمام ٹھوس شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں گے۔.ان شاء اللہ، آخری سانس تک کرپٹ عناصر کے خلاف جہدوجہد جاری رہے گی۔
Muhammad Sohail Afridi

10/05/2026
*🌟 فخرِ کھوت | اعزازِ چترال 🌟**الحمدللہ!**ہمارے علاقہ کھوت کے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا مقام ہے کہ*  *ہمارے ہردلعزیز، ...
08/05/2026

*🌟 فخرِ کھوت | اعزازِ چترال 🌟*

*الحمدللہ!*

*ہمارے علاقہ کھوت کے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا مقام ہے کہ*
*ہمارے ہردلعزیز، ممتاز ادیب، شاعر اور کھوار زبان کے نامور محقق*
*جناب علی احمد بزمی صاحب کو*
*حکومت خیبر پختونخوا کی "علاقائی زبانوں کے نفاذ کی کمیٹی" میں*
*کھوار/چترالی زبان کے ماہر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔*

*علی احمد بزمی صاحب کھوار ادب، ثقافت اور زبان کے وہ روشن مینار ہیں*
*جنہوں نے اپنی پوری زندگی مادری زبان کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔*
*ان کی تحریریں، ان کی تحقیق، ان کی شاعری...*
*کھوار زبان کا قیمتی سرمایہ ہے۔*

*آج جب خیبر پختونخوا میں مادری زبانوں میں نصاب سازی کا تاریخی فیصلہ ہوا،*
*تو اس میں کھوت کے بیٹے علی احمد بزمی صاحب کی شمولیت*
*ہمارے پورے علاقے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔*

*ہم اہلیانِ کھوت، علی احمد بزمی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں*
*اور اللہ پاک سے دعا گو ہیں کہ انہیں اس عظیم قومی خدمت میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین*

*زبان زندہ... تو پہچان زندہ*
*کھوار زندہ... تو چترال زندہ*

@⁨~علی احمد خان بزمی⁩

04/05/2026
بی ایچ یو کھوت میں الٹراساؤنڈ مشین کی فراہمی اور فریدہ بی بی کی تعیناتی میں چھ ماہ کی توسیع​کھوت : صوبائی حکومت اور گرین...
02/05/2026

بی ایچ یو کھوت میں الٹراساؤنڈ مشین کی فراہمی اور فریدہ بی بی کی تعیناتی میں چھ ماہ کی توسیع
​کھوت : صوبائی حکومت اور گرین اسٹار کے باہمی تعاون سے بنیادی مرکزِ صحت (بی ایچ یو) کھوت میں الٹراساؤنڈ مشین فراہم کر دی گئی ہے، جس سے مقامی آبادی کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل عبور ہوا ہے۔
​تفصیلات کے مطابق، بی ایچ یو کھوت میں الٹراساؤنڈ کی سہولت کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کی جانب سے دو نئے اسٹاف ممبران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے، تاکہ مریضوں کو بہتر طبی امداد مل سکے۔
​دریں اثنا، بی ایچ یو میں تعینات مستقل ملازمہ فریدہ بی بی کا تبادلہ ہونے والا تھا، تاہم مقامی علاقہ مکینوں کے پرزور مطالبے پر انتظامیہ نے ان کی تعیناتی اسی اسٹیشن پر چھ ماہ کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس توسیع کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ فریدہ بی بی کی نگرانی میں نئے تعینات ہونے والے عملے کو کام کی مکمل تربیت اور مہارت حاصل ہو سکے، تاکہ وہ مستقبل میں اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔
​دوسری جانب، فریدہ بی بی نے درخواست کی ہے کہ چھ ماہ کی اس توسیعی مدت کے اختتام پر ان کا تبادلہ ان کے آبائی گھر کے قریب کسی اسٹیشن پر کیا جائے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ سکیں۔ اہلیانِ علاقہ نے بی ایچ یو میں الٹراساؤنڈ کی سہولت کی فراہمی اور فریدہ بی بی کی خدمات کو مزید چھ ماہ تک برقرار رکھنے کے اقدام کو سراہا ہے

Address

Khot, Upper Chitral, Khyber Pakhtunkhwa
Chitral

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Descovery Khot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share