04/08/2026
چترال میں حالیہ تباہ کن سیلاب: موسمیاتی تبدیلی، شدید بارشیں اور GLOF کے ممکنہ اثرات
ایک سائنسی و موسمیاتی تجزیہ
گزشتہ چند دنوں سے ضلع چترال کے مختلف علاقوں سے آنے والی خبریں نہایت تشویشناک ہیں۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیلابی ریلوں نے مکانات، سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور لوگوں کی برسوں کی محنت لمحوں میں پانی کی نذر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مالی نقصان انتہائی سنگین ہے۔
چترال ایک بلند پہاڑی ضلع ہے جہاں دنیا کے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ موسمِ گرما میں درجۂ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر قدرتی طور پر پگھلتے ہیں، لیکن جب درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ہو جائے تو برف پگھلنے کی رفتار بھی غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس سال جولائی اور اگست کے آغاز میں شمالی پاکستان کے کئی علاقوں میں درجۂ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل میں اضافہ ہوا۔
جب گلیشیئر تیزی سے پگھلتے ہیں تو ان کے سامنے یا کناروں پر موجود جھیلوں میں پانی جمع ہوتا رہتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ان جھیلوں کا قدرتی بند ٹوٹ جائے تو اچانک انتہائی طاقتور سیلابی ریلا نیچے کی آبادیوں کی طرف بڑھتا ہے۔ اس واقعے کو گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا سیلاب (Glacial Lake Outburst Flood - GLOF) کہا جاتا ہے۔
تاہم، یہ بات سائنسی دیانت داری کے ساتھ واضح کرنا ضروری ہے کہ حالیہ سیلابی ریلوں کو حتمی طور پر GLOF قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک متعلقہ ادارے، جیسے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD)، جی بی اور خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور دیگر تکنیکی ادارے اپنی تحقیقات مکمل نہ کر لیں۔ بعض اوقات مسلسل شدید بارشیں، بادل پھٹنے (Cloudburst) یا پہاڑی ندی نالوں میں اچانک پانی کا بہاؤ بھی اسی نوعیت کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
حالیہ واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے اثرات پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ درجۂ حرارت میں اضافہ، شدید بارشوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے عوامل مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ عوام بارش کے دوران اور اس کے بعد دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی گزرگاہوں سے دور رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور محکمۂ موسمیات و ضلعی انتظامیہ کی جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ اسی طرح حکومت کو بھی گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، بروقت وارننگ سسٹم، مضبوط انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی پر مزید توجہ دینی ہوگی تاکہ مستقبل میں جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ چترال اور ملک کے تمام متاثرہ علاقوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، متاثرہ خاندانوں کو صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
تحریر:
آفتاب الملک
M.Phil (Hydrogeology), M.Sc. (Geophysics)
Pakistan Meteorological Department (PMD)