JUI EDITS

JUI EDITS محمد عمیر بیگ

04/12/2025

مسلم لیگ ن مخصوص مذہبی تعبیر کی شقیں متعارف کراتی ہے اور پھر اعتراض آنے پر کمال سادگی اور معصومیت سے معترضین کو کم فہم قرار دے دیتی ہے. سوال ہہ ہے کہ یہ ایسے معاملات میں پہلے ہی پارلیمان میں موجود جماعتوں اور قیادت سے مشاورت کیوں نہیں کر لیتی.

کل بیرسٹر ظفراللہ تھے جو فرماتے تھےہماری قانون سازی کو تو سمجھا نہیں گیا ہم تو بڑی نیک نیتی سے حلف نامے کی لفظی اصطلاح کو بدل رہے تھے بس لوگ سمجھ نہ سکے اور آج اقلیتی کمیشن کے معاملے میں مولانا فضل الرحمن صاحب نے اعتراض کیا تو جناب اعظم نذیر تارڑ بھی وہی عذر اختیار کر رہے ہیں اور ان کا بھی یہی خیال ہے کہ ان کی قانون سازی تو درست ہے بس چند ناقدین اسے خاص مذہبی رنگ دے رہے ہیں.

سوال یہ ہے کہ بار بار ایسی مشق کی ہی کیوں جاتی ہے

پارلیمان میں اگر مسودہ دیکھے بغیر ہی یس اور نو کی رسم چلی ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رسم کو ویپنائز کرتے ہوئے ایسی شقیں ڈال لی جائیں جن کا تعلق مذہبی حساسیت سے ہو.

___
آصف محمود رپورٹ سخی گل جمعیتی shared by Muhammad Umair Baig #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

شق 35 اصل رولا کیا تھا؟پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچا...
04/12/2025

شق 35 اصل رولا کیا تھا؟

پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچانک ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر اس بل میں ایسا کیا تھا جس پر مذہبی حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید تشویش ظاہر کی۔ عام شہریوں کی اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اصل تنازع کس شق کے گرد گھوم رہا تھا، اور اس شق کو حذف کرنے پر کیوں حکومت سمیت پورا ایوان متفق ہوا۔

یہ کمیشن پہلے سے موجود تھا، مگر اس کی قانونی حیثیت مبہم تھی۔ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ کمیشن کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے، اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور طریقہ کار کا تعین ہو جائے، اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کیلئے ایک مضبوط اور دستوری ادارہ قائم ہو۔ اسی مقصد کیلئے یہ بل سال 2025 میں پیش کیا گیا۔

مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب بل کے مسودے میں شق 35 شامل کی گئی۔ اس شق کا انگریزی متن کچھ یوں تھا:

“The provisions of this Act shall have effect notwithstanding anything contrary contained in any other law.”
یعنی:
“اس ایکٹ کی دفعات کو دیگر تمام موجودہ قوانین پر فوقیت حاصل ہو گی، چاہے کہیں بھی کوئی متضاد قانون موجود ہو۔”

یہ محض ایک جملہ تھا، مگر اسی ایک جملے نے ملک میں ایک حساس بحث کو جنم دیا۔
شق 35 کا مطلب یہ تھا کہ اگر کمیشن کوئی فیصلہ، سفارش یا رپورٹ جاری کرتا ہے تو وہ فیصلہ پاکستان کے کسی بھی موجودہ قانون پر سبقت رکھ سکتا ہے۔ یہاں سے خدشات نے جنم لیا۔

پاکستان کے حساس مذہبی قوانین، خصوصاً:
• آئین کی دفعات 260 وغیرہ
• قادیانی قوانین (Ordinance XX, 1984)
• مذہبی شناخت اور مذہبی آزادی سے متعلق قوانین
• توہینِ مذہب اور مذہبی تحفظ کی دفعات

یہ سب اپنے مخصوص پس منظر، حساسیت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔

تشویش یہ تھی کہ اگر کمیشن میں مستقبل میں کوئی ایسا رکن آ جائے جو سیکولر ذہن رکھتا ہو، یا جس کی مذہبی حساسیت کمزور ہو، تو وہ کسی ایسے معاملے میں “حقوقِ اقلیت” کے نام پر ایسی سفارش یا رپورٹ جاری کر سکتا ہے جو مذکورہ قوانین کی تشریح یا روح پر اثر انداز ہو۔ اور چونکہ شق 35 کمیشن کو دیگر قوانین پر فوقیت دیتی تھی، اس لئے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ آئین کی مذہبی دفعات یا حساس قوانین کمزور پڑ جائیں یا ان کی قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔

یہ ایک ایسی بات تھی جس پر مذہبی طبقات، آئینی ماہرین اور متعدد سیاسی حلقے اپنی اپنی جگہ فکرمند تھے۔

مشترکہ اجلاس میں جب بل آیا تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے شق 35 کی حساسیت پر پورے ایوان کو بریف کیا اور حکومت کو آگاہ کیا کہ اس شق کی موجودگی مستقبل میں بہت بڑے قانونی اور نظریاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثالوں اور آئینی نکات کے ساتھ بتایا کہ یہ شق پاکستان کے مذہبی قوانین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں رہا۔
• پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کی تائید کی،
• پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی مکمل اتفاق کیا،
• اور سب سے اہم بات کہ حکومت نے بھی نہ صرف اس نکتہ کی سنگینی کو محسوس کیا بلکہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے شق 35 کو بل سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

یوں ایک ترمیم پیش کی گئی، شق 35 بل سے خارج کردی گئی، اور بل نئی صورت میں منظور کر لیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد اب کمیشن کو کوئی ایسا اختیاری اختیار حاصل نہیں ہوگا جو پاکستانی قوانین یا آئین پر فوقیت رکھتا ہو۔ کمیشن کے فیصلے اب محض سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں قانونی بالادستی حاصل نہیں۔

یہ کریڈٹ اس لئے جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن صاحب کو دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہ نقطہ اٹھایا جو عام لوگوں سے لے کر اکثر سیاستدانوں تک کی سمجھ سے اوجھل تھا۔ شور ضرور بہت ہوا، سوشل میڈیا پر بحثیں بھی چلیں، مگر عوام کی اکثریت کو علم ہی نہیں تھا کہ شق 35 اصل میں ہے کیا اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے تھے۔

اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ شق 35 کا معاملہ محض ایک قانونی تکنیکی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک نہایت حساس معاملہ تھا جو مستقبل میں پاکستان کے قوانین کے پورے ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتا تھا
#جمعیتعلماءاسلام #سیاست

04/12/2025

میرے بیانات سے کچھ لوگ ناخوش ہے میں حق بات ہمیشہ کرونگااور مجھے اطلاعات بھی ارہاہے کہ میرے جان کوخطرہ ہےاگر مجھے کچھ ہوا جہاں سے بھی ہوا اسکا زمدار بلوچستان اور پاکستان کے حکومت ہے۔ شاہین جمیعت حافظ حمد اللہ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

03/12/2025

*جیونیوز کی من گھڑت سرخی* 🖐️
> اصل کلپ یہ ہے کہ ہمیں تو عمران سے شکایت تھی کہ وہ مغربی ایجنڈے کا علمبردار ہے۔
> مگر موجودہ حکومت تو اسی ایجنڈے کو دوام دے رہی ہے۔ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست Maulana Fazl ur Rehman

کہتا تھا کہ ھم مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس نہیں جائیں گے بیٹا تمہارا باپ بھی جائے گا۔        #جمعیتعلماءاسلام      #سی...
03/12/2025

کہتا تھا کہ ھم مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس نہیں جائیں گے بیٹا تمہارا باپ بھی جائے گا۔ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی عیدگاہ راولپنڈی آمد،پیر نقیب الرحمان صاحب سے ملاقات ، سنیٹر نورالحق قادری،چئیر می...
03/12/2025

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی عیدگاہ راولپنڈی آمد،پیر نقیب الرحمان صاحب سے ملاقات ، سنیٹر نورالحق قادری،چئیر مین اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر راغب نعیمی،مولانا سعید یوسف،مفتی ابرار احمد اور دیگر موجود
#جمعیتعلماءاسلام #سیاست

02/12/2025

قائد جمیعت مولانا مولانا فضل الرحمن کا قومی اسمبلی میں خطاب #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

‏ویلڈن جےیوآئی …!!!پارلیمنٹ میں مشکوک شقوں اور خفیہ راستوں کو بےنقاب کرکے جےیوآئی نے ایک بار پھر اپنا دینی اور آئینی کرد...
02/12/2025

‏ویلڈن جےیوآئی …!!!
پارلیمنٹ میں مشکوک شقوں اور خفیہ راستوں کو بےنقاب کرکے جےیوآئی نے ایک بار پھر اپنا دینی اور آئینی کردار ثابت کر دیا۔

ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کے معاملے پر آپ کی بروقت مزاحمت نے ہر پوشیدہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔

جے یو آئی کے اس واضح اور جرات مندانہ مؤقف کو سلام عقیدت…!!!
#جمعیتعلماءاسلام

01/12/2025

شکریہ ادا کریں مولانا فضل الرحمان صاحب کا ,
جو کام ہم سب کا تھا وہ اکیلا کر رہا ہے ♥️۔
رپورٹ #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

01/12/2025

*زمونگ روپئ دہ ٹکے ھم ندہ*
> سی پیک عمران خان کے دور میں بھی بند تھا آج بھی بند ہے۔
> کل بھی خلاف شریعت قوانین پاس ہو رہے تھے آج بھی ہو رہے ہیں۔
> کل بھی مدارس کی رجسٹریشن بند تھی اور آج بھی بند ہے۔
> کل بھی جرنیلوں کو مراعات دی جارہی تھی آج بھی جرنیلوں کو مراعات دی جارہی ہے۔
> اسی مغربی پالیسیوں کی تسلسل آج بھی ہے.
*teamJUI JUI EDITS #جمعیتعلماءاسلام #سیاست

پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر پر حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد پشاور پولیس نے تمام ضلعی پولیس افسران کو موٹرسائیکل سواروں کے حوال...
29/11/2025

پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر پر حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد پشاور پولیس نے تمام ضلعی پولیس افسران کو موٹرسائیکل سواروں کے حوالے سے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد اور عسکریت پسند اکثر اپنی کارروائیوں میں موٹرسائیکل کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے بغیر رجسٹریشن کی موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ مشکوک موٹرسائیکل سوار، خاص طور پر وہ جو چادر یا دیگر پردہ استعمال کرتے ہوں، کی تلاشی ضرور لی جائے۔ ساتھ ہی، سواریاں لے جانے والے موٹرسائیکل سواروں کی مکمل تصدیق کی جائے، خاص طور پر اگر وہ کسی سکیورٹی کمپنی سے منسلک نہ ہوں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ممکنہ دہشت گردانہ کارروائیوں کو بروقت روکنا ہے۔ 🚨💥🔥

Address

Mori Lasht
Chitral
17200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI EDITS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share