04/12/2025
شق 35 اصل رولا کیا تھا؟
پارلیمنٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں “نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025ء” کی منظوری کے ساتھ اچانک ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آخر اس بل میں ایسا کیا تھا جس پر مذہبی حلقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے شدید تشویش ظاہر کی۔ عام شہریوں کی اکثریت کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ اصل تنازع کس شق کے گرد گھوم رہا تھا، اور اس شق کو حذف کرنے پر کیوں حکومت سمیت پورا ایوان متفق ہوا۔
یہ کمیشن پہلے سے موجود تھا، مگر اس کی قانونی حیثیت مبہم تھی۔ حکومت کا مقصد یہ تھا کہ کمیشن کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے، اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور طریقہ کار کا تعین ہو جائے، اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کیلئے ایک مضبوط اور دستوری ادارہ قائم ہو۔ اسی مقصد کیلئے یہ بل سال 2025 میں پیش کیا گیا۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب بل کے مسودے میں شق 35 شامل کی گئی۔ اس شق کا انگریزی متن کچھ یوں تھا:
“The provisions of this Act shall have effect notwithstanding anything contrary contained in any other law.”
یعنی:
“اس ایکٹ کی دفعات کو دیگر تمام موجودہ قوانین پر فوقیت حاصل ہو گی، چاہے کہیں بھی کوئی متضاد قانون موجود ہو۔”
یہ محض ایک جملہ تھا، مگر اسی ایک جملے نے ملک میں ایک حساس بحث کو جنم دیا۔
شق 35 کا مطلب یہ تھا کہ اگر کمیشن کوئی فیصلہ، سفارش یا رپورٹ جاری کرتا ہے تو وہ فیصلہ پاکستان کے کسی بھی موجودہ قانون پر سبقت رکھ سکتا ہے۔ یہاں سے خدشات نے جنم لیا۔
پاکستان کے حساس مذہبی قوانین، خصوصاً:
• آئین کی دفعات 260 وغیرہ
• قادیانی قوانین (Ordinance XX, 1984)
• مذہبی شناخت اور مذہبی آزادی سے متعلق قوانین
• توہینِ مذہب اور مذہبی تحفظ کی دفعات
یہ سب اپنے مخصوص پس منظر، حساسیت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔
تشویش یہ تھی کہ اگر کمیشن میں مستقبل میں کوئی ایسا رکن آ جائے جو سیکولر ذہن رکھتا ہو، یا جس کی مذہبی حساسیت کمزور ہو، تو وہ کسی ایسے معاملے میں “حقوقِ اقلیت” کے نام پر ایسی سفارش یا رپورٹ جاری کر سکتا ہے جو مذکورہ قوانین کی تشریح یا روح پر اثر انداز ہو۔ اور چونکہ شق 35 کمیشن کو دیگر قوانین پر فوقیت دیتی تھی، اس لئے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ آئین کی مذہبی دفعات یا حساس قوانین کمزور پڑ جائیں یا ان کی قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔
یہ ایک ایسی بات تھی جس پر مذہبی طبقات، آئینی ماہرین اور متعدد سیاسی حلقے اپنی اپنی جگہ فکرمند تھے۔
مشترکہ اجلاس میں جب بل آیا تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے شق 35 کی حساسیت پر پورے ایوان کو بریف کیا اور حکومت کو آگاہ کیا کہ اس شق کی موجودگی مستقبل میں بہت بڑے قانونی اور نظریاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثالوں اور آئینی نکات کے ساتھ بتایا کہ یہ شق پاکستان کے مذہبی قوانین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں رہا۔
• پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمن کے مؤقف کی تائید کی،
• پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی مکمل اتفاق کیا،
• اور سب سے اہم بات کہ حکومت نے بھی نہ صرف اس نکتہ کی سنگینی کو محسوس کیا بلکہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے شق 35 کو بل سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔
یوں ایک ترمیم پیش کی گئی، شق 35 بل سے خارج کردی گئی، اور بل نئی صورت میں منظور کر لیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد اب کمیشن کو کوئی ایسا اختیاری اختیار حاصل نہیں ہوگا جو پاکستانی قوانین یا آئین پر فوقیت رکھتا ہو۔ کمیشن کے فیصلے اب محض سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں قانونی بالادستی حاصل نہیں۔
یہ کریڈٹ اس لئے جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن صاحب کو دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہ نقطہ اٹھایا جو عام لوگوں سے لے کر اکثر سیاستدانوں تک کی سمجھ سے اوجھل تھا۔ شور ضرور بہت ہوا، سوشل میڈیا پر بحثیں بھی چلیں، مگر عوام کی اکثریت کو علم ہی نہیں تھا کہ شق 35 اصل میں ہے کیا اور اس کے کیا نتائج نکل سکتے تھے۔
اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ شق 35 کا معاملہ محض ایک قانونی تکنیکی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک نہایت حساس معاملہ تھا جو مستقبل میں پاکستان کے قوانین کے پورے ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتا تھا
#جمعیتعلماءاسلام #سیاست