Subhan Allah Masjid Dadu Official

Subhan Allah Masjid Dadu Official مدرسہ دارالعلوم طاھریہ

نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
10/08/2026

نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔

10/08/2026

آپ نے کبھی یہ سنا ہے حضور کسی کو جواب دے رہے ہوں
سوشل میڈیا کے حوالے سے
صاحبزادہ قبلہ سائیں جعفر صادق طاہر صاحب کا فقیروں کے لئے حکم

استاذالحفاظ قاري القرآن حضرت علامہ و مولانا مفتي صغير احمد بلوچ نقشبندي طاهري صاحب(صدر مدرس دار العلوم طاھريہ جامع مسجد ...
10/08/2026

استاذالحفاظ قاري القرآن حضرت علامہ و مولانا مفتي صغير احمد بلوچ نقشبندي طاهري صاحب
(صدر مدرس دار العلوم طاھريہ جامع مسجد سبحان الله مجيد قريشي ڪالوني)
مرڪزي جماعت اھلسنت ضلع دادو جي سڏ تي آل سني تنظيمات دادو پاران ختم نبوت ﷺ مارچ کي خطاب ڪندي

ہمارے ملک پاکستان میں یہ رائے کافی مضبوط ہے کہ سیاستدان اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں ہونے دیتے۔ خاص طور بیساکھیوں ...
09/08/2026

ہمارے ملک پاکستان میں یہ رائے کافی مضبوط ہے کہ سیاستدان اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں ہونے دیتے۔ خاص طور بیساکھیوں پر کھڑے بزرجمہر ایک سطر میں ہر مسئلہ اور اس کے مجرم دونوں واضح کر دیتے ہیں تاکہ ہر طرف دھند قائم رہے اور معاملات الجھے رہیں۔

اس کے ساتھ بلدیاتی نظام کی اہمیت پر بات کی جاتی ہے، اس کے فوائد (جو کہ درست بھی ہیں ) لکھے جاتے ہیں اور بعد ازاں گالیوں کی گردان شروع ہوتی ہے، جس کا رخ سیاست کرنے اور سیاست پر یقین رکھنے والوں کی طرف ہوتا ہے۔

ویسے اس بات میں حقیقت بھی ہے کہ ہمارے ہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، یعنی ایم این ایز اور ایم پی ایز، بلدیاتی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے انکار کرنا مشکل ہے، اور اصولی طور پر یہ ایک ناقابل قبول طرزِ حکمرانی ہے۔ کیوں کہ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں حکومت اور عوام کے درمیان سب سے مضبوط تعلق محلے، ٹاؤن اور شہر کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ ایک عام شہری اپنے گھر، گلی، محلے، پانی، سڑک، پارک، نکاسیٔ آب یا دیگر مسائل کے حل کے لیے قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن کے پاس نہیں جاتا بلکہ اپنے منتخب بلدیاتی نمائندے سے رجوع کرتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو شہری اور ریاست کے درمیان مضبوطی سے موجود ہے اور شہری و ریاست کے درمیان اعتماد قائم رکھتا ہے۔ اسی لیے جمہوری ممالک میں بلدیاتی اداروں کو نمائشی حیثیت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں وسائل، اختیار کی حقیقی طاقت بھی دی جاتی ہے۔

لیکن پاکستان کا مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز بلدیاتی اختیارات اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کا بندوبست ایک ہائبرڈ شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہاں سیاستدانوں کو صرف حکومت کا ظاہری چہرہ دکھانے کے لئے رکھا جاتا ہے کہ گالیوں اور ناکامی کے لئے وہ میسر ہوں۔ باقی رہے اقتدار کے بنیادی فیصلے، وہ کوئی اور کرتا ہے۔ ملک کے اہم معاملات اور عوام سے جڑے مفادات سے متعلق منتخب نمائندہ فیصلہ لینے تو کیا، رائے دینے کا حق تک نہیں رکھتا۔ یہ عمل کون سے ترقی یافتہ اور جمہوری ریاست میں ہوتا ہے؟ حد یہ ہے عوام جن سیاستدانوں کو ووٹ دے کر حقِ حکومت سونپتے ہیں، عملی طور پر وہ اختیار انہیں مکمل طور پر منتقل نہیں ہوتا۔ منتخب حکومتیں ملکی آئین کی موجودگی میں بے بسی کا شاہکار نظر آتی ہیں۔

میری رائے میں یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھے بغیر بلدیاتی نظام کی ناکامی کو پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب ایک سیاستدان خود اختیارات سے محروم ہو تو وہ اپنی سیاسی حیثیت ثابت کرنے کے لیے انہی اختیارات کو مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش کرے گا جو اس کے پاس باقی رہ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ بلدیاتی سطح کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنے حلقے میں نہ صرف اپنی طاقت کا اظہار کر سکے بلکہ اگلے انتخابات میں کامیابی کے امکانات پیدا کر سکے۔ انہیں اختیارات سے وہ اپنے جائز یا ناجائز مفادات کی تکمیل بھی کر سکے۔ یوں وہ خود بھی اختیارات کی مرکزیت کا حصہ بن جاتا ہے، حالانکہ وہ خود کسی نہ کسی درجے میں شکار بھی ہوتا ہے۔

اسی لیے یہ توقع کرنا کہ قومی اور صوبائی سطح کے نمائندے خوش دلی سے بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دیں گے، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جو شخص خود اقتدار کی مکمل طاقت سے محروم ہو، وہ اپنے ہاتھ میں موجود آخری طاقت بھی آسانی سے کیوں چھوڑے گا؟ یہ انسانی اوصاف کے اعتبار سے ایک قابلِ فہم رویہ ہے۔ اور جب وہ دیکھتا ہے کہ ہمارے ملک میں اوپری سطح پر کون سے آئینی و جمہوری قوانین پر عمل ہوتا ہے تو وہ خود لاقانونیت کا انتخاب کرتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوتا ہے۔ ایک طرف اختیارات اوپر کی سطح پر مرتکز رہتے ہیں، دوسری طرف جو اختیارات نیچے منتقل ہونے چاہئیں وہ بھی درمیان کی سطح پر روک لیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام شہری نہ قومی حکومت تک رسائی رکھتا ہے، نہ صوبائی حکومت اس کے روزمرہ مسائل حل کرتی ہے اور نہ ہی بلدیاتی ادارے اتنے با اختیار ہوتے ہیں کہ اس کی مشکلات کا ازالہ کر سکیں۔ آخرکار مصائب، تاخیر، بدانتظامی اور محرومی کا بوجھ عوام ہی اٹھاتے ہیں، جن کے پاس اکثر سہنے کے علاوہ کوئی موثر راستہ باقی نہیں رہتا۔

اگر واقعی پاکستان میں عوامی بھلائی کو اولین ترجیح بنانا ہے اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تو اس بحث کا آغاز صرف بلدیاتی اداروں سے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی ابتدا اوپری سطح سے ہونی چاہیے۔ جب تک اقتدار کے اصل اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل نہیں کیے جاتے، تب تک ان منتخب نمائندوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ آگے بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیار دے دیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔ بصورتِ دیگر ہم ہر چند سال بعد بلدیاتی نظام پر بحث تو کرتے رہیں گے، مگر عوام کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ مسئلہ صرف اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا نہیں، بلکہ اس سے پہلے اختیارات کے اصل مالک کا تعین کرنے کا بھی ہے۔

Qur'an Kareem.
08/08/2026

Qur'an Kareem.

یا نبی سلام علیک یارسول سلام علیک ۔یا حبیب سلام علیک صلواۃ اللّٰہ علیک ۔
08/08/2026

یا نبی سلام علیک یارسول سلام علیک ۔
یا حبیب سلام علیک صلواۃ اللّٰہ علیک ۔

07/08/2026

دادو جامع مسجد سبحان اللہ و مدرسہ دارالعلوم طاہریہ کمیٹی کے عہدیداران اور اساتذۂ کرام کا مشترکہ اجلاس کمیٹی کے صدر مولانا خلیفہ نعمت اللہ قریشی طاہری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں کمیٹی کے عہدیداران خلیفہ حاجی عبد اللہ کوکر، غلام نبی میمن، محمد فہیم کھوکھر جبکہ مدرسہ دارالعلوم طاہریہ کے اساتذۂ کرام مفتی حافظ صغیر احمد بلوچ مولانا حافظ مظفر حسین پنہور مولانا حافظ علی شیر بڑڑو اور مولانا حافظ زبیر احمد پنہور نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور منقبت شريف سے کیا گیا۔ بعد ازاں 23 اگست بروز اتوار جامع مسجد سبحان اللہ میں منعقد ہونے والے عظیم الشان دستاربندی پروگرام کے انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ مدرسہ دارالعلوم طاہریہ کے 5 علماءِ کرام اور 7 حفاظِ کرام کی دستاربندی کی تقریب منعقد ہوگی۔ اجلاس میں پروگرام کی ترتیب اسٹیج پلان مہمانوں کے استقبال نظم و نسق سیکیورٹی دعوت ناموں تشہیر اور دیگر تمام انتظامی امور کو حتمی شکل دی گئی۔ شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ روحانی و تعلیمی تقریب انتہائی منظم، باوقار اور شایانِ شان انداز میں منعقد کی جائے گی۔

Allah Pak k Wali Ko Dekhne SE Kia Mehsoos Hota Hai.
07/08/2026

Allah Pak k Wali Ko Dekhne SE Kia Mehsoos Hota Hai.

07/08/2026

🌿✨ جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت ✨🌿

📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ»
📚 مستدرک الحاکم
السنن الکبریٰ للبیہقی

ترجمہ:
"جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک نور عطا فرماتا ہے۔"

🌸 جمعہ کے بابرکت دن سورۂ کہف کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ عمل ایمان کو تازگی بخشتا، دل کو نور سے منور کرتا اور بندۂ مؤمن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا مستحق بناتا ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں ہر جمعہ سورۂ کہف کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

✍️

Address

Dadu
76200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Subhan Allah Masjid Dadu Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share