19/08/2026
ظلم اور استحصال کی حد! ستھرا پنجاب کا وہ ورکر جو دن رات صفائی کے فرائض سرانجام دیتا ہے، جس کی مبینہ تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے، اسے صرف 19 ہزار روپے تھمائے جا رہے ہیں۔پگر یہ اپنے کام میں خرد برد کیوں نہ کریں!
حد تو یہ ہے کہ جب وہ غریب اپنے جائز حق کے لیے کمشنر گوجرانوالہ کی کھلی کچہری میں فریاد لے کر پہنچا، تو ڈسکہ میں بیٹھے ستھرا پنجاب کے ٹھیکیدار اور خود ساختہ "مامے" اس کی آواز دبانے اور حق سچ پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کے لیے دوڑیں لگاتے رہے
آخر غریبوں اور محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی میں سے یہ لاکھوں روپے کس کس کی جیب میں جا رہے ہیں؟ کون کون ہے حصے دار؟کون ہے گا ان غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کا حساب ؟یہ کھلی ڈکیتی اور غریب کا استحصال آخر کب تک چلے گا؟ کیا ڈسکہ میں قانون، انصاف اور مظلوموں کا پرسان حال کوئی ہے؟