19/04/2026
پیر کوہ، ضلع ڈیرہ بگٹی (بلوچستان) جہاں سے نکلنے والی گیس پورے پاکستان کو روشن کرتی ہے، مگر خود یہ علاقہ اب بھی عدم سہولیات کا شکار ہے۔ نہ گیس، نہ بجلی، نہ ہی صاف پانی کی سہولت میسر ہے۔ سالانہ ہیضہ کی وبا درجنوں بچوں اور بزرگوں کی جان لے لیتی ہے، 2021 میں 50 سے 100 افراد اس وبا کا شکار ہوئے۔ گرمیوں میں پانی کی قلت شدید ہو جاتی ہے اور غریب عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے خاموشی ہے۔ دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے، جبکہ یہاں ایک بچہ رات کو روشنی میں بیٹھ کر پڑھائی بھی نہیں کر سکتا، نہ ہسپتال ہے نہ علاج کی سہولت۔ ماہانہ 15 سے 20 خواتین زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، معمولی بخار بچوں کی زندگی کا دشمن بن جاتا ہے۔ گیس کے خزانے کے باوجود خواتین آج بھی لکڑیاں جلا کر گزارا کرتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، بدامنی عام ہے، ہر 10 دن بعد دھماکوں کی آوازیں ایک معمول بن چکی ہیں۔ سکول، روزگار اور انصاف سے محرومی کیساتھ سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کے وسائل سے پورا ملک فائدہ اٹھا رہا ہے؟ پیرکوہ اور ڈیرہ بگٹی کے لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی آواز بنیں، اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں کیونکہ اگر آج خاموش رہے تو کل ہماری نسلوں کا مقدر صرف محرومی ہوگا۔ Pirkoh News, Dera Bugti & Sui News, Dera Bugti, Dera Bugti People's Voice, Nothani Tribe