11/10/2025
شادن لنڈ کو تحصیل بنانا کیوں ضروری ہے؟
از قلم: ادریس لنڈ
شادن لنڈ جنوبی پنجاب کا وہ بدنصیب خطہ ہے جو تین اضلاع — ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور کوٹ ادو — کے سنگم پر واقع ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے باوجود یہ علاقہ ہمیشہ انتظامی غفلت اور سیاسی بے حسی کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے باسی آج بھی بنیادی انسانی حقوق اور سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شادن لنڈ کی عوام برسوں سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اس علاقے کو تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ یہاں ترقی کا عمل شروع ہو اور لوگ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں
شادن لنڈ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا محلِ وقوع ہے۔ یہ تین اضلاع کی سرحدوں پر واقع ہونے کے باعث ایک انتظامی مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں سے تونسہ، کوٹ ادو اور ڈیرہ غازی خان تینوں اضلاع کے مختلف علاقوں تک آسان رسائی حاصل ہے۔ اس کے باوجود شادن لنڈ کو کسی ایک ضلع کی مکمل توجہ نہیں مل پاتی۔ ہر ضلع اسے دوسرے کی حدود میں سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں عوام مسائل کے دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اگر شادن لنڈ کو الگ تحصیل بنا دیا جائے تو نہ صرف انتظامی معاملات بہتر ہوں گے بلکہ ترقیاتی منصوبے بھی یہاں براہِ راست نافذ کیے جا سکیں گے
شادن لنڈ کے عوام کو آج بھی ان سہولیات کا انتظار ہے جو کسی بھی شہری علاقے کا بنیادی حق ہوتی ہیں۔ یہاں کوئی بڑا اسپتال نہیں، جہاں لوگوں کو ایمرجنسی یا زچگی کے وقت بروقت علاج مل سکے۔ آر ایچ سی شادن لنڈ کی حالت کسی کھنڈر سے کم نہیں۔ یہاں حاملہ خواتین کا فرش پر ڈیلیوری ہونا کوئی انہونی بات نہیں رہی۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے۔ صبح گیارہ بجے سے پہلے ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے اور سورج ڈھلنے کے بعد پورا ہسپتال سنسان ہو جاتا ہے۔
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی شادن لنڈ بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ لڑکیوں کے لیے کوئی ڈگری کالج نہیں، جس کے باعث اکثر بچیاں میٹرک یا ایف اے کے بعد تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کئی والدین اپنی بچیوں کو دوسرے شہروں میں بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا یہ علاقہ علمی و فکری پسماندگی کا شکار ہے۔ اگر یہاں ڈگری کالج قائم کیا جائے تو نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ ملے گا بلکہ سماجی ترقی کی راہیں بھی کھلیں گی