Okasha khan

Okasha khan "Future Advocate | Law Student"
(1)

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ کا غیرت کے نام پر قتل سے متعلق فیصلہ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر ق...
25/08/2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ کا غیرت کے نام پر قتل سے متعلق فیصلہ

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمہ میں راضی نامہ مسترد کردیا

جسٹس سید فرہاد علی شاہ ملزم محمد ناصر اور پرویز کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردیں


ملزمان پر اٹھارہ سالہ نجماں مائی کو غیرت کے ما۔پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام ہے


غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے قانونی نکتہ ہے کردیا


غیرت کے نام پر قتل ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ


قانون کسی شخص کو غیرت کے نام پر کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، فیصلہ


نہ ملکی قانون اور نہ مذہب نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیتا ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ


غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل نو میں دیے گئے حقِ زندگی اور آزادی کے منافی ہے، جسٹس سید فرہاد علی شاہ

یعنی کے کمال ہی نہیں ہو گیا سپریم کورٹ آزادی کے لئے کھڑی ہو گئی اے آر واۓ نے نواز شریف کے خلاف رپورٹ چلا دیعائشہ گلالئی ...
21/08/2026

یعنی کے کمال ہی نہیں ہو گیا

سپریم کورٹ آزادی کے لئے کھڑی ہو گئی

اے آر واۓ نے نواز شریف کے خلاف رپورٹ چلا دی

عائشہ گلالئی نے پی پی اور ن کو بےشرم کہہ دیا

حیراں ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں
خاتون صحافی ثمینہ پاشا
سورس: ایکس اکاؤنٹ

دریائے راوی اور بادشاہی مسجد  لاہور کی وہ تاریخ جو آج آنکھوں سے اوجھل ہےآج اگر کوئی شخص بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑا ...
21/08/2026

دریائے راوی اور بادشاہی مسجد لاہور کی وہ تاریخ جو آج آنکھوں سے اوجھل ہے

آج اگر کوئی شخص بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑا ہو کر شمال کی جانب دیکھے تو اسے دریائے راوی کافی فاصلے پر دکھائی دیتا ہے۔ مگر چند صدیاں پہلے لاہور کا منظر بالکل مختلف تھا۔ راوی صرف لاہور کے قریب نہیں تھا، بلکہ مغلیہ دور میں اس کا بہاؤ لاہور قلعے اور بادشاہی مسجد کی فصیلوں تک پہنچتا تھا۔ پنجاب حکومت کے سرکاری تاریخی بیان میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ اورنگزیب کے دور میں راوی قلعے اور مسجد کی فصیلوں کو چھوتا تھا، جبکہ آج وہ لاہور سے کئی میل دور بہتا ہے۔

یہ حقیقت لاہور کی تاریخ کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ آج کا لاہور ایک عظیم شہری مرکز ہے، لیکن اس کے عین قلب میں موجود بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ اور روشنائی دروازہ ہمیں اس زمانے کی یاد دلاتے ہیں جب شہر، قلعہ، باغات اور دریا ایک ہی جغرافیائی نظام کا حصہ تھے۔

بادشاہی مسجد اور راوی — ایک غیر معمولی تعلق

بادشاہی مسجد کی تعمیر 1673ء میں اورنگزیب عالمگیر کے دور میں ہوئی۔ اس مسجد کا مقام محض مذہبی یا شاہی ضرورت کے تحت منتخب کیا گیا مقام نہیں تھا؛ اس کے گرد موجود جغرافیہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ مسجد کی شمالی سمت راوی کے قریب تھی۔ بعض تاریخی مطالعات کے مطابق اسی وجہ سے مسجد کا شمالی حصہ دریا کے کنارے کے قریب رکھا گیا اور اس کی ساخت دیگر بڑی مغلیہ مساجد سے مختلف نظر آتی ہے۔ بعض ذرائع یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ راوی کے قریب ہونے کی وجہ سے مسجد کو بلند چبوترے پر تعمیر کیا گیا تاکہ سیلابی پانی کے ممکنہ اثرات سے عمارت محفوظ رہے۔

یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے: بادشاہی مسجد صرف دریا کے قریب تعمیر نہیں ہوئی تھی؛ اس کا پورا شہری منظرنامہ ہی دریا سے جڑا ہوا تھا۔

روشنائی دروازہ بھی اسی تعلق کی ایک علامت ہے۔ تاریخی روایت کے مطابق راوی اس قدر قریب تھا کہ دریا سے آنے والے مسافروں اور کشتیوں کے لیے اس سمت سے لاہور میں داخلہ اہم تھا۔ اسی نسبت سے رات کے وقت اس دروازے پر چراغ روشن کیے جاتے تھے اور اسے "روشنائی دروازہ" کہا جانے لگا۔

راوی صرف دریا نہیں، لاہور کی قدرتی دفاعی دیوار بھی تھا

قدیم لاہور کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دریاؤں کا کردار صرف پانی فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ دریا دفاع، تجارت، زراعت، نقل و حمل اور شہری منصوبہ بندی کا بھی حصہ ہوتے ہیں۔

لاہور قلعہ ایک بلند مقام پر قائم کیا گیا تھا، جبکہ راوی اس کے شمالی حصے کے قریب بہتا تھا۔ یوں ایک طرف قلعے کی بلند زمین اور دوسری طرف دریا کا قدرتی نظام شہر کو ایک منفرد دفاعی جغرافیہ فراہم کرتا تھا۔

قدیم نقشوں اور تصویری شواہد میں راوی کو لاہور کی فصیلوں اور بادشاہی مسجد کے میناروں کے قریب دکھایا گیا ہے۔ ایک تاریخی تصویری ماخذ میں اٹھارویں یا انیسویں صدی کے ابتدائی دور کے ایک منظر میں راوی کو لاہور کی شمالی فصیل کے بالکل قریب دکھایا گیا ہے۔

1662ء کا سیلاب — جب راوی نے لاہور کو اپنی طاقت دکھائی

راوی لاہور کے لیے صرف نعمت نہیں تھا؛ وہ ایک طاقتور قدرتی خطرہ بھی تھا۔

تاریخی روایات میں 1662ء کے ایک بڑے سیلاب کا ذکر ملتا ہے، جس کے بعد لاہور کو سیلابی خطرے سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ عالمگیری بند کا ذکر بھی اسی تاریخی تناظر میں کیا جاتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں تقریباً ساڑھے تین سو سال پرانا ایک سبق دیتا ہے:

لاہور ہمیشہ سے سیلاب کے خطرے سے مکمل طور پر آزاد شہر نہیں تھا۔

اس زمانے کے حکمرانوں کو بھی معلوم تھا کہ اگر دریا اپنا راستہ بدلے یا غیر معمولی سیلاب آئے تو شاہی شہر، قلعہ، باغات اور آبادیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

یعنی آج جب ہم لاہور میں شہری سیلاب، نالوں، دریائی پھیلاؤ اور floodplain کی بات کرتے ہیں تو یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں؛ لاہور کا جغرافیہ صدیوں سے پانی اور انسان کے درمیان ایک مسلسل تعلق کی داستان ہے۔

1854ء — جب پرانا راوی ابھی زندہ تھا

انیسویں صدی کے وسط تک منظر مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوا تھا۔

1854ء کے تاریخی تصویری شواہد میں لاہور کے اطراف پانی کے ایسے چینلز نظر آتے ہیں جو اس دور کے راوی کے پھیلاؤ اور پرانے دریائی راستوں کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ایک 1854ء کے خاکے میں چوبرجی کے قریب راوی کے ایک چینل کا ذکر ملتا ہے، جبکہ تاریخی نقشوں میں لاہور کے شمالی حصوں کے قریب بھی پانی کے راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

یہاں ایک انتہائی دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔

راوی صرف اپنا مرکزی راستہ نہیں بدل رہا تھا؛ اس کے پرانے چینلز اور flood channels بھی لاہور کے مختلف علاقوں سے گزرتے تھے۔

انیسویں اور بیسویں صدی کے تاریخی شواہد میں Buddha Ravi یا قدیم راوی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ایک تاریخی تحقیق کے مطابق بیسویں صدی کے آغاز تک یہ پرانا چینل راوی کے سیلابی پانی کو لے جانے میں کردار ادا کرتا تھا، جبکہ ایک اور تاریخی نقشے میں یہ چینل بدامی باغ سے منٹو پارک کے مغربی حصے کی طرف آتا اور آگے جا کر مرکزی دریا سے ملتا دکھایا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جن علاقوں کو ہم مکمل طور پر شہری زمین سمجھتے ہیں، ان میں سے بعض جگہوں کے نیچے اور آس پاس لاہور کے قدیم آبی نظام کی یادیں اب بھی موجود ہیں۔

پھر راوی لاہور سے دور کیسے ہو گیا؟

یہ سوال شاید پوری کہانی کا سب سے اہم حصہ ہے۔

دریا کوئی پائپ نہیں کہ اسے ایک ہی لکیر میں ہمیشہ کے لیے قید کر دیا جائے۔ دریاؤں کے راستے قدرتی طور پر بھی بدلتے ہیں اور انسانی مداخلت سے بھی۔

وقت کے ساتھ راوی کا مرکزی بہاؤ لاہور سے دور ہوتا گیا۔ پرانے چینلز خشک ہوئے، کچھ نالوں میں تبدیل ہوئے، کچھ راستے شہری آبادی کا حصہ بن گئے اور کچھ علاقوں میں دریا کے پرانے سیلابی میدان پر تعمیرات پھیل گئیں۔

آج بھی لاہور کی سرکاری تاریخ میں اس حقیقت کا اعتراف موجود ہے کہ جس راوی نے کبھی قلعے اور بادشاہی مسجد کی فصیلوں کو چھوا تھا، وہ اب لاہور سے کئی میل دور بہتا ہے، جبکہ اس کے پرانے بہاؤ کی ایک یاد "Old River" کے نام سے باقی رہ گئی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ راوی کہاں گیا — اصل سوال یہ ہے کہ راوی کی چھوڑی ہوئی زمین پر کیا بنا؟

یہاں سے تاریخ آج کے لاہور سے جڑ جاتی ہے۔

دریا پیچھے ہٹا تو اس کی چھوڑی ہوئی زمین انسان کے لیے ایک موقع بن گئی۔ شہر پھیلتا گیا۔ سڑکیں بنیں، بستیاں قائم ہوئیں، صنعتیں آئیں اور لاہور کا شہری پھیلاؤ دریائی علاقوں تک پہنچ گیا۔

مگر دریا اپنی پرانی یادداشت نہیں بھولتا۔

قدرتی floodplain صرف ایک خشک زمین نہیں ہوتا۔ یہ دریا کے غیر معمولی بہاؤ، سیلابی پھیلاؤ، زیرِ زمین پانی اور اضافی پانی کے ذخیرے کے لیے قدرتی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔

لاہور کے بارے میں تحقیقی مطالعات بھی یہ بتاتے ہیں کہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ، floodplain پر تعمیرات اور کمزور نکاسی آب سیلابی خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ حالیہ تحقیق نے راوی کے ساتھ آباد آبادیوں میں flood vulnerability اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کو اہم خطرات میں شمار کیا ہے۔

لاہور کے تاریخی شہری جغرافیے پر ایک اور مطالعہ واضح کرتا ہے کہ شہری کاری قدرتی drainage کو محدود کرتی ہے، جس سے بارش کا پانی تیزی سے runoff میں تبدیل ہو سکتا ہے اور flood peak زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔

آج کا راوی — کم پانی، مگر خطرہ ختم نہیں

یہ بھی ایک اہم غلط فہمی ہے کہ چونکہ آج راوی لاہور کے تاریخی مرکز سے دور ہے اور اس میں ماضی کے مقابلے میں کم قدرتی بہاؤ نظر آتا ہے، اس لیے سیلاب کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

ایسا نہیں ہے۔

پاکستان کے Flood Forecasting Division کے مطابق راوی کے مختلف مقامات پر سیلاب کی باقاعدہ حدیں مقرر ہیں۔ شاہدرہ پر کم درجے کا سیلاب 40 ہزار کیوسک، درمیانہ 65 ہزار، زیادہ 90 ہزار، بہت زیادہ 135 ہزار اور غیر معمولی سیلاب 180 ہزار کیوسک سے شروع ہوتا ہے۔

یعنی راوی آج بھی ایک زندہ دریائی نظام ہے۔

اور لاہور کے لیے اصل خطرہ صرف دریا کا عام بہاؤ نہیں بلکہ غیر معمولی سیلاب، شدید مون سون، شہری runoff، drainage کی ناکافی صلاحیت اور floodplain پر تعمیرات کا مجموعہ ہے۔

بادشاہی مسجد کی 1854ء کی تصویر ہمیں کیا بتاتی ہے؟

جب ہم 1854ء کی بادشاہی مسجد کی تصویر یا اس دور کے نقشوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک خوبصورت تاریخی عمارت نہیں دیکھنی چاہیے۔

ہمیں ایک ایسا لاہور دیکھنا چاہیے جہاں:

قلعہ موجود تھا، مسجد موجود تھی، فصیل موجود تھی، دریا قریب تھا، کشتیوں کی گزرگاہیں موجود تھیں اور شہر کا جغرافیہ پانی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

آج مسجد وہیں ہے۔

قلعہ وہیں ہے۔

لاہور بھی وہیں ہے۔

مگر دریا کا راستہ بدل چکا ہے۔

اور شاید اس پوری تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:

«دریا زمین پر صرف ایک لکیر نہیں ہوتا؛ وہ ایک زندہ نظام ہوتا ہے۔»

راوی نے اپنا راستہ بدلا، مگر اس کے پرانے راستے، flood channels اور سیلابی میدان آج بھی لاہور کے جغرافیے میں اپنی نشانیاں چھوڑ گئے ہیں۔

اسی لیے بادشاہی مسجد اور راوی کی داستان صرف مغلیہ دور کی تاریخ نہیں؛ یہ آج کے لاہور کے لیے ایک وارننگ بھی ہے۔

کیونکہ شہر جتنا بھی بڑا ہو جائے، دریا اپنی تاریخ نہیں بھولتا۔

لاہور دریا سے دور نہیں ہوا؛ دریا کا مرکزی راستہ لاہور سے دور ہوا ہے۔
اور جس زمین کو انسان نے دریا کی چھوڑی ہوئی زمین سمجھ کر اپنا لیا، وہ زمین آج بھی دریا کے نظام کا حصہ ہے۔

بادشاہی مسجد آج بھی اپنی پوری شان کے ساتھ کھڑی ہے۔
لاہور قلعہ آج بھی گواہ ہے۔
اور راوی آج بھی بہہ رہا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ آج ہمیں دریا نظر کم آتا ہے، مگر اس کا تاریخی نقشہ زمین کے اندر اور لاہور کی تاریخ کے صفحات میں اب بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔

       
21/08/2026















لاہور ہائیکورٹ میں نئے تعینات ہونے والے 10 ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے...
12/08/2026

لاہور ہائیکورٹ میں نئے تعینات ہونے والے 10 ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے نئے ججز سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے والے ججز میں جسٹس سید فرہاد علی شاہ، جسٹس امجد پرویز، جسٹس اسد علی باجوہ، جسٹس غلام سرور نہنگ، جسٹس شیریں عمران، جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ، جسٹس منور دوگل، جسٹس امیر عجم ملک، جسٹس خالد ابن عزیز اور جسٹس اجمل خان شامل ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے دور میں لاہور ہائیکورٹ کی 23 خالی ججوں کی آسامیوں میں سے بڑی تعداد پر تقرریاں عمل میں آئی ہیں، اس پیش رفت کے بعد انہیں لاہور ہائیکورٹ میں سب سے زیادہ خالی آسامیوں پر کرنے والی چیف جسٹس قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے نئے ججز کی تعیناتی کی منظوری 21 جولائی کو چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں دی گئی تھی۔

میر رضا کی نس میں ایسی دوائی ڈالی گئی جس سے حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد محسوس کرسکتے ہیںقتل سے پہلے میررضا 12گھنٹے اغواء ک...
12/08/2026

میر رضا کی نس میں ایسی دوائی ڈالی گئی جس سے حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد محسوس کرسکتے ہیں
قتل سے پہلے میررضا 12گھنٹے اغواء کاروں کی قید میں رہا، میر رضا کو تیزاب سے نہلایا گیا، خدشہ ہےکہ تیزاب پلایا بھی گیا، وکیل جبران ناصر

مسجد کی پہلی صف میں اگرکوئی غریب بیٹھتا ہے تو اسے اٹھانے کی جرت کسی بادشاہ کی بھی نہیں ہوتی یہی تو اسلام کی خوبصورتی ہے
11/08/2026

مسجد کی پہلی صف میں اگر
کوئی غریب بیٹھتا ہے تو اسے اٹھانے کی جرت کسی بادشاہ کی بھی نہیں ہوتی یہی تو اسلام کی خوبصورتی ہے

کوٹ ادو: مظفرگڑھ کینال میں لوڈر رکشہ گرنے کا افسوسناک واقعہ، سرچ و ریسکیو آپریشن جاری!!واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پول...
11/08/2026

کوٹ ادو: مظفرگڑھ کینال میں لوڈر رکشہ گرنے کا افسوسناک واقعہ، سرچ و ریسکیو آپریشن جاری!!
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوٹ ادو فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور متعلقہ تھانہ کی نفری سمیت ضلع کے دیگر تھانوں سے بھی اضافی پولیس نفری موقع پر طلب کر لی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق لوڈر رکشہ میں کل 26 افراد سوار تھے، جن میں سے اب تک 11 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ 3 افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ مزید 12 افراد کی تلاش کے لیے سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو 1122، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جائے وقوعہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے علاقے کو سرچ آپریشن کے لیے کور کیا گیا ہے جبکہ رات کے وقت سرچ آپریشن میں سہولت کے لیے 4 مختلف مقامات پر فلڈ لائٹس نصب کر دی گئی ہیں۔
سرچ و ریسکیو آپریشن میں 2 ڈی ایس پیز، 5 ایس ایچ اوز اور پولیس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جبکہ پولیس افسران اور جوان مختلف پوائنٹس پر سرچ آپریشن کی نگرانی اور معاونت کر رہے ہیں۔
ڈی پی او کوٹ ادو خود جائے وقوعہ پر موجود رہ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ڈی پی او کوٹ ادو کا کہنا ہے کہ دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں پولیس متاثرہ خاندان اور لواحقین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ آخری فرد کی تلاش اور بحفاظت نکالنے تک سرچ و ریسکیو آپریشن ہر ممکن وسائل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ پولیس کوٹ ادو !!

Address

Dera Ghazi Khan

Telephone

+923014969785

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Okasha khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share