Dera News Network

Dera News Network News Across The Pakistan

دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ،  کالجوں کی ...
26/09/2026

دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ، کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں

دہلی میں ایک اور لڑکی کا ریپ، کالجوں کی لڑکیاں احتجاج کے لئے سڑکوں پر آ گئیں
احتجاج کرنے والی دہلی کی لڑکیوں کا مطالبہ سادہ ہے؛ خاتون وزیر اعلیٰ گھر سے باہر تحفظ کو یقینی بنائے اور ریپسٹوں کی سسٹمیٹِک پشت پناہی بند کی جائے۔


(ویب ڈیسک) جب نظام خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے۔ یہ اب بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہو رہا ہے جہاں بچی کے ریپ کے بعد خوفزدہ ماؤں نے اپنی بچیوں کو پڑھنے کے لئے گھر سے باہر بھیجنا کم کر دیا ہے۔ لڑکیاں اس عدم تحفظ اور خوف کی صورتحال پر احتجاج کے لئے ماؤں کے خوف کی پیروی کرنے کی بجائے سڑک پر احتجاج کے لئے آ گئیں۔ دہلی میں کالکاجی، ایل ایس آر کے قریب ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ کئی افراد کے ریپ کے واقعہ کے بعد، کملا نہرو یا گارگی کے طلباء نے محفوظ عوامی مقامات، بہتر پولیسنگ اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے یکجہتی مارچ نکالا۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ لڑکیوں کو ان کی حفاظت کے لیے گھر/کالج سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ دہلی کی سڑکوں، پارکوں اور کیمپس کو محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ جب دہلی کی لڑکیاں اپنی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل رہی ہیں تو کب مستقل حفاظتی اقدامات آئیں گے؟
مزید دریافت کریں

اور یہ بھی سوال کیا گیا کہ بی جے پی-آر ایس ایس کی ’’ناری شکتی‘‘ کی سیاست پر اگر آدھی آبادی اپنے دارالھکومت میں ہی محفوظ نہیں ہے تو یہ کس کا اختیار ہے؟
آج دہلی میں سڑک پر آ کر احتجاج کرنے والی ان لڑکیوں کا مطالبہ واضح ہے، احتساب کی ضرورت ہے، حفاظت کی ضرورت ہے اور حکومت کو سی ایم ریکھا گپتا کے استعفیٰ کے مطالبے کا جواب دینا چاہیے۔

ریپ کے واقعہ کا اثر، لرکیوں کے کالج میں حاضری گر گئی دہلی کے سب سے باوقار کالجوں میں سے ایک، ایل ایس آر، کی طالبات آج سڑکوں پر ہیں کیونکہ دارالحکومت میں ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد، لڑکیاں کالج آنے سے ڈرتی ہیں۔ کالج کو آن لائن کلاسز شفٹ کرنا پڑی ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے دارالحکومت میں لڑکی کا ریپ کوئی نئی بات نہیں، لیکن لڑکیوں کا اس پر ہمیشہ سے زیادہ سخت احتجاج غیر معمولی ہے۔ نوٹ کرنے کی بات ہے کہ اس وقت دہلی کی وزیر اعلیٰ ایک عورت ہے لیکن اس کا عورتوں کی آزادی اور تحفظ سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ سرکاری پالیسیاں دیکھیں
بی جے پی-آر ایس ایس کے ہندوتوا کو بھارت پر مسلط کرنے کے نظریہ کو لے کر جذباتی باتیں کرنے والے سب ہی لوگ خواتین کو بھی کنٹرول کرنے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی بھی حمایت کرتے ہیں لیکن ریپ کرنے والے کسی مجرم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے لئے ان کا جوش کبھی سامنے نہیں آتا۔

ہندوتوا کے پجاری ریپ کے واقعات کے بعد پبلک ڈسکورس میں الٹا یہ تبلیغ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ریپ سے بچنے کے لئے خواتین کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ اس مسلسل جبر کی سوچ کا اب یہ اثر سامنے آیا کہ ایک بچی ریپ پہوئی تو بہت سی بچیاں کالج آنے سے خوفزدہ ہو کر گھر بیٹھ گئیں، والدین نے بھی ان کو گھر بٹھانے میں کردار ادا کیا۔ لیکن ایل ایس آر کالج ، کے این سی، گارگی، اور دوسرے کئی اداروں کی سڑک پر آ کر احتجاج کرنے والی سٹوڈنٹ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ حفاظت کے نام پر خواتین کو گھر کے اندر رکھنا تحفظ نہیں ہے۔ یہ تو کنٹرول کی ایک اور شکل ہے۔
ایل ایس آر کالج کی لڑکیا ں تحفظ کے احساس کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے، خواب دیکھنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لی دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کے لئے آئیں تاکہ ان کی زندگی چھوٹی نہ ہو کیونکہ نظام تو انہیں محفوظ رکھنے میں ناکام ہو رہا ہے۔
مزید دریافت کریں

احتجاج میں شامل سٹوڈنٹس نے کہا کہ دہلی حکومت، دہلی سٹیٹ کی وزیر اعلیٰ اور دہلی پولیس کو جواب دینا چاہیے: جب بھی نظام ناکام ہوتا ہے خواتین کو ہی اپنی آزادی کیوں سرنڈر کر دینی چاہیے؟
انہوں نے کہا کہ اس بار خواتین کو خاموش نہیں کیا جا سکے گا، وہ مجرمانہ ذہنیت کے مردوں کی ریپ جیسی حرکتوں سے خوفزدہ ہو کر پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
وہ سڑکوں پر اپنا حق واپس لیں گے چاہے انہیں بار بار سڑکوں پر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔
ان سٹوڈنٹس نے کہا، گلیاں ہماری ہیں۔ شہر ہمارا ہے۔ آزادی ہماری ہے۔✊????❤️سرکاری پالیسیاں دیکھیں لڑکیوں کے گھر سے باہر محفوظ رہنے کے لئے مؤثر اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب لڑکیوں کو صرف محفوظ محسوس کرنے کا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑتا ہے تو حکومت کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایل ایس آر، کے این سی، گارگی اور دہلی کے دیگر کالجوں کے ارد گرد ہونے والے مظاہروں نے خواتین کی حفاظت، محفوظ عوامی مقامات اور جوابدہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سابق وزیراعظم اور طاقتور ترین خاتون اندرا گاندھی کے نام سے چل رہی تنظیم "اندرا فیلو شپ" نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا، "دہلی سٹیٹ کی چیف منسٹر ریکھا گپتا سے سوال بہت سادہ ہے: اگر خواتین اور طالب علم اب بھی اپنی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، تو زمین پر حفاظتی اقدامات کہاں ہیں؟" اندرا فیلو شپ کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا، " بی جے پی-آر ایس ایس کا "ناری شکتی" کے بارے میں بار بار پیغامات بھی جانچ کے مستحق ہیں: کیا خواتین کی بااختیاریت تقریروں کے ساتھ ختم ہوتی ہے، یا اس میں شہر میں محفوظ طریقے سے چلنے کی بنیادی آزادی شامل ہے؟"
خواتین کو ان کے باہر نکلنے پر پابندی لگا کر "محفوظ" نہیں بنایا جا سکتا۔
شہر کو محفوظ بنانا ہوگا۔
دہلی میں مظاہرین خواتین کے تحفظ سے متعلق حکومت کے انتظامات پر سی ایم ریکھا گپتا کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
محفوظ سڑکیں کوئی استحقاق نہیں ہیں۔ وہ ایک حق ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ، ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن
26/09/2026

پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ، ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن

قیامت کی نشانیاں ہیں اور کچھ نہیں،،جہاں دیکھو ظلم ہی ظلم ہو رہا ہے ،،کنگن پور رانی باغ روڈ پر واقعہ آبادی عبدالرحمن میں ...
25/09/2026

قیامت کی نشانیاں ہیں اور کچھ نہیں،،جہاں دیکھو ظلم ہی ظلم ہو رہا ہے ،،
کنگن پور
رانی باغ روڈ پر واقعہ آبادی عبدالرحمن میں ۔
15 سالا نویں جماعت کی طالبہ کو اغوا کر کے زنا بلجبر کی کوشش،
پولیس اور شہریوں کی بروقت کارروائی سے بچی بازیاب۔
​ایف آئی آر کے مطابق آج صبع مسلح ملزم حسنین راشد (قوم میو)
نے سراج سٹی سے آگے نویں کلاس کی طالبہ کو رکشے سے پسٹل کے زور پر اتروا کر زبردستی اغوا کر لیا۔ رکشہ ڈرائیور نے عقلمندی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم حسنین کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ ملزم حسنین بچی کو رانی باغ والی سائیڈ پر اپنے زیر تعمیر مکان میں لے کر گھس گیا ہے۔
​رکشہ ڈرائیور نے فوری طور پر بچی کے والدین کو اطلاع دی اور 15 پر کال کر دی۔ والدین جب موقع پر پہنچے تو ملزم نے انہیں دھمکیاں دیں۔ پولیس کو اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچی کو باحفاظت بازیاب کروا لیا گیا

قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے تفصیلات پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کو ہونے والی...
25/09/2026

قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے تفصیلات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کو ہونے والی جھڑپوں کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ قندھار میں طالبان کے بانی ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے ملا عمر‘ پر بھی حملہ کیا گیا۔

سرائے ملا عمر، جو کبھی طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کی رہائش گاہ تھی، جمہوری دورِ حکومت میں افغانستان میں امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے مراکز میں شامل رہی تھی۔ قندھار میں یہ جگہ سرائے عمر کے نام سے مشہور ہے کیوں کہ یہ جگہ ایک زمانے میں ملا عمر کی رہائش گاہ تھی اور کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر کا خرچ اسامہ بن لادن نے اٹھایا تھا۔

قندھار سے آنے والی تصاویر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں کے بعد علاقے میں آگ اور دھواں واضح طور پر موجود تھا جو اب ایک فوجی علاقہ ہے جہاں عام لوگوں کا داخلہ ممکن نہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت نے قندھار میں مبینہ پاکستانی حملے میں ملا عمر کی رہائش گاہ پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ پاکستان کی جانب سے بھی ان مقامات کے بارے میں نہیں بتایا گیا جنھیں نشانہ بنایا گیا۔

25/09/2026

25/09/2026

وہ سیکریٹریٹ جس سے پورا صوبہ چلتا ہے، پورے صوبے کا نظام چلتا ہے، وہاں پر انہوں نے جعلی تھریٹ کے ذریعے تمام سرکاری کام بند کروائے، سیاست میں اتنا نہ گریں کل کو آپ آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں، کوئی تھریٹ نہیں تھا، سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر آتا ہے اور کینٹ سارا ان کے قبضے میں ہے، کینٹ سارا فوجیوں کے قبضے میں ہے، جس مسجد کو تھریٹ تھا جس مسجد کو انہوں نے بند کیا، میں خود وہاں گیا نماز ادا کی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی

ڈیرہ اسماعیل خان: علی الصبح تیز بارش، موسم خوشگوارکٹہ خیل سمیت متعدد دیہاتوں میں ژالہ باری کی اطلاعات
25/09/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: علی الصبح تیز بارش، موسم خوشگوار
کٹہ خیل سمیت متعدد دیہاتوں میں ژالہ باری کی اطلاعات

سچ ہضم نہ ہوسکا؛ جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر کی دبنگ تقریر؛ امریکی وفد واک آؤٹ کرگیاایرانی صدر نے امریکی حملے میں پرائم...
24/09/2026

سچ ہضم نہ ہوسکا؛ جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر کی دبنگ تقریر؛ امریکی وفد واک آؤٹ کرگیا
ایرانی صدر نے امریکی حملے میں پرائمری اسکول کی شہید طالبات کی تصاویر شرکا کو دکھائیں سرکاریپالیسیاں دیکھیں

ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی حملے میں شہید پرائمری اسکول کی طالبات کی تصاویر پیش کیں
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے خطاب کے آغاز پر امریکی وفد واک آؤٹ کر گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی صدر پزیشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے میں شہید طالبات کا تصویر دکھائی۔ تازہخبریں پڑھیں

ایرانی صدر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر بھی دکھائی اور کہا کہ ہمارے رہنما کو جنگ کے پہلے روز بغیر کسی قصور کرکے قتل کیا گیا تھا۔

ایرانی صدر نے شرکا کو بتایا کہ امریکا نے کھیل کے میدانوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس میں معصوم اور نہتے شہریوں کو قتل کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس ایران نے اپنے دفاع میں جو بھی کارروائی کی اس میں کبھی کسی شہری عمارت یا آبادی کو نشانہ بنایا۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے امریکی ہم مںصب ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا حالانکہ ایران نے خود آپ کی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ حقائق رکھنے پر وہاں موجود امریکی وفد اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا تھا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ امریکی وفد کو آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، کسی نے لکھا کہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے بڑا ظرف چاہیے ہوتا ہے۔

ایرانی صدر نے امریکی وفد کے واک آؤٹ کرنے ک بعد بھی اپنی تقریر جاری رکھی اور ببانگ دہل کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قابل قبول نہیں، ایران گھنٹے نہیں ٹیکے گا نہ ہی اپنے جوہری حق سے دستبردار ہوگا۔

24/09/2026
روس کو نہ روکا گیا تو مزید خونریزی ہوگی اور کوئی محفوظ نہیں رہے گا؛ یوکرینیوکرینی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ...
24/09/2026

روس کو نہ روکا گیا تو مزید خونریزی ہوگی اور کوئی محفوظ نہیں رہے گا؛ یوکرین
یوکرینی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روسی تیل صنعت، پابندیوں اور مصنوعی ذہانت کے ہتھیاروں پر بھی بات کی سرکاریپالیسیاں دیکھیں

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کے خلاف جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور اگر انہیں روکا نہ گیا تو مزید خونریزی ہوگی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے پر زور دیا تھا۔ سرکاریپالیسیاں دیکھیں

یوکرینی صدر نے اس بیان پر امریکی صدر کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ صرف روسی صدر پیوٹن ہی ہیں جو اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا مقصد مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے سے آگے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔

یوکرینی صدر نے روس کے ساتھ جنگ میں شمالی کوریا کی مبینہ معاونت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شمالی کوریا کے فوجی روس بھیجے جا رہے ہیں تاکہ روسی فوج کے کمزور محاذوں کو سہارا دیا جاسکے۔ سرکاریپالیسیاں دیکھیں

زیلنسکی نے پیوٹن کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے روس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ روس کی آمدنی کو ہدف بنائے رکھنا ضروری ہے۔ روس کی تیل کی صنعت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور تاریخ میں پہلی بار یہ صنعت دھویں کے سہارے چل رہی ہے۔

یوکرینی صدر نے مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں کی تیز رفتار ترقی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیار پہلے ہی عالمی خطرہ بن چکے ہیں اس لیے ان کی ترقی کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو سفارت کاری اور طاقت دونوں کی ضرورت ہے اور کیف دونوں شعبوں میں موجود خلا کو بتدریج کم کر رہا ہے۔

انھوں نے چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے امکان پر بات کی ہے۔ سرکاریپالیسیاں دیکھیں

یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ روس بھی یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بنانا بند کرے۔

Address

Dera Ismail Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dera News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share