Karbala-e-Dera

Karbala-e-Dera Karbala-e-Dera is your trusted source for the voice of Azadari
sharing news, live Majalis, processions, Matamdari, Jalos-e-aza

انشاءاللہ 8ربیع الاول مرکزی امام بارگاہ حضرت امام حسین علیہ السّلام کوٹلہ سیدان ڈیرہ اسماعیل خان 4بجے عصر
19/08/2026

انشاءاللہ 8ربیع الاول مرکزی امام بارگاہ حضرت امام حسین علیہ السّلام کوٹلہ سیدان ڈیرہ اسماعیل خان 4بجے عصر

19/07/2026
پیام فقر  ~" 25 محرم روز شھادت  امام علی زین العابدین ابن امام حسین  (علیھم السلام) ""امام علی بن الحسين عليہ السلام جو ...
10/07/2026

پیام فقر ~
" 25 محرم روز شھادت امام علی زین العابدین ابن امام حسین (علیھم السلام) "

"امام علی بن الحسين عليہ السلام جو "سجاد"، "زين العابدين"، اور "سيد الساجدين"، جیسے القاب سے مشہور تھے، کربلا میں آئے تو 23 سالہ نوجوان تھے۔ عاشورہ کے دن امام حسین علیہ السلام کے تمام فرزندان حتی کہ اصغر شیرخوار تک شہید ہوئے اور جب شمر ملعون اپنے اوباش فوجیوں کے ہمراہ آپؑ کے خیمے میں پہنچا تو اس نے امام سجادؑ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا مگر دشمن کے لشکر میں موجود "حميد بن مسلم" اور دوسرے افراد کے قول کے مطابق "عمر بن سعد" نے امام علیہ السلام کی بیماری کو دیکھتے ہوئے شمر کو اس ارادے سے باز رکھا۔
١١ محرم کو عمر بن سعد نے اپنے مقتولین کی لاشیں اکٹھی کروائیں اور ان پر نماز پڑھی اور انہیں دفنا دیا مگر امام حسین علیہ السلام اور اصحاب و خاندان کے شہداء کے جنازے دشت کربلا میں پڑے رہے۔
اس کے بعد عرب قبائل کے افراد نے ابن زیاد کی قربت اور اللّٰه کی لعنت حاصل کرنے کے لئے شہداء کے مطہر سروں کو آپس میں تقسیم کرکے نیزوں پر سجایا۔ اور کوفہ جانے کے لئے تیار ہوئے۔ اور حرم رسول اللہ کی خواتین، بچوں اور بچیوں کو بے چادر، اونٹوں پر سوار کیا گیا اور کفار کے اسیروں کی طرح انہیں کوفہ کی جانب لے گئے۔
جب ابن سعد ، اسيروں کے ہمراہ کوفہ پہنچا تو وہاں کے لوگ اسیروں کا تماشا دیکھنے کے لئے آئے۔ ایک کوفی خاتون اپنے گھر کی چھت سے اسیروں کے کاروان کا نظارہ کر رہی تھی۔
اس نے قیدیوں سے پوچھا: تم کس قوم کے اسیر ہو ؟
جواب ملا :"ہم اسیران آل محمدؐ ہیں"۔
چنانچہ وہ خاتون جلدی سے نیچے اتر آئی اور بیبیوں کے لئے چادریں، مقنعے اور لباس لے آئی مگر شمر لعین نے یہ سامان چھین لیا۔
اب ذرا تصور کریں کہ امام سجاد علیہ السلام کا حال کیا رہا ہوگا؟
ایک طرف سے بیماری کی وجہ سے نقاہت جسم مبارک پر طاری تھی، دوسری طرف سے اہل خاندان، بھائیوں، چچا زاد بھائیوں، رشتہ داروں، چچاؤں اور بابا کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی اور ان کے قلم شدہ سر آپؑ کے سامنے نیزوں پر بلند تھے مگر ان سب غموں اور دکھوں سے بڑا اور تکلیف دہ مسئلہ یہ تھا کہ آپؑ امام وقت تھے اور غیرت الہی کا مظہر تھے اور اب خاندان محمدؐ کی خواتین اس حال میں آپؑ کے ہمراہ اسیر ہو کر جا رہی تھیں اور اردگرد دشمن تھے۔
دارالامارہ میں اسیران آلِ محمدؐ کے داخلے سے قبل امام حسينؑ کا سر مطہر ابن زياد کے سامنے لایا گیا۔ ابن مرجانہ کے ہاتھ میں خیزران کی ایک چھڑی تھی اور امامؑ کے لب و دندان پر اس چھڑی سے بے ادبی کرنے لگا۔
یہ بے ادبی اور جسارت حاضرین کے اعتراض و تنقید کا باعث ہوئی رسول اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی اور جنگ صفین میں امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کے ساتھ جہاد کرنے والے بزرگ "زيد بن ارقم" جو اس وقت معمر اور بوڑھے ہوچکے تھے انہوں نے عبيداللہ ابنِ زیاد ملعون سے خطاب کر کے تنبیہ کی: "اپنی چھڑی اٹھا لینا, خدا کی قسم میں نے پيغمبر اکرم (ص) کو دیکھا کہ جن لبوں اور دانتوں کو تم چھڑی مار رہے ہو آپ ان کے بوسے لیا کرتے تھے"۔ ابن ارقم یہ کہہ کر رونے لگے۔
یزید کے گورنر نے کہا: "اگر تم پاگل اور عقل باختہ بوڑھے نہ ہوتے ابھی اسی وقت تمہارا سر قلم کر دیتا"۔
ابن ارقم اسی وقت اٹھے اور دارالامارہ سے باہر نکلتے ہوئے کہا: "اے عرب! آج سے تم سب غلام بن گئے۔ تم نے فرزند فاطمہ (س) کو قتل کیا اور ابن مرجانہ کو اپنا امیر تسلیم کیا۔
خدا کی قسم! یہ شخص تمہارے نیک اور صالح افراد کو قتل کرے گا اور تمہارے شریروں اور جرائم پیشہ افراد سے کام لے گا"۔

اس کے بعد اسیران آلِ محمدؐ ، ابن زیاد کے دربار میں لائے گئے۔
ابن مرجانہ نے امام سجادؑ کو دیکھا تو کہا: "تم کون ہو؟"
فرمایا: "علی بن الحسين"
اس ملعون نے کہا: "کیا علی ابن الحسین کو خدا نے نہیں مارا؟"
امامؑ نے فرمایا: "میرے ایک بھائی کا نام بھی علی تھا جن کو لوگوں نے قتل کر ڈالا"
ابن زياد نے کہا: " اسے خدا نے مارا "
امامؑ نے فرمایا:" اللّٰہ یتوفی الانفس حین موتھا''
''خدا موت کے وقت انسانوں کی روح اپنے قبضے میں لے لیتا ہے" (سورہ زمر آیہ 42)
ابن زياد نے غصے میں کہا: "میرے سامنے دلیری دکھاتے ہو؟ پھر اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ ان کا کلام قطع کر دیں اور ان کا سر قلم کر دیں"
پس حضرت نے فرمایا: "اے پسر زياد! تم نے ہمارا جتنا خون بہایا اتنا ہی کافی ہے" اور سیدہ زینب بنت علی (علیھم السلام) نے امامؑ کو اپنی آغوش میں لیا اور فرمایا: "واللہ میں ان سے جدا نہ ہونگی اگر تم انہیں مارنا چاہتے ہو تو مجھے بھی قتل کر دو."
ابن زياد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا: "عجب ہے كہ یہ عورت اپنے بھتیجے کے ہمراہ قتل ہونا چاہتی ہے. چھوڑو اس کو کہ یہ اپنی بیماری سے ہی مر جائے گا۔"
امام سجادؑ نے اس کے بعد سفر شام کی مشقتیں، اسيری کے دکھ درد اور دربار یزید کے غیر اسلامی ماحول اور دوران قید غیر انسانی سلوک کو برداشت کیا اور اپنی عمر شریف کے آخری ایام تک کربلا اور کوفہ و شام کے مصائب کو یاد کرتے تھے اور ان مصیبتوں سے غمزدہ تھے۔
امام سجادؑ محرم الحرام سنہ 95 ہجری، کو 58 سال کی عمر میں اموی حاکم ولید بن عبدالملک بن مروان نے آپ کو زھر دلوایا۔
آپؑ نے اپنے تمام فرزندوں کو بلایا اور اپنے فرزند ارجمند "محمد بن علی (عليہ السلام)" جو اپنے والد کے ہمراہ 4 سال کی عمر میں کربلا، کوفہ اور شام میں حاضر تھے ان کو "باقر" کا لقب عطا کر کے اپنا وصی اور جانشین قرار دیا اور اپنے فرزندوں کی تعلیم و تربیت اور سرپرستی کی ذمہ داری انہیں سونپ دی اور ان سب کو وصیت و نصیحت فرمائی۔
اس کے بعد آپؑ نے امام باقر کو سینے سے لگایا اور فرمایا: "میں تم کو وہی وصیت کرتا ہوں جو مجھے میرے والد نے شہادت کے وقت فرمائی تھی کہ ان کو بھی اپنے والد علی علیہ السلام نے اپنی شہادت کے وقت یہی وصیت فرمائی تھی اور وہ یہ كہ: "خبردار! ظلم نہ کرنا ایسے شخص پر جس کا تمہارے مقابلے میں خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے"۔
روایت ہے کہ جب امام سجاد علیہ السلام نے شہادت، تمام اہل مدینہ کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی اور سب عزادار ہوئے اور مدینہ کے تمام مرد و زن، سفید و سیاہ اور صغیر و کبیر آپؑ کی شہادت میں غمزدہ اور عزادار ہوئے اور زمین و آسمان سے غم و اندوہ کے آثار نمودار ہوئے۔"التماس دعا

Address

Dera Ismail Khan
29050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karbala-e-Dera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share