360Media

360Media Page Like Follow Please
پاکستان بھر میں رونماء ہونے والے واقعات جاننے کیلۓ پیج لائک فالو کریں

22/05/2026

ڈیرہ اسماعیل خان مہنگائی کے خلاف جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ سے تحصیل امیر حاجی کفیل احمد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

19/05/2026
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ  علم، وقار، اعتدال کا ایک روشن بابتحریر:محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃدارالعلوم حقا،نیہ ا...
05/05/2026

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ علم، وقار، اعتدال کا ایک روشن باب
تحریر:محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃ

دارالعلوم حقا،نیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث مولانامحمد ادریس ترنگزئیؒ، رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ جمعیت علماء اسلام وسابق رکنِ صوبائی اسمبلی، آج مورخہ 5 مئی 2026 چارسدہ جنازہ گاہ کے قریب فائرنگ کے افسوس ناک واقعے میں شہییدہوگئے۔انا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
حضرت مولانا محمد حسن جان شہییدؒ کے خانوادے سے وابستہ یہ عظیم شخصیت خود بھی اسی قافلۂ شہداء میں شامل ہوگئی۔ اس سانحے نے نہ صرف چارسدہ بلکہ پورے خیبر پختونخوا کی فضا کو سوگوار کردیاکہ ایک سفید ریش، باوقار علمی شخصیت کو اس بے دردی سے ہم سے جدا کر دیا گیا۔

مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ 1961ء میں ضلع چارسدہ کےعلاقے ترنگزئی میں ایک ایسے علمی گھرانے میں پیدا ہوئےجہاں علم، تدریس، دعوت اور دینی خدمات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی تھیں۔ آپ کے والد گرامی مولاناحکیم عبدالحق عوام میں مناظرِ اسلام کے لقب سے معروف تھے۔ آپ کے دادا شیخ الحدیث مفتی شہزادہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور جید عالم تھے، جبکہ پردادا مولانا محمد اسماعیل بھی اپنے علاقے میں علمی مرجع اور شیخ کے نام سے معروف تھے۔یوں اس خانوادے کی علمی روایت نے مولانا محمد ادریسؒ کی شخصیت میں سنجیدگی، وقار اور فکری پختگی پیدا کی۔

آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین فاضل مدینہ یونیورسٹی،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان مدنیؒ شہیید کے داماد تھے۔ گویا علم، نسبت اور کردار تینوں حوالوں سے آپ ایک ممتاز دینی و علمی خانوادے کے امین تھے۔

آپ نے 1983ء میں جامعہ نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور طویل عرصے تک مختلف علوم و فنون پڑھاتے رہے۔ پھر دارالعلوم اسلامیہ تنگی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دیں، بعد ازاں مختلف مدارس میں صحیح بخاری، جامع ترمذی، صحیح مسلم اور مؤطا کی تدریس جاری رکھی۔اور 2013ء میں آپ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئ ،چارسدہ میں شیخ الحدیث اور صدرالمدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔

آپ چونکہ دارالعلوم حقا،نیہ اکوڑہ خٹک کے فاضل تھے اور بانی دارالعلوم شیخ عبدالحق رحمہ اللہ کےشاگرد خاص اور خادم ہونے کا شرف بھی حاصل تھا،چنانچہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا سمیع ا،لحق شہییدؒ کےپرزور اصرار پر آپ نے دارالعلوم حقاانیہ میں درسِ حدیث کا آغاز کیا اور بخاری و ترمذی کی تدریس سے ہزاروں طلبہ کو فیض پہنچایا۔ تدریسِ حدیث کے میدان میں آپ کی تین دہائیوں پر محیط خدمات آپ کو اپنے عہد کے نمایاں اساتذۂ حدیث میں شامل کرتی ہیں۔

سیاسی میدان میں بھی آپ ایک سنجیدہ، نظریاتی اور باوقار شخصیت تھے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر چارسدہ سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ۔آپ جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اورصوبائ مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔

مولانا محمد ادریسؒ شہیید کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا نرم لہجہ، شائستگی اور اعتدال تھا۔ ان کے مزاج میں نہ شدت تھی، نہ نفرت، نہ تعصب اور نہ ہی فرقہ وارانہ تلخی؛ بلکہ ان کی گفتگو میں حکمت، شفقت اور دل نشینی کا وہ اثر تھا جو سننے والوں کے دلوں میں گھر کر جاتا تھا۔ وہ محض مدرس نہیں بلکہ ایک مصلح، مربی اور درد مند داعی تھے۔ ہزاروں طلبہ ان کے حلقۂ درس سے وابستہ رہے، جبکہ لاکھوں افراد نے ان کے بیانات اور مواعظ سے رہنمائی حاصل کی۔
گزشتہ دنوں ایران، امریکہ مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کےکردار کو سراہنے پر آپ کو سوشل میڈیا اوربعض سیاسی حلقوں خصوصاً تحریک انصاف کے بعض کارکنان اور پختون قوم پرستوں کی جانب سے سخت تنقید اور ناپسندیدہ رویوں کا سامنا تھا،اور دھمکیاں بھی ملیں،۔ اس پس منظر میں آج کاافسوسناک واقعہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ تاہم واقعے کی حقیقت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

یہ سانحہ ایک بڑے سماجی سوال کو ضرور جنم دیتا ہے: آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہمارا معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے؟ جہاں دلیل کی جگہ دشنام، اور مکالمے کی جگہ نفرت لے رہی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو اس سانحے کے بعد پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
مولانا محمد ادریسؒ شہیید نےان تمام حالات میں خاموشی، وقار اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ تہذیب، متانت اور کردار کی طاقت تھی۔ یہ خاموشی گویا ایک اعلان تھی کہ اہلِ علم اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ حلم اور وقار کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج ان کی شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ مدارس، علمی حلقوں، دینی طبقات اور جمعیت علماء اسلام کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ ان کا خلا محض ایک کمی نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں محسوس کیا جائے گا۔ وہ بظاہر ہم سے جدا ہوگئے، مگر ان کے شاگرد، ان کی علمی خدمات، ان کے دروس اور ان کی فکری میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔جگرؔ مرادآبادی کایہ شعرآج جیسے انہی کیلئے نوحہ بن گیا:
جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ شہیید کےدرجات بلند فرمائے، ان کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے، پسماندگان، متعلقین اور تلامذہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 😭شیخ الحدیث حضرت  مولانا محمد ادریس صاحب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شـ ـہید ہ...
05/05/2026

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 😭
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شـ ـہید ہوگئے۔

ایک سال میں 4 بڑے علمائے کرام شہید ان شہید علماء کا زمہ دار کون ہے؟
پختونخوا میں مفتی منیر شاکر ,مولانا حامد الحق مولانا خانزیب اور مولانا محمد ادریس صاحب جیسے کئ جید علماء شہید ہوئے اس کی زمہ داری کس پر ہے

02/05/2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر
ڈیرہ پریس کلب رجسٹرڈ کے زیرِ اہتمام ایک ریلی نکالی گئی۔
ریلی کی قیادت صدر احمد خان کامرانی نے کی،
جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکاء نے آزادیٔ صحافت اور حقِ اظہارِ رائے کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
اپنے خطاب میں صدر پریس کلب نے کہا کہ
آزادیٔ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے
اور یہی قوت سچ کو سامنے لاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ
2024 سے 2025 کے دوران دنیا بھر میں 129 صحافی قتل ہوئے،
جن میں 63 کا تعلق غزہ سے ہے۔
پاکستان میں بھی صحافیوں پر حملوں کے 129 واقعات رپورٹ ہوئے،
جو اس پیشے کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ
صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
تقریب کے اختتام پر
شہید صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

شورکوٹ۔۔حضرت مولانافضل الرحمان صاحب(امیرمرکزیہ جمعیت علماء اسلام)سےحاجی کفیل احمدنظامی صاحب۔امیرجمعیت علماءاسلام تحصیل ڈ...
27/04/2026

شورکوٹ۔۔
حضرت مولانافضل الرحمان صاحب
(امیرمرکزیہ جمعیت علماء اسلام)سے
حاجی کفیل احمدنظامی صاحب۔امیر
جمعیت علماءاسلام تحصیل ڈیرہ سٹی اور
جنرل سیکرٹری مولاناقاری محمدعمیر فاروقی
کی ملاقات۔۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

انشاءاللہ ان مسائل کےحل کے لیے جلد مختلف فورمز پر مؤثر آواز اٹھائی جائے گی۔۔

25/04/2026

ڈیرہ اسماعیل خان :الخدمت ہیلتھ ریلیف فاؤنڈیشن KHRFکی جانب سے 12جوڑوں کی اجتماعی شادیاں 24اپریل 2026
(الخدمت ہیلتھ ریلیف فانڈیشن KHRF)

11/04/2026

اسلام آباد وی آئی پی موومنٹ کے باعث روڈ بندہیں

Address

Zargar Street Zafar Abad Colony
Dera Ismail Khan
29050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 360Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to 360Media:

Share