29/03/2026
گھر میں شادیانے بج رہے تھے،کیونکہ آج اس گھر کی لاڈلی بیٹی حیا وجدان عباسی کا نکاح اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے فاران مجید عباسی کے ساتھ تھا۔گھر کا ہر فرد ہی خوش و مطمئن نظر آرہا تھا۔جبکہ وہ سنگھار آئینے کے سامنے دلہن بنی بیٹھی ،کسی اُداس بلبل کی مانند لگ رہی تھی۔اس گھر میں لڑکیوں کی کوئی مرضی نہیں تھی،انکی خاموشی اور شرم و حیا کو ہی انکی رضامندی تسلیم کرلیا جاتا تھا،اور حیا کےساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
’’ماشاء اللہ! چشم بدور! بالکل شہزادی لگ رہی ہے ہماری بیٹی!‘‘یہ اسکی دادی جہاں آرا بیگم تھیں،جو پوتی کی من کوہنی صورت دیکھ صدقے واری جا رہی تھیں۔
’’ماشاء اللہ ! اماں جان،،اللہ نصیب اچھے کرے۔‘‘یہ اسکی تائی فہمیدہ بیگم تھیں۔
’’چلو لڑکیوں حیا کو نیچے لے آؤ۔نکاح کا وقت ہورہا ہے۔‘‘اسے دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا،سر خ دوپٹہ ماتھے تک ڈال کر اب اسے نیچے لے جایا جا رہا تھا،جہاں اسکا تایا زاد اسکا منتظر تھا،کیونکہ وہ اسی کی خواہش تھی،اور اس گھر کا لاڈلا کوئی فرمائش کرتا اور دادا حضور پوُری نہ کرتے ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباسی مینشن کی جگمگاہٹیں ہی الگ تھیں،ہر سو خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔ہر چہرہ مسکرا رہا تھا،اس نے گاڑی سے قدم باہر نکالتے ایک گہرا سانس خارج کیا تھا۔آج اسکی محبت کسی اور کی ہونے جا رہی تھی،اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا تھا،وہ اسکی ماموں زاد تھی،مگر وہ اپنے نانا کے فیصلے سے انکاری نہیں ہوسکتا تھا۔
’’السلام علیکم ہادی بھائی! یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ پلیز آندر چلیں نا،نکاح شروع ہونے والا ہے۔پھپھو کتنی با ر آپ کا پوچھ چکی ہیں۔۔‘‘یہ اسکے چھوٹے مامو ں کا بیٹا آریان تھا،جو اسکے ساتھ قدم مینشن کے آندوری حصےٰ کی جانب بڑھا رہا تھا۔
’’ بس یار ایک ایمرجنسی کیس آگیا تھا،تو ہسپتال سے نکلنے میں دیری ہوگئی۔‘‘وہ مطمئن لہجے میں گویا ہوا،اور چہرے کے تاثرات درست کئے،اس گھر کے اصولوں کے عین مطابق مرد وخواتین کا الگ الگ انتظام کیا گیا تھا۔
’’چلیں پھپھو لیڈیز کی سائیڈ پر ہیں۔۔آپ یہاں آجائیں۔‘‘وہ سب بڑوں کو فی الحال مصروف دیکھ وہیں کونے میں جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔فاران کے چہرے کی چمک ہی نرالی تھی۔اس کی باقاعدہ سہرا باندھائی ہوئی تھی،اور اب نکاح پڑھایا جانا تھا۔سفید شلوار سوٹ پر کوٹ پہنے وہ الگ ہی جازب نظر لگ رہا تھا۔۔
’’نکاح شروع کیا جائے،اجازت ہے؟‘‘
’’اجازت ہے۔‘‘اجازت طلب کی گئی،اور ہادی کو سانس گھٹتا محسوس ہوا۔۔پہلے لڑکی کی رضامندی لی گئی تھی،اور پھر فاران کی،اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی اور کے نام سے منسوب کردی گئی تھی۔
’’مبارک ہو وجدان میاں،بیٹی کی زمہ داری سے بھی سبکدوش ہوگئے۔‘‘ عباسی صاحب نے آگے بڑھ کر پہلے بیٹے کو اور پھر دلہا بنے پوتے کو سینے سے لگایا۔۔سب ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے،جبکہ دوسری جانب ہادی خود کو مرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
’’ہادی میرے شیر یہاں آؤ یار! غیروں کی طرح وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔آکر بھائی کو سینے سے لگاؤ۔۔‘‘انھونے لاڈلے نواسے نو دیکھ پر مسرت لہجے میں کہا تو وہ چارو نچار مسکراتا ہوا ان کی جانب بڑھا۔۔
’’نکاح بہت بہت مبارک ہو فاران۔۔‘‘اس کے بغل گیر ہوتا وہ بوجھل دل سے بولا۔۔
’’ خیر مبارک۔مجھے تمھاری محبت ہاتھ سے نکلنے جانے کا دکھ ہے،اور یہ دکھ ہمیشہ رہے گا ڈئیر بردار۔۔میں نے کہا تھا نا جو چیز مجھے پسند آجائے پھر وہ میری ہوجاتی ہے۔۔‘‘وہ مسرور لہجے میں دھیرےسے اسکے کان میں گنگنایا تھا۔جبکہ وہ ضبط سے آنکھیں میچ کر دور ہوا تھا۔۔
’’ارے ہادی بیٹا! تم کب آئے،مجھے تو لگا ایمرجنسی کی وجہ سے تم آج نہیں آؤ گے۔اپنی ماں سے مل لو۔۔کافی بار تمھارا پوچھ چکی ہیں۔‘‘اس کے والد صاحب ہادی سے بغل گیر ہوتے مسکرا کر بولے،وہ اپنے بیٹے کی دلی کیفیت سے ناواقف تھے،آَگر اُنھیں ذرا بھی علم ہوتا شاید کبھی اُسے اس محفل کا حصہٰ بننے کے لئے اِنسسٹ نَہ کرتے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب دلہن بنی بیٹھی حیا،اپنی ماں،تائی دادی سب سے دعائیں لے رہی تھی،مگر اسکا دل مردہ ہوگیا تھا،وہ چاہ کر بھی اِس نِکاح کے لئے اَنکار نہیں کر سکی تھی۔
’’نکاح مبارک ہو میری بچی! اللہ نصیب بلند کرے۔۔آمین۔‘‘وہ اس وقت کس زہنی ازیت سے دوچار تھی،یہ صرف وہی جانتی تھی۔مگر اسکا دکھ کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
گھر میں پورا خاندان جمع تھا،سب ایک ایک کر کہ اسے مبارک باد دے رہے تھے،اسے سرہا رہے تھے،کوئی اِس کی خوش بختی پر ناز کر رَہا تھا۔۔مگر وہ ،وہ کسی زندہ لاش کی مانند خاموش ہوگئی تھی،جیسے سارے الفاظ ہی دم توڑ گئے ہوں۔
’’مما میرے سر میں درد ہو رہا ہے میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔‘‘وہ بہانہ بنا کر اٹھ گئی تھی۔۔
’’ہاں بچی کو کمرے میں لے جاؤ۔۔یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہر لڑکی کا دل ہی ڈر رہ اہوتا ہے۔بھلے اس نے رخصت ہوکر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا ہے،مگر لڑکی تو لڑکی ہوتی ہے نا۔۔‘‘یہ اسکی دادی بیگم تھیں۔۔جبکہ وہ مزید کچھ بھی برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔اسی لئے بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا،اور فاران نکاح کے فوراً بعد بزنس ٹرپ پر چلا گیا تھا،وہ معمول کے مطابق یونیورسٹی کے لئے تیار ہوکر نیچے آئی تھی،جہاں ہادی شاید ہسپتال جانے سے پہلے پھپھو کو یہاں چھوڑنے آیا ہوا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘اس نے دھیرے سے سلام کیا،مگر ہادی نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔۔وہ اپنی محبت سے اسی روز دستبردار ہوگیا تھا،جس دن اسکا نکاح کسی اور سے پڑھایا گیا تھا۔
’’وعلیکم السلام! دلہن بیگم آپ تو بالکل عید کا چان دہوگئی ہیں،ابھی تو رخصتی نہیں ہوئی اور ہم سے ایسی پردہ داری۔‘‘گھر کے مرد ناشتے کے بعد آفس کے لئے نکل گئے تھے،جبکہ وہ خواتین کے سامنے ہی اپنے پھپھو کے تبصرے پر اچھا خاصہ شرمندہ ہوئی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے پھپھو۔۔‘‘وہ لاڈ سے ان کے گلے لگتی ذرا ہلکے سے منمنائی تھی۔
’’مما میں چلتا ہوں،‘‘وہ فوری اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ہاں۔۔اچھا بیٹا یہ ذرا حیا کو یونیورسٹی ڈراپ کر دینا۔۔اس وقت کوئی بھی گاڑی گھر میں نہیں ہیں۔‘‘تائی بیگم ان دونوں کو ہی اچھی خاصی مشکل میں ڈال گئی تھیں۔
’’اوکے۔۔آجاؤ حیا۔۔‘‘وہ دھیرے سے بولتا وہاں سے نکل آیا تھا،جبکہ وہ بھی دھیمے دھیمے قدم اٹھاتی اسکی پیروی میں بڑھ رہی تھی،جو ناک کی سید میں بس چلتا ہی چلا جا رہا تھا۔اور سیدھا گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ہوا کی رفتار سے باتیں کر رہی تھی۔۔وہ بالکل خاموش تھا۔۔بولنے کی جرات تو حیا کی بھی نہیں ہوئی تھی۔
’’ناراض ہو؟‘‘بلاآخر وہ ہمت مجتمع کر بول اٹھی تھی۔
’’ناراض اپنوں سے ہوا جاتا ہے،اور میرا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے مسز فاران عباسی۔۔‘‘حیا کو یہ تعارف بری طرح چبھا تھا۔
’’میں دادا ابو کے سامنے انکار نہیں کر سکی،اور نہ تم نے رشتہ مانگا۔۔‘‘اس نے شکوہ کیا۔
’’تمھارا شوہر بہت کائیاں انسان ہے،اسے پہلے ہی خبر ہوگئی تھی،اور وہ نانا ابو کو اپنے لئے منا چکا تھا۔اب بھلے میں سوالی بن کر آتا یا دنیا کا کوئی بھی شخص نانا ابو پوتے کے سامنے کسی کو نہیں گردانتے۔‘‘وہ ازیت سے بولا۔۔وہ بن باپ کی بیٹا تھا۔ساری عمر ننھیال میں رہے تھے،اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ،وہ اپنی ماں کو الگ گھر میں لے گیا تھا،کیونکہ اس کی خودداری مزید اس چیز کی اجازت نہیں دیتی تھی،مگر بچپن سے اب تک فاران کی وجہ سے اس نے بہت سی چیزوں کی قربانی دی تھی۔اور اب محبت بھی قربان کر بیٹھا تھا۔کیونکہ وہ خوددار ماں باپ کی اولاد تھا۔۔وہ احسان فراموش نہیں بن سکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینہ پر لگا کر اڑ گیا تھا۔فاران کی واپسی کے ایک ہفتے کے آندر رخصتی طے پائی تھی۔۔اتفاق کی بات تھی کہ گھر کے سارے لوگ ہی شادی پر دوسرے شہر گئے ہوئے تھے،انکی واپسی رات دیر سے متوقع تھی،حیا بیماری کا بہانہ بنا کر گھر ہی ٹھہر گئی تھی۔۔کچھ واقعی اسکی طبیعت ناساز چل رہی تھی۔۔۔
’’مما میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آپ کو ہادی کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘وہ موبائل فون پر مصروف بیزار سی بول رہی تھی،جبھی اسے ہادی مینشن میں داخل ہوتا دیکھائی دیا تھا۔۔
’’حیا! مامی بتا رہی تھیں کہ تمھاری طبیعت خراب ہے۔۔تم نے میڈیسن لی تھی؟‘‘وہ لاؤنج میں بیٹھے دیکھ متفکر لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہادی آیا ہے،میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ رابطہ منقطع کر گئی۔
’’تمھیں معلوم ہے نا فاران کو میرا تم سے بات کرنا پسند نہیں ہے، تم مما کو منع بھی تو کر سکتے تھے۔‘‘وہ شدید بیزار لہجے میں بول رہی تھی۔۔ سفید کوٹ میں ملبوس وہ شاید سیدھا ہسپتال سے یہیں آرہا تھا۔
’’فاران اس وقت گھر میں نہیں ہے۔دوسری بات مجھے صرف تم اپنا ڈاکٹر سمجھو۔۔۔اور میرا کوئی مریض بیمار ہو تو اسکو فور ی ٹریٹمنٹ دینا میری زمہ داری ہے۔‘‘اب وہ تیز تیز سانس لینے لگی تھی۔۔
میں لنک دیتی ہوں تو اپ لوگ کمنٹس نہی کرتے - کمنٹس لازمی کیا کریں - اس سے سپورٹ ملتی ہے -جتنے کمنٹس کروگے اپ لوگ میں اتنی زیادہ لنکس ساتھ دوگی 👇👇👇👇
https://urdunovelsghar.org/meri-zindagi-novel-short-story/