Novels ki Malika

Novels ki Malika I'm Ayesha Gull Novelistic girl promoting social media novels writers, on my page to grow together.

Join my Whatsapp Cummunity and get Latest Reels links novels that I Publish
https://chat.whatsapp.com/GRlv3Gr1F9G8eHvzTO8tMO
FB Channel available in Featured Section. I have also a website ( novelskimalika.xyz ) where i promote social media writer novels.

گھر  میں شادیانے بج رہے تھے،کیونکہ آج اس گھر کی لاڈلی بیٹی  حیا  وجدان عباسی  کا نکاح اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے   فاران  ...
29/03/2026

گھر میں شادیانے بج رہے تھے،کیونکہ آج اس گھر کی لاڈلی بیٹی حیا وجدان عباسی کا نکاح اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے فاران مجید عباسی کے ساتھ تھا۔گھر کا ہر فرد ہی خوش و مطمئن نظر آرہا تھا۔جبکہ وہ سنگھار آئینے کے سامنے دلہن بنی بیٹھی ،کسی اُداس بلبل کی مانند لگ رہی تھی۔اس گھر میں لڑکیوں کی کوئی مرضی نہیں تھی،انکی خاموشی اور شرم و حیا کو ہی انکی رضامندی تسلیم کرلیا جاتا تھا،اور حیا کےساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
’’ماشاء اللہ! چشم بدور! بالکل شہزادی لگ رہی ہے ہماری بیٹی!‘‘یہ اسکی دادی جہاں آرا بیگم تھیں،جو پوتی کی من کوہنی صورت دیکھ صدقے واری جا رہی تھیں۔
’’ماشاء اللہ ! اماں جان،،اللہ نصیب اچھے کرے۔‘‘یہ اسکی تائی فہمیدہ بیگم تھیں۔
’’چلو لڑکیوں حیا کو نیچے لے آؤ۔نکاح کا وقت ہورہا ہے۔‘‘اسے دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا،سر خ دوپٹہ ماتھے تک ڈال کر اب اسے نیچے لے جایا جا رہا تھا،جہاں اسکا تایا زاد اسکا منتظر تھا،کیونکہ وہ اسی کی خواہش تھی،اور اس گھر کا لاڈلا کوئی فرمائش کرتا اور دادا حضور پوُری نہ کرتے ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباسی مینشن کی جگمگاہٹیں ہی الگ تھیں،ہر سو خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔ہر چہرہ مسکرا رہا تھا،اس نے گاڑی سے قدم باہر نکالتے ایک گہرا سانس خارج کیا تھا۔آج اسکی محبت کسی اور کی ہونے جا رہی تھی،اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکا تھا،وہ اسکی ماموں زاد تھی،مگر وہ اپنے نانا کے فیصلے سے انکاری نہیں ہوسکتا تھا۔
’’السلام علیکم ہادی بھائی! یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ پلیز آندر چلیں نا،نکاح شروع ہونے والا ہے۔پھپھو کتنی با ر آپ کا پوچھ چکی ہیں۔۔‘‘یہ اسکے چھوٹے مامو ں کا بیٹا آریان تھا،جو اسکے ساتھ قدم مینشن کے آندوری حصےٰ کی جانب بڑھا رہا تھا۔
’’ بس یار ایک ایمرجنسی کیس آگیا تھا،تو ہسپتال سے نکلنے میں دیری ہوگئی۔‘‘وہ مطمئن لہجے میں گویا ہوا،اور چہرے کے تاثرات درست کئے،اس گھر کے اصولوں کے عین مطابق مرد وخواتین کا الگ الگ انتظام کیا گیا تھا۔
’’چلیں پھپھو لیڈیز کی سائیڈ پر ہیں۔۔آپ یہاں آجائیں۔‘‘وہ سب بڑوں کو فی الحال مصروف دیکھ وہیں کونے میں جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔فاران کے چہرے کی چمک ہی نرالی تھی۔اس کی باقاعدہ سہرا باندھائی ہوئی تھی،اور اب نکاح پڑھایا جانا تھا۔سفید شلوار سوٹ پر کوٹ پہنے وہ الگ ہی جازب نظر لگ رہا تھا۔۔
’’نکاح شروع کیا جائے،اجازت ہے؟‘‘
’’اجازت ہے۔‘‘اجازت طلب کی گئی،اور ہادی کو سانس گھٹتا محسوس ہوا۔۔پہلے لڑکی کی رضامندی لی گئی تھی،اور پھر فاران کی،اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کسی اور کے نام سے منسوب کردی گئی تھی۔
’’مبارک ہو وجدان میاں،بیٹی کی زمہ داری سے بھی سبکدوش ہوگئے۔‘‘ عباسی صاحب نے آگے بڑھ کر پہلے بیٹے کو اور پھر دلہا بنے پوتے کو سینے سے لگایا۔۔سب ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے،جبکہ دوسری جانب ہادی خود کو مرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
’’ہادی میرے شیر یہاں آؤ یار! غیروں کی طرح وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔آکر بھائی کو سینے سے لگاؤ۔۔‘‘انھونے لاڈلے نواسے نو دیکھ پر مسرت لہجے میں کہا تو وہ چارو نچار مسکراتا ہوا ان کی جانب بڑھا۔۔
’’نکاح بہت بہت مبارک ہو فاران۔۔‘‘اس کے بغل گیر ہوتا وہ بوجھل دل سے بولا۔۔
’’ خیر مبارک۔مجھے تمھاری محبت ہاتھ سے نکلنے جانے کا دکھ ہے،اور یہ دکھ ہمیشہ رہے گا ڈئیر بردار۔۔میں نے کہا تھا نا جو چیز مجھے پسند آجائے پھر وہ میری ہوجاتی ہے۔۔‘‘وہ مسرور لہجے میں دھیرےسے اسکے کان میں گنگنایا تھا۔جبکہ وہ ضبط سے آنکھیں میچ کر دور ہوا تھا۔۔
’’ارے ہادی بیٹا! تم کب آئے،مجھے تو لگا ایمرجنسی کی وجہ سے تم آج نہیں آؤ گے۔اپنی ماں سے مل لو۔۔کافی بار تمھارا پوچھ چکی ہیں۔‘‘اس کے والد صاحب ہادی سے بغل گیر ہوتے مسکرا کر بولے،وہ اپنے بیٹے کی دلی کیفیت سے ناواقف تھے،آَگر اُنھیں ذرا بھی علم ہوتا شاید کبھی اُسے اس محفل کا حصہٰ بننے کے لئے اِنسسٹ نَہ کرتے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب دلہن بنی بیٹھی حیا،اپنی ماں،تائی دادی سب سے دعائیں لے رہی تھی،مگر اسکا دل مردہ ہوگیا تھا،وہ چاہ کر بھی اِس نِکاح کے لئے اَنکار نہیں کر سکی تھی۔
’’نکاح مبارک ہو میری بچی! اللہ نصیب بلند کرے۔۔آمین۔‘‘وہ اس وقت کس زہنی ازیت سے دوچار تھی،یہ صرف وہی جانتی تھی۔مگر اسکا دکھ کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
گھر میں پورا خاندان جمع تھا،سب ایک ایک کر کہ اسے مبارک باد دے رہے تھے،اسے سرہا رہے تھے،کوئی اِس کی خوش بختی پر ناز کر رَہا تھا۔۔مگر وہ ،وہ کسی زندہ لاش کی مانند خاموش ہوگئی تھی،جیسے سارے الفاظ ہی دم توڑ گئے ہوں۔
’’مما میرے سر میں درد ہو رہا ہے میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔‘‘وہ بہانہ بنا کر اٹھ گئی تھی۔۔
’’ہاں بچی کو کمرے میں لے جاؤ۔۔یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہر لڑکی کا دل ہی ڈر رہ اہوتا ہے۔بھلے اس نے رخصت ہوکر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا ہے،مگر لڑکی تو لڑکی ہوتی ہے نا۔۔‘‘یہ اسکی دادی بیگم تھیں۔۔جبکہ وہ مزید کچھ بھی برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔اسی لئے بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا،اور فاران نکاح کے فوراً بعد بزنس ٹرپ پر چلا گیا تھا،وہ معمول کے مطابق یونیورسٹی کے لئے تیار ہوکر نیچے آئی تھی،جہاں ہادی شاید ہسپتال جانے سے پہلے پھپھو کو یہاں چھوڑنے آیا ہوا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘اس نے دھیرے سے سلام کیا،مگر ہادی نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔۔وہ اپنی محبت سے اسی روز دستبردار ہوگیا تھا،جس دن اسکا نکاح کسی اور سے پڑھایا گیا تھا۔
’’وعلیکم السلام! دلہن بیگم آپ تو بالکل عید کا چان دہوگئی ہیں،ابھی تو رخصتی نہیں ہوئی اور ہم سے ایسی پردہ داری۔‘‘گھر کے مرد ناشتے کے بعد آفس کے لئے نکل گئے تھے،جبکہ وہ خواتین کے سامنے ہی اپنے پھپھو کے تبصرے پر اچھا خاصہ شرمندہ ہوئی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے پھپھو۔۔‘‘وہ لاڈ سے ان کے گلے لگتی ذرا ہلکے سے منمنائی تھی۔
’’مما میں چلتا ہوں،‘‘وہ فوری اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ہاں۔۔اچھا بیٹا یہ ذرا حیا کو یونیورسٹی ڈراپ کر دینا۔۔اس وقت کوئی بھی گاڑی گھر میں نہیں ہیں۔‘‘تائی بیگم ان دونوں کو ہی اچھی خاصی مشکل میں ڈال گئی تھیں۔
’’اوکے۔۔آجاؤ حیا۔۔‘‘وہ دھیرے سے بولتا وہاں سے نکل آیا تھا،جبکہ وہ بھی دھیمے دھیمے قدم اٹھاتی اسکی پیروی میں بڑھ رہی تھی،جو ناک کی سید میں بس چلتا ہی چلا جا رہا تھا۔اور سیدھا گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ہوا کی رفتار سے باتیں کر رہی تھی۔۔وہ بالکل خاموش تھا۔۔بولنے کی جرات تو حیا کی بھی نہیں ہوئی تھی۔
’’ناراض ہو؟‘‘بلاآخر وہ ہمت مجتمع کر بول اٹھی تھی۔
’’ناراض اپنوں سے ہوا جاتا ہے،اور میرا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے مسز فاران عباسی۔۔‘‘حیا کو یہ تعارف بری طرح چبھا تھا۔
’’میں دادا ابو کے سامنے انکار نہیں کر سکی،اور نہ تم نے رشتہ مانگا۔۔‘‘اس نے شکوہ کیا۔
’’تمھارا شوہر بہت کائیاں انسان ہے،اسے پہلے ہی خبر ہوگئی تھی،اور وہ نانا ابو کو اپنے لئے منا چکا تھا۔اب بھلے میں سوالی بن کر آتا یا دنیا کا کوئی بھی شخص نانا ابو پوتے کے سامنے کسی کو نہیں گردانتے۔‘‘وہ ازیت سے بولا۔۔وہ بن باپ کی بیٹا تھا۔ساری عمر ننھیال میں رہے تھے،اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ،وہ اپنی ماں کو الگ گھر میں لے گیا تھا،کیونکہ اس کی خودداری مزید اس چیز کی اجازت نہیں دیتی تھی،مگر بچپن سے اب تک فاران کی وجہ سے اس نے بہت سی چیزوں کی قربانی دی تھی۔اور اب محبت بھی قربان کر بیٹھا تھا۔کیونکہ وہ خوددار ماں باپ کی اولاد تھا۔۔وہ احسان فراموش نہیں بن سکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینہ پر لگا کر اڑ گیا تھا۔فاران کی واپسی کے ایک ہفتے کے آندر رخصتی طے پائی تھی۔۔اتفاق کی بات تھی کہ گھر کے سارے لوگ ہی شادی پر دوسرے شہر گئے ہوئے تھے،انکی واپسی رات دیر سے متوقع تھی،حیا بیماری کا بہانہ بنا کر گھر ہی ٹھہر گئی تھی۔۔کچھ واقعی اسکی طبیعت ناساز چل رہی تھی۔۔۔
’’مما میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آپ کو ہادی کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘وہ موبائل فون پر مصروف بیزار سی بول رہی تھی،جبھی اسے ہادی مینشن میں داخل ہوتا دیکھائی دیا تھا۔۔
’’حیا! مامی بتا رہی تھیں کہ تمھاری طبیعت خراب ہے۔۔تم نے میڈیسن لی تھی؟‘‘وہ لاؤنج میں بیٹھے دیکھ متفکر لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہادی آیا ہے،میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ رابطہ منقطع کر گئی۔
’’تمھیں معلوم ہے نا فاران کو میرا تم سے بات کرنا پسند نہیں ہے، تم مما کو منع بھی تو کر سکتے تھے۔‘‘وہ شدید بیزار لہجے میں بول رہی تھی۔۔ سفید کوٹ میں ملبوس وہ شاید سیدھا ہسپتال سے یہیں آرہا تھا۔
’’فاران اس وقت گھر میں نہیں ہے۔دوسری بات مجھے صرف تم اپنا ڈاکٹر سمجھو۔۔۔اور میرا کوئی مریض بیمار ہو تو اسکو فور ی ٹریٹمنٹ دینا میری زمہ داری ہے۔‘‘اب وہ تیز تیز سانس لینے لگی تھی۔۔
میں لنک دیتی ہوں تو اپ لوگ کمنٹس نہی کرتے - کمنٹس لازمی کیا کریں - اس سے سپورٹ ملتی ہے -جتنے کمنٹس کروگے اپ لوگ میں اتنی زیادہ لنکس ساتھ دوگی 👇👇👇👇
https://urdunovelsghar.org/meri-zindagi-novel-short-story/

’’ونی میں آئی لڑکی ہو تم! تمھاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم اس بستر پر بیٹھ سکو۔۔ یہاں نیچے بیٹھو،‘‘وہ صوفے پر کروفر سے بَ...
28/03/2026

’’ونی میں آئی لڑکی ہو تم! تمھاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم اس بستر پر بیٹھ سکو۔۔ یہاں نیچے بیٹھو،‘‘وہ صوفے پر کروفر سے بَراجمان ہوتا ،اسے اپنے پاؤں میں بیٹھا چکا تھا،وہ اس لڑکی کی جرات دیکھنا چاہتا تھا،جو اپنی عزت نفس کو مار کر اس کے پاؤں میں آبیٹھی تھی۔" افسوس کے میں نے تم جیسی ڈرپوک لڑکی سے محبت کی،جو اپنے لئے لڑ تک نہیں سکتی،تمھیں لگتا ہے میں تمھیں اس ظلم سے بچاؤں گا، تو نہیں تم اس قابل ہی نہیں ہو،جب تم میرے قدموں میں بیٹھ سکتی ہو تو اب تمھارا مقدر ٹھوکریں کھانا ہی لکھا ہے۔‘‘وہ اسے پیچھے دھکیل کر خود حویلی سے نکلتا شہر چلا گیا تھا۔اسکی ماں،بہنوں نے اس پر ظلم کی انتہا کردی،وہ آج پورے ایک ماہ بعد واپس آیا،حویلی میں قدم رکھتے ہی جو جلے ہوئے ہاتھوں سمیت اسکے قدموں میں آگری وہ جس نے اس کے لئے نہ بولنے کی قسم کھا رکھی تھی،اسکی حالت دیکھ وہ پاگل ہونے کے در پر تھا۔ ’’زائشہ۔۔۔ خبردار جو تم نے اس کو ہاتھ لگایا تو۔۔‘‘ اسے حصار میں لئے وہ غرایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اس کو ہارون کے کمرے میں چھوڑ آؤ وہ جانتا ہے ونی کے ساتھ کیسا سلوک رواں رکھنا ہے ۔" اس کی ماں نے نخوت سے سر جھکائے کھڑی فرح کو دیکھ کر کہا جو ونی میں نکاح کر کے وہاں لائی گئی تھی۔۔ ہارون سے کچھ گھنٹے پہلے اس کا نکاح ہوا تھا۔۔ اس کے بھائی سے قتل ہوا تھا جس کی سزا اسے سنائی گئی تھی وہ سزا پر سر جھکاتی وہاں آ گئی تھی ۔ یہی اس گاؤں کا قانون تھا۔۔۔ اسے کچھ لڑکیاں کمرے میں ایسے چھوڑ کر گئیں کہ وہ کوئی دلہن نہیں کچرا ہو۔۔ وہ آنسو پیتی بستر پر جا بیٹھی۔۔ کچھ دیر بعد قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی اور اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔ ہارون کو اس نے کچھ مرتبہ دیکھا تھا وہ ایسا نہیں لگتا تھا کہ اسے کوئی سزا دیتا یا پتھر دل ہوتا لیکن وہ ونی تھی، نرم سے نرم دل بھی ونی کے لئے سخت لوہے کا ہو جاتا تھا۔۔ وہ جیسی کمرے میں داخل ہوا اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ ’’ونی میں آئی لڑکی ہو تم! تمھاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم اس بستر پر بیٹھ سکو۔۔‘‘ حویلی آتے ہی فرح کو اس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا جہاں وہ ڈری سہمی بیڈ پر بیٹھی تھی اور وہ اس ڈری سہمی لڑکی کو اس طرح مخاطب کرتا اسے اور ڈرا گیا تھا۔۔ ’’یہاں نیچے بیٹھو" وہ صوفے پر کروفر سے براجمان ہوتا ،اسے اپنے پاؤں میں بیٹھا چکا تھا ،وہ اس لڑکی کی جرات دیکھنا چاہتا تھا جو اپنی عزت نفس کو مار کر اس کے پاؤں میں آ بیٹھی تھی۔۔ وہ گاؤں کی پڑھی لکھی لڑکی میں شمار ہوتی تھی اور اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ اس کو کوئی کہے ونی ہو جاؤ اور وہ ہو جائے اور کوئی کہے قدموں میں بیٹھو اور وہ بیٹھ جائے۔۔ جب ہی اس نے طیش میں فرح کا جبڑہ اپنے ہاتھوں میں دبوچا تھا۔۔ " افسوس کے میں نے تم جیسی ڈرپوک لڑکی سے محبت کی جو اپنے لئے لڑ تک نہیں سکتی، تمھیں لگتا ہے میں تمھیں اس ظلم سے بچاؤں گا، تو نہیں تم اس قابل ہی نہیں ہو، جب تم میرے قدموں میں بیٹھ سکتی ہو تو اب تمھارا مقدر ٹھوکریں کھانا ہی لکھا ہے۔‘‘ وہ اسے پیچھے دھکیل کر اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا وہ زمین پر بیٹھی اس کی باتوں پر آنسو بہانے لگی تھی۔۔ " میں کیا کروں اللہ جی۔۔؟ سردار سائیں نے کہا ہے اگر میں نے اپنی زبان ہلائی تو وہ میرے بابا کو مار ڈالیں گے۔۔ میں کیا کروں اللہ جی میں مجبور ہوں یہ ظلم سہنے کے لئے۔۔" اس نے ہاتھوں میں منہ دے کر اپنا دکھڑا رویا۔۔ وہ روتی جا رہی تھی اور اس کا دل کڑھتا جا رہا تھا۔۔ ہارون کی بات محبت پر اس نے توجہ نہ دی تھی اور نہ ہی یہ اب قابلِ توجہ بات تھی وہ ونی تھی محض اس کے لئے یہ اہم اور بھیانک بات تھی۔۔ وہ دوبارہ چار گھنٹے بعد کمرے میں آیا تھا فرح زمین پر صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی رونے میں مصروف تھی اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنا بیگ نکالنے لگا۔۔ اس نے اپنا سفری بیگ تیار کیا اور اس پر ایک غصیلی نگاہ ڈال کر حویلی سے چلا گیا۔۔ فرح خاموش نظروں سے اس کی کاروائی دیکھتی رہی اس کے جانے پر وہ اٹھی تھی اسے اتنا معلوم تھا وہ کمرے سے ہی نہیں حویلی سے ہی جا چکا ہے۔۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ حویلی سے کیا گاؤں سے بھی دور چلا گیا ہے۔۔ وہ صبح کسی کے بہت بری طرح ہلانے پر اٹھی تھی وہ بیٹھی بیٹھی وہیں سو گئی تھی۔۔ "اٹھو میڈم استانی صاحبہ۔۔ حویلی کے کام آپ کے منتظر ہیں۔۔" اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں زائشہ کھڑی اس کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ "تمہارا بھائی میرا بھائی کھا گیا اب کیا مجھے کھائے گی۔۔" زائشہ نے طنز کے تیر چلائے تھے۔۔ وہ گردن جھکا کر بیٹھی رہی ۔۔ "کیا کان میں میل جما ہوا ہے۔۔؟ میری آواز نہیں آ رہی ہے۔؟" زائشہ کا بس نہیں چل رہا تھا اس کی قبر ہی کھود کر اسے زمین میں دفن کر دے۔۔ "آ رہی ہوں۔۔" اس نے منمناتے ہوئے کہا وہ اسے بازو سے پکڑ کر اٹھانے لگی۔۔ "جو مرا ہے میرا سگا بھائی ہے اور جس نے مارا ہے وہ تیرا سگا بھائی ہے۔۔ سمجھی اس خون کے کھیل میں سزا تجھے ملے گی یہ بھی یاد رکھنا اب میں پہلے والی وہ لڑکی نہیں رہی ہوں جس کو فرح سے انسیت تھی۔۔ جو اس کے پاس پانچویں جماعت پڑھنے آتی تھی۔۔ اس لئے اب ہمارا عزت کا رشتہ ختم ہو گیا ہے اب سے بس دشمنی کا رشتہ ہے ہمارے درمیان سمجھی اس لئے اٹھو تمیز سے کہہ رہی ہوں، ورنہ میں گھسیٹ کر اپنی حکم کی تعمیل کرواؤں گی۔۔" زائشہ نے ماتھے پر بل ڈالے فرح کو سب کچھ ایک ساتھ ہی باور کروا دیا تھا وہ لب بھنچ کر اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھ گئی واپس آئی تو اس کا منہ دھلا ہوا تھا کپڑے تبدیل تھے۔۔ زائشہ جو اس کا کب سے انتظار کر رہی تھی فوراً سے اس کے آنے پر بازو سے تھام کر سیڑھیاں تیزی سے اترتی نیچے آئی ۔۔ "ہارون کے کمرے میں بھیج دیا تھا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم یہ سمجھ بیٹھو تم ونی نہیں اس حویلی کی بہو ہو۔۔ ابھی سے تمہیں ونی ہونے کے سارے اصول سیکھائے جائیں گے۔۔" اس کی ساس نے نفرت سے اس کے سراپے کو دیکھ کر کہا۔۔ وہ سر جھکا کر مجرموں کی طرح لب کچلتے ہوئے کھڑی تھی۔۔ ونی ہونے سے پہلے ہی پتا تھا اس کا انجام اب اچھا نہیں ہونا ہے۔۔ اس لئے لبوں پر خاموشی کا فقل لگا کر ہی رکھا۔۔ بھلے ہارون شاہ کچھ بھی کہے وہ خود کو ونی ہونے سے قبل فراموش کر چکی تھی۔۔ اس کے لبوں سے فقرے اب نکلنا ضروری نہ ٹہرا تھا۔۔ "زائشہ جا اسے باورچی خانہ دیکھا جہاں اب اس نے دن کا بیشتر حصہ گزارنا ہے۔۔ غلطی ہونے پر سزا دینے سے گریز نہ کرنا۔۔" ان کی بات سن کر فرح کا دل کیا آج ہی اس کی زندگی کا اختتام ہو جائے۔۔ زائشہ اسے بازو سے کھینچ کر باورچی خانے میں لے آئی اس کے ساتھ جانوروں سے بتر سلوک کیا جا رہا تھا اور وہ خاموش تھی۔۔ سب کو ظلم پر خاموش نہ رہنے کا درس دینے والی استانی آج بالکل خاموش تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرح کا تعلق گاؤں کے غریب گھرانے سے تھا۔۔۔ وہ انٹر کر کے گاؤں میں ہی بچوں کو پڑھانے کی زمہ داری نبھا رہی تھی۔۔ ان میں زائشہ بھی تھی جسے کبھی شہر جا کر پڑھنے کا موقع نہ ملا تھا۔ اس کا باپ سخت اصولوں کا پابند تھا اس وجہ سے وہ فرح سے پڑھنے آتی تھی گورنمنٹ سکول میں اگر اسے لگتا کوئی مضمون اسے سمجھ نہیں آیا ہے تو وہ فرح کے گھر بھی چلی جایا کرتی تھی۔۔ وہ خوش اخلاق لڑکی تھی اور آسانی سے خوشی خوشی اسے گھر پر بھی مفت کا ٹیوشن دے دیتی تھی۔۔ اس کی دو چھوٹی بہنیں بھی تھیں جن کو فرح ہی پڑھاتی تھی۔۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا۔۔ نا جانے اس سے ایسا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ قتل کرتے ہی بھاگ گیا تھا اور وہ عام بندہ نا تھا حویلی کی اولاد تھا سرپنچ کا بیٹا۔۔ ہارون کا باپ سر پنچ تھا۔۔ گاؤں میں ان کی بڑی عزت تھی جب کہ ہارون سب سے بڑا بیٹا تھا۔۔ اس سے چھوٹا ساجد تھا جس کا قتل ہو چکا تھا۔۔ سب سے چھوٹی زائشہ تھی۔۔ اس کی ماں کی حکمرانی گھر پر اور باپ کی پورے گاؤں پر چلتی تھی۔۔ ساجد کے قتل کے بعد گاؤں میں پنچائیت بٹھائی گئی تھی ۔ فراح کا باپ غریب تھا مگر پورے گاؤں میں معزز سمجھا جاتا تھا سبھی اس کی عزت کیا کرتے تھے کیونکہ وہ دن کے کاموں میں پیش پیش رہا تھا مسجد کی کمیٹی کا ممبر تھا ۔پڑھا لکھا بھی تھا اور اس نے فرح کو پڑھایا تھا ۔ وہ فراح سے بے حد محبت کرتا تھا مگر نہیں جانتا تھا کہ وہ بیٹی جسے نازوں سے پال رہا ہے اس کی خواہش کے مطابق تعلیم دلوا رہا ہے ایک دن اسے ونی میں دینا پڑے گا ۔ ونی گاؤں کی وہ فرسودہ رسم تھی جو صدیوں سے چلی آ رہی تھی اور آ گے نہ جانے کتنی زندگیوں کو نگلنے والی تھی ۔جہاں پر اسلام نے قتل کے بدلے میں قتل یا خون بہا دینے کا فیصلہ کیا ہے وہیں پر خدا کے بندوں نے اپنے لیے مفاہمت کا یہ درمیانی راستہ نکالا تھا ۔کہنے کو یہ اسلام کے اصولوں کے بالکل خلاف تھا لیکن جب وہ خود انسان ہی خدا بن بیٹھے ہیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔اس وقت بھی پنچایت میں بیٹھا ہوا ہارون کا باپ جو سرپنچ تھا اور دوسرے سرپنچ خدا بنے ہوئے تھے جنہوں نے فورا ہی ساجد کے قتل بدلے میں فراح کے باپ سے ونی مانگ لی تھی ۔ فرح اس وقت بے حد پریشان تھی ۔ وہ صرف اپنے باپ اور چھوٹے بھائی کی زندگی کے لیے دعا گو تھی ۔بڑا بھائی تو نہ جانے قتل کرنے کے بعد کہاں روپوش ہو گیا تھا کہ لاکھ پتہ چلانے کے باوجود بھی اس کا سراغ نہیں مل سکا تھا ورنہ ہارون جتنا غصے میں تھا ۔کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ سامنے پاتا ہے یہ فرح کے بھائی وسیم کا قتل کر ڈالتا ۔

میں لنک دیتی ہوں تو اپ لوگ کمنٹس نہی کرتے - کمنٹس لازمی کیا کریں - اس سے سپورٹ ملتی ہے -جتنے کمنٹس کروگے اپ لوگ میں اتنی زیادہ لنکس ساتھ دوگی 👇👇👇
https://urdunovelsghar.org/khayal-e-ishq-short-urdu-novel/

خوشبوؤں سے مہکتے ،پھول پنکھڑیوں سے سجے اس شاہانہ ماسٹر بیڈروم کی  گول شیپ بیڈ کے عین وسط میں دلہن بنی بیٹھی،وہ ماہ جبیں ...
28/03/2026

خوشبوؤں سے مہکتے ،پھول پنکھڑیوں سے سجے اس شاہانہ ماسٹر بیڈروم کی گول شیپ بیڈ کے عین وسط میں دلہن بنی بیٹھی،وہ ماہ جبیں شرمائی گھبرائی سی مسلسل اپنی انگلیاں مسل رہی تھی،جبھی کھٹکے کی آواز کے ساتھ کوئی کمرے میں داخل ہوا تھا۔وہ بھاری قدموں کی دھمک چھوڑتا نزدیک تر چلا آرہا تھا۔۔اُسکا چہرہ گھونگٹ کی آڑ میں مکمل چھپا ہوا تھا،جبکہ وہ آنے والے وقت کی گھبراہٹ کے باعث مزید خود میں سمٹ سی گئی تھی۔وہ بھاری قدموں کی دھمک چھوڑتا قدم قدم چلتا نزدیک تر چلا آرہا تھا۔۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔
’’سُنو لڑکی!‘‘ آواز میں بلا کی سردگی تھی،وہ بے ساختہ دل تھام گئی۔
’’پہلے اپنے منہ پر سے یہ تنبو تو ہٹاؤ۔‘‘وہ ذرا خفا ہوا،مقابل کا دل سہمی چڑیا کی طرح لرزہ تھا۔گھبرا کر خود ہی اپنا گھونگھٹ پلٹ دیا تھا۔اور مقابل اس حسن کی مورت کو دیکھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔
’’میں نے یہ شادی صرف ڈیڈ کے اسرار پر کی ہے۔ورنہ میرے لئے میرے دو نوں بچے ہی بہت ہیں۔‘‘یہ کیسا انکشاف تھا،اس نے جھٹکے سے گردن اُٹھا کر مقابل کھڑے شخص کو دیکھا،وہ وجاہت و شجاہت کا پیکر تھا۔
’’بچے۔‘‘لبوں نے بے آواز سرگوشی کی تھی۔
’’اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟ تمھارے گھر والوں نے تمھیں میرے بچوں کے متعلق آگاہ نہیں کیا؟‘‘اس نے آئی برو اُٹھائے،بلاشبہ وہ لڑکی بے حد خوبصورت تھی،مگر وہ ان حسین چہروں کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔۔
’’نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘آنکھوں سے نکلتے آنسو گالوں پر بہتے چلے گئے تھے۔
’’کچھ انوکھا نہیں کہہ رہا ہوں۔حقیقت بیان کر رہا ہوں۔اور ہاں خبردار جو اس کمرے کی کوئی بھی بات باہر گئی،یا تم نے میری اولاد کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کرنے کی کوشش بھی کی تو۔‘‘وہ انگشت شہادت اٹھا کر سخت تنبیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔ساتھ ہی شیروانی کے بٹن کھینچ کر کھولتے ایک طرف کو رکھی تھی۔
’’اب کیا ساری رات بت بن کر گزارنی ہے۔اُٹھو یہ لباس چینج کرو،اور پلیز یہ کمرہ سمیٹوں،مجھے ان سب چیزوں سے سخت قسم کی کوفت ہو رہی ہے۔‘‘وہ شدید بیزاری ظاہر کرتا، خود واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔۔وہ لڑکی کتنی ہی دیر سکتہ کی سی کیفیت میں گہری رھی تھی۔
پھر اپنی تمام تر تیاری کے ساتھ بیڈ سے اُٹھتی وہ قدم قدم چل کر سنگھار آئینے کے عین سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔
آئینے میں نظر آتا اپنا بنوا سنورا سا عکس دیکھ ،اسکی جھیل جیسی گہری آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔دل میں ایک ہوک سی اُٹھی تھی۔۔دل تکلیف سے پھٹا جا رہا تھا۔۔کیا واقعی پھپھی جان ٹھیک کہتی تھیں؟ کہ وہ ایک سبز قدم،سیاہ بخت لڑکی ہے؟
وہ نجانے اور کتنی دیر یونہی رُوتی رہتی جبھی کھٹکے کی آواز پر وہ چونکی،جو سفید کرتا شلوار میں ملبوس شاید سونے کے ارادے سے بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔پھر ایک لمحے کو ٹھہرا۔
’’لڑکی تم ابھی تک ایسی ہی کھڑی ہو؟ کیا ساری رات یہیں کھڑے ہوکر ٹیسوئے بہانے کا ارادہ ہے؟‘‘وہ شدید بیزار دکھائی دے رہا تھا۔۔
’’کیا میرے گھر والے آپ کی پہلی شادی اور بچوں کے بارے میں جانتے تھے؟‘‘وہ رندھے ہوئے لہجے میں استفساریہ گویا ہوئی۔آئینے سے نظر آتا عکس دیکھ وہ ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔اس کا سوزگوار حسن کسی کو بھی زیر کر سکتا تھا۔مگر وہ یزدان سکندر تھا۔بڑے بڑوں کو اپنے سامنے زیر کرنا اسکا پسندیدہ تھا۔
’’ہاں۔۔اور پلیز یہ تام جھام جلدی اتار کر ، لیٹ جاؤ،صبح جلدی اٹھنا ہے تمھیں۔کل صبح سے میرا ،بچوں کا اور ڈیڈی کا ناشتہ ،تمھاری زمہ داری ہے۔‘‘وہ ایسے ہدایت جاری کر رہا تھا۔جیسے وہ پہلی رات کی دلہن نہیں بلکہ ملازمہ ہو۔
جبکہ وہ اپنے گھر والوں کے اس دھوکے پر صدمے سے دوچار تھی۔۔
بھاری قدموں سے لہنگا سنبھالتی وہ سیدھی ڈریسنگ روم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔جہاں وہ اپنا غم غلط کر سکتی تھی۔۔جبکہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر لیٹے یزدان نے سپاٹ نگاہوں سے اس لڑکی کی حرکتیں دیکھیں تھیں۔پھر سر جھٹک کر آنکھیں موند گیا۔۔کیونکہ وہ کسی قسم کا ڈرامہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح صادق سے طلوع ہوتا سورج اپنے جوبن پر تھا۔ شیشے کی قد آور کھڑکیوں سے روشنی چھن چھن کر خواب گاہ میں داخل ہوتی،بیڈ پر سوئے نفوس کے چہرے پر پڑتی نیند میں خلل ڈالنے کا کام کر رہی تھی۔۔وہ شدید اکتاہٹ کا شکار تھا۔جبھی اس نے جھلبلا کر کروٹ بدلی تو ہاتھ کسی نرم وجود سے جا ٹکرایا تھا۔۔وہ ایک دم چونک کر اٹھا تھا۔۔مندی مندی سی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو وہ اپنے لاپرواہ وجود سے بے نیاز اس کے بے حد نزدیک، لیٹی خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
سفید رنگ سادھے سے سوٹ میں اسکی دودھیا رنگت کھل سی رہی تھی۔جبکہ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر آدھا منہ کھولے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے، نیند میں غرق تھی۔
’’کیوٹ۔۔‘‘وہ بے ساختہ سی مسکرایا تھا۔۔مگر پھر گڑبڑاکر دور ہوا تھا۔اسے تو لگا تھا وہ خود ہی صوفے پر سو جائے گی۔مگر اس بیڈ پر اس کی موجودگی نے اُسے برُی طرح چونکا دیا تھا۔جبھی کسی نے دروازہ دھڑا دھڑ بجایا تھا۔۔
وہ جو نیند میں غرق تھی۔گڑبڑا کر اُٹھ گئی تھی۔۔جبکہ اپنے سامنے یزدان سکندر کو خود کو دلچسپی سے تکتا پاکر وہ پل میں سر تا پاؤں سُرخ پڑی تھی۔
’’ریلیکس بچے ہونگے۔۔‘‘وہ اپنی شرٹ درست کرتا متوازن لہجے میں بولتا دروازے تک گیا تھا۔او ر توقع کے عین مطابق دونوں بچے اسے ڈیڈی کہتے ہے،ڈیڈی کہتے پاؤں سے لپٹے تھے۔
’’السلام علیکم! اینڈ گڈ مارننگ ڈیڈی۔۔‘‘وہ دونوں سات سال کے لگ بھگ شاید جڑواں کے بچے تھے۔پیچھے سے دلچسی سے دیکھتی تمکنت کو تو یہی لگا تھا۔
’’وعلیکم السلام ڈیڈی کی جان۔‘‘اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دونوں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔
’’یہ کیوٹ سی ہماری مام ہیں؟‘‘ ان دونوں کی اشتیاق بھری نگاہیں پیچھے بیٹھے وجود پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔
’’اممم۔۔یس۔۔‘‘وہ دونوں کو اپنے ساتھ لئے بیڈ پر آیا تو تمکنت اس کی رات کی تنبیہ یاد کر نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی تھی۔
’’السلام علیکم مام!‘‘وہ دونوں ہی ویل مینرڈ بچے تھے۔جبکہ تمکنت اتنے بڑے بڑے بچوں کو دیکھ، مسلسل دل میں جل کڑھ رہی تھی۔۔اس کے نصیب میں ہمیشہ سے اُترن آئی تھی۔۔اور آج بھی اُترن ہی اسکا مقدر بنی تھی۔
’’واہ تمکنت بختیار، شکل کے ساتھ آگر بخت بھی اتنا ہی اچھا ہوتا تو کیا بات تھی۔
’’کیا ہم آپ کو ہگ کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ دونوں محبت سے پوچھ رہے تھے۔۔وہ تذبذب کا شکار لب چبا کر رہ گئی تھی۔
’’آگر آپ نہیں چاہتی تو صاف کہہ دیں۔تاکہ ان کے دل میں خواہشات جنم نہ لیں۔‘‘ یزدان کی سرد آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔
’’نہ۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔دراصل یہ سب کچھ میرے لئے بہت شوکنگ ہے۔آگر پہلے سے پتہ تھا تو شاید میں منٹلی پریپئیر ہوتی۔‘‘وہ سچے دل سے بولی تھی۔یزدان کو بھی اسکا موقف درست لگا تھا۔
’’یہاں سراسر آپ کے گھر والوں کا قصور ہے۔ویل۔۔ماما سے مل لئے ،اب آپ لوگ جاؤ،ہم بریک فسٹ ساتھ ہی کریں گے۔‘‘وہ اوکے ڈیڈی کہتے کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔
’’آپ بھی ریڈی ہوجائیں۔‘‘اسکا رویہ رات سے یکسر مختلف تھا۔وہ حیران سی اس کی پشت دیکھے گئی تھی،بلا شبہ وہ ایک حسین مرد تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھٹکے کی آواز کے ساتھ واشروم سے باہر آیا تھا،جبھی وہ بھی تیزی سے ا ُٹھتی واشروم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔جبکہ اس نے کن آنکھیوں سے اس لڑکی کی کارروائی ملاحظہ کی تھی۔۔
وہ شاور لے کر رو م میں واپس آئی تو بالکنی سے اس کی غصہٰ کرنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھیں۔وہ شاید کسی پر خفا ہورہا تھا۔۔تمکنت سہم سی گئی تھی۔ اور تیزی سے ہاتھ چلاتی اپنے بال خشک کر رہی تھی۔۔جبھی وہ روم میں داخل ہوا تھا۔
’’لڑکی تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔جبکہ میں نے تم سے کہا تھا کہ آج سے گھر کی ساری زمہ داریاں تمھارے سر پر ہیں۔‘‘تمکنت نے حیران و پریشانی سے اسے دیکھا تھا،جو پل پل میں روپ بدل رہا تھا۔
’’گرگٹ کہیں کے۔۔‘‘وہ زیر لب بڑ بڑائی۔یزدان نے خود کو حیرت سے دیکھتی ،پھر زیر لب بڑبڑاتا دیکھ آئی برو اٹھائے۔
’’آپ نے کچھ کہا ہے کیا؟‘‘وہ استفساریہ گویا ہوا۔۔وہ گڑبڑائی۔۔
’’نہیں بالکل نہیں۔۔‘‘اس کی تو سٹی بٹی گم ہوگئ تھی۔
’’گڈ! کوشش بھی مت کرنا کچھ کہنے کی۔‘‘وہ غصےٰ سے بولتا روم سے نکل گیا تھا۔جبکہ وہ اپنا منہ لے کر رہ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیچے پہنچی جہاں اسکے سسر اسی کے منتظر تھے۔
’’خوش آمدید بچے۔‘‘انھونے اس کو دیکھ ،خوش اسلوبی سے پکارا تھا۔جو مسکرا کر ان کے سامنے سر جھکا گئی تھی۔
’’ان سے ملیئے یہ دونوں ہمارے گھر کی رونق،ہماری جان، ہمارے کیوٹ سے پوتے،ارمان سکندر،اور شامیر سکندر ہیں۔‘‘انھونے لگے ہاتھوں پوتوں کا تعارف کرایا تھا۔
’’ہم تو ماما سے مل بھی لئے۔‘‘انھونے چہک کر کہا تھا۔اس تمام عرصے میں یزدان بالکل خاموش بیٹھا تھا۔جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو۔
’’واقعی۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے شہزادے اپنی مام سے مل لئے ہیں۔‘‘وہ خوش اسلوبی سے بولے۔
’’آپ بیٹھیں بیٹا۔‘‘وہ نشست سنبھال گئی۔جبھی سب نے ناشتہ شروع کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کو ایک ماہ گزر گیا تھا۔یزدان کا رویہ ہنوز ویسے ہی پہلے دن جیسا تھا۔وہ بالکل خاموش تھا۔البتہ تمکنت اپنے گھر والوں سے سارے تعلق توڑ چکی تھی۔وہ ویسے ہی اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ایسے میں اس سودے بازی کی شادی کی حقیقت اشکار ہونے کے بعد تو اسے ان سے کوئی تعلق رکھنا ہی نہیں تھا۔اس نے اسی کو اپنا نصیب مان لیا تھا۔البتہ اب وہ اب بچوں سے کافی اٹیچڈ ہو گئی تھی۔آگر یہی نصیب تھا تو یہی سہی۔۔ویسے بھی اس کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ماما ہم آنکھ مچولی کھلیتے ہیں۔‘‘وہ دونوں اسکی آنکھ پر پٹی باندھ کر گول گول گھوم رہے تھے۔جبھی کار پورچ میں یزدان کی گاڑ ی آ کر ٹھہری تھی۔اور اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اسے کھیلتا دیکھ وہ خود بھی وہیں آگیا تھا ۔۔جو مسکراتی ہوئی ان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
’’ ارمان ،شامیر کہاں ہو آپ۔۔‘‘وہ دونوں باپ کے اشارے پر خاموشی سے سائیڈ ہوگئے تھے،جبکہ وہ انھیں پکڑنے کی کوشش میں شامیر کو پکڑ چکی تھی۔
’’پکڑ لیا۔۔‘‘مگر دونوں کی جگہ کسی اور کو محسوس کر وہ فوراً پیچھے ہوئی،اس سے قبل کہ وہ لڑکھڑا کر گر پڑتی،یزدان اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر سنبھال چکا تھا۔
’’آرام سے۔۔‘‘اس آواز اور قربت وہ پل میں سُرخ پڑی تھی۔۔
’’وہ میں۔۔‘‘وہ بُری طرح گڑبڑائی۔۔جبکہ وہ اسکی روشن آنکھوں میں جھانکتا ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔
’’ماما نے بابا کو پکڑ لیا۔۔اب آپ کی باری۔‘‘اپنے بچوں کی آواز پر وہ دونوں ہی گڑبڑا کرہوش میں آئے تھے۔
’’میں۔۔میں۔۔۔ڈنر کی تیار کرلوں۔۔‘‘وہ فوری وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کا اہتمام اچھے طریقے سے کیا گیا تھا۔پرتکلف ڈنر کے بعد سکندر صاحب نے بغوراپنے لاڈلے کو دیکھا تھا،جو بس بزنس میں گم ہوکر رہ گیا تھا۔
’’پھر آپ دونوں نے کیا سوچا ہے؟‘‘وہ چونکا۔
’’کس بارے میں بابا؟‘‘اس نے حیرت سے استفسار کیا۔
’’بھئی نئی نئی شادی ہوئی ہے آپ کی۔ ہماری بہو کو کہیں ہنی مون پر لے کر جائیں۔‘‘ پانی پیتی تمکنت کو بری طرح سے پھندا لگا تھا۔
’’اللہ خیر۔۔‘‘
’’دھیان کہاں ہے آپ کا؟‘‘وہ یک دم ہی پریشان ہوتا اسکی کمر سہلا نے لگا تھا۔جس کا چہرہ مسلسل کھانسنے کے باعث سرخ انگارہ ہوگیا تھا۔
’’وہ۔۔وہ میں۔۔‘‘ شدید بوکھلاہٹ میں اس نے کچھ کہنا چاہا،مگر یزدان کو مسلسل اپنی کمر تھپکتے دیکھ وہ سکندر صاحب کے سامنے بلاوجہ شرمندہ ہوگئی تھی۔
’’بابا دیکھیں ماما کے گال کتنے ریڈ ہورہے ہیں۔بالکل میرے چکس کی طرح۔‘‘ شامیر مان کا سرخ چہرہ دیکھ ایکسائیٹڈ سا بولا تھا۔تو شاہ میر نے آج بغور اسکے چہرے کا جائزہ لیا تھا۔
ملائی جیسی نرم جلد،جو کھانسنے سے سرخ پڑ گئی تھی،جھیل جیسی آنکھین، نین کٹوروں میں پانی بھر آیا تھا،بھرے بھرے گلابی ہونٹ بلاشبہ وہ بے انتہا خوبصورت لڑکی تھی۔
’’بابا میری طرح ماما کے چکس پر کس کرلیں،وہ ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘اس بار وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ برُی طرح سے سٹپٹائے تھے۔جبکہ سکندر صاحب کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا۔
’’ڈیڈی۔۔۔‘‘یزدان نے تمکنت کو بوکھلا تے دیکھ ناراض نگاہوں سے دیکھا تھا،تو وہ لب دبا گئے۔
’’خیر میں کہہ رہا تھا آپ دونوں کا ہنی مون کا کیا پلان ہے؟‘‘وہ ایک بار پھر سوالیہ گویا ہوئے۔
’’ڈیڈی آپ کو معلوم تو ہے۔ میں ابھی بزنس میں الجھا ہوا ہے۔پھر ان دونوں کا اسکول بھی ہے۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح بہانہ گھڑ گیا۔
’’بزنس کی تم فکر نہ کرو،ابھی میں زندہ ہوں،دوسری بات یہ بچوں کے ساتھ ہنی مون پر کون جاتا ہے؟‘‘انھونے بیٹے کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔
’’آپ کو معلوم ہے میں اپنے بچوں کے بغیر کہیں نہیں جاتا۔‘‘اس نے اس بار ایک سپاٹ نگاہ ساتھ بیٹھی تمکنت پر ڈالی تھی،جو سر پلیٹ میں گھسیڑے کھانے میں مصروف تھی۔
’’ بچے اپنے دادا کے ساتھ بہت خوش رہ لیں گے،تم اپنی بیوی کو وقت دو، اس کے ساتھ وقت گزاروں،اپنی فیملی آگے بڑھانے کا سوچو۔۔‘‘ تمکنت کی رنگ سرخ انگارہ ہوگئی تھی۔
’’ میرے لئے میرے دو بیٹے کافی ہیں۔‘‘تمکنت کے دل پر گھونسا سا پڑا تھا۔اتنی تزلیل۔۔
’’یزدان ۔۔۔‘‘انھونے بہو کو تاریک پڑتا چہرہ دیکھ، بیٹے کو گھور کر دیکھا تھا۔
’’ڈنر کے بعد میرے روم میں آئیں۔تمکنت بیٹا آپ میرے لئے قہوہ بھجوا دیجئے گا۔‘‘اس بار وہ سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتے،اپنے روم میں چلے گئے تھے۔دونوں بچے بھی کھانا فنش کرتے میز چھوڑ گئے تھے۔تمکنت بھی گھبرا کر اٹھنے لگی تھی،جبھی اس نے اسکی کلائی تھام کر روک لیا تھا۔
’’آپ کہاں جا رہی ہیں؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔
’’وہ انکل کے لئے قہوہ۔۔‘‘اس نے نظریں جھکائے جواز پیش کیا۔
’’بیٹھ جائیں۔۔پہلے کھانا ڈھنگ سے ختم کریں۔۔حالت دیکھی ہے اپنی۔ لگتا ہے کسی قحط زدہ علاقے کی رہائشی رہی ہو۔۔‘‘وہ ویسے ہی مزاحیہ آنداز میں بول گیا تھا۔جبکہ تمکنت کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے،وہ اسکی بے بسی اور غربت کا مزاق اُڑا رہا تھا۔۔
’’ہئے۔۔۔واٹ ہیپنڈ۔۔۔رو کیوں رہی ہیں آپ؟‘‘وہ حیران ہوتا کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوا تھا،جو اب سر جھکائے کھڑی سو سو کر رہی تھی۔

میں لنک دیتی ہوں تو اپ لوگ کمنٹس نہی کرتے - کمنٹس لازمی کیا کریں - اس سے سپورٹ ملتی ہے -جتنے کمنٹس کروگے اپ لوگ میں اتنی زیادہ لنکس ساتھ دوگی -

https://urdunovelsghar.org/meri-zindagi-novel-short-story/

"اللہ اللہ۔۔۔ میں تو فیل ہو گئی کیسے چھپوں اس چنگیز خان سے ۔۔"یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کزن فریحہ کے کمرے میں جاتے ہی کمبل می...
28/03/2026

"اللہ اللہ۔۔۔ میں تو فیل ہو گئی کیسے چھپوں اس چنگیز خان سے ۔۔"یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کزن فریحہ کے کمرے میں جاتے ہی کمبل میں دبک گئی اس بات سے انجان کہ اذہان شاہ سر درد کی وجہ سے اپنی بہن کے کمرے میں لیٹا ہوا تھا ۔اس کی بدتمیزی پر ضبط کرتا اپنے اوپر اتے نازک وجود کو دیکھ کر لب بیچ گیا تھا کیونکہ دا جی ان دونوں کا نکاح کرنے والے تھے ۔۔تبھی اسے پھر سے مایا کی اواز سنائی دی ۔"اللہ کرے اذہان لالا کو ہارٹ اٹیک آ جائے اور وہ میرا رزلٹ نہ دیکھ سکیں "۔۔یہ کہتے اس نے پاس لیٹے وجود سے کمبل کھینچا تبھی اچانک کمرے کی لائٹ جلی اور مایا نے چیخ مارتے ۔۔۔
"خان بابا میرا رزلٹ کارڈ کہاں ہے مجھے دے دیں۔۔۔۔"
ڈرائیور نے ابھی گاڑی گیٹ سے اندر کی تھی کہ مایا بھاگتے ہوئے گاڑی کے سامنے آ گئی تھی۔ خان بابا اگر وقت پر بریک نہ لگاتے تو یقینا اس وقت تک وہ بری طرح سے چوٹ لگوا چکی ہوتی۔
"بٹیا رانی سنبھل کر۔ یہ دیکھیے آپ کا کون سا رزلٹ کارڈ ہے ان میں سے۔"
خان بابا نے اس کا اور فریحہ کا رزلٹ کارڈ اس کے ہاتھوں میں تھما دیا تھا۔ اس نے جلدی سے دونوں رزلٹ کارڈ پکڑ لیے تھے۔
"خان بابا فریحہ آپی کو بھی رزلٹ کارڈ میں دے دوں گی آپ جائیے۔"
کہتے ہوئے وہ گھر کے اندرونی حصے میں آ گئی تھی۔ بھاگ کر کمرے میں آئی۔ رزلٹ کارڈ کھولا تو پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔
"اللہ اللہ میں پھر فیل ہو گئی۔ اب کیا منہ دکھاؤں گی اس کھڑوس جلاد کو۔ وہ تو مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ کیسے چھپوں گی اس چنگیز خان سے۔"
مایا نے خود کو بری طرح کوسا تھا۔ اپنے رزلٹ سے زیادہ غصہ اذہان شاہ پر آ رہا تھا جو اب یقینا اس کی کافی زیادہ انسلٹ کرنے والا تھا اور اس کی درگت کافی زیادہ بناتا۔ ہر وقت اس کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔ پڑھائی کرو یہ کرو وہ کرو۔ اس کی ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔
مایا کے خیال میں ہلاکو خان مر گیا تھا مگر اپنی روح وہ اذہان میں چھوڑ گیا تھا اور اس دنیا میں واپس اذہان شاہ کی صورت آ گیا تھا اور اب سارے ظلم و ستم کے پہاڑ اس کی ننھی سی جان پر توڑتا رہتا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے اس نے رزلٹ کارڈ اپنے ڈریس ٹیبل کی سب سے نیچے والی دراز میں رکھ دیے تھے یہ جانے بغیر کہ اذہان شاہ آن لائن اس کا رزلٹ کارڈ دیکھ چکا تھا۔ جس کی اطلاع بھی اسے تائی امی سے مل چکی تھی۔
تائی امی نے ہی اسے بتایا تھا کہ اذہان کا فون آیا تھا۔ وہ دوپہر میں لنچ پر گھر آ رہا ہے۔ اسے مایا اور فریحہ کے رزلٹ کارڈ کے بارے میں بھی بات کرنی ہے۔
یہیں پر اس کے طوطے اڑ گئے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ اب اس کی خیر نہیں ہے۔ فریحہ نیچے کچن میں امی کا ہاتھ بٹا رہی تھی جبکہ اسے کچھ خبر ہی نہیں تھی۔
جیسے ہی اذہان شاہ کی گاڑی کی آواز آئی وہ بھاگتے ہوئے فریحہ کے کمرے میں چلی گئی۔ لائٹس آف تھیں۔ وہ کمبل میں دبک گئی۔
"آپی دور ہو جاؤ اور مجھے بھی دو جگہ۔ اللہ اللہ میں پھر سے فیل ہو گئی ہوں۔ سمجھ نہیں آ رہی اس چنگیز خان سے کیسے بچوں۔"
اس کی سرگوشی پر ساتھ پڑے ہوئے وجود میں حرکت ہوئی تھی۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اذہان شاہ ہی تھا جو دوپہر سے بھی کافی وقت پہلے بابا جان کی گاڑی میں گھر آ گیا تھا۔ فریا کے کمرے میں کچھ دیر سکون کرنے آیا تھا کیونکہ اس کے سر میں شدید درد تھا۔ مگر مایا کی اس کمبل اور کمرے میں مداخلت نے اس کے اس ارادے کو ملیا میٹ کر دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب آرام کرنا ممکن نہیں ہے۔وہ اس کی بدتمیزی پر ضبط کر گیا تھا مگر مایا کمبل میں لیٹے لیٹے ہی اس پر انگریز تھی۔
"اللہ کرے اذہان اللہ کو ہارٹ اٹیک آ جائے۔ وہ مر جائیں اور یہ رزلٹ کارڈ نہ دیکھ سکیں۔"
اپنی طرف سے اس نے بڑے پتے کی بات کی تھی مگر اذہان شاہ کے لیے اب ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس بدتمیز لڑکی سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ کہیں اپنی حد ہی پار نہ کر جاتی۔اپنی باتوں میں مگن مایا نے اب دھیان دیا تھا کہ فریحہ اسے کوئی جواب نہیں دے رہی۔ ایک دم ہی اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کمبل کھینچا تھا اور اسی لمحے اذہان شاہ نے کمرے کی لائٹ جلا دی تھی۔اذہان شاہ پر نظر پڑتے ہی مایا کی چیخیں بلند ہو گئی تھیں۔ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
"جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو۔"
اذہان شاہ کو سامنے دیکھ کر اس کی زبان پھر سے پھسلی تھی۔ جلد از جلد جل تو جلال تو کا ورد کرنا شروع کر دیا تھا۔ حالانکہ گھر بھر میں اس نے مشہور کر رکھا تھا کہ شدید خطرات بڑے جن بھوتوں اور دیو کے لیے اگر جل تو جلال تو پڑھ دیا جائے تو وہ فورا بھاگ جاتے ہیں۔اذہان شاہ نے اس کی بیوقوفیوں پر دانت پیسے تھے۔ اسی پل دا جی کی بات یاد آئی تھی جنہوں نے آج اسے اپنے کمرے میں بلا کر کہا تھا کہ وہ اس کا اور مایا کا نکاح کروانا چاہتے ہیں۔
"دا جی اس بے وقوف لڑکی کو میرے پلے باندھ دیں گے۔ پہلے اسے کچھ عقل تو دے لیں۔ اس کی حرکتیں تو برداشت سے صحیح باہر ہوتی جا رہی ہیں۔"
اذہان کوفت سے سوچتا ہوا بیڈ سے اتر کر نیچے کھڑا ہو گیا جبکہ مایا تو سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھے جا رہی تھی۔ لبوں پر ابھی بھی جل تو جلال تو زور و شور سے جاری تھا۔اذہان شاہ نے بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔ مایا کے وجود میں جیسے سنسنی دوڑ گئی تھی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس کے جذبات کچھ عجیب ہوئے تھے۔ مگر اذہان شاہ نے اسے بیڈ سے نیچے اتارا اور دروازے سے باہر لے جا کر کھڑا کر دیا۔
"رزلٹ کے بارے میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔ فی الحال یہاں سے جاؤ۔ میرے سر میں بہت درد ہے۔ کسی کو اس کمرے میں نہ آنے دینا۔"
ہدایت دیتے ہوئے وہ پلٹ کر دروازہ بند کر چکا تھا جبکہ مایا ابھی تک آنکھیں پھاڑے کھڑی ہوئی تھی۔ اس کی اتنی قابل گرفت حرکات پر بھی اذہان شاہ نے کچھ نہیں کہا تھا جو اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا کرتا تھا۔پھر اسے پورا یقین ہو گیا کہ اس نے جو جل تو جلال تو پڑھنا شروع کیا ہے اسی کی وجہ سے یہ بلا اس کے سر سے ٹلی ہے۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ آج ہی اس کے سر پر دھماکہ ہونے والا ہے۔ یہ بلا مستقل اس کے گلے پڑنے والی ہے۔ پھر کوئی بھی جل تو جلال کا ورد اس بلا کو اس کے سر سے اتار نہیں سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دنیا یہ دنیا پیتل دی کہ بے بی ڈول میں سونے دی۔
کمرے میں میوزک کا ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا جبکہ مایا گانے کے بولوں پر مہارت سے ڈانس کے سٹیپ لے رہی تھی۔ گانے کی آواز باہر تک جا رہی تھی جبکہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔
اذہان شاہ ویسے ہی میں گھر آیا تھا۔ وہ اپنی کوئی ضروری فائلز گھر پر بھول گیا تھا۔ ڈرائنگ سے باہر کی کھڑکی کے کمرے سے نظر آتے اس منظر نے اسے بے حد غصہ دلا دیا تھا۔ گلی میں تو دو تین آوارہ لڑکے کھڑے ہوئے تھے وہ بھی اسی سمت دیکھ رہے تھے۔ مایا اپنے ناچ گانے میں بری طرح مگن تھی۔
اذہان گھر میں داخل ہوا تھا۔ وہ دندناتے ہوئے مایا کے کمرے تک پہنچا تھا اور دھڑا دھڑ دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔
کمرے میں فریا ابھی موجود تھی جو ہیڈ فونز لگائے کتابوں میں مگن تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ شور ہنگامہ ہو اسے اتنا ہی اچھا پڑھا جاتا ہے۔ وہ گاہے بگاہے مایا پر نظر ڈال کر اس کے ڈانس کو بھی انجوائے کر رہی تھی۔
ہیڈ فونز لگانے کے باوجود اسے دروازے پر ہوتی دستک سنائی دے گئی تھی مگر مایا کو سنائی نہیں دی تھی یا وہ جان بوجھ کر اس دستک کو نظر انداز کر رہی تھی۔ ہاں جی تو اتنے دنوں بعد ایسے کھل کر جینے کا موقع ملا تھا۔ پیپر سے گلو کلاس ہی ہوئی تھی۔ ایک ہی پیپر رہتا تھا۔
ہلاکو خان گھر پر ہی نہیں ہوتا تھا۔ صبح جلدی چلا جاتا اور رات کے کسی وقت آتا تھا۔ کئی دنوں سے اسے سامنے نہیں ہوا تھا اس لیے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اس چین کی ندی میں اب کنکر پڑ چکا تھا۔
فریحہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے کھڑے اذہان شاہ کو دیکھ کر اس کی بھی سٹی گم ہو گئی تھی۔
"بھائی آپ۔"
اس نے کہا جو شور میں سنائی بھی نہیں دیا تھا۔
اذہان نے غصے بھری نظر مایا پر ڈال دی جو ابھی تک ڈانس میں مگن تھی اور مہارت سے سٹیپس لیتی جا رہی تھی۔ فریحہ نے جب بھائی کا دھیان بھٹکتے دیکھا تو اسے یہی موقع غنیمت لگا۔ وہ چپکے سے کمرے سے نکلی اور اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی۔ اب سارا نزلہ یقینا مایا پر ہی گرنے والا تھا اور مایا تو ہلاکو خان کو ہینڈل بھی کر لیتی تھی۔
اذہان شاہ کمرے کے اندر داخل ہو گیا اور جا کر باہر کی سمت کھلنے والی کھڑکی بند کی۔ غصہ تو اسے ابھی بھی بہت آیا ہوا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان سب چیزوں کے خلاف تھا۔ وہ بھی چاہتا تھا کہ اس کے گھر کی خواتین ہر خوشی کو اچھے طریقے سے منائیں۔ جو ان کا دل چاہے کریں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ یہ سب کچھ حدود و قیود میں ہو۔ اس طرح ان کی عزت پر کوئی بری نظر نہ ڈالے اور نہ ہی کوئی ان کے بارے میں غلط بات کر سکے۔
فریحہ نسبتا نرم مزاج تھی۔ اسے جیسے کہا جاتا وہ مان لیا کرتی تھی۔ سب کی بات سن لیا کرتی تھی۔ مگر مایا بڑی ٹیڑھی کھیر ثابت ہوئی تھی۔ وہ کسی کی سنتی سمجھتی ہی نہیں تھی۔ ہمیشہ اپنی مرضی کیا کرتی تھی۔ پورے گھر میں ایک اذہان شاہ تھا جس سے وہ ڈرتی تھی۔
ڈانس کے لیے گول گول گھومتے ہوئے اچانک اذہان شاہ سے ٹکرا گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ گر جاتی اذہان شاہ نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر سہارا دیا تھا۔ وہ سیدھی کھڑی ہو گئی مگر اذہان شاہ پر نظر پڑتے ہی اسے سچ مچ کا چکر آ گیا تھا۔ جلدی سے سر دونوں ہاتھوں سے تھاما۔ اذہان نے اسے صوفے پر بٹھا دیا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
"یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔ جب دیکھو ادھر طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہوتا ہے۔"
وہ ابرو اٹھائے سوال کر رہا تھا جبکہ مایا کا خون خشک ہوا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ بہت زیادہ غصے میں ہوتا تھا یا اس پر چیخا چلایا کرتا تھا۔ وہ بہت ٹھنڈے مزاج کا انسان تھا جسے غصے کا اظہار بھی ٹھیک طرح سے نہیں کرنا آتا تھا مگر وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اگلے کو بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس وقت وہ جس طرح اپنی ایک ابرو اٹھائے مایا سے سوال کر رہا تھا مایا کا خون خشک ہوا تھا۔ اس کے اسی انداز سے تو اس کی جان جاتی تھی۔
"کچھ کچھ نہیں لالا۔ وہ بس پیپرز ختم ہونے والے ہیں نا تو اسی کی سیلیبریشن کی جا رہی تھی۔"
اپنی بات کہتے ہوئے اس نے سر جھکا دیا تھا۔ اسی میں بھلائی تھی کہ سچ ہی بتا دیتی ورنہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ اور بولنے پڑتے۔ اور اس وقت کوئی جھوٹ ذہن میں آیا بھی نہیں تھا ورنہ مایا کی زبان جھوٹ بولنے کے لیے پہلے ہی چل جایا کرتی تھی۔
"پیپرز ختم ہو گئے۔"
ہمیشہ والے انداز میں ایک ابرو اٹھا کر اذہان نے سوال کیا تو مایا کے پاس سارے جواب ختم ہو گئے تھے۔ نفی میں سر ہلایا تو اذہان اٹھ کھڑا ہوا۔
"اگر تم فیل ہوئی تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ بہت برے طریقے سے پیش آؤں گا اور کڑی سے کڑی سزا دوں گا۔ پورا سال میں نے تم پر محنت کی ہے۔ آفس ورک کے ساتھ ساتھ میں نے تمہیں سٹڈی بھی کروائی ہے۔ اب اگر تمہارا رزلٹ ٹھیک نہ آیا تو سزا کے لیے تیار رہنا۔"
وہ اسی ٹھنڈے ٹھار لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ مایا پیر پٹختے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
میں لنک دیتی ہوں تو اپ لوگ کمنٹس نہی کرتے - کمنٹس لازمی کیا کریں - اس سے سپورٹ ملتی ہے -جتنے کمنٹس کروگے اپ لوگ میں اتنی زیادہ لنکس ساتھ دوگی مکمل لنک 👇

https://urdunovelsghar.org/meri-zindagi-novel-short-story/

Address

Dera Ismail Khan
29111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novels ki Malika posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share