30/05/2026
🤍 *وہ عظیم صحابیؓ جن کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے* 🤍
مدینہ کی فضا اُس دن غیر معمولی طور پر سوگوار تھی۔
مسجد نبوی ﷺ میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، صحابہ کرامؓ کی آنکھیں اشکبار تھیں اور رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر گہرے غم کے آثار نمایاں تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کے ایک عظیم سپاہی، جنتی صحابی اور اللہ کے محبوب بندے حضرت سعد بن معاذؓ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔
حضرت سعد بن معاذؓ وہ خوش نصیب صحابی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دی۔
ان کی غیرتِ ایمانی، اخلاص اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت بے مثال تھی۔
وہ ہر موقع پر اسلام کے دفاع میں کھڑے رہے اور اپنی جان تک قربان کرنے سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذؓ کا انتقال ہوا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اس قدر رو رہے تھے کہ میں ان کی آواز سے پہچان لیتی تھی کہ کون رو رہا ہے۔
سوچیے…
وہ شخصیت کتنی عظیم ہوگی جس کی جدائی پر رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابہؓ بھی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔
رسول اللہ ﷺ خود ان کے غسل، کفن اور تدفین کے مراحل میں شریک رہے۔
آپ ﷺ جنازے کے ساتھ پیدل چلتے رہے، گویا امت کو یہ سبق دے رہے ہوں کہ اللہ والوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔
جب حضرت سعد بن معاذؓ کو قبر میں اتارا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ “سبحان اللہ” فرمایا۔
صحابہ کرامؓ نے بھی ساتھ دہرایا اور پورا ماحول اللہ کی تسبیح سے گونج اٹھا۔
پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ “اللہ اکبر” فرمایا۔
بعد میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“سعد بن معاذؓ کی قبر نے انہیں دبایا، اور اگر کوئی شخص قبر کے اس دباؤ سے بچ سکتا تو سعدؓ بچ جاتے۔”
یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قبر کی منزل ایک حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی عارضی ہے۔
انسان چاہے کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اسے آخرت کی تیاری ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔
حضرت سعد بن معاذؓ کی سب سے بڑی فضیلتوں میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے، جو اس سے پہلے زمین پر نہیں اترے تھے۔ ✨
یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں…
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بندے کے لیے محبت کا اعلان تھا جس نے اپنی زندگی ایمان، وفاداری اور اخلاص میں گزار دی۔
آج ہم اپنے آپ سے سوال کریں…
کیا ہماری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق گزر رہی ہے؟
کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ فرشتے ہمارے لیے دعا کریں؟
حضرت سعد بن معاذؓ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی اصل کامیابی دولت، شہرت یا عہدے میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔
جو شخص اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے زمین پر بھی عزت دیتا ہے اور آسمانوں میں بھی اس کا ذکر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچا ایمان، اخلاص اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️
English Title: *The Companion Whose Funeral Was Attended by Seventy Thousand Angels*
ؓ
ؓ