Engr Zeeshan Iqbal

Engr Zeeshan Iqbal Words that touch the soul. From Islamic wisdom to motivational moments – all in one place. ✨🕊️

🤍 *وہ عظیم صحابیؓ جن کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے* 🤍مدینہ کی فضا اُس دن غیر معمولی طور پر سوگوار تھی۔مسجد نبوی ...
30/05/2026

🤍 *وہ عظیم صحابیؓ جن کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے* 🤍

مدینہ کی فضا اُس دن غیر معمولی طور پر سوگوار تھی۔
مسجد نبوی ﷺ میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، صحابہ کرامؓ کی آنکھیں اشکبار تھیں اور رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر گہرے غم کے آثار نمایاں تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کے ایک عظیم سپاہی، جنتی صحابی اور اللہ کے محبوب بندے حضرت سعد بن معاذؓ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔

حضرت سعد بن معاذؓ وہ خوش نصیب صحابی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دی۔
ان کی غیرتِ ایمانی، اخلاص اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت بے مثال تھی۔
وہ ہر موقع پر اسلام کے دفاع میں کھڑے رہے اور اپنی جان تک قربان کرنے سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذؓ کا انتقال ہوا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اس قدر رو رہے تھے کہ میں ان کی آواز سے پہچان لیتی تھی کہ کون رو رہا ہے۔

سوچیے…
وہ شخصیت کتنی عظیم ہوگی جس کی جدائی پر رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابہؓ بھی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔

رسول اللہ ﷺ خود ان کے غسل، کفن اور تدفین کے مراحل میں شریک رہے۔
آپ ﷺ جنازے کے ساتھ پیدل چلتے رہے، گویا امت کو یہ سبق دے رہے ہوں کہ اللہ والوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔

جب حضرت سعد بن معاذؓ کو قبر میں اتارا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ “سبحان اللہ” فرمایا۔
صحابہ کرامؓ نے بھی ساتھ دہرایا اور پورا ماحول اللہ کی تسبیح سے گونج اٹھا۔
پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ “اللہ اکبر” فرمایا۔

بعد میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“سعد بن معاذؓ کی قبر نے انہیں دبایا، اور اگر کوئی شخص قبر کے اس دباؤ سے بچ سکتا تو سعدؓ بچ جاتے۔”

یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قبر کی منزل ایک حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی عارضی ہے۔
انسان چاہے کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اسے آخرت کی تیاری ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔

حضرت سعد بن معاذؓ کی سب سے بڑی فضیلتوں میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے، جو اس سے پہلے زمین پر نہیں اترے تھے۔ ✨

یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں…
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بندے کے لیے محبت کا اعلان تھا جس نے اپنی زندگی ایمان، وفاداری اور اخلاص میں گزار دی۔

آج ہم اپنے آپ سے سوال کریں…
کیا ہماری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق گزر رہی ہے؟
کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ فرشتے ہمارے لیے دعا کریں؟

حضرت سعد بن معاذؓ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی اصل کامیابی دولت، شہرت یا عہدے میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔
جو شخص اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے زمین پر بھی عزت دیتا ہے اور آسمانوں میں بھی اس کا ذکر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچا ایمان، اخلاص اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️

English Title: *The Companion Whose Funeral Was Attended by Seventy Thousand Angels*

ؓ

ؓ


🌸 *ماں کے قدموں تلے چھپی وہ جنت… جس کے لیے دو بھائی عدالت پہنچ گئے!* 🌸عام طور پر جب دو بھائی عدالت کے دروازے پر پہنچتے ہ...
29/05/2026

🌸 *ماں کے قدموں تلے چھپی وہ جنت… جس کے لیے دو بھائی عدالت پہنچ گئے!* 🌸

عام طور پر جب دو بھائی عدالت کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو وجہ زمین، جائیداد یا وراثت کا جھگڑا ہوتی ہے۔ مگر سعودی عرب کی ایک عدالت میں ایسا حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کی آنکھیں نم کر دیں۔

عدالت میں دو بوڑھے بھائی کھڑے تھے۔ نہ ان کے درمیان دولت کی جنگ تھی، نہ کسی پلاٹ یا جائیداد کا تنازع۔ ان دونوں کی خواہش صرف ایک تھی… اپنی بوڑھی ماں کی خدمت کا حق حاصل کرنا۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے یہ کہہ رہے تھے کہ “ماں میرے پاس رہے گی” کیونکہ دونوں جانتے تھے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے۔

بڑا بھائی، حزام الغامدی، لرزتی ہوئی آواز میں جج سے کہنے لگا:

“عالی جاہ! میں نے اپنی زندگی کے کئی سال اپنی ماں کی خدمت میں گزارے ہیں۔ ان کی دعاؤں نے میرے گھر کو سکون دیا ہے۔ خدا کے لیے مجھ سے میری جنت نہ چھینیں۔”

یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
عدالت کا ماحول بھی سوگوار ہو گیا۔

مگر چھوٹا بھائی بھی محبت میں کسی سے کم نہ تھا۔ اس نے ادب سے سر جھکا کر عرض کیا:

“جناب! میرا بڑا بھائی اب خود کمزور ہو چکا ہے۔ اس کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ اب ماں کی خدمت کی ذمہ داری مجھے دے دی جائے تاکہ میں بھی اپنی آخرت سنوار سکوں۔”

ذرا سوچیں…
ایک دور وہ ہے جہاں اولاد والدین کو بوجھ سمجھتی ہے، اور ایک یہ منظر جہاں دو بھائی ایک دوسرے سے اپنی ماں کی خدمت چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔

جج حیران رہ گیا۔
زندگی میں اس نے جائیداد کے جھگڑے تو بہت دیکھے تھے، مگر “جنت” کے لیے لڑتے ہوئے بیٹے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔

آخرکار جج نے بوڑھی ماں سے پوچھا:

“اماں جی! آپ کس بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟”

یہ سوال سنتے ہی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے کپکپاتی آواز میں کہا:

“یہ دونوں میرے لیے میری دو آنکھوں کی مانند ہیں۔ میں ایک کو کیسے چنوں؟ اگر ایک کو چن لوں تو دوسری آنکھ کی روشنی کھو دوں گی…”

یہ الفاظ سن کر عدالت میں خاموشی چھا گئی۔
ہر آنکھ اشکبار تھی۔

بالآخر جج نے دونوں بھائیوں کی صحت اور حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ چھوٹے بھائی کے حق میں دیا، کیونکہ وہ نسبتاً زیادہ طاقتور اور خدمت کے قابل تھا۔

فیصلہ سنتے ہی بڑا بھائی حزام زمین پر بیٹھ گیا…
اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

وہ کوئی زمین یا دولت نہیں ہارا تھا…
وہ اپنی ماں کے قدموں میں چھپی وہ جنت ہار گیا تھا، جس کے لیے اس کا دل برسوں سے دھڑکتا تھا۔

آج کے اس مادی دور میں، جہاں بہت سے لوگ اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہومز میں چھوڑ آتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔

یاد رکھیں…
والدین بوجھ نہیں ہوتے، بلکہ اللہ کی وہ عظیم نعمت ہوتے ہیں جن کی خدمت انسان کی دنیا بھی سنوار دیتی ہے اور آخرت بھی۔

جس گھر میں ماں باپ موجود ہوں، وہ گھر حقیقت میں رحمتوں کا خزانہ ہوتا ہے۔ ان کی قدر کیجیے، ان کے ساتھ وقت گزارئیے، کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان صرف ان کی ایک آواز سننے کو ترس جاتا ہے…!

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️

English Title: *The Two Brothers Who Went to Court for Paradise, Not Property*





#جنت

ایک دل کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ اور سورۃ الرحمٰن کی وہ حیران کن حقیقت جس نے سوچ بدل دی…ایک دن ایک ماں کے ہاتھ سے دودھ ...
29/05/2026

ایک دل کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ اور سورۃ الرحمٰن کی وہ حیران کن حقیقت جس نے سوچ بدل دی…

ایک دن ایک ماں کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس گر کر ٹوٹ گیا۔ عمر رسیدگی کی وجہ سے اس کے ہاتھ کانپ جاتے تھے۔ مگر اس کا بیٹا، جو اس وقت غصے میں تھا، اپنی ماں پر چلایا، اور سخت لہجے میں کمرہ چھوڑ کر چلا گیا۔

ماں خاموش رہی…

اس نے کچھ نہیں کہا، نہ شکایت کی، نہ آنکھوں سے آنسو گرنے دیے۔ بس اپنے بیٹے کے لیے ایک چھوٹا سا خط لکھ دیا۔

جب بیٹا واپس آیا تو گھر میں سکون تھا۔ ماں حسبِ معمول اپنی کرسی پر بیٹھی تھی… مگر اس بار وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔ اس کی گود میں ایک خط تھا۔

بیٹے نے کانپتے ہاتھوں سے خط اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا:

“میرے پیارے بیٹے!
میں معذرت چاہتی ہوں… میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں۔ میرے ہاتھ کانپتے ہیں، اس لیے چیزیں گر جاتی ہیں۔ میں پہلے جیسی صاف ستھری اور مضبوط نہیں رہی۔
مجھے ملامت نہ کرنا…

میں اب اپنے جوتے بھی خود نہیں پہن سکتی، میری مدد کرنا۔
میرے پاؤں اب اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ مجھے باتھ روم تک لے جائیں، میرا ہاتھ تھام لینا۔

یاد کرنا… میں نے کیسے تمہارا ہاتھ تھاما تھا جب تم چلنا سیکھ رہے تھے۔

میری کمزور یادداشت اور بار بار کی باتوں سے اکتانا نہیں، کیونکہ میری خوشی صرف تم ہو۔

تمہاری ایک مسکراہٹ مجھے ویسے ہی خوش کرتی ہے جیسے تم بچپن میں کرتے تھے۔

مجھے اپنے پیار سے محروم نہ کرنا…

میں بس خاموشی سے اپنی موت کا انتظار کر رہی ہوں۔

میں تمہارے ساتھ اس وقت تھی جب تم پیدا ہوئے تھے…
تو تم بھی میرے ساتھ رہنا جب میں دنیا سے جاؤں…”

خط ختم ہوا…

بیٹے کے آنسو رک نہ سکے۔ وہ ماں کے قدموں میں گر گیا، اس کا ہاتھ چومنے لگا اور بار بار معافی مانگنے لگا…

مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی…
وہ ہاتھ ٹھنڈا ہو چکا تھا…

اور ماں ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھی۔

یہ صرف ایک ماں کی کہانی نہیں…
یہ ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو اپنی ماں کے ساتھ سختی کرتا ہے، یا اس کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتا ہے۔

یاد رکھو…
جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔

اس کی ایک آہ بھی دل بدل سکتی ہے… اور ایک بدتمیزی زندگی برباد کر سکتی ہے۔

اپنی ماں کو وقت دو… اس کے ساتھ مسکرا کر بات کرو… اس کے ہاتھ چومو… کیونکہ وہ محبت دوبارہ نہیں ملتی۔

اور پھر ایک اور حقیقت…

ایک دن ڈاکٹر زغلول النجار ایک روحانی محفل میں قرآن کی تلاوت سن رہے تھے، جب ایک بزرگ نے انہیں ایک ایسا سوال کیا جس نے ان کی سوچ کو ہلا کر رکھ دیا۔

سوال سورۃ الرحمٰن کی آیات پر تھا…

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ”
اور فرمایا:
“وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ”

یعنی دو نہیں… بلکہ چار جنتیں!

تو سوال یہ تھا کہ ان دو جوڑوں میں فرق کیا ہے؟

پھر اس بزرگ نے ان آیات کی وضاحت کچھ ایسے انداز میں کی کہ دل کانپ اٹھا…

پہلی دو جنتیں (اعلیٰ درجے والوں کے لیے):

* ان میں درخت نہایت خوبصورت اور پھیلے ہوئے ہوں گے، جن کے درمیان سے روشنی جھانکتی ہے
* چشمے مسلسل بہتے ہوں گے، جو ہمیشہ صاف اور تازہ رہیں گے
* ہر پھل کی دو اقسام ہوں گی، ہر ایک اپنی لذت میں کامل
* آرام کے بستر ایسے ہوں گے کہ ان کا اندرونی حصہ بھی قیمتی ریشم کا ہوگا، اور درخت خود جھک کر پھل پیش کریں گے

یہ وہ مقام ہے جو کامل تقویٰ والوں کے لیے ہے…

اور دوسری دو جنتیں:

* درخت بہت گھنے ہوں گے، جن سے روشنی کم گزرے گی
* چشمے ابل تو رہے ہوں گے مگر بہاؤ مستقل نہیں ہوگا
* پھل موجود ہوں گے مگر اقسام محدود ہوں گی
* آرام کے سامان خوبصورت ضرور ہوں گے مگر کیفیت کے اعتبار سے کم درجے کے

پھر وہ اصل نکتہ بیان ہوا…

یہ فرق صرف نعمتوں کا نہیں…
یہ فرق انسان کے اعمال کا ہے۔

خاص طور پر وہ اعمال…
جو انسان تنہائی میں کرتا ہے۔

کیونکہ اصل زوال وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ “مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا…”

اور اصل بلندی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے۔

بزرگ نے کہا:

“تنہائی کے گناہ ایمان کو گرا دیتے ہیں…
اور تنہائی کی عبادت انسان کو بلند کر دیتی ہے…”

یہی وہ حقیقت ہے جو انسان کے درجات بدل دیتی ہے…

تو اپنے آپ کو بچاؤ…
اپنی خلوتوں کی حفاظت کرو…
اور اپنی ماں، اپنے رب، اور اپنے ضمیر کو کبھی تکلیف نہ دو…

کیونکہ کچھ رشتے اور کچھ اعمال…
واپس نہیں آتے۔

English Title: The Unforgettable Lesson of a Mother and the Reality of Paradise

ایک چور چپکے سے ایک باغ میں داخل ہوا اور آم کے درخت پر چڑھ گیا۔ وہ مزے سے آم توڑ توڑ کر کھانے لگا۔اتنے میں باغبان بھی وہ...
29/05/2026

ایک چور چپکے سے ایک باغ میں داخل ہوا اور آم کے درخت پر چڑھ گیا۔ وہ مزے سے آم توڑ توڑ کر کھانے لگا۔

اتنے میں باغبان بھی وہاں آ پہنچا۔ اوپر دیکھا تو درخت پر ایک آدمی بیٹھا آم کھا رہا تھا۔

باغبان نے غصے سے کہا:
“اوبے شرم! یہ کیا کر رہے ہو؟”

چور نے مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“ارے بے خبر! یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں۔ وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں۔ میں تو صرف اللہ کا حکم پورا کر رہا ہوں۔ ورنہ تو اس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا…”

باغبان نے یہ بات سنی تو بڑے ادب سے بولا:
“واہ واہ! آپ کی بات سن کر دل خوش ہو گیا۔ ذرا نیچے تشریف لائیے، میں آپ جیسے صاحبِ معرفت بندے کی دست بوسی کرنا چاہتا ہوں۔ واقعی اس دور میں آپ جیسے اہلِ توحید کم ہی ملتے ہیں۔ آپ نے تو ہمیں بڑا نکتہ سمجھا دیا کہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے، بندے کا تو کوئی اختیار ہی نہیں…”

چور یہ تعریف سن کر خوشی سے پھول گیا اور فوراً نیچے اتر آیا۔

جیسے ہی وہ نیچے آیا، باغبان نے اسے پکڑ لیا اور رسی سے درخت کے ساتھ باندھ دیا۔

پھر چھڑی اٹھا کر اس کی خوب پٹائی کی۔

چور درد سے چیخنے لگا:
“ظالم! رحم کر، میرا اتنا جرم نہیں جتنا تو مجھے مار رہا ہے!”

باغبان ہنستے ہوئے بولا:
“ابھی تو آپ خود فرما رہے تھے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کرتا ہے، بندے کا کوئی اختیار نہیں۔ اگر آم کھانے والا اللہ کا بندہ تھا تو مارنے والا بھی اللہ کا بندہ ہے۔ اور یہ مار بھی اللہ کے حکم سے ہی ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا…”

چور کی عقل ٹھکانے آ گئی۔ ہاتھ جوڑ کر بولا:
“خدارا مجھے چھوڑ دو! اصل بات میری سمجھ میں آ گئی ہے کہ بندے کا بھی اختیار ہے…”

باغبان نے کہا:
“ہاں! اور اسی اختیار کی وجہ سے انسان اپنے عمل کا ذمہ دار بھی ہے۔”

**(حکایتِ رومی)**

**English Title:** The Thief and the True Meaning of Free Will

کبھی ایک پرسکون گاؤں میں سلیم نام کا ایک غریب فقیر رہتا تھا۔ نہ اس کے پاس گھر تھا، نہ دولت، نہ ہی دنیا کا کوئی سہارا۔ وہ...
29/05/2026

کبھی ایک پرسکون گاؤں میں سلیم نام کا ایک غریب فقیر رہتا تھا۔ نہ اس کے پاس گھر تھا، نہ دولت، نہ ہی دنیا کا کوئی سہارا۔ وہ دن بھر شہر کی گلیوں میں بھٹکتا، لوگوں سے مانگ کر کھانا کھاتا اور رات مسجد کے صحن میں گزار دیتا۔

لیکن اس کی سب سے بڑی دولت کچھ اور تھی… **اچھا کردار اور سچائی**۔

سلیم ہمیشہ سچ بولتا، دوسروں کی مدد کرتا اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ لوگ اکثر کہتے تھے کہ یہ فقیر عام انسان نہیں، اس کی قسمت میں ضرور کوئی بڑی بات لکھی ہے۔

ایک رات بادشاہ بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھنے نکلا۔ اچانک چند ڈاکوؤں نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگا۔

اسی وقت سلیم وہاں پہنچ گیا۔ اس نے بغیر کسی خوف کے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا۔ اس کی ہمت اور جرات دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور ڈاکو بھاگ گئے۔

بادشاہ حیران ہو کر بولا:
“تم نے ایک اجنبی کی مدد کیوں کی؟”

سلیم نے سکون سے جواب دیا:
“مصیبت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے…”

اگلے دن شاہی دربار میں اعلان ہوا کہ بادشاہ ایک خاص شخص کو انعام دینا چاہتا ہے۔ جب سلیم دربار پہنچا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ جس کی اس نے مدد کی تھی، وہی اصل میں بادشاہ تھا۔

بادشاہ نے سب کے سامنے کہا:
“میں نے امیروں کو آزمایا، مگر اصل انسانیت اس فقیر میں دیکھی۔”

چونکہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی، اس نے فیصلہ کیا کہ اس کے بعد سلیم ہی اس سلطنت کا بادشاہ ہوگا۔

لوگ حیران تھے کہ ایک فقیر بادشاہ کیسے بن سکتا ہے، مگر سلیم نے ثابت کیا کہ اصل عظمت دولت میں نہیں بلکہ اچھے کردار میں ہوتی ہے۔

بادشاہ بننے کے بعد اس نے غریبوں کی مدد کی، انصاف قائم کیا اور کبھی غرور کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔

لوگ کہتے تھے:
“یہ وہ بادشاہ ہے جو کبھی فقیر تھا، اسی لیے اسے غریبوں کا درد معلوم ہے…”

**English Title:** The Rise of a Poor Beggar to a Just King

دودھ کا گلاس ماں کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گر گیا اور ٹوٹ گیا۔بیٹے نے فوراً غصے میں ماں پر چیخنا شروع کر دیا، اور غصے س...
29/05/2026

دودھ کا گلاس ماں کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گر گیا اور ٹوٹ گیا۔
بیٹے نے فوراً غصے میں ماں پر چیخنا شروع کر دیا، اور غصے سے کمرہ چھوڑ کر باہر چلا گیا۔
ماں خاموش رہی… نہ کچھ بولی، نہ کوئی جواب دیا۔ بس آہستہ آہستہ کپکپاتے ہاتھوں سے ایک چھوٹا سا خط لکھنے لگی۔
جب بیٹا واپس آیا تو گھر میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ ماں اپنی کرسی پر اسی طرح بیٹھی ہوئی تھی… جیسے سکون سے سو گئی ہو۔ اور وہ خط اس کی گود میں رکھا تھا۔
بیٹے نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا:
“میرے پیارے بیٹے!
میں تم سے معذرت چاہتی ہوں… میں اب بوڑھی ہو چکی ہوں۔ میرے ہاتھ کانپنے لگے ہیں، اس لیے اکثر کھانا میرے سینے پر گر جاتا ہے۔ میں اب پہلے جیسی صاف ستھری اور خوشبو دار بھی نہیں رہی، جیسے تمہیں یاد ہوں گی۔
مجھے ملامت نہ کرنا میرے بچے… میں اب جوتے بھی خود سے نہیں پہن سکتی، میری ٹانگوں میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ میں خود چل سکوں۔ میری مدد کر دیا کرو، جیسے کبھی میں نے تمہیں چلنا سکھانے کے لیے تمہارا ہاتھ تھاما تھا۔
میری کمزور یادداشت اور میری سست باتوں سے تھک نہ جانا… کیونکہ میری دنیا اب صرف تم ہو۔ تمہاری موجودگی مجھے وہی خوشی دیتی ہے جو کبھی تمہارے بچپن کی ہنسی دیا کرتی تھی۔
بس مجھے اپنی مسکراہٹ سے محروم نہ کرنا… میں اب بس خاموشی سے اپنی زندگی کے آخری دن گن رہی ہوں۔
میں تمہارے ساتھ اس وقت تھی جب تم نے دنیا میں آنکھ کھولی تھی… تو بیٹے! تم بھی میرے ساتھ رہنا جب میں اس دنیا سے چلی جاؤں…”
بیٹے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ وہ تیزی سے ماں کے پاس آیا، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اس کو چوما اور روتے ہوئے کہا: “مجھے معاف کر دیں…”
لیکن اس وقت تک ماں کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا… وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
یہ منظر بیٹے کے دل کو ہمیشہ کے لیے توڑ گیا…
اپنی ماں کا دل کبھی نہ دکھاؤ… چاہے ایک لفظ ہی کیوں نہ ہو۔ ماں کی کمزوریوں کو نظر انداز نہ کرو، بلکہ محبت اور صبر سے اس کا سہارا بنو۔
یاد رکھو… جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔
A Mother’s Last Letter of Love and Forgiveness

🌿 **سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے** 🌿ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد ہر وقت شاگردوں کا ہج...
28/05/2026

🌿 **سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے** 🌿

ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد ہر وقت شاگردوں کا ہجوم رہتا تھا۔ سب اس کی حکمت اور دانائی کے قائل تھے۔ مگر انہی میں ایک ذہین مگر مغرور نوجوان کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا:

“کیا واقعی ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب استاد نہ دے سکیں؟”

ایک دن وہ نوجوان شہر سے باہر گیا اور ایک سبز میدان میں ایک خوبصورت تتلی دیکھی۔ اس کے رنگ ایسے تھے جیسے قوسِ قزح آسمان سے زمین پر اتر آئی ہو۔ اس نے اسے پکڑا اور اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔

تتلی اس کی ہتھیلی میں پھڑپھڑانے لگی، مگر اس نے اسے مضبوطی سے بند رکھا۔

پھر وہ استاد کے پاس آیا، اس کی آنکھوں میں چیلنج تھا۔ اس نے کہا:

“استاد! بتائیے، میری مٹھی میں موجود تتلی زندہ ہے یا مردہ؟”

اس کے ذہن میں ایک چال تھی…
اگر استاد کہتے “زندہ ہے” تو وہ اسے کچل دیتا،
اور اگر کہتے “مردہ ہے” تو وہ اسے آزاد کر دیتا۔

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ سب شاگرد سانس روکے بیٹھے تھے۔

استاد نے نہ تتلی دیکھی، نہ مٹھی کی طرف دیکھا…
بس ایک پر سکون مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“بیٹا… یہ سب تمہارے ہاتھ میں ہے۔”

یہ ایک جملہ نہیں تھا…
یہ ایک آئینہ تھا جس میں نوجوان نے اپنی ہی حقیقت دیکھ لی۔

اسی لمحے اسے سمجھ آ گیا کہ بعض فیصلوں کے جواب باہر نہیں ہوتے…
وہ انسان کے اپنے ارادے، نیت اور عمل میں چھپے ہوتے ہیں۔

🌙 **اصل سبق:**
زندگی میں کئی چیزیں تمہارے اختیار میں نہیں ہوتیں…
لیکن تمہارا رویہ، تمہارا انتخاب، اور تمہارا عمل—یہ سب ہمیشہ تمہارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

---

**English Title:** Everything Is in Your Hands

🌿 **دریا کا پانی اور زندگی کی حقیقت** 🌿ایک فقیر دریا کے کنارے خاموش بیٹھا تھا۔ایک شخص نے آ کر پوچھا: “بابا! یہاں کیوں بی...
28/05/2026

🌿 **دریا کا پانی اور زندگی کی حقیقت** 🌿

ایک فقیر دریا کے کنارے خاموش بیٹھا تھا۔
ایک شخص نے آ کر پوچھا: “بابا! یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”

فقیر نے مسکرا کر جواب دیا:
“میں انتظار کر رہا ہوں کہ دریا کا سارا پانی بہہ جائے، پھر آرام سے اسے پار کروں گا۔”

وہ شخص حیران ہوا:
“یہ کیسے ممکن ہے؟ دریا کا پانی کبھی ختم نہیں ہوگا، اگر آپ انتظار کرتے رہے تو کبھی پار نہیں کر سکیں گے۔”

فقیر نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور کہا:
“بس یہی بات میں تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں…”

پھر وہ بولا:
“اکثر لوگ بھی زندگی میں یہی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پہلے گھر کی ذمہ داریاں ختم ہوں، کاروبار سنبھل جائے، بچوں کے معاملات ٹھیک ہو جائیں، پھر نماز شروع کریں گے، قرآن پڑھیں گے، حج کریں گے اور اللہ کی طرف لوٹ آئیں گے…”

فقیر نے نرمی سے کہا:
“جس طرح دریا کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا کے کام بھی کبھی ختم نہیں ہوتے۔”

“دریا پار کرنے کا وقت بعد میں نہیں آتا… دریا کے اندر ہی راستہ بنانا پڑتا ہے۔
اور آخرت سنوارنے کا وقت بھی زندگی کے اندر ہی ہوتا ہے، بعد میں نہیں…”

ورنہ ایک دن زندگی ختم ہو جائے گی، مگر کام پھر بھی باقی رہ جائیں گے۔

🌙 **اصل سبق:**
عبادت اور اللہ کی طرف رجوع “کل” پر نہیں چھوڑا جاتا… کیونکہ “کل” کبھی ختم نہیں ہوتا، صرف انسان ختم ہو جاتا ہے۔

---

**English Title:** Life Will Not End the Work, So Start Your Deen Today

🌿 عقل، حرص اور حقیقت کا عجیب قصہ 🌿ایک بڑے شہر میں تین عجیب لوگ رہتے تھے…ایک اندھا تھا جو دور کی چیزیں دیکھنے کا دعویٰ کر...
28/05/2026

🌿 عقل، حرص اور حقیقت کا عجیب قصہ 🌿
ایک بڑے شہر میں تین عجیب لوگ رہتے تھے…
ایک اندھا تھا جو دور کی چیزیں دیکھنے کا دعویٰ کرتا تھا مگر سامنے سے بھی بے خبر تھا۔
دوسرا بہرا تھا مگر ہر آواز سننے کا دعویدار تھا۔
تیسرا ننگا تھا مگر اپنے لمبے کپڑوں کے دامن کے کٹنے کے خوف میں ہر وقت پریشان رہتا تھا۔
ایک دن تینوں نے دیکھا کہ ایک گروہ شہر کی طرف آ رہا ہے۔
اندھے نے کہا: “میں سب دیکھ رہا ہوں، خطرہ قریب ہے!”
بہرے نے کہا: “میں آوازیں سن رہا ہوں، وہ نزدیک ہیں!”
ننگے نے کہا: “مجھے ڈر ہے کہیں میرا دامن نہ کٹ جائے!”
تینوں خوف میں مبتلا ہو کر شہر سے بھاگ نکلے اور ایک گاؤں میں جا پہنچے۔
وہاں انہیں ایک مردہ سا مرغ ملا جس میں گوشت نام کی کوئی چیز نہ تھی، مگر وہ اسے “موٹا تازہ” سمجھ بیٹھے۔
پھر ایک ایسی دیگ میں اسے ڈال دیا جس کا نہ پیندا تھا نہ دہانہ… مگر وہ اسے بھی مکمل سمجھ کر پکانے لگے۔
آخر کار وہی بے جان مرغ انہوں نے خوب شوق سے کھا لیا اور اس پر ایسے فخر کیا جیسے بہت بڑی نعمت مل گئی ہو۔
کھاتے کھاتے وہ خود بھی عجیب سا موٹا پن اختیار کر گئے اور خود کو بہت کچھ سمجھنے لگے، حالانکہ حقیقت میں وہ سب ایک بڑے دھوکے میں تھے۔
یہ منظر دیکھ کر گویا پوری دنیا پر ایک سبق کھل گیا…
انسان اکثر وہ چیزیں حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے جو حقیقت میں اندر سے خالی ہوتی ہیں، مگر اسے نظر صرف ظاہر پر ہوتی ہے۔
اندھا دراصل وہ ہے جو دوسروں کے عیب تو دیکھ لے مگر اپنی حقیقت سے غافل رہے۔
بہرا وہ ہے جو سچائی کی آوازیں سننے کے باوجود ان سے انجان رہے۔
اور ننگا وہ ہے جو کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود نقصان کے خوف میں ساری زندگی بے چین رہے۔
اصل پیغام یہ ہے کہ دنیا کی حرص، خوف اور دھوکے انسان کو اصل حقیقت سے دور کر دیتے ہیں… اور انسان اپنی ہی زندگی کے انجام کو بھول جاتا ہے۔
آج سب سے بڑا علم یہ نہیں کہ تم دنیا کو کتنا جانتے ہو…
بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ تم اپنی حقیقت اور آخرت کے انجام کو کتنا سمجھتے ہو؟
English Title: The Tale of Illusion, Greed and Reality

🌿 آزمائش کا راز 🌿وہ ایک شخص تھا جس نے اپنی زندگی میں مسلسل نقصان دیکھا۔ کبھی اپنے چھوڑ گئے، کبھی حالات نے دھکا دیا، اور ...
28/05/2026

🌿 آزمائش کا راز 🌿
وہ ایک شخص تھا جس نے اپنی زندگی میں مسلسل نقصان دیکھا۔ کبھی اپنے چھوڑ گئے، کبھی حالات نے دھکا دیا، اور کبھی دعاؤں کے باوجود راستے بند ہوتے چلے گئے۔ وہ اکثر رات کی تنہائی میں بیٹھ کر یہی سوچتا تھا کہ آخر اللہ اسے اتنا کیوں آزما رہا ہے؟
ایک دن اس نے قرآن کھولا تو سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ آ گیا۔ ایک بچہ جو پیدا ہوتے ہی دریا کے حوالے کر دیا گیا، جوانی میں فرعون جیسے ظالم کے مقابل کھڑا کیا گیا، پھر برسوں کی جدوجہد، ہجرت اور مسلسل آزمائشیں۔ مگر انجام یہ ہوا کہ وہی موسیٰ علیہ السلام تھے جن کے لیے سمندر میں راستہ بنا دیا گیا۔
تب اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ اللہ جنہیں پسند کرتا ہے انہیں آسانیاں نہیں بلکہ مضبوطی دیتا ہے۔
ہم اکثر سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ کے قریب لوگ ہمیشہ سکون میں ہوتے ہیں، ان کی زندگی میں درد نہیں ہوتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ محبوب بندوں کے حصے میں آزمائشیں زیادہ آتی ہیں کیونکہ انہیں عام انسان نہیں رہنا ہوتا، انہیں مضبوط بنایا جاتا ہے۔
سونا بھی جب تک آگ میں نہ تپے خالص نہیں بنتا۔ اسی طرح انسان بھی آزمائشوں سے گزر کر نکھرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا، پیچھے فرعون، اور ہر طرف سے موت نظر آ رہی تھی، مگر اسی لمحے اللہ کی مدد آ گئی۔
زندگی بھی شاید ایسی ہی ہے… کبھی اللہ انسان کو آخری حد تک لے جاتا ہے تاکہ بندہ صرف اسی پر یقین کرنا سیکھ لے۔
بعض لوگ اپنی تکلیفوں کو اللہ کی ناراضی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کئی بار یہی تکلیفیں اللہ کی خاص نظرِ کرم ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، روکتا ہے، انتظار کرواتا ہے، مگر پھر ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
سوال صرف یہ ہے کہ جب ہماری زندگی کا سمندر سامنے کھڑا ہوگا اور ہر راستہ بند لگے گا، تو کیا ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح یقین رکھ سکیں گے… یا خوف ہمیں ڈبو دے گا؟
English Title: The Secret of Trials and Faith

🌿 نظرِ بد کا حقیقی واقعہ اور اس کا نبوی علاج 🌿Prophet Muhammad اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک سفر کے دوران مکہ ...
28/05/2026

🌿 نظرِ بد کا حقیقی واقعہ اور اس کا نبوی علاج 🌿
Prophet Muhammad اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک سفر کے دوران مکہ مکرمہ کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں ایک مقام (شِعب الخَرَّار) کے قریب قیام ہوا۔
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کا ارادہ کیا۔ ان کا جسم انتہائی سفید اور خوبصورت تھا، جو عام صحرائی ماحول کے برعکس بہت نمایاں تھا۔
اسی دوران حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی نظر ان پر پڑی اور بے اختیار تعجب سے کہہ بیٹھے:
“میں نے آج تک ایسا حسین منظر نہیں دیکھا…”
یہ الفاظ ابھی مکمل بھی نہ ہوئے تھے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے اور سخت بیماری کی حالت میں چلے گئے۔
صحابہ کرام انہیں فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم اپنے بھائی کو کیوں نقصان پہنچاتے ہو؟ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو برکت کی دعا کیوں نہ دی؟”
یہی وہ عظیم تعلیم تھی جو ہمیشہ کے لیے امت کو دی گئی:
✨ نظر سے بچاؤ کا نبوی طریقہ: برکت کی دعا دینا
جب بھی کسی میں خوبصورتی، مال، نعمت یا کوئی اچھی چیز دیکھو تو فوراً کہو:
اللهم بارك
بارك الله لك
ما شاء الله تبارك الله
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ غسل کریں اور اس پانی کو حضرت سہل پر بہایا گیا، جس کے بعد وہ فوراً صحت یاب ہو گئے۔
📌 نظرِ بد اور حسد میں فرق:

نظر (العین): بغیر نیت کے کسی نعمت کو دیکھ کر اثر ہو جانا
حسد: دل میں بغض رکھ کر نعمت چھن جانے کی خواہش کرنا
📖 نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“نظر کا لگنا حق ہے۔”
اور قرآن میں بھی ہمیں سکھایا گیا:
“ما شاء اللہ لا قوة إلا بالله”
🌙 حفاظتی دعا:
“أعوذ بكلمات الله التامات من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة”
اللہ ہمیں نظرِ بد، حسد اور ہر شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین 🤲
English Title: Evil Eye in Islam and Prophetic Protection Method

Address

Dera Ismail Khan
29111

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engr Zeeshan Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share