Digri News Update

Digri News Update hamara kam ha ke hum ap tk hr wo khabar pohachayn jo ap nahi jante ya apse wo khabar chpai ja rhi ha.

18/08/2020

Pakistani foj or kashmir ke nam | Faiz muhammad noohani ka pegam in urdu 14 august ke moqe pr. subcribe the channel for more informative video Digri sindh re...

28/07/2020
28/07/2020

Carona virus😱 ki 😱haQiqat.😱

28/07/2020
26/07/2020

Digri walon ye dekho Halat Mitthi or Nuwakot Ki
👐Dua👐 kro Digri me aesi Barish Na ho.👐

25/07/2020
24/07/2020

پیاسی گلہری کو راہگیر سے بار بار پانی مانگتے دیکھ کر لاکھوں دل پگھل گئے، ویڈیو وائرل
بھارتی ریاست اڑیسہ میں تعینات ایک فاریسٹ افسر نے 16 جولائی کو ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک پیاسی گلہری ایک راہ گیر سے بار بار پانی مانگتی دکھائی دے رہی ہے۔
ویڈیو کے مطابق گرمی اور پیاس سے بے حال ایک گلہری نے پاس کھڑے ایک شخص کے ہاتھ میں پانی کی بوتل دیکھی تو دورتی ہوئی اس کے پاس آئی اور پچھلی ٹانگوں پر کھڑی ہو کر اس سے باقاعدہ طور پر پانی مانگنے لگی۔
🖕🖕🖕🖕👆🏻👆🏻👆🏻

کورونا واٸرس خطرات کے پیش نظر ضلع انتظامیہ کی جانب سے تاجران کو دی گٸی SOPs پر مکمل عمل درآمد نا ہونے کی وجہ سے کورونا و...
20/07/2020

کورونا واٸرس خطرات کے پیش نظر ضلع انتظامیہ کی جانب سے تاجران کو دی گٸی SOPs پر مکمل عمل درآمد نا ہونے کی وجہ سے کورونا واٸرس پھیلنے کا شدید خدشہ پیدا ہورہا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی کوٸی نوٹس نہیں لیا جارہا ضلع انتظامیہ خاموشی کا مظاہرا کر رہی ہے
شہری حلقے

میرپورخاص ایک طرف جاں سندھ حکومت کی جانب سے سندھ بھر میں کورونا واٸرس بچاٶ کی کے لیے ہر اقدام اٹھا رہی ہے وہی میرپورخاص میں کورونا واٸرس پھیلنے کے روک تھام کے لیے ضلع انتظامیہ کورونا واٸرس پھیلنے کو روکنے کے لیے خاموش چھپ تماشاٸی کا مظاہرا کر رہی ہے ضلع انتظامیہ کی جانب سے تاجر برادری و دکانداروں اور کاروبار سے منسلک ہر شہری کو SOPs دی گٸی تھی جس میں ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا تھا اور سوشل ڈسٹینس کا بھی خیال رکھنے کی ہدایت دی گٸی تھیں لیکن میرپورخاص کی تاجر برادری نے ضلع انتظامیہ کی دی گٸی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ SOPs پر عمل درآمد نا کرکے SOPs اور ضلع انتظامیہ کی ہدایت کی دھجیاں اڑاٸی جارہی ہے جبکہ تاجر برادری بھی صرف اپنے کاروبار کی فکر کرتے ہوٸے انسانی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہوۓ دکھاٸی دیتی ہے کورونا واٸرس ایسی مرض جس نٕے پوری دنیاں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہی میرپورخاص میں کورونا واٸرس مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے مارکیٹوں زیادہ رش کے باعث شہری ایک بڑے خوف میں مبتلہ دکھاٸی دینے لگے مارکیٹوں میں خواتینوں کے ساتھ معصوم بچے بھی خریداری کے لیے ان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں معصوم بچوں کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے سندھ حکومت نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی اور تمام اسکول بند کرنے کا اعلان کردیا جو کہ تاحال اعلان پر عمل کیا جارہا ہے ، تاجر برادری اپنا منافہ اور کاروبار کو آگے لے جانے کی فکر میں معصوم بچوں کو بھی اس وبا کے خطرے میں ڈال دیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنر میرپورخاص کی جانب سے SOPs پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایک کمیٹی بناٸی گٸی جس میں اسسٹنٹ کمشنر کو مقرر کیا گیا کوٸی دکاندار ماسک، سوشل ڈسٹینس اور SOPs کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان دکاندار تاجروں اور شہریوں کے خلاف بھاری جرمانہ عاٸد کیا جاۓ گا پر ایسا تاحال ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوٸی ایکشن نہیں دیکھاٸی دیا گیا جس پر شہری بھی ایک خوف میں مبتلہ دکھاٸی دیتے ہیں شہریوں کا کہنا ہیں کہ کورونا واٸرس بچاٶ کے لیے ضلع انتظامیہ تاجربرادری سمیت ہر شہری کو کورونا واٸرس SOPs پر مکمل طور پر عمل درآمد کرانا ہوگا تاکہ مارکیٹوں میں آۓ ضلع بھر سے خواتین معصوم بچے بوڑھے اس وبا سے محفوظ رہ سکیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت نوٹس لیکر کارواٸی کرنی چاہیٸے.

20/07/2020

بدترین قتلِ عام: جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری

تحریر: ندیم رزاق کھوہارا

حکم ہوا تمام مردوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ فوجی شہر کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ ماؤں کی گود سے دودھ پیتے بچے چھین لیے گئے۔ بسوں پر سوار شہر چھوڑ کر جانے والے مردوں اور لڑکوں کو زبردستی نیچے اتار لیا گیا۔ لاٹھی ہانکتے کھانستے بزرگوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ سب کے سب مردوں کو اکٹھا کر کے شہر سے باہر ایک میدان کی جانب ہانکا جانے لگا۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے۔ عورتیں چلا رہی تھیں۔ گڑگڑا رہی تھیں۔ اِدھر اعلانات ہو رہے تھے۔
"گھبرائیں نہیں کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا
جو شہر سے باہر جانا چاہے گا اسے بحفاظت جانے دیا جائے گا۔"

زاروقطار روتی خواتین اقوامِ متحدہ کے اُن فوجیوں کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ جن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ لیکن وہ سب بے بس تماشائی بنے کھڑے تھے۔

شہر سے باہر ایک وسیع و عریض میدان میں ہر طرف انسانوں کے سر نظر آتے تھے۔ گھٹنوں کے بل سر جھکائے زمین پر ہاتھ ٹکائے انسان۔۔۔۔۔ جو اس وقت بھیڑوں کا بہت بڑا ریوڑ معلوم ہوتے تھے۔ دس ہزار سے زائد انسانوں سے میدان بھر چکا تھا۔
*
ایک طرف سے آواز آئی فائر۔۔۔۔۔

تڑخ تڑخ تڑخ۔۔۔۔۔۔

سینکڑوں بندوقوں سے آوازیں بہ یک وقت گونجیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں انسانی چیخوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں برسنے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی دب کر رہ گئی۔ ایک قیامت تھی جو برپا تھی۔ ماؤں کی گودیں اجڑ رہی تھیں۔ بیویاں آنکھوں کے سامنے اپنے سروں کے تاج تڑپتے دیکھ رہی تھیں۔ بیوہ ہو رہی تھیں۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط میدان میں خون، جسموں کے چیتھڑے اور نیم مردہ کراہتے انسانوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ شیطان کا خونی رقص جاری تھا۔ اور انسانیت دم توڑ رہی تھی۔

ان سسکتے وجودوں کا ایک ہی قصور تھا کہ یہ کلمہ گو مسلمان تھے۔

اس روز اسی سالہ بوڑھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے معصوم پوتوں کی لاشوں کو تڑپتے دیکھا۔ بے شمار ایسے تھے جن کی روح شدتِ غم سے ہی پرواز کر گئی۔

شیطان کا یہ خونی رقص کچھ دیر تھما تو ہزاروں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کو مشینیں منگوائی گئیں۔ بڑی بڑی قبریں کھود کر پانچ پانچ سو۔۔۔۔۔ہزار ہزار لاشوں کو ایک ہی گڑھے میں پھینک کر مٹی سے بھر دیا گیا۔ یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ لاشوں کے اس ڈھیر میں کچھ نیم مردہ سسکتے اور کچھ فائرنگ کی زد سے بچ جانے والے زندہ انسان بھی تھے۔ مردوں کے ساتھ زندوں کو بھی دفنا دیا گیا۔

لاشیں اتنی تھیں کہ مشینیں کم پڑ گئیں۔ بے شمار لاشوں کو یوں ہی کھلا چھوڑ دیا گیا اور پھر رُخ کیا گیا غم سے نڈھال ان عورتوں کی جانب جو میدان کے چہار جانب ایک دوسرے کے قدموں سے لپٹی رو رہی تھیں۔

انسانیت کا وہ ننگا رقص شروع ہوا کہ درندے بھی دیکھ لیتے تو شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ شدتِ غم سے بے ہوش ہو جانے والی عورتوں کا بھی ریپ کیا گیا۔ خون اور جنس کی بھوک مٹانے کے بعد بھی چنگیز ثانی کو چین نہ آیا۔ اگلے کئی ہفتوں تک پورے شہر پر موت کا پہرہ طاری رہا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اقوامِ متحدہ کے پناہ گزیں کیمپوں سے بھی نکال نکال کر ہزاروں لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ محض دو دن میں پچاس ہزار نہتے مسلمان زندہ وجود سے مردہ لاش بنا دیے گئے۔

یہ تاریخ کی بدترین نسل کشی تھی۔ ظلم و بربریت کی کہانی ہزاروں یا سینکڑوں سال پرانی نہیں۔ نہ ہی اس کا تعلق وحشی قبائل یا دورِ جاہلیت سے ہے۔ یہ 1995 کی بات ہے جب دنیا اپنے آپ کو خودساختہ مہذب مقام پر فائز کیے بیٹھی تھی۔ اور یہ مقام کوئی پس ماندہ افریقی ملک نہیں بلکہ یورپ کا جدید قصبہ سربرینیکا تھا۔ اور یہ واقعہ اقوامِ متحدہ کی نام نہاد امن فورسز کے عین سامنے بلکہ یوں کہیے ان کی پشت پناہی میں پیش آیا۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہوں تو ایک بار سربرینیکا واقعے پر اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا بیان پڑھ لیجیے جس نے کہا تھا کہ یہ قتلِ عام اقوامِ متحدہ کے چہرے پر ایک بدنما داغ کی طرح ہمیشہ رہے گا۔

نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد بوسنیا کے مسلمانوں نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے الگ وطن کے قیام کا اعلان کیا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کے نام سے قائم اس ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے جو ترکوں کے دورِ عثمانی میں مسلمان ہوئے تھے۔ اور صدیوں سے یہاں رہتے آئے تھے۔ لیکن یہاں مقیم سرب الگ ریاست سے خوش نہ تھے۔ انہوں نے سربیا کی افواج کی مدد سے بغاوت کی۔ اس دوران بوسنیا کے شہر سربرینیکا کے اردگرد سرب افواج نے محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ کئی سال تک جاری رہا۔

اقوامِ متحدہ کی امن افواج کی تعیناتی کے ساتھ ہی باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ اب یہ علاقہ محفوظ ہے۔ لیکن یہ اعلان محض ایک جھانسا ثابت ہوا۔ کچھ ہی روز بعد سرب افواج نے جنرل ملادچ کی سربراہی میں شہر پر قبضہ کر لیا۔ اور قبضے کے فوری بعد ہی مسلمانوں کی نسل کشی کا وہ انسانیت سوز سلسلہ شروع کیا جس پر تاریخ آج بھی شرمندہ ہے۔ اس دوران نیٹو افواج نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کیونکہ معاملہ مسلمانوں کا تھا۔

تیرہ جولائی 1995 سے تیرہ جولائی 2020 تک پچیس سال گذر گئے اس واقعے کو۔۔۔۔۔۔آج بھی مہذب دنیا اس کلنک کو دھونے میں ناکام ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد واقعہ ہے جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری ہے۔ آج بھی سربرینیکا کے گردونواح سے کسی نہ کسی انسان کی بوسیدہ ہڈیاں ملتی ہیں تو انہیں اہلِ علاؤہ دفناتے نظر آتے ہیں۔

جگہ جگہ قطار اندر قطار کھڑے پتھر اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں وہ لوگ دفن ہیں جن کی کوئی اور کوئی شناخت نہیں۔۔۔۔ ماسوائے اس کے کہ وہ مسلمان تھے۔

سربرینیکا کا میدان۔۔۔۔۔ جہاں قتلِ عام ہوا تھا وہاں اب گھاس اگتی اور پھول کھلتے ہیں۔ خاک سے زندگی جنم لیتی ہے۔ مرجھا جاتی ہے۔ لیکن یہاں کی سرسراتی ہواؤں میں آج بھی خون کی مہک آتی ہے۔ گو کہ بعد میں دنیا نے سرب افواج کی جانب سے بوسنیائی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں اقوامِ متحدہ کی غفلت اور نیٹو کی مجرمانہ خاموشی کو تسلیم کر لیا۔ کیس بھی چلے معافیاں بھی مانگی گئیں۔ مگر
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔۔۔

شروع کے چند سال ہنگامہ مچا لیکن اب یہ واقعہ آہستہ آہستہ یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کو جنگِ عظیم، سرد جنگ اور یہودیوں پر ہٹلر کے جرائم تو یاد ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا قتلِ عام بھولتا جا رہا ہے۔ واقعے کو پچیس سال پورے ہونے پر کچھ خبریں چلیں۔ کچھ ڈاکومنٹریز دوبارہ سے دکھائی گئی ہیں اور بس۔۔۔۔۔

خیر غیروں سے کیا گلہ۔۔۔۔ ہم میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی تھا؟ دس ہزار مردوں اور بچوں کا قتل اتنی آسانی سے بھلا دیا جائے؟ یہ وہ خون آلود تاریخ ہے جسے ہمیں بار بار دنیا کو دکھانا ہو گا۔
جس طرح نائن الیون اور دیگر واقعات کو ایک گردان بنا کر رٹایا جاتا ہے۔ بعینہ ہمیں بھی یاد دلاتے رہنا ہو گا۔ نام نہاد مہذب معاشروں کو ان کی اصل اوقات بتاتے رہنا ہو گا۔

یہی ایک صورت ہے جس سے ہم مسلم نسل کشی کرنے والوں کا مکروہ چہرہ تاریخ کے پنوں پر ہمیشہ کے لیے رقم کر سکتے ہیں۔

اس واقعے میں ہمارے لئے ایک اور بہت بڑا سبق یہ ہے کہ کبھی بھی اپنے تحفظ کے لیے اغیار پر بھروسہ نہ کرو۔ یو این کے کیمپوں سے نکال کر نہتے لوگوں کو مارا گیا۔ نیٹو افواج چاہتیں تو سرب جرنیلوں کو قتلِ عام تو کیا اپنی حدود سے بھی باہر نہ نکلنے دیتی۔ لیکن مسلمان ان پر بھروسہ کیے رہے۔ اور بربریت مظلومیت پر حاوی ہو گئی۔اپنی جنگ اپنے ہی زورِ بازو سے لڑی جاتی ہے* ۔

19/07/2020

ایوان صحافت میرواہ گورچانی... زندگی فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رزاق حیدر کی برائے انسانی حقوق پر گفتگو انشاءاللہ ہر مظلوم کی آواز کا سہارا بنے گا اب زندگی فاونڈیشن

_*Date : 17-07-2020*_      *پریس رلیز*🔹*KHAIRPUR POLICE*🔹 _*خیرپور پولیس کی بڑی اور اہم کاروائی،دو طالب علم بچوں کے ساتھ...
17/07/2020

_*Date : 17-07-2020*_
*پریس رلیز*
🔹*KHAIRPUR POLICE*🔹
_*خیرپور پولیس کی بڑی اور اہم کاروائی،دو طالب علم بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا مرکزی ملزم سارنگ شر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار*
◾ _*ایس ایس پی خیرپور جناب امیر سعود مگسی صاحب* نے ٹھری میرواھ میں ہونے والے واقعات کے بعد ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے دو ٹیمیں *اے ایس پی سٹی خیرپور جناب سعد ارشد اور ڈی ایس پی میرواھ* کی سربراہی میں تشکیل دیں تھی._
👈 _ایس ایس پی صاحب کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے *اے ایس پی سٹی خیرپور، ڈی ایس پی میرواھ* اور اس کی ٹیم نے بڑی اور اہم کاروائی کرکہ رانیپور کی حدود سے مرکزی ملزم *سارنگ شر* کو 24 گھنٹوں کے اندرگرفتار کر لیا._
👈 _گرفتار ملزم نے دو طالب علم بچوں *ساحل سمون اور وقار احمد جانوری* کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اس کی وڈیو وائرل کی، علاقے میں خوف و حراس پہلایا اور ورثاء کوبلیک میل کیا تھا._
👈 _گرفتار ملزم کے خلاف تھانہ میرواھ مقدمات درج کئے گئے تھے_
👈 _ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات کی توقع ہے_
👈 _اچھی کارکردگی دکھانے پر ایس ایس پی صاحب کی جانب سے ٹیموں کے لئے شاباسی کا پیغام_
*ترجمان : خیرپور پولیس*

Address

Digri
69330

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digri News Update posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share