This World

This World Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from This World, Media/News Company, Digri.

جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے فضائی کرایوں میں بھی اضافے کا خدشہ
03/04/2026

جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے فضائی کرایوں میں بھی اضافے کا خدشہ

حکومت کا پٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ درست ہے یا نہیں؟
02/04/2026

حکومت کا پٹرول مہنگا کرنے کا فیصلہ درست ہے یا نہیں؟

02/04/2026

حکومت نے پٹرول مہنگا کردیا
پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے کر دی گئی

02/04/2026

پئٽرول 137 رپيا في لٽر مهانگو، نئون اگهه 458 رپيا ٿي ويو، ڊيزل 520 رپيا ليٽر ملندو

02/04/2026

ارباب غلام رحيم ايريگيشن آفيسر کان پاڻي جي باري ۾ پڇيو ته ڏي خبر پاڻي جي آفيسر جواب ڏنو سائين رڻ شاخ ۾ پاڻي ڦل آهي ان تان ارباب صاحب ٻوٿ واري لپاٽ واهيندي چيو مون کي هر ٽيل تي پاڻي برابر کپي حڪمران هجن ته اهڙا هجن آفيسرن کي خبر پوي باقي اج جا آفيسر نمائيندن کي لپاٽون پيا هڻن

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 100 روپ...
02/04/2026

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں تقریباً 100 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا، جس کے بعد عوام کو پیٹرولیم مصنوعات مہنگے داموں خریدنا پڑ سکتی ہیں۔

رافیل طیا-رو-ں سے متعلق ایک اہم پیشرفت میں فرانس  نے انڈیا  کو رافیل لڑ-ا/کا طی-ار/ے کے بنیادی سافٹ ویئر سورس کوڈز تک رس...
02/04/2026

رافیل طیا-رو-ں سے متعلق ایک اہم پیشرفت میں فرانس نے انڈیا کو رافیل لڑ-ا/کا طی-ار/ے کے بنیادی سافٹ ویئر سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے، جسے نئی دہلی کی فضائی خودمختاری کی حکمتِ عملی کے لیے بڑا دھ-چ/کا قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی کاروباری جریدے L’Essentiel de l’Éco کی رپورٹ کے مطابق یہ انکار خاص طور پر رافیل طیا-ر/ے کے حساس نظاموں سے متعلق ہے، جن میں Thales RBE2 AESA radar، Modular Data Processing Unit (MDPU) اور SPECTRA electronic w-a/r-fa-re suite شامل ہیں۔ یہ تینوں سسٹمز مل کر طیا-ر/ے کی سینسر ف-یو/ژ-ن، بقا کی صلاحیت اور الیکٹرانک ج-ن/گی استعداد کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔

محسنِ پاکستان عبدالقدیرخان کا 90واں یومِ پیدائش آج منایا گیا۔ وہ پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان تھے جنہوں نے ملک کو ای...
02/04/2026

محسنِ پاکستان عبدالقدیرخان کا 90واں یومِ پیدائش آج منایا گیا۔ وہ پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان تھے جنہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور اسی بنا پر انہیں “محسنِ پاکستان” کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کےکراچی منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے اور جرمنی، نیدرلینڈز اور بیلجیم سے انجینئرنگ اور میٹالرجی میں مہارت حاصل کی۔
1970 کی دہائی میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، خصوصاً انڈیا کے ایٹمی تجربات کے بعد، پاکستان کو دفاعی چیلنجز کا سامنا ہوا۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان وطن واپس آئے اور اُس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ایٹمی پروگرام کا حصہ بنے۔
انہوں نے Kahuta Research Laboratories کی بنیاد رکھی اور یورینیم افزودگی کے عمل میں اہم پیش رفت کی۔ ان کی قیادت اور مسلسل محنت کے نتیجے میں پاکستان نے دفاعی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔
28 مئی 1998 کو چاغی میں ہونے والے ایٹمی تجربات نے پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا، جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں نشانِ امتیاز بھی شامل ہے۔ وہ نہ صرف ایک مایہ ناز سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان 10 اکتوبر 2021 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر ملک بھر میں گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہیں، اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔

ڌمڪيون مليون آهن، جان کي خطرو آهي، ٿي سگهي ٿو ته مان به ماري وجان: ام رباب چانڊيو جو خدشو!ڪراچي: ميهڙ واقعي جي فيصلي کان...
31/03/2026

ڌمڪيون مليون آهن، جان کي خطرو آهي، ٿي سگهي ٿو ته مان به ماري وجان: ام رباب چانڊيو جو خدشو!

ڪراچي: ميهڙ واقعي جي فيصلي کانپوءِ ام رباب چانڊيو پنهنجي جاني سلامتيءَ بابت سخت ڳڻتيءَ جو اظهار ڪيو آهي. ميڊيا سان ڳالهائيندي هن انڪشاف ڪيو ته کيس مسلسل ڌمڪيون ملي رهيون آهن ۽ سندس جان کي سخت خطرو آهي. هن چيو ته، ”جنهن ريت حالتون پيدا ڪيون ويون آهن، ٿي سگهي ٿو ته مون کي به رستي تان هٽائڻ جي ڪوشش ڪئي وڃي.“

گهڻا ماڻهو ﷲ سائين کان خاص طور پٽ جي اولاد گهرندا هئا،ڇو تہ سماجي روايتن ۽ سوچ ۾ پٽن کي وڌيڪ اهميت ڏني ويندي آهي....!!!ا...
31/03/2026

گهڻا ماڻهو ﷲ سائين کان خاص طور پٽ جي اولاد گهرندا هئا،
ڇو تہ سماجي روايتن ۽ سوچ ۾ پٽن کي وڌيڪ اهميت ڏني ويندي آهي....!!!
اڄڪلھ ماڻهو اهڙين بهادر، باوقار ۽ حق لاءِ وڙهندڙ ڌيئرن کي ساراهڻ لڳا آهن، جهڙوڪ,,, (ام رباب، چانڊيو),,,,, جنهن پنهنجي همت، صبر ۽ سچائي سان ماڻهن جي دلين ۾ جاءِ ٺاهي.
هن ڏيکاريو ته ڌيءَ به ڪنهن کان گهٽ ناهي—هوءَ به پنهنجي خاندان، سماج ۽ حق لاءِ مضبوط آواز بڻجي سگهي ٿي.

اصل ۾ اولاد ﷲ جي نعمت آهي، پوءِ اهو پٽ هجي يا ڌيءَ.
اهم ڳالهه اها آهي ته اولاد نيڪ، بهادر ۽ انسانيت واري هجي. جيڪڏهن ڌيئرون.,,,(ام رباب چانڊيو),,,,,, جهڙيون هجن، ته اهو ته فخر جي ڳالهه آهي.

علاقائی کشیدگی کے باوجود خلیج فارس سے بحری آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کا تیل بردار ایک جہاز آبنائے ہر...
30/03/2026

علاقائی کشیدگی کے باوجود خلیج فارس سے بحری آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران سعودی عرب کا تیل بردار ایک جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے، جبکہ دیگر کارگو اور ایل پی جی بردار جہاز بھی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق، سعودی عرب کا تیل سے لدا ایک چھوٹا بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق، ہفتے کے روز خلیج فارس سے مجموعی طور پر سات مال بردار بحری جہاز روانہ ہوئے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود بحری سرگرمیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ان جہازوں میں ایک تیل بردار جہاز، دو لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹینکرز، اور چار دیگر کارگو جہاز شامل ہیں، جو مختلف مقامات کے لیے روانہ ہوئے۔

Disclaimer: This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.

Address

Digri

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when This World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share