Dinga Nama Official channel

Dinga Nama Official channel ڈنگہ شہر کی حقیقی آواز۔
مسائل، مثبت تنقید اور عوامی شعور — برائے اصلاح، برائے بہتری�

03/06/2026

مودبانہ گزارش برائے محترمہ ڈپٹی کمشنر گجرات

محترمہ!

گزارش ہے کہ جس مقام پر سہولت بازار قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، وہ ڈنگہ کے مصروف ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس سڑک پر تین ہائی سکول اور ڈنگہ کی سب سے بڑی جامع مسجد عیدگاہ واقع ہیں۔ روزانہ سکول اوقات میں تقریباً 1800 طلبہ و طالبات صبح اور دوپہر کے اوقات میں اس روڈ پر موجود ہوتے ہیں۔

مزید برآں ریلوے اسٹیشن ڈنگہ، غلہ منڈی اور سبزی منڈی کی بھاری ٹریفک بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ مین بازار میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کے باعث منڈی بہاؤالدین، پھالیہ اور گجرات جانے والی ٹریفک کے لیے بھی یہی سروس روڈ متبادل راستے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجود اس جگہ کا انتخاب ایک سوالیہ نشان ہے۔ سہولت بازار یقیناً ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے، لیکن اگر اس کے لیے جگہ کا انتخاب درست نہ ہو تو کروڑوں روپے کے اخراجات بھی مستقبل میں مسائل اور نقصان کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسی مقام پر ناجائز تجاوزات کے خلاف سرکاری آپریشن کیا گیا تھا۔ آج اسی جگہ پر ایک مستقل منصوبے کی تجویز عوام کے لیے مزید ٹریفک مسائل، تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی مشکلات اور شہری زندگی میں خلل کا باعث بن سکتی ہے۔

آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ جلد از جلد ڈنگہ کا دورہ کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور اس معاملے پر ازسرِنو غور فرمائیں تاکہ ایک ممکنہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

امید ہے کہ آپ معاملے کی حساسیت اور عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ فرمائیں گی۔

Deputy Commissioner Gujrat ✍️

یہ صرف اینٹوں کا ایک مینار نہیں… بلکے یہ زمانۂ قدیم کا گوگل میپ ہے۔ لاہور سے ملتان کی قدیم شاہراہ پر کھڑا “کوس مینار” در...
26/04/2026

یہ صرف اینٹوں کا ایک مینار نہیں… بلکے یہ زمانۂ قدیم کا گوگل میپ ہے۔ لاہور سے ملتان کی قدیم شاہراہ پر کھڑا “کوس مینار” دراصل اُس دور کی یادگار ہے جب نہ گوگل میپس تھے، نہ سائن بورڈ… اور نہ ہی سفر اتنا آسان تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شیر شاہ سوری نے ہندوستان بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا اور ہر “کوس” کے فاصلے پر ایسے کوس مینار تعمیر کروائے تاکہ مسافر راستہ نہ بھولیں، فاصلے کا اندازہ رکھ سکیں، اور منزل کی امید زندہ رہے۔

سوچو… رات کا سنّاٹا، دور تک پھیلا ہوا اندھیرا، اور ایک تھکا ہوا مسافر… اچانک اسے دور ایک مینار دکھائی دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ وہ صحیح راستے پر ہے۔ یہی مینار اُس کے لیے امید بھی ہے اور رہنمائی بھی۔

“کوس” خود ایک پیمانہ تھا — تقریباً 2 سے 3 کلومیٹر کے برابر۔ یعنی ہر مینار صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں تھا بلکہ سفر کی ایک گنتی، ایک یقین، ایک نشانی تھا۔

لاہور کے اطراف آج بھی ایسے کئی کوس مینار خاموشی سے کھڑے ہیں۔ نہ وہ بولتے ہیں، نہ شکایت کرتے ہیں… مگر جو سن لے، اسے صدیوں پرانی داستان سنا دیتے ہیں۔

وقت بدلا… سڑکیں بدل گئیں… سفر آسان ہو گیا… مگر یہ مینار وہیں کھڑے رہ گئے، جیسے کسی نے انہیں بھلا دیا ہو۔ کچھ ٹوٹ گئے، کچھ مٹ گئے، اور کچھ اب بھی تاریخ کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آثارِ قدیمہ نہیں… یہ ہماری پہچان ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی اس زمین پر ایسے لوگ بھی تھے جو مسافروں کے لیے راستے بناتے تھے، آسانیاں پیدا کرتے تھے۔

ڈنگہ نامہ آفیشل ✍️

پاکستان کے تاریخی قلعے — مکمل ڈاکومنٹری (تاریخ، مقام اور بانی کے ساتھ)پاکستان کے یہ عظیم قلعے مختلف ادوار میں مختلف حکمر...
25/04/2026

پاکستان کے تاریخی قلعے — مکمل ڈاکومنٹری (تاریخ، مقام اور بانی کے ساتھ)

پاکستان کے یہ عظیم قلعے مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے تعمیر کروائے تاکہ سلطنتوں کی حفاظت، سرحدوں کی نگرانی اور تجارتی راستوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

---

🏰 قلعہ دراوڑ

📍 مقام: چولستان، بہاولپور
📅 دور: ابتدائی بنیاد ہندو راجپوت دور، بعد میں مضبوطی نواب آف بہاولپور کے دور میں
👑 تعمیر/توسیع: ابتدائی طور پر راجپوت حکمرانوں نے تعمیر کیا، بعد میں نواب صادق محمد خان اول و دیگر نوابین نے مضبوط کیا

یہ قلعہ چولستان کے ریگستان میں ایک عظیم دفاعی مرکز تھا جو ریاست بہاولپور کی حفاظت کرتا تھا۔

---

🏰 قلعہ روہتاس

Rohtas Fort
📍 مقام: جہلم، پنجاب
📅 دور: 1541–1548
👑 تعمیر: شیر شاہ سوری

یہ قلعہ مغل شہنشاہ ہمایوں کی واپسی روکنے اور گکھڑ قبائل کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کی دیواریں ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں۔

---

🏰 قلعہ لاہور

Lahore Fort
📍 مقام: لاہور
📅 دور: بنیاد قدیم، موجودہ شکل اکبر اعظم کے دور سے شروع
👑 تعمیر/ترقی: مغل بادشاہ اکبر، جہانگیر، شاہجہان

یہ قلعہ مغل سلطنت کا اہم مرکز تھا جہاں شاہی دربار اور انتظامی امور چلتے تھے۔

---

🏰 قلعہ اٹک

Attock Fort
📍 مقام: دریائے سندھ کے کنارے، اٹک
📅 دور: 1581
👑 تعمیر: شہنشاہ اکبر اعظم

یہ قلعہ افغان حملوں اور سرحدی راستوں کی نگرانی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔

---

🏰 قلعہ بالا حصار (پشاور)

Bala Hisar Fort
📍 مقام: پشاور
📅 دور: مختلف ادوار (مغل، درانی، سکھ، برطانوی)
👑 تعمیر/توسیع: مختلف حکمرانوں نے دوبارہ تعمیر کیا، خاص طور پر درانی دور میں

یہ قلعہ صدیوں تک پشاور کا دفاعی مرکز رہا۔

---

🏰 قلعہ رنی کوٹ

Ranikot Fort
📍 مقام: جامشورو، سندھ
📅 دور: قدیم (اصل تعمیر غیر یقینی، تالپور دور میں مرمت)
👑 تعمیر/مرمت: تالپور حکمران

یہ دنیا کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار ہوتا ہے جسے “دیوارِ سندھ” بھی کہا جاتا ہے۔

---

🏰 قلعہ ملتان

Multan Fort
📍 مقام: ملتان
📅 دور: قدیم، موجودہ شکل مختلف ادوار میں
👑 تعمیر/توسیع: مختلف مسلم و ہندو حکمران

یہ قلعہ بار بار تباہ اور دوبارہ تعمیر ہوا اور ملتان کی قدیم تہذیب کا مرکز رہا۔

---

🏰 قلعہ بکر (سکھر)

Bukkur Fort
📍 مقام: دریائے سندھ کے درمیان، سکھر
📅 دور: عرب و مغل دور
👑 تعمیر/استعمال: مختلف مسلم حکمران

یہ قلعہ دریا کے درمیان ایک قدرتی دفاعی چوکی کی حیثیت رکھتا تھا۔

---

🏰 قلعہ بلتت (ہنزہ)

Baltit Fort
📍 مقام: ہنزہ، گلگت بلتستان
📅 دور: تقریباً 700 سال پرانا
👑 تعمیر: مقامی میر حکمران

یہ قلعہ تبتی اور مقامی تعمیراتی انداز کا شاندار امتزاج ہے۔

---

🏰 قلعہ الٹیٹ

Altit Fort
📍 مقام: ہنزہ
📅 دور: تقریباً 900 سال پرانا
👑 تعمیر: مقامی حکمران (میر خاندان)

یہ ہنزہ کی قدیم ترین ریاستی عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔

---

📜 مجموعی تاریخی خلاصہ

یہ قلعے مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں نے تعمیر کروائے تاکہ دفاعی، سیاسی اور تجارتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ آج بھی پاکستان کی عظیم تاریخ، تہذیب اور ریاستی طاقت کی علامت ہیں۔

---

⚠️ اہم نوٹ: یہ تحریر پاکستان کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات کا مقصد صرف آگاہی اور تاریخ سے جُڑاؤ پیدا کرنا ہے، نہ کہ کسی خاص عقیدے یا سوچ کی نمائندگی کرنا۔ ہر قاری اپنی رائے اور عقیدے میں آزاد ہے۔

---

قلم سب کا ہے، مگر مواقع کیوں نہیں؟وطنِ عزیز میں صحافت، ادب اور قلم کی دنیا ایک وسیع اور متنوع میدان ہے جہاں بڑے بڑے چینل...
25/04/2026

قلم سب کا ہے، مگر مواقع کیوں نہیں؟

وطنِ عزیز میں صحافت، ادب اور قلم کی دنیا ایک وسیع اور متنوع میدان ہے جہاں بڑے بڑے چینلز، قومی اخبارات، معروف رسائل و جرائد اور بڑے شہروں سے وابستہ صحافیوں، کالم نگاروں اور ادیبوں کو نمایاں مواقع، مراعات اور مضبوط پلیٹ فارم میسر آتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑے شہروں میں ذرائع ابلاغ کی سرگرمیاں زیادہ منظم، تیز اور وسیع ہوتی ہیں، جس کے باعث وہاں کے لکھاریوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے بے شمار مواقع ملتے ہیں۔ مگر اس روشن تصویر کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور وہ ہے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کی محرومی۔ چھوٹے شہروں کے لکھاریوں کے پاس خیالات، تجربات اور مشاہدات کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ اکثر وہ زمینی حقائق کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ دیہات اور قصبوں کی زندگی کے مسائل، غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات اور سماجی رویوں کی تلخیاں وہ موضوعات ہیں جنہیں یہ لکھاری نہایت گہرائی اور سچائی کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں خلوص بھی ہوتا ہے اور حقیقت کا عکس بھی، مگر بدقسمتی سے ان کی آواز اکثر بڑے میڈیا پلیٹ فارمز تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس محرومی کی ایک بڑی وجہ میڈیا کے اندر موجود مرکزیت کا نظام ہے۔ بڑے شہروں میں موجود صحافی پہلے ہی اداروں کے قریب ہوتے ہیں، ان کے لیے روابط بنانا آسان ہوتا ہے اور وہ جلد اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس چھوٹے شہروں کے نوجوان لکھاری نہ صرف وسائل کی کمی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ انہیں رہنمائی، تربیت اور حوصلہ افزائی بھی کم میسر آتی ہے۔ نتیجتاً ان کی صلاحیتیں یا تو دب کر رہ جاتی ہیں یا پھر وہ مایوسی کا شکار ہو کر اس میدان سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی محرومی ہے۔ جب مختلف علاقوں کی آوازیں میڈیا میں شامل نہیں ہوتیں تو معاشرے کی مکمل اور حقیقی تصویر سامنے نہیں آتی۔ صحافت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ہر طبقے، ہر علاقے اور ہر مسئلے کو اجاگر کیا جائے تاکہ عوامی شعور بیدار ہو اور مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔ اگر صرف بڑے شہروں کی آوازیں سنائی دیں تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے اور قومی مسائل کی درست عکاسی متاثر ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے چھوٹے شہروں کے لکھاریوں کو بھی برابر کے مواقع فراہم کریں۔ ان کے لیے تربیتی ورکشاپس، آن لائن کورسز، نمائندہ نیٹ ورکس اور علاقائی بیورو دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھار سکیں اور قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو چاہیے کہ وہ اپنے مواد میں علاقائی نمائندگی کو بھی شامل کریں تاکہ ہر علاقے کی آواز سنائی دے۔ اسی طرح صحافتی اداروں اور حکومت کو چاہیے کہ میرٹ کی بنیاد پر ایک ایسا نظام وضع کریں جس میں صرف بڑے شہروں کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ ہر علاقے کے لکھاری کو اس کی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر آگے آنے کا موقع ملے۔ اگر کوئی نوجوان کسی دور دراز قصبے سے بیٹھ کر معاشرتی مسائل پر مؤثر اور سچائی پر مبنی تحریر لکھتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ اسے نظر انداز کیا جائے۔

ڈیجیٹل میڈیا نے اس حوالے سے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا، بلاگز اور آن لائن پلیٹ فارمز نے فاصلے کم کر دیے ہیں۔ اب ایک چھوٹے شہر کا لکھاری بھی اپنی تحریر دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بڑے میڈیا ہاؤسز کی پہچان اور اعتماد اب بھی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کریں جس میں ہر لکھاری کو برابری کی بنیاد پر مواقع ملیں۔

قلم کسی ایک شہر یا طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کا مقصد سچائی کو بیان کرنا اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ اگر ہم ایک مضبوط، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں اور قصبوں کے قلم کاروں کو بھی برابر کا حصہ دینا ہوگا۔ یہی توازن صحافت کو حقیقی معنوں میں مضبوط، جامع اور مؤثر بنا سکتا ہے اور یہی ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے۔
ڈنگہ نامہ آفیشل ✍️

24/04/2026

CPR کیسے دینا ہے؟اِس سے کِسی کی جان بچ سکتی ہے

*صحت مند زندگی کا سنہری اصول*اگر آپ لمبی، صحت مند اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں تو یہ آسان مگر طاقتور اصول اپنائیں:🚶‍♂️ روز...
22/04/2026

*صحت مند زندگی کا سنہری اصول*

اگر آپ لمبی، صحت مند اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں تو یہ آسان مگر طاقتور اصول اپنائیں:

🚶‍♂️ روزانہ صبح یا شام پیدل چلنے کی عادت بنائیں
چلتے وقت اللہ کا ذکر کریں
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ" دل و دماغ کو سکون دیتا ہے

روزانہ 10 سے 12 گلاس پانی ضرور پئیں
تلی ہوئی اشیاء (پکوڑے، سموسے) کم کھائیں
میدے کے بجائے سادہ آٹے کی روٹی استعمال کریں
بناسپتی گھی چھوڑ کر زیتون یا تل کا تیل اپنائیں

سبزیاں، پھل اور سلاد زیادہ کھائیں
چھلکے والے پھل چھلکے سمیت کھائیں (وٹامنز کا خزانہ ہیں)

احتیاطی تدابیر:
✔️ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول باقاعدہ چیک کروائیں
✔️ تمباکو، سگریٹ اور نسوار سے مکمل پرہیز کریں

نبوی نسخہ:
کلونجی روزانہ صبح و شام استعمال کریں
(موت کے سوا ہر مرض کیلئے شفا)

بے خوابی کیلئے:
کیلے میں زیرہ سیاہ ملا کر کھائیں، گہری نیند آئے گی

خون صاف اور جلد خوبصورت بنانے کیلئے:
قدرتی جڑی بوٹیوں کا استعمال کریں اور پانی زیادہ پئیں

آنکھوں کی حفاظت:
روزانہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں
گاجر اور اس کا جوس استعمال کریں

یاد رکھیں:
سادہ غذا + متوازن زندگی + اللہ پر یقین = مکمل صحت

ڈنگہ نامہ آفیشل ✍️

چند انمول تجاویز: ✅  اپنی یادداشت پر بھروسہ نہ کریں، تمام معاملات کاغذ پر تحریر کر لیا کریں ۔ ✅  اور جب آپ گھر خریدنا یا...
21/04/2026

چند انمول تجاویز:

✅ اپنی یادداشت پر بھروسہ نہ کریں، تمام معاملات کاغذ پر تحریر کر لیا کریں ۔

✅ اور جب آپ گھر خریدنا یا تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو 3 اہم چیزیں یاد رکھیں؛ لوکیشن، لوکیشن، لوکیشن۔

✅ اور کسی کو اس کی مزدوری اس کا کام ختم ہونے سے پہلے نہ دو۔

✅ اپنے جیون ساتھی کا انتخاب احتیاط سے کریں کیونکہ وہ آپ کی 90 فیصد خوشی یا ناخوشی کا ذمہ دار ہے۔

✅ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دن اچھا گزرے تو دیر سے نہ سوئیں۔

✅ اور جب آپ کسی دوست کی کار ادھار لیں تو اسے واپس کرنے سے پہلے تیل کی ٹینکی بھر لیں (اور بہتر ہے کہ آپ ادھار لینے کی عادت نہ بنائیں)۔

✅ اور موبائل فون کو اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات برباد نہ کرنے دیں، جیسا کہ یہ فون صرف آپ کی سہولت کے لیے بنایا گیا ہے

✅ اور بہادر بنو، اور اگر تم بہادر نہیں ہو تو بہادر بننے کا دکھاوا کرو ،کوئی بھی فرق محسوس نہیں کرے گا۔

✅ اور جب آپ کو کوئی اچھی کتاب نظر آئے تو اسے خرید لیں

✅ اس شخص کے ساتھ پارٹنرشپ نہ کریں جو تین بار ناکام ہوچکا ہو ۔
✅ آپ کے بچے جب سولہ سال کی عمر میں پہنچ جائیں تو انکے فارغ وقت میں انہیں کام کرنے کی ترغیب دیں۔ لیکن اگر اس سے پہلے بھی ممکن ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔

✅ اگر آپ کوئی چیز دو بار سے زیادہ ادھار لیتے ہیں تو بہتر ہے اسے خرید لیں۔

✅ اور مشکوک جگہوں سے دور رہیں، برے واقعات صرف وہاں ہوتے ہیں۔

✅ اور جو اپنا پیسہ صحیح خرچ کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ اپنی زندگی کی ہر چیز میں ناکام ہے۔

✅ اور جب کوئی آپ سے سوال کرے تو اس کا جواب نہ دینا ہو تو ، مسکرا کر کہیں: آپ یہ بات کیوں جاننا چاہتے ہیں؟

✅ اور تین چیزیں جو آپ کو کبھی نہیں کھونی چاہئیں: برداشت، خود اعتمادی، اور مسکراۂٹ

✅ اور یہ توقع نہ رکھیں کہ آپ کی بدحالی میں آپ کے بچے آپ کی نصیحتیں سنیں گے۔

✅ اور اپنی بیوی کے بہترین دوست بنیں۔

✅ اور کبھی یہ نہ کہنا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، تمام عظیم لوگوں کے پاس 24 گھنٹے تھے اور اس میں اضافہ نہیں ہوا۔

✅ اور اپنے بستر کے قریب ہمیشہ ایک پنسل اور سفید کاغذ رکھا کریں، کچھ سنہری خیالات آپ کے دماغ پر بنا بتائے دستک دیتے ہیں اور اگر آپ انہیں بروقت نہیں لکھتے تو ان سے محروم رہ جائیں گے۔

✅ تعریف ہر کسی کو پسند ہے، لہٰذا اس میں کوتاہی نہ کریں، مگر منافقت سے بچو!

✅ اور جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں تو انہیں موقع دیں کہ وہ کھیل ہی کھیل میں آپ سے جیت سکیں۔

✅ اپنے بچوں کے سامنے بیوی کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں، چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو۔

✅ اور جب آپ کسی کمرے یا میٹنگ میں داخل ہوں تو اس طرح داخل ہوں جیسے آپ اس جگہ کے مالک ہوں.. اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنے آپ پر اعتماد ہے۔

✅ انکار کرنا سیکھو،دوسروں کی حد سے زیادہ توقعات آپ کا سکون چھین لیتی ہیں

✅ اور جب سب اپنی رائے دینے کے بعد خاموش ہو جائیں تو کھڑے ہو کر اپنی خوبصورت رائے کا اظہار کریں۔

✅ اپنے ناقدین کو جواب دینے میں وقت ضائع نہ کریں۔

✅ جب آپ کسی ریستوران میں مہمان ہوں تو اپنے میزبان کی طلب کردہ سے زیادہ مہنگی چیز نہ مانگیں۔

✅ آخر میں اپنے آپ پر رحم کریں اور بانجھ بحثوں سے دور رہ کر اپنی صحت کو محفوظ رکھیں۔

ڈنگہ نامہ آفیشل ✍️

Address

ضلع گجرات ،تحصیل کھاریاں،شہر ڈنگہ
Dinga
05200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dinga Nama Official channel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share