03/06/2026
مودبانہ گزارش برائے محترمہ ڈپٹی کمشنر گجرات
محترمہ!
گزارش ہے کہ جس مقام پر سہولت بازار قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، وہ ڈنگہ کے مصروف ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس سڑک پر تین ہائی سکول اور ڈنگہ کی سب سے بڑی جامع مسجد عیدگاہ واقع ہیں۔ روزانہ سکول اوقات میں تقریباً 1800 طلبہ و طالبات صبح اور دوپہر کے اوقات میں اس روڈ پر موجود ہوتے ہیں۔
مزید برآں ریلوے اسٹیشن ڈنگہ، غلہ منڈی اور سبزی منڈی کی بھاری ٹریفک بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ مین بازار میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کے باعث منڈی بہاؤالدین، پھالیہ اور گجرات جانے والی ٹریفک کے لیے بھی یہی سروس روڈ متبادل راستے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود اس جگہ کا انتخاب ایک سوالیہ نشان ہے۔ سہولت بازار یقیناً ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے، لیکن اگر اس کے لیے جگہ کا انتخاب درست نہ ہو تو کروڑوں روپے کے اخراجات بھی مستقبل میں مسائل اور نقصان کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسی مقام پر ناجائز تجاوزات کے خلاف سرکاری آپریشن کیا گیا تھا۔ آج اسی جگہ پر ایک مستقل منصوبے کی تجویز عوام کے لیے مزید ٹریفک مسائل، تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی مشکلات اور شہری زندگی میں خلل کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ جلد از جلد ڈنگہ کا دورہ کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور اس معاملے پر ازسرِنو غور فرمائیں تاکہ ایک ممکنہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
امید ہے کہ آپ معاملے کی حساسیت اور عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ فرمائیں گی۔
Deputy Commissioner Gujrat ✍️