بامت خیل قبیلہ

بامت خیل قبیلہ "لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِين○َ

نہاگ درہ شالگاہ کے قومی مشرملک زرین خان باباملک زرین خان بابا، ولدِ روشم خان بابا،نہاگ درہ شالگاہ کے ایک باوقار اور قابل...
08/09/2026

نہاگ درہ شالگاہ کے قومی مشر
ملک زرین خان بابا
ملک زرین خان بابا، ولدِ روشم خان بابا،
نہاگ درہ شالگاہ کے ایک باوقار اور قابلِ احترام قومی مشر ہیں۔
1945ء میں پیدا ہونے والے ملک زرین خان بابا نے اپنی زندگی علاقے کے لوگوں، قومی روایات اور باہمی اتحاد کے لیے وقف کی۔ آپ کی شخصیت دانائی، جرگہ داری، بردباری اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی خوبصورت مثال ہے۔
آپ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے نہاگ درہ شالگاہ کے لیے عزت اور وقار کی علامت ہیں۔ مشکل وقت میں لوگوں کی رہنمائی کرنا، مسائل کو مشاورت سے حل کرنا اور علاقے میں اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا آپ کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ آللہ تعالٰی ہمیشہ کے لئے خوش آور سلامت رکھیے آمین ثم آمین
ملک زرین خان بابا
ایک نام، ایک مقام، ایک روایت—
نہاگ درہ شالگاہ کی قومی مشرانہ کا قابلِ فخر باب۔
تحریر ملک انورزیب یوسفزئی

08/09/2026

پٹھان پاکستان میں کہاں سے آئے؟
اس تاریخی ویڈیو میں ہم پٹھانوں (پشتونوں) کی اصل تاریخ، ان کی ہجرت، اور ان راستوں کا جائزہ لیں گے جن کے ذریعے پشتون قبائل آج کے پاکستان کے علاقوں میں آباد ہوئے۔
کیا پٹھان واقعی صرف افغانستان سے آئے تھے؟
کیا پشتون قبائل کی جڑیں عرب، وسطی ایشیا یا کسی اور خطے سے ملتی ہیں؟
اور موجودہ خیبر پختونخوا، قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں پشتون آبادی کب اور کیسے قائم ہوئی؟
اس ویڈیو میں ہم روایات، تاریخی شواہد اور جدید تحقیق کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات تلاش کریں گے۔

خراجِ عقیدتنہاگ درہ شالگاہ کی ایک عظیم قومی شخصیت، ملک شاہ زواللہ خان بابانہاگ درہ شالگاہ سے تعلق رکھنے والے ایک معزز، ب...
01/09/2026

خراجِ عقیدت
نہاگ درہ شالگاہ کی ایک عظیم قومی شخصیت، ملک شاہ زواللہ خان بابا
نہاگ درہ شالگاہ سے تعلق رکھنے والے ایک معزز، باوقار اور قومی مشر ملک شاہ زواللہ خان بابا ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ ملک شاہ زول اللہ خان بابا معزز اور معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ملک شمال خان بابا کے گھر 1928ء میں پیدا ہوئے۔
ملک شاہ زواللہ خان بابا اپنی قوم، علاقے اور لوگوں کے درمیان عزت، وقار اور دانائی کی وجہ سے ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے ایک مضبوط ستون اور قابلِ احترام قومی مشر تھے۔
قومی معاملات اور جرگوں میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ بالخصوص شالگاہ ڈبہ کے قومی اور جرگہ جاتی معاملات میں ملک شاہ زواللہ خان بابا کا ایک نمایاں اور قابلِ ذکر کردار رہا۔ ان کی دانائی، بہادری، معاملہ فہمی اور قوم کے ساتھ اخلاص کی وجہ سے آج بھی ان کا نام لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
یہ ایک ایسی تاریخی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی قوم کی خدمت، اتحاد اور قومی روایات کے لیے وقف رکھی۔ جب بھی قومی جرگہ منعقد ہوتا، ملک شاہ زواللہ خان بابا کی موجودگی اور رائے کو خاص اہمیت حاصل ہوتی تھی۔
2001ء میں جب ملک شاہ زواللہ خان بابا اس دنیا سے رخصت ہوئے تو گویا سلطان خیل اور پائیندہ خیل قوم ایک مخلص، بہادر اور دانا قومی مشر سے محروم ہو گئی۔ ان کی وفات یقیناً قوم اور علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، مگر ان کی یادیں، خدمات اور کردار آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ملک شاہ زواللہ خان بابا کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
تحریر: ملک انورزیب یوسفزئی

آج ایک بہادر، حق پرست اور دیندار شخصیت کی یادملک شاہ نسیم خان بابا مرحومولد: ملک یارمولا خان باباساکن: نہاگ درہ شالگاہتا...
01/09/2026

آج ایک بہادر، حق پرست اور دیندار شخصیت کی یاد

ملک شاہ نسیم خان بابا مرحوم

ولد: ملک یارمولا خان بابا
ساکن: نہاگ درہ شالگاہ
تاریخ پیدائش: 1954ء
تاریخ وفات: 28 فروری 2026ء

نہاگ درہ شالگاہ کی سرزمین نے بہت سی بہادر اور باکردار شخصیات کو جنم دیا ہے۔ انہی قابلِ احترام شخصیات میں ملک شاہ نسیم خان بابا مرحوم کا نام بھی ہمیشہ عزت اور احترام سے لیا جائے گا۔

ملک شاہ نسیم خان بابا نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت دعوت و تبلیغ کے مبارک کام میں گزارا۔ وہ دینِ اسلام سے محبت رکھنے والے اور لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی طرف دعوت دینے والے انسان تھے۔ ان کی زندگی میں سادگی، دیانت داری اور حق گوئی نمایاں صفات تھیں۔

ملک شاہ نسیم خان بابا ایک جذباتی اور بہادر انسان تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کے حق پر ڈاکا نہیں ڈالا۔ چاہے معاملہ زمین کا ہو، نقد رقم کا ہو یا جنگل کے درختوں کا، انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے حقوق کا احترام کیا اور دیانت داری کے ساتھ زندگی گزاری۔
اس زمانے میں جب بھی کسی مظلوم پر ظلم ہوتا اور شالگاہ ڈبہ سے اعلان ہوتا کہ کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، تو اس مظلوم کی مدد اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والوں میں ملک شاہ نسیم خان بابا شامل ہوتے تھے۔ وہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے والے ایک نڈر اور بہادر انسان تھے۔
لیکن زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ آخرکار 28 فروری 2026ء، ماہِ رمضان المبارک میں یہ عظیم شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ نہاگ درہ شالگاہ اور تمام جاننے والوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
ملک شاہ نسیم خان بابا مرحوم کی بہادری، حق پسندی، دیانت داری، دینی خدمات اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایسی نیک اور باکردار شخصیات دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتی ہیں، مگر ان کے اچھے اعمال اور یادیں ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ملک شاہ نسیم خان بابا مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

تاریخ کا ایک باوقار نامملک بوستان بابانہاگ درہ شالگاہ سے تعلق رکھنے والی ایک نہایت معزز، باوقار اور تاریخی شخصیت ملک بوس...
31/08/2026

تاریخ کا ایک باوقار نام
ملک بوستان بابا
نہاگ درہ شالگاہ سے تعلق رکھنے والی ایک نہایت معزز، باوقار اور تاریخی شخصیت ملک بوستان بابا، ولد ملک طاوس خان بابا، سن 1950ء میں پیدا ہوئے۔
ملک بوستان بابا اپنے علاقے میں عزت، وقار، دانائی اور جرگہ داری کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ وہ نہ صرف ایک معزز شخصیت تھے بلکہ قومی معاملات اور جرگوں میں بھی ان کی شرکت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔
جہاں بھی علاقے میں کوئی اہم جرگہ، قومی مسئلہ یا اجتماعی معاملہ پیش آتا، ملک بوستان بابا ضرور وہاں پہنچتے تھے۔ اہلِ علاقہ ان کی رائے، تجربے اور موجودگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی شخصیت جرگے میں ایک خاص اہمیت رکھتی تھی اور ان کی شرکت کے بغیر جرگہ نامکمل اور مشکل محسوس ہوتا تھا۔
ملک بوستان بابا نے اپنی زندگی عزت، وقار اور قومی روایات کے مطابق گزاری۔ وہ اپنے علاقے اور لوگوں کے درمیان ایک معتبر اور قابلِ احترام شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد نہاگ درہ شالگاہ نے ایک ایسی شخصیت کو کھو دیا جس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔
سن 2005ء میں ملک بوستان بابا اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی یادیں، ان کا وقار اور جرگوں میں ان کا کردار آج بھی اہلِ علاقہ کے دلوں میں زندہ ہے۔ ایسی عظیم شخصیات جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو جاتی ہیں، مگر تاریخ اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ملک بوستان بابا کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
تحریر: ملک انورزیب یوسفزئی

31/08/2026

ضلع اپر دیر، نہاگ درہ کے اوورسیز بھائیوں کا اپنے منتخب نمائندوں سے پُرزور مطالبہ

نہاگ درہ سے تعلق رکھنے والے بیرونِ ملک مقیم اوورسیز بھائی اپنے علاقے کی ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے معزز ایم پی اے صاحب اور ایم این اے صاحب سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ نہاگ درہ کے دیرینہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

ہمارے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

📚 تعلیم: علاقے میں معیاری تعلیمی سہولیات، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ اور ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اپر دیر میں تعلیمی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے مسائل اب بھی توجہ کے محتاج ہیں۔

🏥 صحت: نہاگ درہ اور گردونواح کے عوام کے لیے بہتر ہسپتال، بنیادی صحت مراکز، ڈاکٹرز، ادویات اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

🛣️ سڑکیں: اندرونی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور باقی ماندہ دشوار گزار راستوں کو بہتر بنایا جائے۔ نہاگ درہ روڈ فیز II کے سرکاری منصوبے کا مقصد بھی علاقے کے دور دراز دیہات کو بہتر رسائی فراہم کرنا تھا۔

⚡ بجلی: بجلی کی فراہمی کو مزید بہتر اور مستحکم بنایا جائے تاکہ عوام کو مسلسل اور بلا تعطل بجلی میسر ہو۔

📶 بالخصوص موبائل نیٹ ورک: نہاگ درہ کے دور دراز علاقوں میں موبائل سگنل اور انٹرنیٹ کی شدید مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ صرف سہولت نہیں بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، خصوصاً دور دراز علاقوں کے لیے قابلِ اعتماد رابطہ انتہائی اہم ہے۔

ہم اپنے معزز ایم پی اے صاحب اور ایم این اے صاحب سے پُرامید ہیں کہ وہ نہاگ درہ کے عوام اور اوورسیز بھائیوں کے ان جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیں گے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کریں گے۔

نہاگ درہ کی ترقی، ہمارے بچوں کے بہتر مستقبل اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لیے آج عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

منجانب اوورسیرز برادری

ایک باوقار شخصیت: ملک نیاز محمد خان بابانہاگ درہ شالگاہ، دیر کی سرزمین نے ہمیشہ ایسی باوقار اور بہادر شخصیات کو جنم دیا ...
30/08/2026

ایک باوقار شخصیت: ملک نیاز محمد خان بابا
نہاگ درہ شالگاہ، دیر کی سرزمین نے ہمیشہ ایسی باوقار اور بہادر شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے کردار، خدمات اور وقار سے علاقے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہی قابلِ احترام شخصیات میں ملک نیاز محمد خان بابا کا نام بھی عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔
ملک نیاز محمد خان بابا، ولد ملک منجرہ خان بابا، ساکن نہاگ درہ شالگاہ، دیر، سن 1906ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک باوقار، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شخصیت تھے۔ ریاستِ دیر کے دور میں، خصوصاً نواب شاہجہان کے عہد میں، انہوں نے حوالدار کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔ اس دور میں حوالدار کا منصب ذمہ داری، بہادری، نظم و ضبط اور وفاداری کا تقاضا کرتا تھا، اور ملک نیاز محمد خان بابا نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھایا۔
ان کی زندگی علاقے اور ریاستی نظام سے وابستہ خدمات، وقار اور ذمہ داری کی ایک روشن مثال تھی۔ وہ اپنے خاندان اور علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک یادگار تاریخی حوالہ ہے۔
سن 1994ء میں ملک نیاز محمد خان بابا اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی یادیں اور ان کی خدمات آج بھی خاندان اور علاقے کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ملک نیاز محمد خان بابا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
تحریر: ملک انورزیب یوسفزئی

تحریر بنام ایک عظیم شخصیتحاجی ملک محمد شیر خان باباؒنہاگ درہ شالگاہ کی سرزمین نے بہت سی عظیم اور باوقار شخصیات کو جنم دی...
30/08/2026

تحریر بنام ایک عظیم شخصیت
حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ
نہاگ درہ شالگاہ کی سرزمین نے بہت سی عظیم اور باوقار شخصیات کو جنم دیا ہے۔ انہی نمایاں اور قابلِ احترام شخصیات میں ایک نام حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ ولد ملک جان خان بابا کا بھی ہے۔
حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ 1930ء میں نہاگ درہ شالگاہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک نہایت بہادر، غیرت مند، باوقار اور اپنی قوم سے محبت رکھنے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ حق، عزت اور قومی وقار کو مقدم رکھا۔
جب بھی سلطان خیل اور پائیندہ خیل کے درمیان کوئی قومی مسئلہ، اہم بات یا جرگہ پیش آتا، تو حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ اپنی قوم کے ساتھ سب سے آگے کھڑے نظر آتے۔ وہ کبھی قومی معاملات سے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ہمیشہ اپنی قوم کی عزت، اتحاد اور بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔
حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ ایک بہادر اور مضبوط شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی قومی خدمات، جرات اور اپنی برادری کے ساتھ وفاداری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایسی عظیم شخصیات اگرچہ جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے کردار اور خدمات لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
سن 2007ء میں یہ عظیم شخصیت اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ آج بھی نہاگ درہ شالگاہ اور سلطان خیل و پائیندہ خیل کے لوگ انہیں عزت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حاجی ملک محمد شیر خان باباؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
تحریر: ملک انورزیب یوسفزئی

ملک گل زاد خان باباولد ملک حمزہ خان باباساکن: نہاگ درہ، آبائی گاؤں شالگاہتاریخ پیدائش: 1931ءتاریخ وفات: 1990ءضلع دیر کے ...
30/08/2026

ملک گل زاد خان بابا
ولد ملک حمزہ خان بابا
ساکن: نہاگ درہ، آبائی گاؤں شالگاہ
تاریخ پیدائش: 1931ء
تاریخ وفات: 1990ء
ضلع دیر کے تاریخی اور خوبصورت علاقے نہاگ درہ کے گاؤں شالگاہ نے ہمیشہ ایسی باوقار اور قابلِ احترام شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی، کردار اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے اپنے خاندان اور علاقے میں عزت و احترام حاصل کیا۔ انہی نمایاں شخصیات میں ایک نام مرحوم ملک گل زاد خان بابا ولد ملک حمزہ خان بابا کا بھی ہے۔
ملک گل زاد خان بابا 1931ء میں ایک معزز اور باوقار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق شالگاہ سے تھا اور وہ اپنی زندگی میں پشتون روایات، عزت، دیانت داری اور خودداری کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں وقار، سادگی اور نیکی نمایاں تھی۔
اہلِ علاقہ اور بزرگوں سے منسوب ایک اہم روایت کے مطابق، جب شالگاہ یادگاہ کی بنیاد رکھنے کا وقت آیا تو قاضی بابا نے اس موقع پر ایک ایسی شخصیت کی ضرورت محسوس کی جو اپنی زندگی میں دیانت، پاکیزگی اور حلال و حرام کے معاملے میں انتہائی محتاط رہی ہو۔
روایت کے مطابق قاضی بابا نے کہا کہ:
"یہ بنیاد ایسی شخصیت کے ہاتھوں رکھی جائے جس نے اپنی زندگی میں کبھی حرام کا کام نہ کیا ہو اور ہمیشہ دیانت و پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزاری ہو۔"
اس موقع پر سب کی نظریں ملک گل زاد خان بابا کی شخصیت کی طرف گئیں۔ ان کے کردار، دیانت داری اور نیک نامی کی وجہ سے انہیں اس عظیم کام کے لیے موزوں سمجھا گیا، اور یوں شالگاہ یادگاہ کی بنیاد رکھنے کا اعزاز ملک گل زاد خان بابا کو حاصل ہوا۔
یہ واقعہ صرف ایک یادگار کی بنیاد رکھنے کا واقعہ نہیں، بلکہ ملک گل زاد خان بابا کے اعلیٰ کردار اور معاشرے میں ان کی عزت و اعتماد کا ثبوت بھی ہے۔ کسی شخصیت کو ایسے اہم اور تاریخی کام کے لیے منتخب کیا جانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنے دور میں ایک قابلِ احترام، بااعتماد اور نیک نام انسان تھے۔
ملک گل زاد خان بابا نے اپنی زندگی عزت اور وقار کے ساتھ گزاری۔ وہ 1990ء میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا نام، ان کی شخصیت اور شالگاہ یادگاہ سے وابستہ یہ تاریخی روایت آج بھی ان کی یاد کو زندہ رکھتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی تاریخ، ان کے کردار اور ان کی خدمات کو محفوظ کریں تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس طرح عزت، دیانت اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ زندگی گزاری۔
مرحوم ملک گل زاد خان بابا کا نام شالگاہ کی تاریخ اور اپنے خاندان کی یادوں میں ہمیشہ احترام کے ساتھ زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ملک گل زاد خان بابا ولد ملک حمزہ خان بابا کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
تحرير ملک انورزیب یوسفزئی

تاریخ کا ایک روشن چراغ بجھ گیاملک پردیس خان بابا کی زندگی اور خدماتنہاگ درہ اور شالگاہ کی سرزمین نے ہمیشہ ایسی باوقار او...
29/08/2026

تاریخ کا ایک روشن چراغ بجھ گیا
ملک پردیس خان بابا کی زندگی اور خدمات
نہاگ درہ اور شالگاہ کی سرزمین نے ہمیشہ ایسی باوقار اور خدمت گزار شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی محنت، خلوص اور عوام دوستی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہی قابلِ احترام شخصیات میں ملک پردیس خان بابا کا نام بھی نمایاں ہے۔
ملک پردیس خان بابا سن 1943ء میں ملک مہتاب بابا کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک محنتی، بہادر، باہمت اور غریب پرور انسان تھے۔ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے محنت اور دیانت داری کو اپنا شعار بنایا اور اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا رشتہ قائم رکھا۔
ملک پردیس خان بابا کی زندگی کی ایک اہم خدمت یہ تھی کہ وہ سب سے پہلے نہاگ درہ شالگاہ کے روڈ پر لوڈ ٹرک لے کر آئے۔ اس زمانے میں یہ ایک بڑی اور اہم پیش رفت تھی، کیونکہ آمدورفت اور سامان کی نقل و حمل کے ذرائع بہت محدود تھے۔ ان کی اس کوشش نے علاقے کے لوگوں کے لیے سہولت پیدا کی اور نہاگ درہ و شالگاہ کے علاقے میں ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
بعد ازاں ملک پردیس خان بابا نے نہاگ درہ شالگاہ میں ایک دکان بھی قائم کی۔ ان کی دکان صرف کاروبار کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ لوگوں کے لیے محبت، خدمت اور تعاون کا ایک مرکز بھی تھی۔ وہ ہمیشہ غریبوں، ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں کے غم خوار رہے۔ جس کسی کو ضرورت پیش آتی، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے۔
ملک پردیس خان بابا ایک نرم دل اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ اپنے علاقے اور لوگوں سے بے حد محبت کرتے تھے اور دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت، محبت اور بھلائی میں ہے۔
سن 2001ء میں ملک پردیس خان بابا اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات سے ان کے خاندان، دوستوں، عزیزوں اور اہلِ علاقہ کو گہرا صدمہ پہنچا۔ اگرچہ انہیں ہم سے بچھڑے کئی سال گزر چکے ہیں، مگر ان کی یادیں، ان کی خدمات اور ان کی غریب پروری آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
واقعی، ملک پردیس خان بابا کی وفات سے تاریخ کا ایک روشن چراغ بجھ گیا، لیکن ان کی محنت، خدمت اور انسان دوستی کی روشنی ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ملک پردیس خان بابا مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ اور تمام عزیز و اقارب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین
تحریر: ملک انورزیب یوسفزئی

Address

Dir

Telephone

+923469699979

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بامت خیل قبیلہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to بامت خیل قبیلہ:

Shortcuts

Share