17/08/2026
ثَناءُ اللّٰہ خان
پراؤڈ ایلومنوس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر
وہ لڑکا جو ڈوڈبا کی خاموش پہاڑی گلیوں اور دیر کی سرسبز وادیوں سے نکل کر علم کے آسمان پر ایک روشن ستارہ بن گیا۔ ضلع اپر دیر کی مٹی سے اٹھا ہوا وہ چراغ، جو آج سوشل ورک کے شعبے میں نسلوں کی راہیں روشن کر رہا ہے۔
ضلع اپر دیر کی ان وادیوں میں جہاں محنت، صبر اور ایمانداری کی کہانیاں نسل در نسل چلتی ہیں، ایک ایسا بیج بویا گیا جو آج نہ صرف پھلا پھولا بلکہ تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں ایک مضبوط اور سایہ دار درخت بن گیا۔ ثناء اللہ خان، ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر کے فخر والے سابق طالب علم، آج اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ گاؤں کی سادہ مٹی سے اٹھ کر کوئی بھی شخص علمی بلندیوں پر پہنچ سکتا ہے اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
سکول کی پرانی کلاس رومز سے لے کر یونیورسٹی کے لیکچر ہال تک کا سفر صرف ایک تعلیمی کہانی نہیں، بلکہ عزم، لگن، دیانت داری اور وطن سے جڑے رہنے کی ایک دلکش داستان ہے۔
ثناء اللہ خان کی تاریخِ پیدائش ۵ فروری ۱۹۸۸ ہے۔ ان کا آبائی تعلق ڈوڈبا، ضلع اپر دیر سے ہے اور وہ حبیب اللہ خان صاحب کے فرزند ہیں۔
ابتدائی تعلیم سے لے کر میٹرک تک انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر سے حاصل کی۔ یہی وہ سکول تھا جس نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی، نظم و ضبط سکھایا اور علم کی پیاس کو بیدار کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج دیر سے ۲۰۰۶ میں ایف ایس سی اور ۲۰۰۸ میں بی اے مکمل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی آف ملاکنڈ سے ۲۰۱۱ میں ایم اے کیا۔ پھر یونیورسٹی آف پشاور سے ۲۰۱۸ میں ایم فل مکمل کیا اور آج وہ یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں پی ایچ ڈی اسکالر کے طور پر علم کی اعلیٰ ترین منازل کی طرف گامزن ہیں۔
ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول میں حاصل ہونے والی معیاری تعلیم، بہترین تربیت، کردار سازی اور نظم و ضبط نے ان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ سوچ کی بنیاد رکھی۔
پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے ۲۰۱۲ میں بطور لیکچرار ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک سے کیا اور آج تک وہ اسی شعبے میں خدمتِ خلق اور نوجوان نسل کی تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ثناء اللہ خان آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سکول کے دنوں، استادوں، خاندان اور دیر کی مٹی کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ سادگی، پیشہ ورانہ ایمانداری، مسلسل سیکھنے کا جذبہ اور سماجی خدمت کا جذبہ ان کی شخصیت کے سب سے خوبصورت پہلو ہیں۔
ان کا تعلیمی وژن معیاری تعلیم، سماجی بیداری، تخلیقی و تنقیدی سوچ، اسلامی اقدار، کردار سازی اور انسانیت کے احترام کو فروغ دینا ہے۔ وہ ایسے تعلیمی ماحول کے قیام کے خواہاں ہیں جہاں استاد کا وقار، میرٹ، شفافیت، مساوات اور مؤثر احتساب بنیادی اصول ہوں اور ہر طالب علم کو یکساں مواقع میسر آئیں۔
ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر اپنے اس قابل فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ ثناء اللہ خان نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر خواب بلند ہوں، محنت پکی ہو اور ارادہ خالص ہو تو کوئی حد رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر یونیورسٹی کے لیکچر ہال اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ منازل تک، آنے والی نسلوں کے لیے ایک تابناک مشعل ہے۔
اللہ تعالیٰ ثناء اللہ خان کو مزید ترقی، صحت اور کامیابیوں سے نوازے، تاکہ وہ دیر اور پاکستان کا نام علمی و سماجی میدان میں مزید روشن کرتے رہیں۔
آمین
تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر