Dir Royal Family Akhunkhail Yousafzai 1626 1969

  • Home
  • Dir Royal Family Akhunkhail Yousafzai 1626 1969

Dir Royal Family Akhunkhail Yousafzai 1626 1969 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dir Royal Family Akhunkhail Yousafzai 1626 1969, Digital creator, District Dir Upper/Lower, .

Official Page of Dir Royal Family Akhunkhail (Yousafzai) working for unity of Yousafzai Malazi Tribe and informing especially youth with the Dir state history and information.

15/08/2026
نواب محمد شاہ خسرو خان (1960ء - 1969ء)ریاستِ دیر اخون خیل یوسفزئی کے گیارہویں اور آخری نوابنواب محمد شاہ خسرو خان، ریاست...
09/07/2026

نواب محمد شاہ خسرو خان (1960ء - 1969ء)
ریاستِ دیر اخون خیل یوسفزئی کے گیارہویں اور آخری نواب
نواب محمد شاہ خسرو خان، ریاستِ دیر کے آخری حکمران تھے، جن کا دورِ اقتدار ایک تاریخی تبدیلی، یعنی ریاست کے پاکستان میں باضابطہ انضمام کا اہم باب ہے۔ آپ حکومتِ پاکستان کے اعزازی بریگیڈیئر بھی رہے۔۔۔

تخت نشینی اور دستار بندی
9 نومبر 1960ء کو چکدرہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نے پرنس محمد شاہ خسرو کو باضابطہ طور پر "نوابِ دیر" کے طور پر نامزد کیا۔ اس تاریخی موقع پر دستار بندی کی رسم ادا کی گئی، جس میں لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا اور دیر کے سرکردہ خوانین نے شرکت کی۔ گورنر نے نئے نواب کو ریاست میں ترقیاتی کاموں، بالخصوص اسکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے حکومتِ پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔۔۔

ترقیاتی عزم اور دورِ حکومت
نواب شاہ خسرو خان کا دورِ اقتدار آئین و قانونِ پاکستان کے ماتحت تھا۔ نواب صاحب نے ریاست میں سرکاری دفاتر، سکول اور عمارتیں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر ریاستِ دیر کو قومی دھارے میں لانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ نواب صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ دیر ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے، لہٰذا انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے ریاست کے نظم و نسق کو جدید بنانے کے لیے صاحبزادہ محمد ایوب کو "وزیرِ اعلیٰ" مقرر کیا اور پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے دیر کے عوام کے جذبۂ حب الوطنی کا اعادہ کیا۔۔۔

ریاست کا انضمام (1969ء)
نواب محمد شاہ خسرو خان کا دور عبوری نوعیت کا حامل رہا۔ 1960ء کی دہائی میں انتظامی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر، بالآخر 1969ء میں حکومتِ پاکستان نے ریاستِ دیر کی نوابی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور دیر کو پاکستان کا ایک مکمل ضلع بنا کر اسے قومی دھارے میں ضم کر لیا گیا۔۔۔

انتقال اور تدفین
نوابی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھی نواب محمد شاہ خسرو خان کا احترام برقرار رہا۔ آپ نے زندگی کا ایک طویل عرصہ اسلام آباد میں گزارا۔ 1996ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دیر خاص میں شاہی قلعہ دربار (احاطہ شاہی مسجد) کے عقب میں سپردِ خاک کیا گیا۔۔۔

نواب محمد شاہ خسرو خان کا دور ریاستِ دیر کی صدیوں پر محیط نوابی اور شاہی نظام کا آخری باب ثابت ہوا۔ آپ کی وفات کے ساتھ اخون خیل یوسفزئی خاندان کے سیاسی اقتدار کے اس طویل سفر کا اختتام ہوا جو حضرت اخون الیاس باباؒ سے شروع ہوا تھا۔
(بحوالہ: اے پی پی نیوز 1960ء، تاریخِ دیر یوسفزئی)

اتحادِ دیر: وقت کا اہم تقاضا اور ہم سب کی ذمہ داریعزیزانِ ملت اور دیارِ دیر کے غیور نوجوانو!دیر کی یہ خوبصورت وادی، جو ص...
09/07/2026

اتحادِ دیر: وقت کا اہم تقاضا اور ہم سب کی ذمہ داری
عزیزانِ ملت اور دیارِ دیر کے غیور نوجوانو!
دیر کی یہ خوبصورت وادی، جو صدیوں سے ہمارے بزرگوں کی بصیرت اور قربانیوں کی امین رہی ہے، آج ہم سے اتحاد کا تقاضا کر رہی ہے۔ ہم سب اس مٹی کے سپوت ہیں، جس کا ہر ذرہ ہمارے لیے محترم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم سب ایک ہی جڑ سے نکلے ہوئے شاخ و پتے ہیں؛ یوسفزئی ہوں یا ملیزئی، پائندہ خیل ہوں یا سلطان خیل، اوسی خیل ہوں یا نصردین خیل، یہ تقسیم محض پہچان کے لیے ہے، تفرقے کے لیے نہیں۔
یاد رکھیے!
قوموں کو خیلوں اور نسب کی بنیاد پر تقسیم کرنا ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو لوگ آج ہمیں اپنے ذاتی مفادات کی خاطر گروہ بندیوں میں بانٹ رہے ہیں، وہ دراصل ہماری اجتماعی طاقت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے سازشی عناصر نہ تو ہمارے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی ہمارے مستقبل کے ہمدرد۔ ان کا آلہ کار بن کر ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے اتحاد کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

ہماری اپیل:
آئیے! آج عہد کریں کہ ہم ان تمام تر قبیلے پرستیوں اور خیل پرستیوں سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف "دیر" کے مفاد میں متحد ہوں گے۔ ہمارا نظریہ ایک، ہماری منزل ایک اور ہمارا درد مشترک ہے۔ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہمیں کسی قبیلے کی نہیں، بلکہ ایک قوم بن کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اتحاد ہی ہماری طاقت ہے:
ہم تمام اقوامِ دیر کے نوجوانوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے خاندانوں کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے ان تقسیم کرنے والی قوتوں کو مسترد کر دیں۔ تفرقہ بازی کا انجام صرف پشیمانی ہے، جبکہ اتحاد میں ہی عروج اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔
آئیے! نفرتوں کی دیواریں گرائیں اور اتفاق و بھائی چارے کا ایسا مضبوط قلعہ تعمیر کریں جس سے کوئی سازشی عنصر ہمیں جدا نہ کر سکے۔ ہم سب بھائی ہیں، ہم سب ایک ہیں، اور "دیر" کی خدمت ہی ہمارا اولین نصب العین ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتفاق و اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھے اور ہمارے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے نرم اور باہمی احترام سے معمور فرمائے۔ آمین۔
ایک متحد، مستحکم اور ترقی یافتہ دیر کے لیے، متحد رہیے!

نواب سر محمد شاہ جہاں خان اخون خیل یوسفزئی (1924ء - 1960ء)غازیِ ملت، ہلالِ قائدِ اعظم، ریاستِ دیر کے عظیم اور آخری مستحک...
08/07/2026

نواب سر محمد شاہ جہاں خان اخون خیل یوسفزئی (1924ء - 1960ء)

غازیِ ملت، ہلالِ قائدِ اعظم، ریاستِ دیر کے عظیم اور آخری مستحکم حکمران
نواب سر محمد شاہ جہاں خان ریاستِ دیر کے دسویں اور سب سے بااثر حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ آپ کی شخصیت بیداری، زیرکی، رعب اور حب الوطنی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے 45 سالہ دورِ حکومت (1924ء - 1969ء) کو ریاستِ دیر کا "عہدِ وقار" کہا جاتا ہے، جس میں ریاست نے امن، انصاف اور خود مختاری کے بامِ عروج کو چھوا۔۔۔۔

مثالی امن اور عدل و انصاف
نواب شاہ جہاں خان کا دور اپنی مثالی امنِ عامہ کے لیے ضرب المثل تھا۔ ریاست کے اندر قانون کی بالادستی کا یہ عالم تھا کہ ایک خاتون زیورات سے لدی چکدرہ سے لواری ٹاپ تک روڈ پر تنہا پیدل سفر کرتی، تو کوئی بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرتا۔ آپ نے جنگلات کی کٹائی پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی تاکہ ریاست کے قدرتی اثاثے محفوظ رہیں۔ آپ کا نظامِ انصاف مکمل طور پر اسلامی شرعیہ پر مبنی تھا، جہاں ہر خاص و عام کو فوری اور بلا تفریق انصاف میسر تھا۔۔۔

نظریہ اور ملی خدمات
نواب شاہ جہاں خان ایک کٹر قوم پرست اور اسلام پسند حکمران تھے۔ آپ نے اپنی ریاست کو مغربی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا، جس میں انگریزی تعلیم اور لباس پر پابندی شامل تھی تاکہ مقامی ثقافت اور اسلامی تشخص کو برقرار رکھا جا سکے۔ آپ کی ملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے آپ کو "ہلالِ قائدِ اعظم" اور اعزازی بریگیڈیئر کے اعزازات سے نوازا۔ جہادِ کشمیر میں آپ نے اپنی فوج اور سینکڑوں مجاہدین کے ساتھ جو گراں قدر خدمات انجام دیں، اسی کے پیشِ نظر آپ کو "غازیِ ملت" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔

بے بنیاد پروپیگنڈا اور تاریخی حقیقت
نواب شاہ جہاں خان کی خود مختارانہ پالیسیوں اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاملے پر ان کا اصولی موقف، اس وقت کی مرکزی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ریاست کے اندر موجود چند مفاد پرست ملکانان اور خوانین کو آلہ کار بنایا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے ذاتی مراعات اور عہدوں کے لالچ میں اپنا ضمیر بیچ دیا اور نواب کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ نواب کے مخالفین آج تک کسی بھی قسم کا کوئی مستند ثبوت یا تاریخی دستاویز پیش کرنے سے قاصر ہیں جو نواب صاحب کے ہاتھوں کسی ظلم کی گواہی دے سکے۔ نواب کے خلاف "ظالم" ہونے کا پروپیگنڈا محض ایک سیاسی سازش تھی۔ اس پروپیگنڈے کو فروغ دینے کے لیے ان ریاستی جاسوسوں اور مفاد پرستوں کی اولادوں نے کئی منفی کتابیں بھی شائع کیں، جن میں "گمنام ریاست" جیسی تصانیف نمایاں ہیں، جن کا واحد مقصد نواب صاحب کی شخصیت کو مسخ کرنا اور نفرت کو ہوا دینا تھا۔

یہ مراعات یافتہ طبقہ، جو آج بھی نواب کے خلاف متحرک ہے، جب ان سے ثبوت طلب کیا جائے تو وہ محض یہ کہتے ہیں کہ "ہم نے اپنے بڑوں سے سنا تھا"۔ مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ جس زمین پر آج ان کے گھر اور حویلیاں قائم ہیں، وہ دراصل نواب کی ذاتی ملکیت تھی جو انہیں وفاداری کے صلے میں یا سازش کے بدلے نوازا گیا تھا۔ نواب صاحب کے درجنوں ذاتی دفاتر پر قبضہ کیا گیا اور انہیں کئی ہزار ایکڑ زرعی زمینوں پر ناحق قابض کر دیا گیا۔ یہ وہی ٹولہ ہے جنہوں نے نواب کے دور میں مراعات حاصل کیں اور بعد میں اسٹیبلشمنٹ کے "مراعات یافتہ ٹٹو" بن کر نفرت کا بیج بویا۔ یہ لوگ آج بھی اپنے آباؤ اجداد کی اس خیانت کو چھپانے کے لیے نواب صاحب پر بے بنیاد تنقید کرتے ہیں، مگر ان کے پاس دلیل کا ایک ذرہ بھی موجود نہیں۔۔۔

معزولی اور ریاست کا انضمام
1960ء میں، جنرل ایوب خان کی حکومت نے مشاورت کے بہانے ایک فوجی ہیلی کاپٹر بھیجا۔ نواب صاحب بخوبی جانتے تھے کہ یہ محض دھوکہ ہے، مگر آپ نے عوام کے خون خرابے سے بچنے کے لیے مزاحمت نہ کی۔ آپ کو اسلام آباد منتقل کر کے نظر بند کر دیا گیا اور آپ کی جگہ نواب شاہ خسرو خان کو نامزد کیا گیا۔ 1969ء میں بالآخر ریاست کو مکمل طور پر ختم کر کے پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔۔۔

نواب شاہ جہاں خان کا دور ایک ایسی عظیم ریاست کی علامت تھا جو اپنے اصولوں، اپنی غیرت اور اپنے اسلامی تشخص پر قائم تھی۔ آپ کو آپ کی آخری آرام گاہ، دیر خاص کی شاہی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ نے اپنی قوم کی عزت اور ریاست کی خود مختاری کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔
(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی، یوسفزئی قوم کی سرگزشت)

نواب محمد اورنگزیب خان (1904ء - 1924ء)ریاستِ دیر کے نویں حکمران، سخی، دین دار اور حامیِ تعلیمنواب محمد اورنگزیب خان، نوا...
07/07/2026

نواب محمد اورنگزیب خان (1904ء - 1924ء)
ریاستِ دیر کے نویں حکمران، سخی، دین دار اور حامیِ تعلیم
نواب محمد اورنگزیب خان، نواب اول محمد شریف خان کے فرزندِ ارجمند تھے۔ آپ 1877ء میں ریاستِ دیر کے علاقے براول بانڈی میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ایک حادثے کے باعث، جب آپ تالاب میں گر گئے تھے، آپ کی قوتِ گویائی میں لکنت پیدا ہو گئی تھی، اسی نسبت سے تاریخ کے اوراق میں آپ "چاڑا نواب" کے نام سے معروف ہوئے۔ 1904ء میں 27 برس کی عمر میں آپ نے ریاستِ دیر کی باگ ڈور سنبھالی۔۔۔

کردار اور اخلاقی اوصاف
نواب اورنگزیب خان اپنی ذات میں ایک قلندر صفت حکمران تھے۔ آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی انتہائی درجے کی دین داری اور پرہیزگاری تھی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے اس قدر پابند تھے کہ ہفتے میں دو دن روزے رکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ ایک انتہائی انصاف پسند، راست گو، دریا دل اور سخی حکمران تھے، جن کے دربار سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ آپ کے دورِ حکومت کا بیشتر حصہ بیرونی یلغاروں کو روکنے اور ریاست کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 45 سے زائد جنگوں میں گزرا۔۔۔

اسلامیہ کالج پشاور کے لیے عظیم مالی تعاون
نواب اورنگزیب خان کی سب سے روشن تاریخی خدمت اسلامیہ کالج پشاور کے قیام کے لیے ان کا مثالی مالی تعاون ہے۔ 10 مئی 1911ء کو جب صوبہ سرحد کے کمشنر جارج روز کیپل نے اسلامیہ کالج کی تعمیر کے لیے صوبے بھر کے نوابان اور سرکردہ خوانین کا اجلاس بلایا، تو نواب دیر نے اس قومی مقصد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۔۔

تاریخی شواہد کے مطابق، اس وقت جمع ہونے والے کل ساڑھے پانچ لاکھ روپے کے چندے میں سے ایک بہت بڑا حصہ نواب اورنگزیب خان کا تھا۔ آپ نے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد اور چار سو پچاس سلیپرز (اعلیٰ معیار کی لکڑی) عطیہ کیے، جوکہ مجموعی چندے کا ایک چوتھائی (1/4) حصہ بنتا تھا۔ یہ آپ کی علمی و ملی بصیرت اور قوم کی ترقی کے لیے آپ کی بے لوث محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس عظیم عطیے کے باوجود کالج انتظامیہ نے آپ کی خدمات کا اعتراف اس طرح نہیں کیا جس طرح دیگر خوانین کا کیا گیا، تاہم آپ کی شرافت اور خاکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی اپنے نام کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔۔۔

آخری ایام اور انتقال
آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ریاست کی فلاح اور عوام کی خدمت میں گزارا۔ اپنے آخری ایام میں جب آپ فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے تو آپ نے امورِ سلطنت کی نگرانی کے لیے اپنے معتمد وزراء (جن میں مرزا عبدالحق، گورامان اور صفدر خان شامل تھے) پر اعتماد کیا۔ 1924ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو دیر خاص میں شاہی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے اور ولی عہد، نواب سر محمد شاہ جہان خان ریاست کے حکمران بنے۔۔۔

نواب اورنگزیب خان کی حیات اس بات کی گواہی ہے کہ ایک حکمران کس طرح اپنی دنیاوی طاقت کو اللہ کی رضا اور قوم کی تعمیر کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اپنے اخلاص، تقویٰ اور سخاوت کے باعث آج بھی ریاستِ دیر کی تاریخ میں ایک تابندہ ستارے کی مانند یاد کیے جاتے ہیں۔۔۔

(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی و دیگر تاریخی ذرائع)
مدفون احاطہ شاھی مسجد دیر خاص

نواب محمد شریف خان (1884ء - 1904ء)ریاستِ دیر کے آٹھویں حکمران، دیر کے پہلے باضابطہ نوابنواب محمد شریف خان، ریاستِ دیر اخ...
06/07/2026

نواب محمد شریف خان (1884ء - 1904ء)
ریاستِ دیر کے آٹھویں حکمران، دیر کے پہلے باضابطہ نواب
نواب محمد شریف خان، ریاستِ دیر اخون خیل یوسفزئی کے آٹھویں حکمران تھے۔ آپ اپنے والد نواب رحمت اللہ خان کے وصال کے بعد مسندِ اقتدار پر فائز ہوئے۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ ریاستِ دیر کے پہلے حکمران تھے جنہیں انگریز حکومت نے باضابطہ طور پر "نواب" کے لقب سے نوازا۔
تاریخی پس منظر اور لقبِ نواب
1885ء میں چکدرہ کے مقام پر ایک خصوصی تقریب میں انگریز سرکار نے آپ کو "نواب" کے لقب سے سرفراز کیا۔ انگریزی تاریخ دانوں نے اس دور میں نواب کو "ڈیوک" (Duke) کے مساوی قرار دیا، جو آپ کے خاندانی وقار اور ریاستِ دیر کے اثر و رسوخ کا غماز تھا۔ آپ کا دورِ حکومت ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، کیونکہ اس دوران ریاست کو بیرونی دباؤ اور علاقائی سیاست کے پیچیدہ چیلنجوں کا سامنا رہا۔
اہم واقعات اور ریاست کی بحالی
نواب محمد شریف خان کے دور میں شاہراہِ دیر-چترال کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظر علاقائی قوتوں میں رسہ کشی عروج پر تھی۔ آپ نے اپنی خود مختاری اور اصولی موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایک مشکل دور میں جب ریاستِ دیر کو داخلی و خارجی سازشوں کی وجہ سے عارضی طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو نواب صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی وفادار یوسفزئی قوم اور قبائلی لشکر کو منظم کیا اور سوات کی سمت سے پیش قدمی کر کے اپنی ریاست کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا۔ آپ کی یہ کامیابی آپ کی قائدانہ بصیرت اور عوام کے ساتھ آپ کے گہرے روابط کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
حکمرانی کا انداز اور انتقال
نواب محمد شریف خان ایک باوقار اور اصولی حکمران تھے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی ریاست کے وقار کو آنچ نہیں آنے دی۔ آپ کا دورِ حکومت اگرچہ سازشوں اور چیلنجوں سے بھرا رہا، لیکن آپ نے ہمیشہ اپنی قوم کے مفادات کو مقدم رکھا۔
اپنی عمر کے آخری ایام میں آپ فالج کے عارضے میں مبتلا ہوئے۔ آپ کا انتقال 1904ء میں تیمرگرہ میں ہوا۔ روایت ہے کہ آپ نے اپنے آخری وقت تیمرگرہ کے ایک مشہور مذہبی بزرگ "تیمرگرہ صاحب" کی موجودگی میں گزارے۔ آپ کی میت کو دیر خاص لایا گیا اور آپ کو خاندانی روایت کے مطابق "خان شہید قبرستان" (شاہی مقبرہ) میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کی وفات کے ساتھ ریاستِ دیر کے ایک ایسے دور کا اختتام ہوا جس نے ریاست کو بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی سیاست کے بھنور سے نکال کر ایک مستحکم شناخت فراہم کی۔
(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی و دیگر تاریخی ذرائع)

خان رحمت اللہ خان (1870ء - 1884ء)ریاستِ دیر کے ساتویں حکمران، عظیم سپہ سالار اور بانیِ جدید دورنواب خان رحمت اللہ خان، غ...
05/07/2026

خان رحمت اللہ خان (1870ء - 1884ء)
ریاستِ دیر کے ساتویں حکمران، عظیم سپہ سالار اور بانیِ جدید دور
نواب خان رحمت اللہ خان، غازی خان غزن خان کے فرزندِ ارجمند اور ریاستِ دیر کے ایک ایسے درخشاں ستارے تھے جنہوں نے لڑکپن میں ہی میدانِ جنگ میں اپنی شجاعت کا لوہا منوایا تھا۔ آپ نہ صرف ایک نڈر سپاہی تھے بلکہ ایک دور اندیش منتظم بھی تھے، جنہوں نے ریاستِ دیر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عسکری کارنامے اور معرکہِ امبیلہ
آپ کی عسکری صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 17 برس کی عمر میں آپ نے 6000 گھڑ سواروں کے لشکر کی قیادت کی تھی۔ 1863ء میں معرکہِ امبیلہ کے دوران، آپ نے برطانوی افواج کے مایہ ناز کمانڈر برگیڈیئر جنرل نیویل چیمبرلین (Neville Bowles Chamberlain) کے خلاف ایک ایسی سیسہ پلائی دیوار کھڑی کی کہ انگریز فوج کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال تک جاری رہنے والی اس طویل کشمکش میں، آپ کی گوریلا جنگی مہارت اور پہاڑی جغرافیہ کے درست استعمال نے انگریزوں کے 12000 فوج اور جدید اسلحہ کیساتھ اپنے حربے استعمال کرتے رہے لیکن بالآخر پسپائی پر مجبور ہوگئے ، جس کے نتیجے میں 1,000 سے زائد برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔ آپ کی یہ شجاعت آپ کے والدِ گرامی غازی خان غزن خان کے "عہدِ زریں" کی سب سے بڑی عسکری کامیابی مانی جاتی ہے۔
انتظامی اصلاحات اور جدید ریاست کا قیام
1870ء میں والد کی وفات کے بعد جب آپ نے عنانِ حکومت سنبھالی، تو آپ نے ریاست کے نظم و نسق کو جدید بنانے پر بھرپور توجہ دی۔ آپ نے اپنی حکمرانی کے 14 برسوں میں ریاست کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے:
دفاعی نظام: ریاست کی جغرافیائی حدود پر مضبوط فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور جدید جنگی سازوسامان کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
معاشی و تجارتی ترقی: آپ نے ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے میوہ جات کی برآمد اور مقامی دستکاری، جیسے قالین سازی، برتن سازی اور دیگر روزمرہ اشیاء کی درآمد و برآمد کے لیے نئے راستے کھولے۔
عوامی فلاح: آپ نے ریاست میں قانون کی بالادستی قائم کی اور عوام کو ایک مستحکم، محفوظ اور خوشحال ماحول فراہم کیا، جس کی بدولت ریاست دیر کی تجارتی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔
وفات اور ورثہ
نواب خان رحمت اللہ خان نے اپنے آباؤ اجداد کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستِ دیر کو ایک مضبوط اور خود مختار اکائی کے طور پر قائم رکھا۔ 1884ء میں حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث آپ کا وصال ہوا۔ آپ کو آپ کے خاندان کے دیگر بزرگوں کی طرح دیر خاص کے خان شہید قبرستان (شاہی مقبرہ) میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کی شخصیت ہمت، بصیرت اور حب الوطنی کا ایک حسین امتزاج تھی، جس نے ریاستِ دیر کے وقار کو بلند رکھنے میں اپنا خون اور پسینہ وقف کیا۔
(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی و دیگر تاریخی ذرائع)

ضروری اور تصدیقی نوٹ۔۔۔؟
آخون خیل خاندان کے دس رکنی بورڈ نے مختلف تاریخی کتب، روایات اور جدید مصنوعی ٹیکنالوجی کی مدد سے خان رحمت اللہ خان کے حلیے، شخصیت اور تاریخی پس منظر کی تحقیق کے بعد اس خاکے کی باضابطہ منظوری دی ہے۔ یہ خاکہ خاندان کی مشترکہ تحقیق اور متفقہ رائے کا عکاس ہے۔ واضح رہے کہ اس خاکے سے اتفاق کرنا لازم نہیں ہے، اور کسی بھی قسم کے اعتراض کی صورت میں آپ کی رائے کی مکمل قدر کی جائے گی۔"

غازی خان غزن خان (1822ء - 1868ء)ریاستِ دیر کے چھٹے حکمران، بانیِ عہدِ زریں اور مجاہدِ آزادیغازی خان غزن خان ریاستِ دیر ا...
04/07/2026

غازی خان غزن خان (1822ء - 1868ء)
ریاستِ دیر کے چھٹے حکمران، بانیِ عہدِ زریں اور مجاہدِ آزادی
غازی خان غزن خان ریاستِ دیر اخون خیل یوسفزئی کے سب سے طویل المدت، باوقار اور باکردار حکمران تھے۔ آپ کی 46 سالہ حکمرانی (1822ء تا 1868ء) تاریخِ دیر کا وہ "عہدِ زریں" (Golden Period) ہے، جس میں ریاست نے سیاسی استحکام، عسکری قوت اور علمی و تہذیبی عروج حاصل کیا۔۔۔

ابتدائی زندگی اور تربیت
آپ کے والدِ محترم خان قاسم خان (خانِ شہید) کی شہادت کے بعد، ریاست میں انتشار پھیل گیا۔ آپ کی والدہ، جو کہ شہزادیِ چترال تھیں، آپ کو 13 سال کی عمر میں اپنے آبائی وطن چترال (قشقار) لے گئیں۔ وہاں آپ کی پرورش آپ کے ماموں مہترِ چترال شاہ کٹور دوم کی زیرِ نگرانی ہوئی۔ آپ نے تیر اندازی، شہسواری اور فنونِ سپہ گری میں اپنے وقت کے ماہر اساتذہ سے تربیت حاصل کی۔ 17 سال کی عمر میں آپ کا نکاح قشقار کی شہزادی سے ہوا، اور اسی دور میں دیر کے عمائدین کا جرگہ آپ کی واپسی اور اقتدار سنبھالنے کے لیے چترال پہنچا۔۔۔

تخت نشینی اور استحکامِ ریاست
17 سال کی عمر میں جب آپ دیر پہنچے تو ریاست اندرونی سازشوں اور انتشار کا شکار تھی۔ آپ نے انتہائی جرات کے ساتھ شرپسند عناصر کا قلع قمع کیا اور ریاست میں امن و امان بحال کیا۔ آپ نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر منظم کیا، قلعے تعمیر کیے اور ایک مضبوط مرکزی حکومت قائم کی۔ آپ کی فتوحات کا دائرہ مغرب میں عشریت سے لے کر جنوب میں سخاکوٹ اور باجوڑ و سوات کے وسیع علاقوں تک پھیل گیا۔ تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ مزید پانچ سال حیات رہتے، تو پشاور تک کا علاقہ ریاستِ دیر کا حصہ ہوتا۔۔۔۔

مجاہدِ آزادی اور غازی کا کردار
غازی خان غزن خان انگریز استعمار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں آپ نے فرنگی حکومت کی بھرپور مخالفت کی اور انگریزوں کو سرداری یا "خانِ بہادر" کے جھوٹے خطابات سے ٹھکرا دیا۔ 1863ء کے مشہورِ زمانہ معرکہِ امبیلہ میں آپ نے یوسفزئی قبائل (سوات، بونیر، دیر، باجوڑ، چترال و دیگر) کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ اس پانچ سالہ طویل جنگ میں آپ کے سپہ سالار بیٹے خان رحمت اللہ خان نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے انگریزوں کے ساتھ 42 سے زائد جنگوں میں حصہ لیا۔ انگریزوں کی جانب سے صلح کی پیشکش کو آپ نے ان تاریخی الفاظ کے ساتھ مسترد کر دیا: "ستا نظر پہ کابل دے او زہ دہ دلھی تخت وینم" (تمہاری نظر کابل پر ہے اور میں دہلی کے تخت کو دیکھتا ہوں)۔
انتظامی بصیرت اور عالمی پہچان
آپ کی خوبی یہ تھی کہ آپ نے سوات کے مشہور بزرگ سیدو باباؒ کے دربار کا احترام کیا اور اپنی فتوحات کے دوران مذہبی مراکز کی حرمت کو مقدم رکھا۔ آپ کے عدل و انصاف، انتظامی مہارت اور حب الوطنی کے پیشِ نظر 1845ء میں آپ کو "ورلڈ سٹیٹ مین" (World Statesman) کے خطاب سے نوازا گیا (جیسا کہ World Statesmen کے ریکارڈ میں درج ہے)۔ آپ کی قیادت میں ریاست دیر نہ صرف ایک منظم سلطنت بنی بلکہ اس کا رعب دہلی کے مغل دربار اور افغانستان کے حکمرانوں تک تھا۔اور آپ کو جنگ امبلہ کے ھیرو کا خطاب بھی ملا۔۔۔

وصال اور یادگار
آپ نہ صرف ایک عظیم سپہ سالار تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاندانی برکات سے بھی مالا مال کیا تھا۔ 1867ء کے قریب وفات کے وقت، آپ کے بسترِ مرگ کے پاس آپ کے دس صاحبزادے اور درجنوں پوتے موجود تھے۔ آپ کو آپ کے والد کے پہلو میں دیر خاص کے خان شہید قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
غازی خان غزن خانؒ کی شخصیت صبر، شجاعت اور ایمان کا وہ امتزاج تھی جس نے ریاستِ دیر کی بنیادوں کو نسلوں تک کے لیے محفوظ اور مستحکم کر دیا۔۔۔
اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ۔۔۔

(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی، تاریخِ یوسفزئی، یوسفزئی قوم کی سرگزشت و دیگر تاریخی حوالہ جات)

خان قاسم خان المعروف "خانِ شہید" (1814ء - 1822ء)ریاستِ دیر کے پانچویں حکمران، بانیِ توسیعی پالیسی اور شجرکارِ اول۔۔خان ق...
02/07/2026

خان قاسم خان المعروف "خانِ شہید" (1814ء - 1822ء)
ریاستِ دیر کے پانچویں حکمران، بانیِ توسیعی پالیسی اور شجرکارِ اول۔۔

خان قاسم خان، فاتحِ دیر خان ظفر خان کے فرزندِ ارجمند اور ریاستِ دیر کے پانچویں حکمران تھے۔ آپ اپنے دور کے ایک بے باک سپہ سالار، زیرک سیاستدان اور عظیم مدبر حکمران تھے۔ آپ کی شخصیت کا جلال آپ کی فتوحات سے اور آپ کا حسنِ کردار آپ کی رعایا پروری اور شجرکاری جیسے انقلابی اقدامات سے عیاں تھا۔۔۔۔

عسکری فتوحات اور توسیعی پالیسی
خان قاسم خان نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ریاست کی حدود کو وسعت دی۔ جہاں خان ظفر خان نے دیر کوہستان کے کافرستان کا خاتمہ کیا تھا، وہیں خان قاسم خان نے درجنوں لشکر کشیوں کے ذریعے ریاست کے پرچم کو مزید بلندیوں تک پہنچایا۔ آپ نے اپنی عسکری مہارت سے مغرب میں عشریت اور جنوب میں سخاکوٹ تک کے وسیع علاقوں کو ریاستِ دیر میں شامل کیا۔ آپ کی عسکری قوت اور یوسفزئی قوم کی بالادستی کا دبدبہ اس قدر تھا کہ مغل دربار اور افغانستان کے حکمرانوں نے آپ کی ریاست کو ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر تسلیم کیا اور ریاستِ دیر کے ساتھ براہِ راست سفارتی تعلقات استوار کیے۔۔۔

سیاسی بصیرت اور چترال سے اتحاد
آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور دور اندیشی سے متاثر ہو کر مہترِ چترال، شاہ کٹور دوم (شاہ فاضل) نے اپنے خاندانی تعلقات کو مضبوط کرنے کی غرض سے اپنی بہن کا رشتہ خان قاسم خان کے ساتھ طے کیا۔ اس ازدواجی اتحاد نے دیر اور چترال کے مابین صدیوں سے چلی آ رہی عداوتوں اور دشمنیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور خطے میں امن و استحکام کا ایک نیا دور شروع ہوا۔۔۔

زرعی اصلاحات اور فلاحی کام
خان قاسم خان محض ایک جنگجو ہی نہیں بلکہ ایک ترقی پسند حکمران بھی تھے۔ آپ نے ریاستِ دیر میں زرعی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ تاریخ میں آپ کو دیر میں پہلی بار میوہ جات کے باغات اور شجرکاری میں پیوند کاری (Grafting) کے جدید طریقہ کار کو متعارف کرانے کا سہرا جاتا ہے۔ آپ کی مہمان نوازی اور عدل و انصاف کے قصے عوام میں آج بھی ضرب المثل ہیں۔۔۔

شہادت اور یادگار
آپ کی کامیابیوں اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے درباریوں اور حاسدین کو خوفزدہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اندرونی سازشیں شروع ہوئیں۔ 1822ء میں، ریاستی خلفشار اور سازشوں کے تحت اس عظیم حکمران کو شہید کر دیا گیا، جس کے بعد آپ کو ہمیشہ کے لیے "خانِ شہید" کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔
آپ کی آخری آرام گاہ دیر خاص کے شاہی مقبرے میں واقع ہے۔ آپ کی شخصیت کی نسبت سے ہی یہ شاہی قبرستان آج "خان شہید قبرستان" کے نام سے منسوب ہے، جو آپ کی قربانیوں اور ریاستِ دیر کے لیے آپ کی خدمات کا ایک لازوال نشان ہے۔۔۔

(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی، تواریخِ رحمت خانی، تاریخِ یوسفزئی و دیگر تواریخی درجنوں ذرائع)

ضروری اور تصدیقی نوٹ۔۔۔؟
آخون خیل خاندان کے دس رکنی بورڈ نے مختلف تاریخی کتب، روایات اور جدید مصنوعی ٹیکنالوجی کی مدد سے خان قاسم خان (خان)شھید) کے حلیے، شخصیت اور تاریخی پس منظر کی تحقیق کے بعد اس خاکے کی باضابطہ منظوری دی ہے۔ یہ خاکہ خاندان کی مشترکہ تحقیق اور متفقہ رائے کا عکاس ہے۔ واضح رہے کہ اس خاکے سے اتفاق کرنا لازم نہیں ہے، اور کسی بھی قسم کے اعتراض کی صورت میں آپ کی رائے کی مکمل قدر کی جائے گی۔"

خان ظفر خان (1804ء - 1814ء)ریاستِ دیر کے چوتھے فاتح حکمران اور بانیِ دیر خاصخان ظفر خان، ریاستِ دیر کے چوتھے حکمران اور ...
01/07/2026

خان ظفر خان (1804ء - 1814ء)
ریاستِ دیر کے چوتھے فاتح حکمران اور بانیِ دیر خاص
خان ظفر خان، ریاستِ دیر کے چوتھے حکمران اور خان غلام خان کے فرزندِ ارجمند تھے۔ آپ ایک بیدار مغز، باصلاحیت سپہ سالار اور صاحبِ فراست حکمران تھے، جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ریاستِ دیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
عسکری اصلاحات اور تربیت
آپ کی تربیت دینی علوم کے ساتھ ساتھ فنونِ سپہ گری میں خصوصی مہارت کے ساتھ ہوئی تھی۔ حکمرانی سنبھالتے ہی آپ نے ایک منظم اور باقاعدہ تنخواہ دار فوج تشکیل دی، جس سے ریاست کا دفاع مضبوط ہوا۔ آپ نے آس پاس کے خوانین، سرداروں اور ملکان کو اپنے تابع کر کے ایک مضبوط مرکزی حکومت کی بنیاد رکھی۔
کافرستان ریاست کا خاتمہ اور دیر کی فتح
آپ کے دور میں سب سے بڑا چیلنج شمالی علاقوں میں قائم کوہستانی کافر ریاست تھی۔ مشہور مؤرخ الفنسٹن کے مطابق، یہ کافر ریاست نورستان (افغانستان) سے لے کر کشمیر تک تقریباً 80,000 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس ریاست کے جنگجو پنجکوڑہ کے مسلمانوں پر مسلسل حملے کرتے تھے، جس سے مسلمانوں میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔
کئی ناکام سفارتی جرگوں اور سرحدی کشیدگی کے بعد، خان ظفر خان نے فیصلہ کن اقدام کا عزم کیا۔ آپ نے حضرت سید آدم بنوریؒ کی پیشنگوئی اور اپنے جدِ امجد حضرت اخون الیاس باباؒ کے خواب کی تعبیر کے لیے 5,000 مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔ 1804ء میں آپ نے کوہستانی کافر ریاست کے دارالحکومت (موجودہ نوابی قلعہ، دیر خاص) پر ہلہ بول دیا۔ ایک خونریز جنگ کے بعد آپ نے اس قلعے کو فتح کیا اور تین سو سالہ کافر ریاست کا خاتمہ کر کے علاقے میں اسلامی حکومت کا پرچم لہرایا۔ اطالوی مصنفین نے بھی اپنی تصانیف (جیسے Islamization in the fringe of Paristan) میں اس تاریخی فتح کا تذکرہ کیا ہے۔
انتظامی اقدامات اور دارالحکومت کی منتقلی
فتوحات کے بعد خان ظفر خان نے قدیم قلعے کو گرا کر وہاں ایک نیا اور مضبوط قلعہ تعمیر کروایا۔ آپ نے اپنے اہل و عیال سمیت بیبیوڑ سے دیر خاص منتقلی اختیار کی اور اسے ریاست کا مستقل دارالحکومت قرار دیا۔ آپ نے دیر خاص میں صنعت و حرفت، بالخصوص لوہار کے کام کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں تلوار، نیزے، دیر چاقو اور دیگر جنگی و روزمرہ استعمال کے آلات مقامی طور پر تیار ہونے لگے۔
آپ نے علاقے کے قدرتی حسن (جیسے کمراٹ، تل، پاتراک اور جاز بانڈہ) کی اہمیت کو سمجھا اور اسے ریاست کا حصہ بنایا۔ روایت ہے کہ اس کے بعد ریاست کے ہر حکمران نے ان علاقوں کے دورے کو اپنا معمول بنایا اور عوام کے ساتھ گہرے روابط قائم رکھے۔
وفات اور ورثہ
یہ عظیم فاتح سپہ سالار اور حکمران 1814ء میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو بیبیوڑ (دیر بالا) کے شاہی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کا مزار آج بھی "وڑکی بابا" کے نام سے معروف و مشہور ہے، جو آپ کی بہادری اور دینی خدمات کی علامت ہے۔
(بحوالہ: تاریخِ دیر یوسفزئی)

ضروری اور تصدیقی نوٹ۔۔۔؟
آخون خیل خاندان کے دس رکنی بورڈ نے مختلف تاریخی کتب، روایات اور جدید مصنوعی ٹیکنالوجی کی مدد سے خان ظفر خان (وڑکی بابا) کے حلیے، شخصیت اور تاریخی پس منظر کی تحقیق کے بعد اس خاکے کی باضابطہ منظوری دی ہے۔ یہ خاکہ خاندان کی مشترکہ تحقیق اور متفقہ رائے کا عکاس ہے۔ واضح رہے کہ اس خاکے سے اتفاق کرنا لازم نہیں ہے، اور کسی بھی قسم کے اعتراض کی صورت میں آپ کی رائے کی مکمل قدر کی جائے گی۔"

Address

District Dir Upper/Lower

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dir Royal Family Akhunkhail Yousafzai 1626 1969 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed media company?

Share