Azmat Ali

Azmat Ali A platform to present and explore All the latest current affairs and public interest issues

ناکامی سے ڈرتے ہیں؟تو ذرا رکیں اور سوچیں — جس چیز سے آپ اتنا ڈرتے ہیں، وہ اصل میں ہے کیا؟ایک لفظ۔ ایک احساس۔ ایک وہم۔ہم ...
16/05/2026

ناکامی سے ڈرتے ہیں؟
تو ذرا رکیں اور سوچیں — جس چیز سے آپ اتنا ڈرتے ہیں، وہ اصل میں ہے کیا؟
ایک لفظ۔ ایک احساس۔ ایک وہم۔
ہم ناکامی سے اس لیے نہیں ڈرتے کہ ہمیں تکلیف ہوگی — ہم اس لیے ڈرتے ہیں کہ "لوگ کیا کہیں گے۔" لیکن یہاں ایک کڑوی سچائی ہے — جن لوگوں کی رائے کے لیے آپ اپنے خواب قربان کر رہے ہیں، وہ خود اپنی زندگی کی الجھنوں میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں آپ کی ناکامی یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں۔
دنیا کو واقعی فرصت نہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے جو کبھی سنائی نہیں جاتی۔
تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرنے سے پہلے دس ہزار سے زائد ناکام تجربات کیے۔ جب کسی نے پوچھا کہ اتنی بار ناکام ہو کر کیسا لگا — تو اس نے کہا: "میں ناکام نہیں ہوا، میں نے دس ہزار ایسے طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے۔"
علامہ اقبال کی ابتدائی شاعری کو ادبی حلقوں نے مسترد کیا۔ آج وہی اقبال پوری قوم کا شاعر ہے۔
اور پاکستان — وہ خواب جسے ایک بیمار، کمزور بوڑھے آدمی نے دیکھا، جسے دنیا ناممکن کہتی تھی — آج ایک زندہ حقیقت ہے۔
ناکامی نے ان سب کو روکا نہیں — سنوارا۔

ناکامی کوئی منزل نہیں جہاں جا کر رک جایا جائے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں سے راستہ بدلتا ہے، نظریہ پختہ ہوتا ہے، اور انسان اصل میں خود کو پہچانتا ہے۔
جو لوگ کبھی ناکام نہیں ہوئے — انہوں نے کبھی کچھ نیا کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

آج خود سے ایک سوال کریں:
میں کس خواب کو ناکامی کے ڈر سے سینے میں دفن کیے بیٹھا ہوں؟
Comment میں لکھیں — کبھی کوئی ناکامی آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق بنی؟ 👇
شیئر کریں — کوئی ایک شخص ہے جسے آج یہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ 🤍
#حوصلہ #ناکامی #خواب

**🕌 جمعہ مبارک**بات اس وقت کی ہے جب مدینہ منورہ میں قحط پڑا۔ کھانے کی قلت تھی، لوگ بھوکے تھے، بازار خالی تھے۔اسی دوران ش...
15/05/2026

**🕌 جمعہ مبارک**

بات اس وقت کی ہے جب مدینہ منورہ میں قحط پڑا۔ کھانے کی قلت تھی، لوگ بھوکے تھے، بازار خالی تھے۔

اسی دوران شام کی طرف سے تجارتی قافلہ آیا۔ مدینہ میں یہ خبر پھیلی تو لوگ مسجد سے نکل کر قافلے کی طرف دوڑ پڑے۔ مسجدِ نبوی میں جمعہ کا خطبہ جاری تھا — رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے تھے — لیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت باہر نکل گئی۔ صرف بارہ افراد مسجد میں رہ گئے۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

**"اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشہ دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ گئے۔ کہہ دیجیے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے کہیں بہتر ہے۔"**
*(سورۃ الجمعہ: 11)*

---

یہ صحابہ کرامؓ تھے — وہ لوگ جنہیں ہم تاریخِ اسلام کے بہترین انسان مانتے ہیں۔ ان سے بھی لمحاتی غلطی ہوئی۔ دنیا کی کشش نے انہیں بھی کھینچا۔

لیکن اللہ نے انہیں براہ راست قرآن کے ذریعے سمجھایا — سزا نہیں دی، تذلیل نہیں کی۔ بس یاد دلایا کہ اصل فائدہ کہاں ہے۔

---

آج جمعہ کا خطبہ جاری ہوتا ہے اور ہمارا فون بجتا ہے — ہم اٹھا لیتے ہیں۔
آج اذان ہوتی ہے اور میٹنگ کا وقت ہوتا ہے — ہم میٹنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج جمعہ کا وقت ہے اور دکان کھلی ہے — ہم گاہک کو جانے نہیں دیتے۔

ہم صحابہؓ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں — لیکن وہ تو بھوک کے مارے تھے اور انہوں نے غلطی فوری مانی۔

ہم؟ ہم بغیر کسی مجبوری کے، روزانہ، ہر جمعہ یہی کرتے ہیں۔

---

آج کا جمعہ صرف ایک رسم نہ بنائیں۔

نماز سے پہلے فون رکھیں۔
خطبہ کو دل سے سنیں۔
اور ایک لمحے کے لیے سوچیں —

**میری زندگی میں اللہ کی یاد پہلے آتی ہے یا دنیا؟**

---

جمعہ مبارک 🤍

اللہ ہم سب کو جمعہ کی برکتوں سے مالامال فرمائے اور دنیا کی محبت کو دل پر غالب آنے سے بچائے۔ آمین
#جمعہ

 # مہنگائی اور ہمارا کردار---پاکستان میں مہنگائی کا موضوع آج ہر گھر کی کہانی بن چکا ہے۔ صبح اٹھیں تو آٹے کا بھاؤ بدلا ہو...
14/05/2026

# مہنگائی اور ہمارا کردار
---

پاکستان میں مہنگائی کا موضوع آج ہر گھر کی کہانی بن چکا ہے۔ صبح اٹھیں تو آٹے کا بھاؤ بدلا ہوا ملتا ہے، دوپہر کو سبزی منڈی میں نئی قیمتیں چسپاں ہوتی ہیں، اور رات کو بجلی کا بل دیکھ کر دل ڈوب جاتا ہے۔ یہ صورتحال صرف غریب طبقے تک محدود نہیں رہی — درمیانہ طبقہ، جو کبھی پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، وہ بھی آج بچت اور ضرورت کے درمیان پسا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بھی اس تکلیف دہ حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں ایک سو پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ آٹا جو تین سال پہلے پچاس روپے کلو تھا، آج ایک سو تیس روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ گھی، چینی، دالیں — ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ بجلی کے نرخ تین سال میں تین گنا ہو چکے ہیں۔ ایک عام گھرانے کا ماہانہ بجٹ جو چار سال پہلے تیس ہزار روپے میں چلتا تھا، آج اسی معیارِ زندگی کے لیے اسی ہزار روپے درکار ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ مہنگائی کے اسباب میں بیرونی عوامل بھی شامل ہیں۔ روس یوکرین جنگ نے عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کو مہنگا کیا، ڈالر کی مضبوطی نے درآمدات کو بوجھل بنایا، اور IMF کی شرائط نے سبسڈیز ختم کروائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری حکومتوں نے کبھی بھی طویل المدت معاشی منصوبہ بندی کو ترجیح نہیں دی۔ ہر حکومت نے قرضے لیے، ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کمیشن کھائے، اور جاتے وقت قومی خزانہ خالی چھوڑ دیا۔ ٹیکس نیٹ آج بھی محدود ہے — ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد ٹیکس ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں لیکن نظام کی کمزوری اور سیاسی بے ارادگی کی وجہ سے دائرے سے باہر ہیں۔

مہنگائی کا ایک بڑا سبب جو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ ہمارے اپنے معاشرے کی اخلاقی بیماری ہے۔ جب گندم کی فصل اچھی ہو تو بھی آٹا مہنگا — کیوں؟ کیونکہ بڑے آڑھتی اور مل مالکان ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔ رمضان آنے سے پہلے ہی چینی، گھی اور دالیں غائب ہو جاتی ہیں — کیوں؟ کیونکہ منافع خور جانتے ہیں کہ طلب بڑھے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہم وطنوں کی تکلیف کو منافع کا ذریعہ بناتے ہیں۔ قانون موجود ہے لیکن اطلاق نہیں، انتظامیہ موجود ہے لیکن ارادہ نہیں۔

یہاں ایک ایسا سوال اٹھانا ضروری ہے جو ہم عموماً خود سے نہیں پوچھتے — کیا ہم خود بھی مہنگائی میں حصہ دار نہیں؟ ہم شادیوں میں لاکھوں روپے فضول خرچ کرتے ہیں۔ دکھاوے کی ثقافت نے ہمیں ایک ایسی دوڑ میں شامل کر لیا ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ ایک عام پاکستانی شادی پر اوسطاً پندرہ سے بیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ قرض لے کر ادا کیے جاتے ہیں۔ ہم غیر ضروری درآمدی اشیاء پر پیسہ بہاتے ہیں جبکہ مقامی صنعت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ہم ٹیکس بچانے کو ہوشیاری سمجھتے ہیں۔ ہم ملاوٹ کرنے والے دکاندار کو سستی چیز کی خاطر معاف کر دیتے ہیں۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں مل کر ایک بڑا بحران بناتی ہیں۔

مسئلہ مشکل ضرور ہے، ناقابلِ حل نہیں۔ حکومتی سطح پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع — خاص طور پر شمسی توانائی — کو فروغ دے کر بجلی کی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں۔ شہری سطح پر ہمیں مقامی اشیاء کو ترجیح دینی ہوگی، فضول خرچی ترک کرنی ہوگی اور ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی کی رپورٹ کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔

مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مجبوری ہو سکتی ہے، لیکن اس کے خلاف آواز اٹھانا اور اپنا کردار ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم صرف حکومت کو گالیاں دے کر خود کو بری الذمہ سمجھتے رہیں گے، کچھ نہیں بدلے گا۔ تبدیلی اوپر سے بھی آنی چاہیے اور نیچے سے بھی۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو مسائل کا رونا رونے کی بجائے ان کا حل ڈھونڈتی ہے۔ کیا ہم وہ قوم بننے کے لیے تیار ہیں؟

🛢️ تیل کا مستقبل — دنیا کا سب سے بڑا آنے والا بحرانکیا آپ جانتے ہیں کہ ہر روز دنیا 100 ملین بیرل تیل جلاتی ہے؟ایک بیرل م...
13/05/2026

🛢️ تیل کا مستقبل — دنیا کا سب سے بڑا آنے والا بحران

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر روز دنیا 100 ملین بیرل تیل جلاتی ہے؟
ایک بیرل میں 159 لیٹر تیل ہوتا ہے۔ یعنی روزانہ 15 ارب 90 کروڑ لیٹر — صرف ایک دن میں۔
یہ تیل کہاں جاتا ہے؟ گاڑیوں میں، ہوائی جہازوں میں، بجلی گھروں میں، فیکٹریوں میں، اور پلاسٹک، دوائیں، کھاد — غرض ہر وہ چیز جو آپ روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے — یہ تیل کب تک چلے گا؟

🌍 دنیا میں تیل کتنا باقی ہے؟
ابھی تک دنیا میں تقریباً 1.7 ٹریلین بیرل تیل کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں۔
اگر آج کی رفتار سے نکالتے رہے تو یہ ذخائر تقریباً 47 سے 50 سال میں ختم ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہ اتنا سادہ حساب نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ:
▪️ نئے ذخائر ابھی بھی دریافت ہو رہے ہیں
▪️ گہرے سمندر اور آرکٹک میں مزید تیل موجود ہے
▪️ شیل آئل کی ٹیکنالوجی نے امریکہ کو دوبارہ بڑا پروڈیوسر بنا دیا
▪️ لیکن نکالنا مشکل سے مشکل اور مہنگا سے مہنگا ہوتا جا رہا ہے

📊 کون کتنا تیل رکھتا ہے؟ (ثابت شدہ ذخائر)
🇻🇪 وینزویلا — 303 ارب بیرل (سب سے زیادہ)
🇸🇦 سعودی عرب — 267 ارب بیرل
🇮🇷 ایران — 209 ارب بیرل
🇮🇶 عراق — 145 ارب بیرل
🇰🇼 کویت — 102 ارب بیرل
🇦🇪 متحدہ عرب امارات — 98 ارب بیرل
🇷🇺 روس — 80 ارب بیرل
🇺🇸 امریکہ — 69 ارب بیرل
پاکستان کے اپنے ذخائر؟ صرف 35 کروڑ بیرل — یعنی نہ ہونے کے برابر۔

⚠️ 2026 میں ابھی کیا ہو رہا ہے؟
اس وقت دنیا ایک سنگین بحران میں ہے۔
خلیجِ فارس میں کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے۔ یہ وہ سمندری گزرگاہ ہے جس سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔
نتیجہ؟
🔺 اپریل 2026 میں تیل کی قیمت 138 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
🔺 سعودی عرب، عراق، کویت، UAE سمیت ممالک نے ایک کروڑ 5 لاکھ بیرل روزانہ کی پیداوار بند کر دی
🔺 اس وقت قیمت 106 سے 117 ڈالر کے درمیان ہے
اور پاکستان؟ ہم 80 فیصد تیل یہیں سے درآمد کرتے ہیں۔ ہر ڈالر کا اضافہ ہماری معیشت پر کروڑوں روپے کا بوجھ ڈالتا ہے۔

🔬 Peak Oil — وہ لمحہ جب تیل کی طلب سب سے زیادہ ہوگی
ماہرین کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ "Peak Oil Demand" کب آئے گی — یعنی وہ وقت جب دنیا سب سے زیادہ تیل استعمال کرے گی اور اس کے بعد طلب کم ہونے لگے گی۔
مختلف ادارے مختلف جواب دیتے ہیں:
ادارہپیش گوئیIEA (بین الاقوامی توانائی ایجنسی)2027 تک combustion fuel کی طلب عروج پرامریکی EIA2050 تک طلب بڑھتی رہے گیOPEC2050 کے بعد بھی کوئی کمی نہیں
یعنی دنیا کے سب سے بڑے توانائی ادارے خود آپس میں متفق نہیں!

🚗 الیکٹرک گاڑیاں — کیا یہی حل ہیں؟
2024 میں دنیا میں 1 کروڑ 70 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں۔
2025 میں یہ تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
2030 تک الیکٹرک گاڑیاں تیل کی طلب میں 54 لاکھ بیرل روزانہ کی کمی لائیں گی۔
لیکن یہاں ایک بڑا راز ہے جو میڈیا نہیں بتاتا:
گاڑیاں تیل کا صرف ایک حصہ استعمال کرتی ہیں۔
تیل کا اصل بڑھتا ہوا استعمال اب پیٹروکیمیکلز میں ہے — یعنی پلاسٹک، مصنوعی کپڑے، دوائیں، کھاد۔ 2030 تک دنیا میں ہر 6 بیرل تیل میں سے 1 بیرل صرف پلاسٹک اور مصنوعی ریشے بنانے میں استعمال ہوگا۔
تو گاڑیاں بھلے الیکٹرک ہو جائیں — تیل کی ضرورت پھر بھی رہے گی۔

🌡️ ماحولیاتی بحران — تیل جلانے کی قیمت
دنیا میں جو CO₂ خارج ہوتی ہے اس کا 34 فیصد صرف تیل جلانے سے آتا ہے۔
1850 سے اب تک دنیا کا درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔
اگر تیل کا استعمال اسی رفتار سے جاری رہا تو 2100 تک 3 سے 4 ڈگری مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کتنا خطرناک ہے؟
▪️ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں — 2070 تک پاکستان کے 40 فیصد گلیشیئر ختم ہو سکتے ہیں
▪️ سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں
▪️ 2022 کا سیلاب — جس نے 33 ملین لوگوں کو متاثر کیا — اسی ماحولیاتی بحران کا نتیجہ تھا

🇵🇰 پاکستان کا خاص مسئلہ
پاکستان کی صورتحال باقی دنیا سے زیادہ نازک ہے:
درآمد کتنی؟
ہم ہر سال تقریباً 18 سے 20 ارب ڈالر کا تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں — یہ ہماری کل درآمدات کا تقریباً 35 فیصد ہے۔
تیل مہنگا ہو تو کیا ہوتا ہے؟
▪️ پٹرول مہنگا ← ٹرانسپورٹ مہنگی ← ہر چیز مہنگی
▪️ بجلی مہنگی ← فیکٹریاں بند یا مہنگا مال ← بے روزگاری
▪️ درآمدی بل بڑھے ← ڈالر مہنگا ← روپیہ کمزور ← مزید مہنگائی
یہ ایک ایسا چکر ہے جو پاکستان کو ہر تیل بحران میں برباد کر دیتا ہے۔
پاکستان کے پاس متبادل کیا ہے؟
▪️ شمسی توانائی کی صلاحیت — 2.9 ملین میگاواٹ (استعمال صرف 1 فیصد سے کم)
▪️ ہوائی توانائی — 340,000 میگاواٹ کی صلاحیت (استعمال نہ ہونے کے برابر)
▪️ تھر کوئلہ — موجود ہے لیکن ماحول کے لیے نقصاندہ

🔮 آنے والے 25 سال — تین ممکنہ منظرنامے
منظرنامہ نمبر 1 — امید کا:
دنیا تیزی سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف جاتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں عام ہو جاتی ہیں۔ 2035 تک تیل کی طلب کم ہونے لگتی ہے۔ پاکستان اگر ابھی سرمایہ کاری کرے تو بچ سکتا ہے۔
منظرنامہ نمبر 2 — درمیانی:
ترقی پذیر ممالک میں تیل کی طلب بڑھتی رہتی ہے۔ امیر ممالک الیکٹرک ہو جاتے ہیں۔ تیل کی قیمت اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
منظرنامہ نمبر 3 — خطرے کا:
خلیجِ فارس میں جنگ، آبنائے ہرمز بند، تیل 200 ڈالر فی بیرل۔ پاکستان جیسے ممالک میں ایندھن کا بحران، بجلی بندش، معاشی تباہی۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں — 2026 میں ہم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

💡 پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
ابھی:
✅ شمسی توانائی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری
✅ الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشے کو فروغ
✅ تیل کی درآمد کم کرنے کا قومی ہدف
اگلے 10 سال میں:
✅ ریلوے کو بجلی پر منتقل کریں
✅ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کریں
✅ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی سے پانی اور توانائی بچائیں
جو قومیں آج توانائی کی آزادی حاصل کریں گی — کل وہی آزاد قومیں ہوں گی۔

آپ سے سوال:
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان توانائی کے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ اور حکومت کو سب سے پہلے کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
Comment میں اپنی رائے ضرور دیں 👇 اور یہ پوسٹ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آگاہ ہوں۔
#تیل #پاکستان #مستقبل #پیٹرول #مہنگائی

03/04/2026

جب 250 روپے کا پیٹرول عوام کو 460 روپے فی لیٹر فروخت کیا جائے،
500 روپے کا اشٹام پیپر 3815 روپے میں دیا جائے،
ہر دوسرے روڈ پر ٹول ٹیکس کے نام پر عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا جائے،
اور موبائل پیکجز کی مد میں روزانہ، ہر لمحہ، ہر سیکنڈ عوام سے کروڑوں روپے وصول کیے جائیں…

پھر بھی اگر حکومت نہ عوام کو ریلیف دے سکے اور نہ ہی قرضوں سے نکلنے کا راستہ بنا سکے، تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ بوجھ کب تک صرف عوام ہی اٹھاتے رہیں گے؟

جب حکومت ہر معاملے میں اپنے پڑوسی **** سے موازنہ کرتی ہے تو کم از کم یہ بھی دیکھ لے کہ وہاں عالمی حالات کے باوجود پٹرول کی قیمت میں صرف تقریباً 2٪ اضافہ ہوا، جبکہ یہاں چند دنوں میں ہی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

مسئلہ صرف مہنگائی کا نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔
جب ٹیکسوں اور اضافی چارجز کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈالا جائے، مگر حکومتی اخراجات، غیر ضروری مراعات اور مالی نظم و ضبط پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی جائے، تو معیشت کا بوجھ آخرکار عام آدمی ہی پر آ گرتا ہے۔

عوام کو صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی ریلیف چاہیے۔
قیمتوں میں استحکام، ٹیکسوں میں توازن اور معاشی پالیسیوں میں شفافیت ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک بھی مضبوط ہوگا اور عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔

گورنمنٹ ہائی سکول کالی ڈلی میں پنجاب کلچر ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا
16/04/2025

گورنمنٹ ہائی سکول کالی ڈلی میں پنجاب کلچر ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

گورنمنٹ ہائی سکول کسراں میں کلچر ڈے منایا گیا
16/04/2025

گورنمنٹ ہائی سکول کسراں میں کلچر ڈے منایا گیا

مدرسہ جامعہ عثمانیہ للبنات کا نکہ چوک میں افتتاح
16/04/2025

مدرسہ جامعہ عثمانیہ للبنات کا نکہ چوک میں افتتاح

محمد دانیال، محمد اقبال کے دعوت ولیمہ کی پروقار تقریب
07/04/2025

محمد دانیال، محمد اقبال کے دعوت ولیمہ کی پروقار تقریب

ریاستی اداروں کو امن و امان کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا. عابد حسین
07/04/2025

ریاستی اداروں کو امن و امان کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا. عابد حسین

Address

VPO PINDSULTANI TEHSIL JAND DISTRICT ATTOCK
District Attock
43230

Telephone

+923415893800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azmat Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Azmat Ali:

Share