04/06/2026
فیصل آباد سی پی او فیصل آباد تنویر حسین کا تفتیشی نظام میں مداخلت روکنے کاحکم، ٹاؤن ایس پی اور ڈی ایس پی مقدمات کی پارٹیوں کو نہیں سنیں گے
سی پی او فیصل آباد نے ضلع بھر کے پولیس افسران کے لیے ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مقدمہ کی تفتیش میں غیر ضروری مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ نئے احکامات کے تحت ٹاؤن ایس پیز اور ڈی ایس پیز مقدمات کی فریقین کو براہِ راست نہیں سنیں گے اور نہ ہی تفتیشی افسران کو کیس کے بارے میں ہدایات جاری کریں گے حکم نامے کے مطابق ہر مقدمہ کی تفتیش کا بنیادی ذمہ دار متعلقہ تفتیشی افسر، انچارج انویسٹی گیشن اور ایس ایچ او ہوگا،جو اپنی تفتیش اور اس کے نتائج کے لیے جوابدہ ہوں گے۔ اگر کسی مقدمہ کے حوالے سے سینیئر پولیس افسران کو درخواست یا شکایت موصول ہوتی ہے تو ٹاؤن ایس پی یا،ڈی ایس پی اپنی رپورٹ بھجوا سکے گا نہ کہ وہ متعلقہ ایس ایچ او، انچارج انویسٹی گیشن یا تفتیشی افسر کو حکم دے تاہم تفتیش کے طریقہ کار یا نتائج کے بارے میں براہِ راست ہدایات جاری نہیں کریں گے سی پی او نے واضح کیا ہے کہ مقدمات کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے تفتیشی معاملات کی ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران پر عائد ہوگی جبکہ ایس ایچ او اپنے تھانے کی حدود میں ہونے والی تفتیش کی نگرانی اور جوابدہی کا براہِ راست ذمہ دار ہوگا پولیس ذرائع کے مطابق اس حکم نامے کا مقصد تفتیشی عمل کو سیاسی، انتظامی اور غیر ضروری دباؤ سے آزاد کرنا، ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنا اور تفتیشی نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہےسی پی او کے احکامات پر فوری عمل درآمد کے لیے ضلع بھر کے تمام پولیس افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔