Muhammad Asif

Muhammad Asif Our goal is to make people happy. And we will also do business advertising. To promote your business.

08/05/2026

08/05/2026

h
ttps://asofficialstore.com/
Just open the asofficialstore.com and get your favourite Products On reasonable Price With cash on delivery

08/05/2026

*پاکستان بھارت جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر چائینیز نے اے آئی کی مدد سے مکمل ویڈیو بنا دی۔۔*
p

07/05/2026

اتنا بغض 1400 سال بعد بھی نام علی ع و آل علی ع سے کہ نہ نوکری ملتی ہے اور اب تو ہندہ کی نجس اولاد نے سب کچھ ضبط کرکے اپنی ملک سے بھی نکالنا شروع کردیا

05/05/2026

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

💢 *"دبئی سے فرار ہو جائیں۔۔!!*♦️ *ڈین پوپیسکو، معروف سرمایہ کاری اور اقتصادیات کےتجزیہ نگار۔۔!!*♦️*"میں نے 56 سال تک آف ...
05/05/2026

💢 *"دبئی سے فرار ہو جائیں۔۔!!*

♦️ *ڈین پوپیسکو، معروف سرمایہ کاری اور اقتصادیات کےتجزیہ نگار۔۔!!*

♦️*"میں نے 56 سال تک آف شور مالی مراکز کا مطالعہ اور جائزہ لیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات تیزی سے غلط سمت میں بڑھ رہا ہے۔ جب تک آپ کے پاس موقع ہے، دبئی سے نکلیں اور اپنا پیسہ بھی باہر نکال لیں۔"*

05/05/2026

ہور سنا دبئی کوئ ہور حکم ہے ہمارے لیے🤣۔ دبئ دے شیخ شیشیوں کے گھر میں چھپے ہیں
ان منافق و رکھیل بددوں نے پاکستانی 15 ہزار لوگوں کو اچانک قید و بند کے بعد بغیر کسی وجہ کے پاکستان بھیج دیا جبکہ ان کی جمع پونجی تک ضبط کرلی گئی اثاثے ان چوروں ڈاکوؤں نے ضبط کرلیے یہ نو دولتیے جو کہ پہلے چوری ڈکیتی کرکے گزارا کرتے تھے ان کو یہ تک احساس نہیں آیا کہ ان چمکتی بلڈنگوں اور ٹرانسپورٹ میں پاکستانیوں کی محنت و خون شامل حال ہے
لکھ لعنت ان جیسی رکھیل عوام پر جنکا ماضی بھی چوری ڈکیتی تھا اور حال بھی ویسا ہی ہے

03/05/2026

کمفرٹ زون، ایک خطرناک نشہ
(قاسم علی شاہ)
مینڈک بڑے مزے سے تالاب میں زندگی گزار رہا تھا لیکن ایک دن اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ اس کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ کافی دیر سے کھانے کے لیے کچھ نہیں مل رہا تھا۔ خوراک کی تلاش میں وہ پانی سے نکل کر کنارے پر آیا تو وہاں ایک پتھر پر کھانے کی چیز پڑی ہوئی تھی۔ وہ بڑاخوش ہوا اور پتھر پر چڑھ کر جیسے ہی خوراک کے قریب ہوا تو ایک انسانی ہاتھ نے اس کو پکڑ کر تھیلے میں ڈال دیا۔ وہ چلایا، پھڑپھڑایا لیکن تھیلے سے باہر نہیں نکل سکا۔ آدمی نے گھر آکر ایک برتن میں پانی بھرا، اس کو چولہے پر رکھا اور مینڈک کو اس میں ڈال دیا۔ مینڈک نے صاف پانی دیکھا تو وہ اس کو اچھا لگنے لگا۔ وہ اس میں تیرنے لگا اور اس کو انجوائے کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس کو محسوس ہوا کہ پانی کا نچلا حصہ آہستہ آہستہ گرم ہو رہا ہے، اس نے پروا نہ کی۔ کچھ دیر بعد سارا پانی گرم ہوگیا اور رفتہ رفتہ وہ شدت اختیار کرتا گیا لیکن اس نے اپنی قدرتی صلاحیت سے اپنے جسم کو ٹھنڈا کرنا شروع کیا، پانی گرم ہوتا گیا اور وہ اپنی جسمانی ٹھنڈک بڑھاتا گیا۔ دو منٹ کے بعد پانی ابلنا شروع ہوگیا۔ مینڈک نے اپنے جسم کو اس کے مطابق ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے مسلز جواب دے گئے۔ اب اس نے اچھل کود شروع کردی اور پوری کوشش کرنے لگا کہ کسی طرح اس برتن سے باہرنکلے لیکن اس کی تمام جدوجہد بے کار ثابت ہوئی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ہانپنے لگا۔ اس کے جسم میں توانائی ختم ہوچکی تھی اور کچھ ہی لمحوں میں کھولتے ہوئے پانی کی تاب نہ لاکر وہ مرگیا۔
ہم انسانوں کی مثال بھی مینڈک کی اس کہانی جیسی ہے۔ ہم میں سے 98 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنا وقت ایک خطرناک ترین جگہ پر گزارتے ہیں۔ جی ہاں! خطرناک ترین جگہ۔ آپ کے ذہن میں ہوگا کہ میں تو ایسی کسی جگہ سے لاعلم ہوں لیکن نہیں! آپ نے بھی کہیں نہ کہیں اس جگہ وقت گزارا ہے۔ یہ جگہ Comfort Zone (خطہ آرام) ہے جو انسان کی صلاحیتوں کا قتل اور اس کے ہنر کو زنگ آلود کرتا ہے۔
گھر میں صوفے پر نیم دراز ہوکر ٹی وی دیکھنا ،صبح کی سیر کے بجائے نرم بستر کے مزے لینا،ہر تیسرے دن مٹن کڑاہی،چکن بریانی،پیزا، کولڈ ڈرنک سے لطف اندوزہونا، محنت وکوشش کے بجائے کام سے جان چھڑانا ، ایک اچھی نوکری چاہنا، مناسب سی تنخواہ پر گزاراکرنااور یہ خواہش کرنا کہ زندگی بھر کوئی تکلیف ، کوئی مسئلہ کوئی آزمائش میرے سامنے نہ آئے۔مجھے کوئی تنگ نہ کرے ، کیوں کہ مسائل نمٹانے سے میری جان جاتی ہے۔ محنت کرنے سے میں تھک جاتاہوں۔سبزیاں اور سلاد کھانے سے میرا من نہیں بھرتا،ورزش میں پسینہ بہاناخود کو خواہ مخواہ میں تھکادینا ہے اور نوکری کے بجائے اپنی ذات کے لیے کام کرنا مجھے بہت بڑا رسک لگتا ہے۔یہ سب انسان کی دل کی آواز ہوسکتی ہے لیکن یہ اس قدر خطرناک جال ہے کہ ا س میں پھنسنے والا انسان اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہت پیچھے رہ جاتاہے۔
مینڈک والی مثال کاجائزہ لیجیے۔اگر مینڈک پتیلے کے صاف پانی کے مزے نہ لیتا اور پانی شدید گرم ہونے سے پہلے وہ چھلانگ مارلیتاتو اس کی جان بچ سکتی تھی لیکن وہ پڑارہا،اس نے ایک بہترین موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا، اس نے چیلنج کو عارضی سمجھ کر نظرانداز کیالیکن جب با ت اس کی برداشت سے باہر ہوگئی اور اس کے لیے پانی سے نکلنا بے حدضروری ہوگیا تب اس کے پاس اتنی توانائی ہی نہیں بچی تھی کہ وہ اپنی جان بچاپاتا۔
ہمارے ساتھ بھی یہی ہوتاہے۔ہم گزارے لائق زندگی کو قبول کرلیتے ہیں۔ہمارے پاس محنت کرنے ، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے ، خودکو نکھارنے اور عام سے خاص بننے کاایک سنہری موقع موجود ہوتاہے لیکن ’’کمفرٹ زون‘‘ ہمیں اس قدر لطف و سرور کا عادی بنالیتا ہے کہ ہم اس کو چھوڑ ہی نہیں سکتے۔اس کے پہنائی ہوئی بیڑیوں کو ہم توڑ ہی نہیں سکتے۔ہماری سوچ ہوتی ہے کہ بس زندگی گزررہی ہے نا، تو گزرنے دو۔وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔اس سوچ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتاہے کہ جب پانی ہمارے سر سے اوپر چلاجائے اور ہماری سانس بند ہونے لگے تو پھر ہمارے اندرتوانائی ہی نہیں بچی ہوتی۔ ہم صرف ہاتھ پیرہی مارسکتے ہیں ، پانی سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔
’’کمفرٹ زون‘‘ جس قدرخوش نما نظر آتاہے اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔یہ ایک نشہ ہے جو غیر محسوس طریقے سے انسان کی رگوں میں اترتاہے اور اس کو اپناعادی بنالیتا ہے۔اس میں رہتے رہتے انسان کو احساس تک نہیں ہوتا کہ اس کے اندر جوقابلیتیں موجود ہیں وہ زنگ آلود ہونا شرو ع ہوگئی ہیں۔رفتہ رفتہ وہ اپنی صلاحیتوں سے محروم ہوناشروع ہوجاتاہے اور پھر ایک وقت آتاہے کہ وہ ایک نکما، تن آسان اور انتہائی سست انسان بن جاتاہے۔
قابلیت سے محروم ایسا انسان اپنی زندگی میں چیلنج نہیں لے سکتا۔معمولی سے حالات خراب ہونے پر بھی اس کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں۔اس کے اندر زندگی کے حقائق تسلیم کرنے اور ان سے لڑنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔اس کی زندگی میں تبدیلی نہیں آتی۔ایساشخص اپنی زندگی بدلنا چاہ رہا ہوتاہے،وہ چاہتاہے کہ میں ایک نامور انسان بن جائوں لیکن یہ صرف خواہش ہوتی ہے اس کو عملی شکل دینے کے لیے وہ کچھ کرتانہیں ہے۔وہ رسک لینے کو تیار نہیں ہوتا۔وہ راستہ بدلنے ،ہجرت کرنے ، پسندیدہ نوکری چھوڑنے اورتبدیلی کی قیمت چکانے کوتیار نہیں ہوتا۔اس کی زندگی میں نئے لوگ نہیں آتے کیوں کہ رشتے بنانے اور نبھانے کے لیے تین چیزیں درکارہوتی ہیں۔توجہ ،ٹائم اور پیسا۔ہر رشتے کو توجہ دینی ہوتی ہے، اس کے لیے وقت نکالنا ہوتاہے۔شادی بیاہ اورغمی خوشی میں شرکت کرنی ہوتی ہے اور بوقت ضرورت پیسے بھی خرچ کرنے ہوتے ہیں لیکن ’’کمفرٹ زون‘‘ کا قیدی شخص یہ سب نہیں کرسکتا ،کیوں کہ وہ آرام دہ زندگی گزارنے کا عادی ہوچکا ہوتاہے۔
’’کمفرٹ زون‘‘میں رہنے کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوتاہے کہ یہ انسان کی پیشہ ورانہ زندگی کوکھوکھلاکرنا شروع کرتاہے، جس کی وجہ سے ایسا شخص اپنے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس کی ساری زندگی نکل جاتی ہے لیکن وہ وہیں رہتاہے جہاں آج سے بیس سال پہلے تھا۔
’’کمفرٹ زون‘‘انسان کی صحت کو بھی متاثر کرتاہے۔ٹی وی کے سامنے صوفے پر بیٹھ کر اور ایک ہاتھ میں پاپ کارن کا پیکٹ لے کر گھنٹوں گزارنا ، واک نہ کرنا ، کھانااورسوجانا، تلی ہوئی چیزوں کے سہارے جینا اور اس جیسی بے شمار عادات کے نتیجے میں اس کی صحت جواب دے جاتی ہے۔وہ ہروقت کسی نہ کسی طبی مسئلے کا شکار ہوتاہے ۔یہ معاشرے کا اجتماعی رویہ ہے اور اسی کی بدولت ہر علاقے میں آپ کومیڈیکل اسٹورز پر رش نظر آئے گا۔
’’کمفرٹ زون‘‘انسان کی قابلیت کو بھی زنگ آلود کردیتا ہے۔وہ نئی چیزیں نہیں سیکھتا، اپنی شخصیت پر محنت نہیں کرتا، اپنی کمزوریوں کو دور نہیں کرتا۔نتیجتاً وہ ایک بے ثمر انسان بن کر رہ جاتاہے جو نہ اپنی زندگی کو بدلنے کی ہمت رکھتاہے اور نہ دوسروں کی۔
’’کمفرٹ زون‘‘انسان کے رشتوں کو بھی کمزور کردیتاہے۔وہ رشتے نبھانا تو چاہتاہے لیکن اپنے ’’کمفرٹ زون‘‘کی شرط پر ۔وہ اپنے وقت اور توجہ کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا اور رفتہ رفتہ اس کے دوست احباب اور رشتے دار اس سے دور چلے جاتے ہیں۔
’’کمفرٹ زون‘‘انسان کی Will Power(قوت ارادی) کو بھی کمزور کردیتاہے۔اس کے اندر کچھ نیا کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔حالانکہ انسان تووہ مخلوق ہے کہ اگر وہ اپنی سوچ بدل لے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔وہ اپنی زندگی میں کوئی اچھا استاد، دوست یا کتاب شامل کرلے تو اس کی تقدیر بدل جاتی ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتاکیوں کہ ’’کمفرٹ زون‘‘نے اس کی ہمت کی عمارت کو شکستہ کردیا ہوتاہے۔
تو کیا آپ کے اندر ’’کمفرٹ زون‘‘سے نکلنے کی ہمت ہے؟اگر ہے تو اٹھیے اوراپنے زورِ بازو سے جیل کی یہ سلاخیںتوڑ کر خود کو آزاد کیجیے لیکن آپ اب بھی آزا د نہیں ہوں گے۔’’کمفرٹ زون‘‘سے نکل کر آپ ایک اور دائرے میں آجائیں گے جس کو Fear zone(خطہ خوف) کہاجاتاہے۔ یہاں آپ کو ہر وقت یہ فکر کھاتی رہے گی کہ میں کوئی نیا قدم تو اٹھالوں گا لیکن لوگ کیا کہیں گے؟آپ جب بھی خود کو بدلنے کی کوشش کریں گے تو اندر سے آواز آئے گی :’’ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یہ خوف آپ کے ذہن پر سوار ہوکر آپ کوکچھ نیا کرنے نہیں دے گا۔بار بار کی کوشش کے بعد آپ کو اپنے اوپر کچھ شک ہونے لگتاہے کہ شاید میرے اندر قابلیت کی کمی ہے اس وجہ سے میں کچھ نہیں کرسکتالیکن یہ ایک فریب ہوتاہے جس میں آپ کاخوف آپ کودھکیلنے کی کوشش کرتاہے۔یہاں رہ کر آپ کانفس بہانے ڈھونڈنے لگتاہے۔کسی بھی ناکامی پرآپ کے اندرسے فورا یہ بات آتی ہے کہ یہ تو فلاں شخص کی وجہ سے ایسا ہوگیاوگرنہ میں تو یوںکرنے والاتھا۔اس دائرے میں رہتے ہوئے آپ کے اندر قوت فیصلہ کی بھی کمی ہوتی ہے ۔آپ دوسروں کے فیصلوں کے محتاج ہوتے ہیں ،یعنی گاڑی تو آپ کی ہوتی ہے لیکن ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور بیٹھا ہوتاہے۔
یہاں آپ کے اندر کوئی بولتاہے کہ بغاوت کرو، ان حالات کو قبول مت کرو،یہاں سے نکلو۔آپ اپنا پورا زورلگاکر ان سلاخوںکو بھی مروڑ دیتے ہیں۔آپ Fear zoneسے آزاد ہوجاتے ہیں۔اب ایک تیسرا دائرہ شروع ہوتا ہے جس کو Learning zoneکہتے ہیں۔اب آپ کے اندر ہمت آچکی ہوتی ہے۔آپ نئے چیلنجز لیتے ہیں۔آپ نئے تجربات بھی کرتے ہیں ، اس سوچ کے ساتھ کہ ان سے کچھ نہ کچھ سیکھ لیاجائے۔آپ ہر انسان اور ہر واقعے سے سیکھتے ہیں۔مختلف طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی بدولت آ پ کے اندر Problem solving(مسائل حل کرنے کی صلاحیت) آجاتی ہے۔آپ کو جتنی بھی مشکلات کاسامنا ہو، جتنی بھی تنقید آپ کے اوپر آئے آپ ان سب چیزوں کو Part of the lifeسمجھتے ہیںاور ان کاحل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہیں آپ اپنے اندر نئی اسکلزبھی پیدا کرتے ہیں۔آپ کے دل میں سوالات مچلتے ہیں ،جن کے جوابات آپ تلاش کرتے ہیں اور آپ کے سامنے نئے راستے کھلتے ہیں۔
سیکھنے کا یہ سفر آپ کو ایک بہترین شانداردائرے میں لے آتاہے جس کو Growth zone(خطہ نمو) کہتے ہیں۔نمو کا مطلب ہے قدم بہ قدم پروان چڑھنا۔ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے اس خطہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔یہاں آکر سب سے پہلی کامیابی آپ کویہ ملتی ہے کہ آپ کو زندگی کا مقصد مل جاتاہے۔آپ کے اندر خواب پلناشروع ہوجاتے ہیں۔یہ خواب آپ کوبے چین رکھتے ہیں۔آپ کو تڑپاتے ہیں ، آپ کروٹ پہ کروٹ بدلتے ہیں ، آپ راتوں کو اچانک اٹھ کر اپنے خوابوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔آپ کی آنکھوں میں نیند نہیں ہوتی کیوں کہ وہاں خوابوں کابسیرا ہوتاہے۔یہ تڑپ ، یہ شوق آپ کو ’’جواز ہستی‘‘(مقصدحیات) کے انعام سے نوازدیتاہے۔
زندگی کا مقصد آپ کوآگے بڑھنے کی موٹیویشن دیتاہے۔یہ آپ کو ٹریک پر رکھتاہے۔کبھی آپ سمت کھوجائیں تو یہ آپ کو واپس ٹریک پر لاتاہے۔کبھی آپ کے پائوں ڈگمگاجائیں تو یہ آپ کودوبارہ سے ہمت دیتاہے۔آپ کی زندگی کامقصد جس قدر بڑا ہوگا اتنا ہی مرنے کا خوف بھی کم ہوگا۔کیوں کہ موت انسان کو آتی ہے ، مقصد کو نہیں۔بامقصدانسان اگر چلا بھی جائے تو اس کے مشن کو دوسرے لوگ آگے بڑھاتے ہیں۔اس کی مثال اولمپک مشعل کی طرح ہے جس کو ایک کے بعد ایک کھلاڑی تھامتا ہے اور مشعل اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
’’گروتھ زون‘‘ میں آپ اپنے لیے نئے اہداف طے کرتے ہیں۔ایک منزل مل جائے تو اس کے بعددوسری منزل ، دوسری کے بعد تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل، پھر آپ منزل سے زیادہ راستے کو انجوائے کرتے ہیں۔اس خطے میں آپ فتوحات سے ہمکنار ہوتے ہیں۔آپ کے لیے تالیاں بجتی ہیں، نعرے لگتے ہیں ،آپ اپنی فتح کو سیلی بریٹ کرتے ہیں اور ہر فتح کے بعد ایک اور منزل کے لیے کمر بستہ ہوتے ہیں۔سچ پوچھیں تو اس راستے پر چلنے میں ایساسرور،ایسا سکون اوراطمینان ہے جو دنیا کی کسی بھی چیز میں نہیں۔
اٹھیے، اپنا شمار دنیا کے دو فیصد ان خوش قسمت لوگوں میں کیجیے جو ’’کمفرٹ زون‘‘ کی سلاخوں کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ اپنے آپ کو دھکیلے دھکیلتے ’’Growth zone‘‘میں لے آئیے کہ کامیابی کا راز بھی یہی ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر ایک دانا آدمی کی یہ بات یاد رکھیے کہ ’’اگر تم وہی کر رہے ہوجوہمیشہ سے کرتے آئے ہو تو تمھیں ملے گا بھی وہی جو ہمیشہ سے ملتا آرہا ہے ‘‘اور مولانا رومیؒ کے یہ الفاظ تو انسان کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے کافی ہیں:
’’خدا نے تمھیں اُڑنے کے لیے بنایا مگر تم رینگ رہے ہو!!‘

03/05/2026
02/05/2026

اس کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں حکومت ، حالات ، یا قسمت
لیکن یہ قسمت ہمیشہ غریب کے مخالف ہی کیوں ہوتی ہے ان ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بے رحم فرعونوں کو قسمت اس طرح مجبور کیوں نہیں کرتی ؟
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہماری قوم پر اور حیوان صفت حکمرانوں جان چھڑائے

میں ٹوٹا ضرور تھا، مگر ہارا نہیںالسلام علیکم !!آج آپ سے کچھ دل کی بات کرتے ہیںکچھ کہانیاں شور سے نہیں لکھی جاتیںوہ خاموش...
04/01/2026

میں ٹوٹا ضرور تھا، مگر ہارا نہیں

السلام علیکم

!!آج آپ سے کچھ دل کی بات کرتے ہیں

کچھ کہانیاں شور سے نہیں لکھی جاتیں
وہ خاموشی میں جنم لیتی ہیں…
جہاں انسان خود سے لڑتا ہے،
دنیا سے نہیں۔
میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے
جب زندگی نے ایک ایک چیز گن کر مجھ سے چھینی۔
اعتماد، سکون، روزگار —
اور سب سے بڑھ کر
وہ یقین کہ “سب ٹھیک ہو جائے گا”۔
لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں
کہ آج آپ کہاں کھڑے ہیں،
کوئی یہ نہیں پوچھتا
کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے
آپ نے کتنی بار خود کو سمیٹا،
کتنی راتیں خود سے باتیں کر کے کاٹیں،
اور کتنی دفعہ ہار مان لینے کا دل کر کے بھی
آپ نے ہار نہیں مانی۔
میں مانتا ہوں،
میں کمزور لمحوں سے گزرا ہوں۔
قرض، دباؤ، ناکامی،
اور وہ سوال
جو رات کے آخری پہر دل میں گونجتا ہے:
“اب کیا ہوگا؟”
لیکن ایک بات میں نے کبھی نہیں چھوڑی —
خود پر یقین۔
آج جب میں نے asofficialstore شروع کیا ہے
اور آہستہ آہستہ زندگی
دوبارہ سانس لینے لگی ہے،
تو یہ کوئی جادو نہیں،
کوئی شارٹ کٹ نہیں،
کوئی ایک رات کی کامیابی نہیں۔
یہ اُن دنوں کا نتیجہ ہے
جب دل ٹوٹا ہوا تھا
مگر ہاتھ کام کر رہے تھے۔
یہ اُن راتوں کی کمائی ہے
جب آنکھوں میں نیند نہیں
مگر امید زندہ تھی۔
میں یہ نہیں کہتا
کہ میں منزل پر پہنچ گیا ہوں،
لیکن اتنا ضرور کہوں گا
کہ میں اب راستے میں گم نہیں ہوں۔
یہ پوسٹ تعریف کے لیے نہیں،
یہ اُن لوگوں کے لیے ہے
جو آج بھی خاموشی سے
اپنے حالات سے لڑ رہے ہیں۔
جو مسکراتے ہیں
مگر اندر سے بکھرے ہوئے ہیں۔
اگر آپ بھی وہی شخص ہیں
تو بس اتنا جان لیں:
جو رُک گیا وہ ہار گیا،
اور جو چلتا رہا… وہ جیتے گا۔
میں چل رہا ہوں۔
آہستہ سہی، مگر سیدھا۔
دعا میں یاد رکھئے گا۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو کامیاب و کامران کرے آمین 🤲🌹

Address

Dubai

Telephone

+971521824968

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Asif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Asif:

Share