07/03/2026
https://www.facebook.com/share/p/1DqDvLsr4V/
روزنامہ 92 نیوز
07/03/2026
اامریکی،۔ایران دشمنی
تماشائی ۔۔۔۔ احمد جمال نظامی
سید مصطفیٰ موسوی ایران میں اپنے علاقے خمین کے ایک عالم دین اور معزز شخصیت تھے، انہیں مقامی ظالم جاگیرداروں کے خلاف آواز اٹھانے اور مظلوموں کی حمایت کرنے پر شہید کر دیا گیا، یہ امام خمینی کے والد تھے، انکی شہادت کے وقت امام خمینی کی عمر صرف 5 سے 9 ماہ کے درمیان تھی، والد کے قتل کے بعد ان کی پرورش ان کی والدہ اور پھوپھی نے کی، لیکن بعد میں وہ بھی انتقال کر گئیں، جس کے بعد وہ اور بھی زیادہ تنہا ہو گئے، امام خمینی ایران میں انقلابی سرگرمیوں سے پہلے قم کے مدرسہ علمیہ کے ایک ممتاز، بااثر، دینی خدمات اور اسلامی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والی شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے تھے، تاہم امام خمینیؒ کی قیادت میں ایرانی انقلاب اور امریکہ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت عوامی طور پر فطری اور خمینی صاحب کی جرات کا نتیجہ تھی، امام خمینیؒ نے شاہِ ایران کی مغرب زدہ پالیسیوں اور "سفید انقلاب" کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اور عوام کے ہیرو بن گئے، انھوں نے 1960 میں انقلاب ایران کیلئے جہدوجہد شروع کر دی تھی، آیت اللہ خمینی نے 1963 میں عاشورہ کے موقع پر شاہ کی تضحیک کی جس کے بعد ان کی گرفتاری سے ملک گیر احتجاج شروع ہوا، جس نے انکی طویل جلاوطنی کے بعد 1979 میں اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کی، غالبا جنوری 1978 میں ایک اخبار میں امام خمینیؒ کے خلاف توہین آمیز مضمون چھپنے پر احتجاج شروع ہوا جو بتدریج پورے ملک میں پھیل گیا، تہران کے ژالہ اسکوائر پر مظاہرین کے قتلِ عام اور تیل کے شعبے میں ملک گیر ہڑتالوں نے شاہ کی حکومت کو مفلوج کر دیا، 16 جنوری 1979 کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے فرار ہو گئے اور 1 فروری 1979 کو امام خمینیؒ 14 سالہ جلاوطنی کے بعد تہران واپس پہنچے، اپنی جلاوطنی کے دوران وہ کیسٹوں اور پمفلٹوں کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچاتے رہے، مسلح افواج کی جانب سے غیر جانبداری کے اعلان کے بعد شاہی نظام کا مکمل خاتمہ ہوا اور اپریل 1979 میں ریفرنڈم کے ذریعے "اسلامی جمہوریہ ایران" کا قیام عمل میں آگیا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایران میں امریکہ مخالف جذبات اچانک پیدا نہیں ہوئے بلکہ کئی دہائیوں پر محیط واقعات کا نتیجہ تھے، ایرانی عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت کی بنیادی وجہ 1953 میں سی آئی اے اور ایم 16 کی مدد سے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا اور شاہ کو دوبارہ اقتدار دلانا تھا، دہائیوں تک امریکہ نے شاہ کی جابرانہ حکومت اور خفیہ پولیس کی حمایت کی، جسے ایرانی عوام نے اپنی آزادی پر حملہ تصور کیا، امام خمینیؒ نے امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیا اور ایرانی ثقافت پر مغربی اثرات کے غلبے کو ایرانی تشخص کے لیے خطرہ قرار دیا، انقلاب کے بعد جب امریکہ نے کینسر کے علاج کے لیے شاہ کو اپنے ملک میں پناہ دی تو ایرانیوں میں یہ خوف پیدا ہوا کہ امریکہ ایک بار پھر 1953 کی طرح بغاوت کی سازش کر رہا ہے، اسی خوف کے پیشِ نظر ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا، اس واقعے نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مستقل طور پر دشمنی میں بدل دیا، امریکہ اور بانیِ انقلابِ ایران امام خمینیؒ کے درمیان دشمنی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، جس میں امریکہ نے مختلف سیاسی، فوجی اور اقتصادی حربوں کے ذریعے انقلاب اور ان کی قیادت کو کمزور کرنے کی کوششیں کیں، تاریخی طور پر یہ شاہِ ایران کی حمایت اور امام کی جلاوطنی نظر آتی ہے جبک 1964 میں امریکہ نے شاہ کے ذریعے ایک قانون منظور کروایا جس کے تحت ایران میں موجود امریکی فوجیوں کو عدالتی استثنیٰ حاصل تھا، امام خمینیؒ نے اس کی سخت مخالفت کی، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر کے ترکی اور پھر عراق جلاوطن کر دیا گیا، امریکہ نے آخری وقت تک محمد رضا شاہ پہلوی کی فوجی اور سیاسی حمایت جاری رکھی تاکہ امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی عوامی تحریک کو کچلا جا سکے، انقلاب ایران کے فوراً بعد کی فوجی و جاسوسی کارروائیوں کیلئے تہران میں امریکی سفارت خانہ جسے بعد میں 'جاسوسی کا اڈہ' کہا گیا؛ انقلاب کے خلاف سازشوں اور جاسوسی کا مرکز بن چکا تھا، جسے طلبہ نے 4 نومبر 1979 کو اپنے قبضے میں لے لیا، پھر آپریشن ایگل کلا کے نام سے اپریل 1980 میں صدر جمی کارٹر نے امریکی یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے ایران کے صحرائے طبس میں ایک خفیہ فوجی آپریشن کیا جو ریت کے طوفان کے باعث ناکام ہوگیا اور امریکی طیارے تباہ ہو گئے، امریکہ اسکے باوجود باز نہ ایا، نوژہ نامی فوجی بغاوت کی ایک بڑی کوشش کی گئی جس کا مقصد امام خمینیؒ کی رہائش گاہ پر بمباری کر کے حکومت کا تختہ الٹنا تھا، جسے ایرانی سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا، جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو امریکہ نے صدام حکومت کو انٹیلی جنس معلومات، کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد اور فوجی ساز و سامان فراہم کیا تاکہ ایرانی انقلاب کو ختم کیا جا سکے، امریکہ کا اصل مقصد امام خمینیؒ کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا اور اسلامی حکومت کو گرانا تھا، انقلاب کے بعد سے ہی امریکہ نے ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں عائد کیں تاکہ عوامی سطح پر بے چینی پھیلا کر حکومت کے خلاف بغاوت کو ہوا دی جا سکے، مغربی میڈیا کے ذریعے امام خمینیؒ کی شخصیت کو ایک متشدد رہنما کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو ان کے خلاف کیا جا سکے، امام خمینیؒ نے ان تمام اقدامات کو "بڑے شیطان" کی سازشیں قرار دیا اور ہمیشہ ایرانی عوام کو ان سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی، وہ 3 جون 1989 کو انتقال کر گئے اور تہران میں دفن کیے گئے، انھوں نے عوامی انقلاب کے ذریعے 2500 سالہ شاہی نظام کو ختم کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی جو آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اب تک مضبوطی سے قائم ہے۔