Radio Pakistan Faisalabad

Radio Pakistan Faisalabad Official page of Radio Pakistan FM93 Faisalabad.

23/09/2026

رِیڈیو پاکِستان اور آرمی اِنسٹی ٹیوٹ آف مِلٹری ہِسٹری میں باہمی تَعاوُن پر اِتِّفاق

ڈائریکٹر جَنرل پاکِستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن، سَعید اَحمد شَیخ نے آرمی اِنسٹی ٹیوٹ آف مِلٹری ہِسٹری (AIMH) کے ڈائریکٹر جَنرل، میجر جَنرل آغا مَسعود اَکرم، ہِلالِ اِمتیاز (مِلٹری)، ریٹائرڈ کی دَعوت پر اِدارے کے راولپنڈی میں واقِع صَدر دَفتر میں اُن سے مُلاقات کی۔ مُلاقات میں اے آئی ایم ایچ میں تَعینات دیگر سِینئر حُکّام بھی شَریک تھے۔

آرمی اِنسٹی ٹیوٹ آف مِلٹری ہِسٹری پاکِستان کی عَسکری تاریخ سے مُتعلِّق تَحقیق، تَدوین اور تَحفُّظ کا ایک اَہم اِدارہ ہے؛ یہ عَسکری تاریخ سے مُتعلِّق تَحریری، زَبانی، آڈیو، وِیڈیو اور مادّی تاریخی مَواد جَمع اور مَحفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اُس پر تَحقیق اور اِشاعت کا کام بھی کرتا ہے۔

مُلاقات کے دَوران پاکِستان کی قومی اور عَسکری تاریخ کے تَحفُّظ، تَحقیق اور اِسے عوام، بالخصوص نئی نَسل تک پَہنچانے کے لیے رِیڈیو پاکِستان اور آرمی اِنسٹی ٹیوٹ آف مِلٹری ہِسٹری کے دَرمیان باہمی تَعاوُن کے مُختلِف پہلوؤں پر تَبادلۂ خَیال کیا گیا۔

دونوں اِداروں نے اپنے مِیوزیمز اور تاریخی ذَخائر کے لیے باہمی دِلچسپی کے تاریخی مَواد، تَصاویر، دَستاویزات اور دیگر نَوادِرات کے تَبادلے اور فَراہمی کے اِمکانات پر کام کرنے پر اِتِّفاق کیا۔

اِس سِلسِلے میں بالخصوص اے آئی ایم ایچ کے بَہاوَل پور کارنر کے لیے رِیڈیو پاکِستان کے آرکائیوز میں مَحفوظ مُتعلِّقہ تاریخی تَصاویر فَراہم کی جائیں گی۔ اِسی طرح رِیڈیو پاکِستان کے آرکائیوز میں مَحفوظ پاک فوج کے اَفسران کی تاریخی آڈیو رِیکارڈنگز، نیز مُختلِف اَدوار میں فوجی اَفسران کے رِیڈیو پاکِستان کے مُختلِف اِسٹیشنوں کے دَوروں کے دَوران بنائی گئی تَصاویر اور دیگر مُتعلِّقہ تاریخی مَواد بھی اے آئی ایم ایچ کے مِیوزیم کے لیے فَراہم کیا جائے گا۔

رِیڈیو پاکِستان کا اپنا مِیوزیم بھی مُلک میں نَشریات کی تاریخ کا ایک اَہم ذَخیرہ ہے، جہاں ۱۹۳۶ء سے عَصرِ حاضِر تک رِیڈیو کی تاریخ سے مُتعلِّق آلات، تَصاویر، دَستاویزات اور دیگر تاریخی اَشیا مَحفوظ کی گئی ہیں۔ رِیڈیو پاکِستان کا یہ مِیوزیم پاکِستان کا پَہلا ڈِیجیٹل رِیڈیو مِیوزیم بھی ہے، جہاں مَحفوظ اَشیا کا تَعارُف، تاریخی پَس مَنظر اور اُن سے مُتعلِّق تَفصیلات مُختلِف ڈِیجیٹل اِسکرینوں کے ذَریعے دَستیاب ہیں۔

مُلاقات میں رِیڈیو پاکِستان کے فیس بُک پیج اور دیگر ڈِیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائِع ہونے والے تاریخی مَضامین اور فِیچرز کے سِلسِلے میں بھی باہمی تَعاوُن پر اِتِّفاق کیا گیا۔ بالخصوص ایسی شَخصیات، واقِعات اور تاریخی مَوضوعات سے مُتعلِّق مَواد کی تَحقیق اور تَیّاری میں اے آئی ایم ایچ کا تَعاوُن حاصِل کیا جائے گا، جِن کا تَعلُّق کِسی نہ کِسی حَوالے سے پاک فوج اور پاکِستان کی عَسکری تاریخ سے جُڑتا ہو۔

دونوں اِداروں نے تاریخی مَواد کے تَحفُّظ، تَحقیق اور تَبادلے کے ساتھ ساتھ باہمی دِلچسپی کے دیگر شُعبوں میں بھی رابِطہ جاری رکھنے اور مُستَقبِل میں مُشترَکہ تَحقیقی، تاریخی اور عِلمی مَنصوبوں کو آگے بَڑھانے پر اِتِّفاق کیا۔

23/09/2026

’کون فرید فقیر؟‘

(مشہور صوفی شاعر فقیر غلام فریدؒ کے عُرس کی مناسبت سے خصوصی تحریر)

۶ رَبِیعُ الثّانی ۱۳۱۹ ہجری کی شام، دریائے سِندھ کے بائیں کنارے کی بستی چاچڑاں میں شِدّتِ بیماری کے سبب طاری ہونے والی بے ہوشی کے دوران ہی ’دِیوانِ فرید‘ کے خالق فقیر غلام فریدؒ کی رُوحِ مُبارک قَفَسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔ اگلی صبح آپ کی مَیِّت دریائے سِندھ کے دوسرے کنارے کی بستی کوٹ مِٹھن لائی گئی، جہاں آپ اپنے خانوادے کے مَقابر میں سُپردِ خاک ہوئے۔ عیسوی اعتبار سے یہ ۱۹۰۱ء کا سال بنتا ہے۔

یوں آج ۶ رَبِیعُ الثّانی ۱۴۴۸ ہجری کے دن فقیر غلام فریدؒ کی قمری سالوں کی رُو سے ۱۲۹ویں بَرسی ہے۔ کیونکہ پاک و ہند میں صدیوں سے جاری دَستور کے مطابق چِیدہ ہستیوں کی بَرسی کو ’عُرس‘ کا نام دیا جاتا ہے اور عرائس کی تقاریب بَرسیوں سے ذرا مختلف طور سے منائی جاتی ہیں، تو آج آپ کے ۱۲۹ویں عُرس کا دوسرا روز بھی ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ آپ کے مَرقَدِ مُبارک پر اپنی رَحمتوں کا نُزول جاری و ساری رکھے!

موجودہ تحریر کے لیے عَمداً آپ کا یہی نام، ’فقیر غلام فریدؒ‘ استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ آپ کو اپنے لیے یہی نام پسند تھا؛ اپنے خُطوط کا اختتام آپ اپنے اِسی نام کے ساتھ کرتے تھے اور آپ کی مُہر پر بھی آپ کا یہی نام کَندہ تھا۔

فقیر غلام فریدؒ کو یہ نام کیوں پسند تھا، اِس کا کوئی ٹھوس عِلمی حوالہ تو آپ کے اَحوال میں کہیں مَرقوم نہیں، تاہم سُنا یہ ہے کہ کئی ایک اَہلِ اللہ قرآنِ کریم کی سُورۂ مُحمّد کی آیتِ مُبارکہ ’وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ‘ کی اِتّباع میں اپنے لیے ’فقیر‘ کا لَقَب باعثِ صَد تکریم و اِعزاز سمجھتے رہے ہیں، اور قوی گُمان پڑتا ہے کہ آپ کا بھی شاید یہی معاملہ تھا۔ باقی واللہ اعلم بالصواب

فقیر غلام فریدؒ کی وِلادت ۲۶ ذوالقعدہ ۱۲۶۱ ہجری کے دن ہوئی تھی اور آپ نے ۶ رَبِیعُ الثّانی ۱۳۱۹ ہجری کی شام اِس دُنیا سے کوچ کیا؛ یوں آپ کی عُمر قمری اعتبار سے محض ستّاون سال بنتی ہے۔ آسان لفظوں میں، مالکِ لَمْ یَزَلْ وَلَمْ یَزَالْ نے فقیر غلام فریدؒ کو اِس دُنیا میں جینے کے لیے ستّاون کے قریب قمری برس عطا فرمائے۔ بے شک وہ مالک، جیسا چاہے، کر لے؛ وہ مُختارِ کُل جو ٹھہرا۔

تاہم دریا کنارے کی جس بستی میں فقیر غلام فریدؒ کے بچپن، جوانی اور اُدھیڑ عُمری کا زمانہ گزرا تھا، وہاں لوگ بالعموم طویلُ العُمر ہوتے تھے، اِس لیے آپ کی صرف ستّاون سال کی عُمر میں فوتیدگی پر دریا کنارے کی دونوں بستیوں اور اَطراف کے گوٹھوں اور قصبوں کے عام لوگوں نے دِلی اَفسردگی اور غم کا اِظہار کیا۔

جن لوگوں کا فقیر غلام فریدؒ کے ساتھ زیادہ اُٹھنا بیٹھنا تھا، وہ اِس بات پر بھی مغموم تھے کہ کاش آپ نے اپنی زندگی میں اِس خواہش کا اِظہار نہ کیا ہوتا کہ ’مجھے بھی میرے بڑے بھائی کی موت کی طرح کی موت نصیب ہو۔‘ آپ کے بڑے بھائی غلام فخر الدین کی موت بھی جوان مَرگی کی موت تھی۔ اُن کی ران پر بھی اُسی طرح کا پھوڑا نکلا تھا، جیسا بعد میں آپ کی ران پر نکلا، اور وہ بھی آپ ہی کی طرح تکلیف اور بے ہوشی کے دن گزارنے کے بعد اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے۔

فقیر غلام فریدؒ کے اَحوالِ زندگی میں آپ کی دو اور خواہشات کا بھی ذِکر ملتا ہے: ایک یہ کہ آپ اپنے بڑے بھائی کی طرح فیروزی رنگ کا تہمد باندھیں۔ آپ بالعموم سفید رنگ کا تہمد باندھتے تھے۔ اپنے بڑے بھائی کو فیروزی رنگ کا تہمد باندھے دیکھا تو دِل میں یہ خواہش جاگزیں ہوئی کہ کبھی مَیں بھی اِس منفرد رنگ کا تہمد باندھوں۔

اور دوسری خواہش یہ تھی کہ کاش! کوئی مجھ سے اللہ کے نام پر ایک لاکھ روپے کا سوال کرے اور مَیں اُسے ایک لاکھ روپیہ دے دوں۔

یہ خواہش بھی فیروزی رنگ کا تہمد باندھنے کی خواہش کے جیسی عجیب تھی۔ آپ کے زمانے میں سونے کی قیمت قریب ساڑھے بارہ روپے فی تولہ تھی، اور درحقیقت کسی سائل کا ایک ہی بار اتنی بڑی رقم مانگ لینا بھی تصوّر سے بعید اَمر تھا۔ مگر اِس فقیر غلام فریدؒ کا دِل اتنا بڑا تھا کہ وہ اللہ کے نام پر ایک لاکھ روپیہ دے دینے کی خواہش لیے پھرتے تھے، لیکن کسی مانگنے والے نے مانگا ہی نہیں۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ سے ایسی محبّت پر صرف رَشک ہی کیا جا سکتا ہے۔

فقیر غلام فریدؒ انتہائی سادہ سے اِنسان تھے؛ تہمد باندھتے اور کُرتا پہنتے۔ بٹن یا تو اُن دنوں ایجاد نہیں ہوئے تھے یا چاچڑاں کی بستی میں دستیاب نہیں تھے، اِس لیے آپ کے ہم عصر عینی شاہدین کے مطابق آپ کے کُرتے کے گلے میں بٹنوں کی بجائے ڈوری بندھی ہوتی تھی؛ اُسی کو ڈھیلا کر کے یا کھینچ کر گلے کو کشادہ اور تنگ کرنے کا کام لیتے تھے۔

سر پر ایک ٹوپی پہنتے جو کانوں کو ڈھانپے رکھتی تھی۔ اِس طرح کی ٹوپی اُس علاقے میں کوئی اور نہیں پہنتا تھا۔ واللہ اَعلم، آپ نے ایسی منفرد ساخت کی ٹوپی کا تصوّر کہاں سے اَخذ کیا تھا، لیکن بہرحال یہ ٹوپی ’فریدی ٹوپی‘ کے نام سے آج بھی موسوم ہے اور آپ کے سلسلے کے کچھ عُمر رسیدہ لوگ اب بھی اِسے پہنتے ہیں۔

فقیر غلام فریدؒ اِس قدر سادہ ہونے کے باوجود بہت دِلیر اور نِڈر تھے۔ ریاست بہاولپور کے نواب محمد صادق خان چہارم کو ۲۸ نومبر ۱۸۷۹ء کو، اُن کی صِغر سِنی کا زمانہ ختم ہونے پر، ریاست کے مکمل اِختیارات سونپے گئے تو نواب مذکور نے، آپ کے مُرید ہونے کے سبب، آپ کو اپنی رسمِ تاج پوشی میں شریک ہونے کا دعوت نامہ بھیجا۔

فقیر غلام فریدؒ اِس تاج پوشی کی تقریب میں خود تو شریک نہ ہوئے کیونکہ آپ کو نمود و نمائش بھری ایسی محفلیں سخت ناپسند تھیں، مگر ایک کافی لکھ کر بھجوا دی۔ اِس کافی میں نواب صاحب کے لیے دُعاؤں کے علاوہ ایک ایسی نصیحت بھی تھی جس میں فقیر کی بے خوفی صاف دکھائی دیتی ہے:

’پٹ اَنگریز دے تھانے‘
(ترجمہ: اَنگریزوں کے تھانے یہاں سے اُکھاڑ پھینکو)

صادق محمد خان چہارم کی صِغر سِنی کے زمانے میں بہاولپور کا نظم و نسق برطانوی نگرانی میں رہا تھا۔ اِس عرصے میں ولیم فورڈ، چارلس چیری منچن اور لیوپولڈ جان ہربرٹ گریے یکے بعد دیگرے ریاست میں برطانوی سپرنٹنڈنٹ رہے۔ ۱۸۷۹ء کے آخری چند مہینوں میں جان گراہم کورڈری بھی اِس منصب پر رہا۔ اَنگریزوں سے سبھی ڈرتے تھے، مگر فقیر غلام فریدؒ نے بلا خوف و خطر ’پٹ اَنگریز دے تھانے‘ کہہ دیا۔ یہ کافی آج بھی آپ کے دِیوانِ فرید میں موجود ہے۔

فقیر غلام فریدؒ کے شعری دِیوان میں ۲۷۱ کافیاں ہیں؛ کچھ مارواڑی اور سندھی زبان میں، اور باقی اُس ’ریاستی زبان‘ میں جسے اُن دنوں ’ملتانی‘ زبان بھی کہا جاتا تھا؛ اِسی کو بعد میں سرائیکی کہا جانے لگا۔

فقیر غلام فریدؒ نے زندگی کا ایک بڑا حصّہ چاچڑاں شریف، ڈیرہ نواب صاحب، احمدپور اور صحرائے چولستان میں گزارا۔ لیکن اِس قدر دُور اُفتادہ دیہی علاقوں میں بود و باش اور صحرا نَوردی کے باوجود آپ کو عربی اور فارسی پر کمال دَسترس حاصل تھی۔ آپ کی کافیوں میں اِن دو زبانوں کے سیکڑوں اَلفاظ موجود ہیں۔

عربی میں مشکل ترین نثر شیخُ الاکبر محی الدین ابنِ عربی سے منسوب کی جاتی ہے۔ اُن کی مشہور کتابوں ’فُصوصُ الحِکَم‘ اور ’فُتوحاتِ مَکّیہ‘ کی کوئی ایک سطر بھی آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن فقیر غلام فریدؒ ابنِ عربی کی سبھی باتیں سمجھ لیتے تھے۔

کسی نے ایک مرتبہ فقیر غلام فریدؒ سے پوچھا کہ کیا آپ نے ‘فصوص الحکم’ کی کوئی شرح بھی پڑھی ہے ؟ آپ نے پانچ شروح کے نام گنوا کر کہا کہ ہاں ! میں ‘فصوص’ کی یہ پانچ شروح پڑھ چکا ہوں ۔

اِسی طرح فارسی میں مشکل اور اَدَق سُخن گوئی کے حوالے سے حکیم سنائی کا نام لیا جاتا ہے۔ فقیر غلام فریدؒ کو حکیم سنائی کے شعری کلام پر بھی بڑی دَسترس حاصل تھی۔

ایک روز صبح ، نمازِفجر کی ادائیگی کے بعد آپ نے دریافت کیا کہ رات یہاں مسجد میں کوئی فارسی اَشعار پڑھ رہا تھا، وہ کون ہے؟ کسی نے بتایا کہ ’سردارو‘ نام کا ایک فقیر آج کل مسجد میں آ کر ٹھہرا ہوا ہے، شاید وہی بوقتِ تہجّد اَشعار پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اُس سے ملواؤ تو!

کوئی سردارو فقیر کا ہاتھ پکڑ کر اُسے آپ کے سامنے لے آیا۔ آپ نے اُس سے یہ نہیں پوچھا کہ رات تم کس کے اَشعار پڑھ رہے تھے، بلکہ فرمایا کہ رات تم حکیم سنائی کے جو اَشعار پڑھ رہے تھے، وہ ذرا دُہرا دو۔

سردارو فقیر نے وہ اَشعار دوبارہ پڑھے تو فقیر غلام فریدؒ نے وہاں موجود لوگوں سےحکیم سنائی کے اَحوالِ زندگی، اُن کے کلام کے محاسن اور اُن کی عارفانہ شعر گوئی کے بارے میں ایک بھرپور گفتگو بھی کی۔

چاچڑاں کی ایک چھوٹی سی بستی میں رہنے والے اِس سادہ اِنسان کو ابنِ عربی کی اِس قدر اَدَق عربی اور حکیم سنائی کی اِس قدر مشکل فارسی کیسے سمجھ میں آ جاتی تھی، یہ بات آج بھی بہت سے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔

فقیر غلام فریدؒ کو عربی اور فارسی کے علاوہ قدیم ہندی اور سنسکرت پر بھی بڑا عُبور حاصل تھا۔ آپ کے دِیوان کی کچھ کافیاں نہایت اَدَق قدیم سنسکرت اور پوربی زبان میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔

ایک مرتبہ صحرائے چولستان میں سفر کے دوران آپ کو ایک پتھر پڑا نظر آیا، جس پر شاستری زبان میں باپ کی طرف سے بیٹے کے نام ایک پیغام کَندہ تھا: ’بیٹے فلاں! تمہارے لیے چھوڑا میرا خزانہ اِس پتھر کے نیچے مدفون ہے۔‘

فقیر غلام فریدؒ نے پتھر اُٹھایا اور ریتلی زمین کو ہاتھ سے کُریدا تو نیچے واقعی تانبے کا ایک برتن موجود تھا، جس میں سونے کی ڈلیاں، قیمتی پتھر، جواہرات اور دوسری بیش قیمت اَشیا پر مشتمل خزانہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے برتن کو اُسی طرح بند کیا، اُس پر مٹی ڈالی، پتھر واپس اپنی جگہ رکھا اور چل دیے۔

کچھ دِنوں بعد کہیں بیٹھے ہوئے چولستان کے اپنے ساتھیوں سے اِس واقعے کا ذِکر کیا۔ اُنہیں بتایا کہ شاید راجپوتانے کا کوئی راجہ کسی جنگ میں شکست کھا کر فرار ہوتے ہوئے یہاں خزانہ دفن کر گیا ہے، اور یہ بھی بتایا کہ مَیں نے پتھر کے نیچے وہ خزانہ بچشمِ خود دیکھا ہے۔

یہ سُن کر سب پہلے حیران ہوئے اور پھر خفا۔ کہنے لگے کہ آپ تو غنی ہیں، آپ کو دولت کی نہ غرض ہے نہ طلب؛ ہمیں ہی بتا دیا ہوتا، ہم ہی وہ خزانہ نکال لیتے! یہ آپ نے ہمارے ساتھ بڑا ظلم کیا۔

فقیر غلام فریدؒ سب کی باتیں سُنتے رہے، پھر فرمایا:

’باپ کی بیٹے کے لیے اَمانت تھی؛ وہی نکالے تو نکالے، ہم کسی کی اَمانت میں کیوں ہاتھ ڈالیں۔‘

فقیر غلام فریدؒ بڑے سادہ دِل اِنسان تھے، اِس لیے کسی کا دِل توڑنے سے بھی بہت ڈرتے تھے۔

ایک مرتبہ ماہِ رمضان کے پہلے روزے میں عصر کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے تھے کہ مارواڑ سے ناٹک دکھانے والوں کا ایک ٹولا آپ کی سخاوت کا سُن کر چاچڑاں شریف آن پہنچا۔ آپ کا پوچھتے پُچھاتے وہ مسجد تک آ گئے۔ اُن دنوں مسجدوں کی بیرونی دیواریں بہت چھوٹی، قریب گھٹنوں تک اُونچی ہوا کرتی تھیں۔ ناٹک دکھانے والے مسجد سے باہر ہی کھڑے رہے اور اُن کے بڑے نے دیوار کے پار سے عرض کیا: حضور! مارواڑ سے آئے ہیں، آپ کو اپنا ناٹک دکھانا چاہتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ ہمارا تو رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ دِن میں ہم روزہ رکھتے ہیں اور روزے کے بعد نمازِ عشاء اور دوسری نفلی عبادات کی تیاری ہوتی ہے؛ رمضان میں ہم ناٹک کیسے دیکھیں؟

یہ سُن کر سب کے چہرے اُتر گئے؛ کہنے لگے: ’ہم مارواڑی ہندو ہیں، ہمیں تو عِلم ہی نہیں تھا کہ آپ مسلمانوں کے ہاں کوئی رمضان کا مہینہ بھی ہوتا ہے، ورنہ ہم اتنی دُور سے آتے ہی نہ۔‘

فقیر غلام فریدؒ نے اُن کے اُترے ہوئے چہرے دیکھے اور اُن کی مایوسی بھری بات سُنی تو فرمایا: چلو میاں! تم اپنے ناٹک کی تیاری کرو، رات ہم تمہارا ناٹک دیکھیں گے۔

فقیر غلام فریدؒ نمازِ عشاء اور تراویح سے فراغت کے بعد مسجد کے اندر ہی بیٹھے رہے اور وہ لوگ اُسی گھٹنوں اونچی مسجد کی بیرونی دیوار سے باہر اپنا ناٹک دکھاتے رہے۔ ناٹک ختم ہوا تو آپ نے اُنہیں جی بھر کر اِنعام و اِکرام دیا۔ وہ خوش ہوئے اور اگلی صبح اپنا سامان باندھ کر واپس روانہ ہو گئے۔

دو دِن بعد فقیر غلام فریدؒ ، مولوی رکن الدین نامی اپنے ایک مصاحب سے کہنے لگے: طبیعت بڑی گراں ہے۔ لگتا ہے کہ ہم نے رمضان کے مہینے میں یہ جو ناٹک دیکھا ہے، اُسی کے سبب طبیعت پر یہ گرانی پڑی ہے۔

مولوی رکن الدین نے عرض کیا: تو پھر آپ نہ دیکھتے، اِنکار ہی کر دیتے۔

فقیر غلام فریدؒ نے فرمایا:

’اُن کا دِل ٹوٹ جاتا۔‘

فقیر غلام فریدؒ کے بہت سے مُریدین تھے، مگر وہ دوسرے بہت سے پیروں کی طرح اپنے مُریدین سے خدمت کروانے کے بجائے اُلٹا اُن کی خدمت کرتے تھے۔ مُریدین آپ کے پاس آتے تو آپ اُنہیں اہتمام کے ساتھ کھلاتے پلاتے اور اُن کی خاطر تواضع کرتے۔ کسی کا کوئی دُنیاوی کام ہوتا تو ریاست بہاولپور کے متعلقہ اَفسر کے نام رُقعہ بھی لکھ دیتے، اور کوئی دُعا کے لیے کہتا تو اُس کے لیے دُعا بھی کرتے۔

کسی نے ایک مرتبہ پوچھا کہ باقی پیر تو اپنے مُریدین سے خدمت کرواتے ہیں، آپ اُلٹا اپنے مُریدین کی خدمت کرتے ہیں؟

فقیر غلام فریدؒ نے فرمایا:

’جو پیر دُنیا میں اپنے مُریدین کی مدد نہیں کرتا، وہ آخرت میں اُن کی کیا مدد کرے گا؟‘

فقیر غلام فریدؒ نے ۱۸۷۶ء میں حجِ بیتُ اللہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ آپ اپنی بستی چاچڑاں سے ، سُنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں ، اونٹنی پر سوار ہوئے اور اسی پر سفر کرتے ہوئے خان پور ریلوے اسٹیشن تک پہنچے۔ وہاں سے بھاپ کے انجن سے چلنے والی ریل گاڑی کے ذریعے بمبئی تک کا سفر کیا ۔ بمبئی کی بندرگارہ سے جدہ تک کا آپکا سفر بحری جہاز سے مکمل ہوا ۔

حج سے فراغت کے بعد مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ تک کا سفر فقیر غلام فریدؒ نے اُونٹ کی سواری پر کیا۔ اُن دنوں اِس سفر میں عموماً نو سے بارہ دِن لگ جاتے تھے۔ لیکن آپ اِس سفر میں ’تھیواں صدقے، صدقے، آیا شہر مدینہ‘ (مَیں صدقے صدقے جاؤں، کہ شہرِ مدینہ آنے کو ہے) کہتے گئے۔

فقیر غلام فریدؒ کو عِلمُ النّجوم کی مدد سے سفری زائچہ بنانے میں بھی بڑی مہارت حاصل تھی اور آپ چاند کی منزلوں کا عِلم بھی بخوبی جانتے تھے۔ چاچڑاں سے سفر پر نکلنے لگے تو اپنے سفری زائچے کے حساب سے آپ نے تخمینہ لگایا کہ جب مَیں مدینہ منوّرہ پہنچوں گا، چاند اپنی منزلِ ’ولی‘ میں داخل ہو چکا ہوگا۔

اِتّفاق دیکھیے کہ سفر کرتے کرتے جس رات فقیر غلام فریدؒ حصارِ مدینہ میں پہنچے اور پڑاؤ کیا، اُسی رات چاند بھی اپنی منزلِ ولی میں داخل ہوا۔ بہت سوں کو آج تک یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ ’بُلوغُ الارب‘ میں مذکور چاند اور ستاروں کی منازل کا یہ پیچیدہ عِلم آپ نے چاچڑاں جیسی دُور اُفتادہ بستی میں بیٹھ کر کیسے سیکھ لیا ہوگا۔

سفرِ حج کے دوران فقیر غلام فریدؒ نے عشقِ نبوی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم سے سرشار کئی رُوح پرور اَشعار بھی کہے، جو آپ کے دِیوان کی مختلف کافیوں میں موجود ہیں۔

ریڈیو پاکستان کا فقیر غلام فریدؒ سے بہت دِلی ربط چلا آ رہا ہے۔ آپ کی ۲۷۱ کافیوں میں سے ۹۱ مختلف کافیاں ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنوں پر، مختلف اَدوار میں، مختلف گویّوں کی آوازوں میں ریکارڈ ہو چکی ہیں اور آج بھی محفوظ ہیں۔

زاہدہ پروین، فقیر غلام فریدؒ کا کلام بڑی خوب صورتی سے گاتی رہی ہیں۔ اُنہیں آپ سے عقیدت بھی بہت زیادہ تھی۔ ایک مرتبہ عُرس کے دنوں میں وہ کوٹ مِٹھن شریف میں آپ کے مزار کے زنان خانے میں بیٹھی تھیں کہ کسی نے اُنہیں گراموفون کی تھالی پر چھپنے والی اُن کی تصویر کی مدد سے پہچان لیا۔

مزار کے اَحاطے میں خلقت کا اَژدِہام تھا۔ چند ہی لمحوں میں لوگوں کے درمیان یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ زنان خانے میں زاہدہ پروین بیٹھی ہیں۔ وہ باہر نکلیں تو فقیر غلام فریدؒ کے عقیدت مندوں نے اُنہیں گھیر لیا۔ ایک نے کہا: آپ زاہدہ ہیں تو ایک کافی سُنا دیں۔

کہنے لگیں: میرے ساتھ سازندے تو ہیں نہیں۔

کسی سوختہ دِل فریدی نے کہا: زاہدہ! اپنے مُرشد کے نام پر مُرشد کی ایک کافی سُنا دو۔

زاہدہ پروین تڑپ اُٹھیں۔ اپنے ہاتھ ناف پر باندھے اور فقیر غلام فریدؒ کی ایک کافی بغیر کسی ساز کے گانے لگیں۔ گاتے گاتے اُن کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سُننے والوں پر بھی ویسی ہی کیفیت طاری ہو گئی؛ اُن کی آنکھوں میں بھی نمی اُترنے لگی۔

ایک کافی ختم ہوئی تو کسی نے کہا: مُرشد کے نام پر ایک اور کافی۔

مُرشد کے نام سے اِنکار نہ ہو پایا۔ زاہدہ پروین نے دوسری کافی اُسی طرح برستی آنکھوں کے ساتھ گائی۔ پھر تیسری، پھر چوتھی اور پھر پانچویں۔

جب پانچویں کافی ختم ہوئی تو مزار کے اَحاطے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر فریدی نم دیدہ آنکھوں کے ساتھ کھڑا رو رہا تھا۔ کلامِ فرید میں سوز و گداز بھی تو کچھ کم نہیں؛ یہ پتھر سے پتھر دِلوں کو موم بنا دیتا ہے۔

زاہدہ پروین اگر فقیر غلام فریدؒ سے اپنی عقیدت میں منفرد تھیں تو فقیر غلام فریدؒ کا اُن پر رُوحانی دستِ شفقت بھی منفرد رہا ہے۔ آج بھی زاہدہ پروین کا شمار فقیر غلام فریدؒ کا کلام گانے والے بڑے گویّوں میں ہوتا ہے۔

فقیر غلام فریدؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ سورج کی مانند ہیں۔ جس طرح سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرنے والا سیارہ اُسی کی کشش سے وابستہ رہتا ہے، اُسی طرح آپ سے رُوحانی اور قلبی محبّت میں گرفتار کوئی سالک بھی پھر زندگی بھر آپ کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتا۔

فقیر غلام فریدؒ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: ’فقیر بننا چاہتا ہوں، کوئی نسخہ بتائیں!‘ تو آپ نے اپنے دِیوان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’فریدی کافیاں پڑھتے رہو، فقیر بن جاؤ گے۔‘

فریدی کافیوں میں بہت سے اَسرار و رُموز پنہاں ہیں، اِس لیے تو فقیر بننے والے اُنہیں پڑھتے اور سُنتے ہیں۔

آج فقیر غلام فریدؒ کے ۱۲۸ویں عُرس پر ریڈیو پاکستان، اپنے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر تمام کارکنان کی طرف سے آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ یہ قومی ادارہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی آپ کی کافیوں کی نشر و اِشاعت کے ذریعے آپ کے رُوحانی فیض کو عام کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

بقولِ فقیر غلام فریدؒ:

’رانجھن مینڈا۔۔۔۔ ۔۔۔مَیں رانجھن دی
کھیڑیاں دے مُنہ ،بھسّ وے میاں جی!‘

(ترجمہ: رانجھا میرا، اور مَیں رانجھے کی ہوں۔ کھیڑوں کے مُنہ میں خاک!)

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


fans Radio Pakistan Bahawalpur RadioPakistan Karachi FM101abbottabad Radio Pakistan World Service NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Radio Pakistan Hyderabad Radio Pakistan Khairpur FM 101 FM93 Radio Pakistan Karachi FM101 Karachi Sports & Health Channel FM 94 Medium Wave Multan

22/09/2026

Programme. Rabita
Host: Mian Nadeem Ahmad
Guest: Rao Muhammad Iqbal Educationist
Producer : Imran Hassan
Engineer. Zahid Hussain
FM 93 Radio Pakistan Faisalabad

21/09/2026
21/09/2026

’جُگاڑ‘ سے ’جلوے‘ تک

ریڈیو پاکستان کراچی کے اِبتدائی چھ سالوں کی دِلچسپ داستان

جولائی ۱۹۴۷ء کا مہینہ تھا۔ ’تین جون منصوبے‘ کے تحت ہندوستان کے بٹوارے کا حتمی فیصلہ ہوچکا تھا اور اَہلِ کراچی، آل اِنڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے اِس فیصلے پر بہت خوش اور نہایت پُرجوش تھے کہ اُن کا شہر عَنقریب ایک نئی ریاست، مملکتِ خُداداد پاکستان، کا دارُالخلافہ بننے جارہا ہے۔ (بحوالہ: چودھری خلیق الزماں، ’پاتھ وے ٹو پاکستان‘، ص ۳۴۷)

شہر میں نئی حکومت کے حوالے سے ہمہ قِسم کی سرگرمیاں جوش اور وَلولے کے ساتھ جاری تھیں؛ گورنر جنرل آفس اور قانون ساز اسمبلی کیلئے درکار لوازمات کو پورا کرنا، مختلف سرکاری محکموں کے مرکزی دفاتر کے قِیام کیلئے مناسب جگہوں کی تلاش اور ہزاروں سرکاری اَہلکاروں کیلئے مناسب رہائش گاہوں کا اِنتظام یہاں موجود اَفسر شاہی کی اَوّلین ترجیحات تھیں اور حسبِ توقع اِس شہر کی سول سوسائٹی اِس ضمن میں سرکاری اَفسران کو اپنی بھرپور معاونت فراہم کررہی تھی۔

تاہم جولائی ۱۹۴۷ء کے اِس جوش و خروش سے بے نیاز، کراچی کی فریئر روڈ پر ریڈیو کی دُکان کے مالک، ایس۔کے۔حیدر ( اصل نام : سید کرار حیدر ، جو کرار جونپوری کے نام سے بھی معروف تھے)، کو ایک الگ ہی فِکر گھائل کیے جارہی تھی۔ وہ سَر تا پا ایک ہی اِضطراب میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی طرح جُگاڑ لگا کر اپنے شہر کو ایک خاص حوالے سے پشاور، لاہور اور ڈھاکہ کے برابر لا سکے۔ جُگاڑ کا مکمل خاکہ اُس نے اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھا تھا، مگر اُسے چند چیدہ اَفراد کی مدد اور سرپرستی درکار تھی۔

’جُگاڑ‘ برِصغیر، اور خصوصاً کراچی کی بول چال کا ایک بڑا دِلچسپ لفظ ہے؛ ’جُگاڑ‘ اُس وقتی ترکیب، ہنگامی تدبیر یا کام چلاؤ اِنتظام کو کہتے ہیں جس میں مطلوبہ وسائل مُیسر نہ ہوں، مگر پھر بھی کوئی آدمی دستیاب چیزوں کو جوڑ جاڑ کر اپنی عقل، ہُنر اور حاضر دِماغی سے کام نکال لے۔

جُگاڑ لگانے والے شخص کو بے تکلفی سے ’جُگاڑی‘ کہا جاتا ہے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے جُگاڑ کا خاکہ لے کر کراچی کے باسی دو بھائیوں، اَحمد غلام علی چھاگلہ اور علی محمد چھاگلہ، کے پاس جا پہنچے۔ چھاگلہ برادران شہر کے بااَثر اور جانے پہچانے لوگوں میں شمار ہوتے تھے، اور ایس۔ کے۔ حیدر جس معاملے میں اُن کی مدد و معاونت چاہتے تھے، اُس کے لیے یہ دونوں بھائی موزوں ترین اَفراد تھے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اور چھاگلہ برادران کے درمیان کئی دن مشاورت ہوتی رہی، جس کے بعد یہ تینوں ہم مشورہ اور ہم صلاح ہوکر حکومتِ سندھ کے مشیر، شری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی، کے پاس جا پہنچے۔ اِدنانی ایک عملی آدمی تھے اور اپنے صوبے اور بالخصوص کراچی شہر کیلئے ہمیشہ ہی کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اُنہیں بھی ایس۔ کے۔ حیدر کی تدبیر پسند آئی اور یوں وہ اِس منصوبے کی سرپرستی اور اِسے سندھ حکومت کی حد تک سرکاری سطح پر آگے بڑھانے میں باقی تینوں اَفراد کے رابطہ کار اور معاون بن گئے۔

اب اِس جُگاڑ کو عملی شکل دینے کا وقت آن پہنچا تھا، جو ایس۔ کے۔ حیدر کے زرخیز ذہن نے سوچ رکھا تھا۔

کراچی جِم خانہ ہال میں دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا ایک پُرانا فوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر بیکار پڑا تھا۔ برطانوی اور امریکی اَفواج اِس ٹرانسمیٹر سے بحیرۂ عرب میں موجود اپنی بحری کشتیوں تک پیغام رسانی کا کام لیتی رہی تھیں۔ ایس۔ کے۔ حیدر کی تجویز یہ تھی کہ اِس ٹرانسمیٹر کو وہاں سے نکالا جائے، اِس کے ناکارہ یا گم شدہ پُرزوں کو کراچی کے کباڑ بازار سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر پورا کیا جائے اور پھر اِسے کسی مناسب اور کھلی جگہ پر نصب کرکے اَہلِ کراچی کو آل اِنڈیا ریڈیو سے بالا بالا اپنا ایک ریڈیو اسٹیشن مہیا کردیا جائے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے تئیں یہ تہیہ کرچکے تھے کہ اُنہیں کسی بھی ممکن طریقے سے قِیامِ پاکستان سے پہلے پشاور، لاہور اور ڈھاکا کی طرح کراچی میں بھی ریڈیو نشریات شروع کردینی چاہییں ؛ اُن کے نزدیک اگر کراچی میں آل اِنڈیا ریڈیو کا کوئی باقاعدہ ریڈیو ٹرانسمیٹر موجود نہیں تھا تو کیا ہوا؟ جُگاڑ لگانے میں کیا حرج ہے ! چل گیا تو تیر، نہ چلا تو تُکّا۔

شِری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی کی سَرپَرستی کیا حاصِل ہوئی، گویا ایس۔ کے۔ حیدر کو پَر لگ گئے۔ اُنہوں نے کراچی جِم خانہ اِنتظامیہ سے جِم خانہ ہال کے تالے کھلوا کر وہاں بیکار پڑے پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کو نِکلوایا اور کِلفٹن میں واقِع ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرکوں میں مُنتقل کردیا۔

اِس ٹرانسمیٹر کے جو پُرزے ناکارہ یا گُم تھے، اُنہیں ایس۔ کے۔ حیدر نے بذاتِ خود اور اپنی دُکان میں کام کرنے والے معاونین کی مدد سے کراچی کے کباڑ خانوں سے ڈُھونڈ ڈھانڈ کر پُورا کیا۔ فریئر روڈ کی اُن کی ریڈیو دُکان میں کام کرنے والے مکینکوں نے ہی اِس ٹرانسمیٹر کی تنصیب کا کام بھی مکمل کیا۔

’اَیک اَیک‘ اُس زمانے میں طَیّارہ شِکَن توپ خانے کے لیے اِستعمال ہونے والی فَوجی اِصطلاح تھی۔ ’اَیک اَیک اِسکول‘ برطانوی فَوج کا ایک تربیتی اِدارہ تھا جس میں اینٹی ائیرکرافٹ آلات چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ سِندھ حکومت کا سَرکاری ریکارڈ ’اَیک اَیک اِسکول‘ کا مَقام کِلفٹن، کراچی ظاہر کرتا ہے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک کے ایک کمرے میں ٹرانسمیٹر لگ گیا تو دُوسرے کمرے کو عارضی نَشریاتی اِسٹوڈیو کی شَکل دے دی گئی۔ آواز کی گُونج کم کرکے مُناسِب صَوتی ماحول پَیدا کرنے کے لیے کمرے میں موٹے کپڑے کے بھاری پَردے لٹکا دیے گئے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ میں ریڈیو نَشریات کے اِس عارضی بَندوبست کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کا نام دیا گیا۔ اِس بَندوبست کی کوئی قانونی شَکل نہیں تھی اور یہ لے دے کر ہر طرف سے بس ایک ’جُگاڑ‘ ہی تھا۔

اور پھر ۵ اَگست ۱۹۴۷ء کا وہ یادگار دِن آگیا جس میں یہ انکشاف ہونا تھا کہ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ چلتا بھی ہے یا نہیں؛ ناکامی کے امکانات ، کامیابی کے امکانات سے کہیں زیادہ تھے ۔

تاہم ’اَیک اَیک اِسکول‘، کِلفٹن میں جب اِس پُرانے ٹرانسمیٹر کو آن کیا گیا تو اِس نے خُوش قِسمتی سے سِگنل دینا شُروع کردیے۔ تَجرِبہ کامیاب رہا تھا۔ پانچ روز بعد، ۱۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے کلفٹن کے ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی عمارت سے اپنی باقاعدہ نَشریات شُروع کردیں۔یہ کراچی کا پہلا ریڈیو اسٹیشن تھا۔

دَستیاب رِوایت کے مُطابِق ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات تقریباً ۲۰۰ میٹر ویو لینتھ پر پیش کی جاتی تھیں، جو فریکوئنسی کے حِساب سے تقریباً ۱۵۰۰ کِلوہرٹز، یعنی ۱.۵ میگاہرٹز بنتی ہے۔

اِس پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کی اَصل طاقت کتنے واٹ یا کِلوواٹ تھی؟ اِس کی قابِلِ اِعتماد تَفصیل دَستیاب ریکارڈ میں نہیں مِلتی، جس کی اِمکانی وجہ اِس ٹرانسمیٹر کی فَوجی مَقاصد کیلئے تیاری اور اِستعمال تھا۔

۱۰ اَگست ۱۹۴۷ء سے ۱۳ اَگست ۱۹۴۷ء تک کے چار دِنوں میں ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ سے موسیقی اور ڈرامے سمیت مختلف نوعیت کے پروگرام نَشر ہوتے رہے، جنہیں اَہلیانِ کراچی بڑے شوق سے اپنے ریڈیو سیٹوں پر سُنتے اور اُن سے مَحظوظ ہوتے رہے۔

’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریڈیو اِسٹیشن تھا، جس کی ہر شے عارضی نوعیت کی تھی۔ وسائل بھی نہایت محدود تھے اور اِسٹوڈیو بھی ایک فَوجی بیرک میں قائم کیا گیا تھا، لیکن کمال یہ ہے کہ اِسی کے طُفیل کراچی میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ریڈیو نَشریات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پھر ۱۴ اَگست ۱۹۴۷ء کا تاریخی دِن آن پہنچا۔ پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھرا اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے اُس دِن معمول کے موسیقی اور ڈرامے کے پروگراموں کی بجائے قِیامِ پاکستان کی تاریخی تقریبات اور قائدِاعظم کی حلف برداری کی آنکھوں دیکھی روداد اپنے سامعین تک پہنچائی۔

تاہم کراچی کے اِس پہلے عارضی ریڈیو اِسٹیشن کی زندگی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ قِیامِ پاکستان کو ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک قانونی رُکاوٹ سامنے آگئی؛ ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی رُو سے صوبائی حکومت کے لیے اپنے طور پر ریڈیو اِسٹیشن چلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ ۲۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو، باقاعدہ نَشریات شروع ہونے کے صرف دس روز بعد، ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات بند کردی گئیں۔

یوں کراچی کی فضا میں چند روز پہلے اُبھرنے والی ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی یہ آواز محض دس روز بعد ہی خاموش ہوگئی۔ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ فَنّی اور اِنجینئرنگ کے اِعتبار سے تو بڑی کامیابی سے چل گیا، مگر اِنتظامی طور پر ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی زد میں آگیا۔

۲۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ سے چلنے والا ریڈیو بند ہوگیا، مگر نئے مُلک کے دارُالخلافہ کراچی کو ایک مستقل اور مناسب طاقت کے ریڈیو اِسٹیشن کی ضرورت بدستور موجود تھی۔ اِس لیے حکومت نے ریڈیو نَشریات کی ترقی کے لیے ایک ترجیحی منصوبہ بنایا، جس میں وفاقی دارُالخلافہ کراچی کے لیے میڈیم ویو، جبکہ کراچی اور ڈھاکا کے لیے شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کی تنصیب تجویز کی گئی۔ اِن شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کا ایک اہم مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطہ قائم کرنا بھی تھا۔

ریڈیو پاکستان کے چیف اِنجینئر ریاض اَحمد کو اکتوبر ۱۹۴۷ء میں برطانیہ اور امریکا بھیجا گیا تاکہ نئے ٹرانسمیٹر اور ضروری نَشریاتی سازوسامان حاصل کیا جاسکے۔ اِسی منصوبے کے تحت امریکا سے دو ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر اور ایک ۱۰ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر خریدے گئے، جنہیں کراچی کے قریب لانڈھی میں نصب کیا جانا تھا۔

لیکن اِن بڑے ٹرانسمیٹروں کی تنصیب میں ابھی وقت درکار تھا اور حکومت چاہتی تھی کہ پاکستان کی پہلی سالگرہ تک کراچی سے ریڈیو پاکستان کی آواز ضرور سُنائی دینے لگے، لہٰذا ایک مرتبہ پھر عارضی اِنتظام کا سہارا لیا گیا۔

کراچی کے نمبر ۶ اِنٹیلی جنس اِسکول کی ایک پُرانی اور خستہ حال بیرک کو کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا روپ دے دیا گیا؛ دفتری اَہلکاروں کے لیے بیرک کے باہر خیمے لگادیے گئے، جبکہ بیرک کے اندر اِسٹوڈیو قائم کیے گئے۔ ٹرانسمیٹر کی تنصیب کے لیے مناسب اینٹینا ماسٹ دستیاب نہ ہوا تو جُگاڑ لگا کر کراچی میونسپل کارپوریشن کا لوہے کا ایک گٹر پائپ ہی ماسٹ بنادیا گیا۔

یوں ایک بار پھر جُگاڑی اِنتظام کے ساتھ ۱۰۰ واٹ کا میڈیم ویو اور ۲۵۰ واٹ کا شارٹ ویو ٹرانسمیٹر نصب کردیا گیا اور کراچی کا عارضی ریڈیو اِسٹیشن مُلک کی پہلی سالگرہ تک اِفتتاح کے لیے تیار ہوگیا۔

بالآخر ۱۴ اَگست ۱۹۴۸ء کے دِن وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے ہاتھوں اِفتتاح کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی نے اپنی باقاعدہ نَشریات کا آغاز کردیا۔ اِفتتاحی تقریب کا آغاز مولانا شبیر اَحمد عثمانی کی تلاوتِ قرآنِ مجید اور دُعا سے ہوا، جبکہ وزیرِاعظم کے علاوہ وزیرِ اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین نے بھی اِس موقع پر تقریر کی۔ سجاد سرور نیازی کراچی اِسٹیشن کے پہلے اِسٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

اِفتتاحی نَشریات کے دوران ایک دِلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان قوم سے خطاب کررہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ کنٹرول روم میں جنریٹر چل پڑا، اِس لیے نَشریات میں تعطل نہ آیا، مگر اِسٹوڈیو اندھیرے میں ڈوب گیا۔ زیڈ۔ اے۔ بخاری نے ٹارچ روشن کرکے وزیرِاعظم کے سامنے رکھے متن پر روشنی ڈال دی اور لیاقت علی خان نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

تقریر ختم ہوئی تو لیاقت علی خان نے پوچھا کہ اِسٹوڈیو میں پیٹرومیکس کیوں نہیں رکھا گیا؟ بخاری نے جواب دیا کہ پیٹرومیکس خریدنے کے لیے وزارتِ خزانہ کی منظوری درکار ہے۔ اِس پر وزیرِاعظم نے وہیں دو پیٹرومیکس خریدنے کی خصوصی اجازت دے دی۔

تاہم ریڈیو پاکستان کراچی کو مستقل اور زیادہ طاقت وَر نَشریاتی سہولت فراہم کرنے کی طرف پہلی بڑی پیش رفت یکم نومبر ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جب لانڈھی میں ۱۰ کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ یہ ۳۶۳.۶ میٹر ویو لینتھ، یعنی ۸۲۵ کلوہرٹز پر نَشریات پیش کرتا تھا اور کراچی کے اِبتدائی ۱۰۰ واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے مقابلے میں سو گُنا زیادہ طاقت وَر تھا۔ اِسٹوڈیو بدستور اِنٹیلی جنس اِسکول کی بیرکوں میں قائم تھا اور وہاں سے لانڈھی کے ٹرانسمیٹر تک پروگرام پہنچانے کے لیے فریکوئنسی ماڈیولیٹڈ لنک اِستعمال کیا جاتا تھا۔

اگلے برس، ۱۴ اَگست ۱۹۴۹ء کو، لانڈھی میں ۵۰ کلوواٹ کا پہلا ہائی پاور شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ اِس نئی سہولت کا اِفتتاح گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کیا۔ اِسی روز ریڈیو پاکستان نے عربی، ایرانی، اَفغان فارسی اور برمی زبانوں میں اپنی چار بیرونی نَشریاتی سروسوں کا آغاز کردیا۔

لانڈھی کا دوسرا ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر ۲۵ دسمبر ۱۹۴۹ء کو کام میں آگیا۔ اِس کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے تکنیکی ترقی کے ترجیحی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطے کے ساتھ پاکستان کی آواز بیرونِ مُلک پہنچانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اِضافہ ہوگیا۔

یوں ایس۔ کے۔ حیدر کے اُس چند روزہ جُگاڑ سے شروع ہونے والی کراچی کی ریڈیو کہانی صرف دو برس کے اندر اِس مقام تک پہنچ گئی کہ اب کراچی سے اُٹھنے والی آواز پاکستان کی سرحدوں سے بہت دُور تک سُنی جانے لگی تھی۔

لانڈھی میں نئے اور زیادہ طاقت وَر ٹرانسمیٹروں کے آغاز سے ریڈیو پاکستان کراچی کی نَشریاتی طاقت تو بڑھ گئی، لیکن اِسٹیشن اب بھی کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے کام کررہا تھا۔ دارُالخلافہ کے ریڈیو اِسٹیشن اور ریڈیو پاکستان کے مرکزی اِنتظامی دفاتر کے لیے اب ایک مستقل براڈکاسٹنگ ہاؤس کی ضرورت شِدّت سے محسوس ہونے لگی۔

اِبتدا میں ایک نیا براڈکاسٹنگ ہاؤس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن مختلف مشکلات کے باعث نئی عمارت کی تعمیر کا اِرادہ مؤخر کرنا پڑا۔ اِسی دوران بندر روڈ (موجودہ ایم۔ اے۔ جناح روڈ) پر واقع ڈسٹرکٹ بورڈ کی ایک سرکاری عمارت، جو اُس وقت خالی پڑی تھی، ریڈیو اِنتظامیہ کی نظر میں آگئی۔ عمارت اپنی نہیں تھی اور نہ ہی ریڈیو اِسٹیشن کی ضروریات کے مطابق بنائی گئی تھی؛ سو طے پایا کہ فی الحال اِسی عمارت کو ریڈیو کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر براڈکاسٹنگ ہاؤس بنالیا جائے۔

یوں کراچی ریڈیو کی کہانی میں ایک اور جُگاڑ کام آگیا۔ عمارت کی نچلی منزل کو دفاتر کے لیے تیار کیا گیا، جبکہ بالائی حصے میں باقاعدہ اِسٹوڈیوز قائم کیے گئے۔ یہ محض کمروں میں مائیکروفون رکھ دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ اِسٹوڈیوز کو بیرونی شور اور عمارت میں پیدا ہونے والے اِرتعاش سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی فَنّی اِنتظامات کیے گئے۔

یہ کام ۱۹۵۱ء میں مکمل ہوا اور ۱۶ جولائی ۱۹۵۱ء کو وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے ایم۔ اے۔ جناح روڈ کے اِس براڈکاسٹنگ ہاؤس کا باقاعدہ اِفتتاح کردیا۔ کراچی ریڈیو اِسٹیشن کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے نکل کر اِس عمارت میں منتقل ہوگیا۔ یوں جس ریڈیو کی کراچی میں کہانی صرف چار برس پہلے ایک پُرانے فَوجی ٹرانسمیٹر، کباڑ بازار کے پُرزوں اور ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک سے شروع ہوئی تھی، اب اُس کے پاس ایک باقاعدہ براڈکاسٹنگ ہاؤس تھا۔

کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا یہ براڈکاسٹنگ ہاؤس اپنے نئے اِسٹوڈیوز، کنٹرول روم اور بہتر نَشریاتی سہولتوں کے ساتھ، دارُالخلافہ میں واقع ہونے کے باعث، اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی آمدورفت کا مقام بھی بننے لگا۔

دسمبر ۱۹۵۳ء میں امریکا کے نائب صدر رچرڈ نکسن اپنے طویل غیر ملکی دورے کے اِختتامی مرحلے میں اپنی اہلیہ پیٹ نکسن کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ ۸ دسمبر کو اُن کے پروگرام میں ریڈیو پاکستان کراچی کا دورہ بھی شامل تھا۔

براڈکاسٹنگ ہاؤس پہنچنے پر ریڈیو پاکستان کے سربراہ سیّد ذوالفقار علی بخاری (زیڈ۔ اے۔ بخاری) نے اُن کی میزبانی کی۔ اِس موقع پر اُن کے بڑے بھائی، نام وَر ادیب، سابق ڈائریکٹر جنرل آل اِنڈیا ریڈیو اور اُس وقت اَقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سیّد اَحمد شاہ ’پطرس‘ بخاری بھی موجود تھے۔ پطرس بخاری ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۴ء تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے رہے۔

رچرڈ نکسن نے ریڈیو پاکستان سے پاکستانی سامعین کے لیے خطاب کیا اور وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔ اِس دورے کی محفوظ تصویری دستاویز میں بھی نکسن کو ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اِس دورے کی چند تصاویر آج بھی اُس تاریخی لمحے کو محفوظ کیے ہوئے ہیں؛ ایک تصویر میں نکسن ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک پر اپنے تاثرات لکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری میں زیڈ۔ اے۔ بخاری اور پطرس بخاری اُن کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر میں دیوار پر لگی ’ای۔ پی۔ ٹی‘ یعنی ’ایسٹ پاکستان ٹائم‘ کی گھڑی کی سوئیاں ۵ بج کر ۳۵ منٹ پر ٹھہری دکھائی دیتی ہیں۔

۱۹۴۷ء میں کراچی ریڈیو کی جس کہانی کا آغاز ایک جُگاڑ سے ہوا تھا، ۱۹۵۳ء تک اُس کہانی پر ’جلوہ‘ غالب آچکا تھا؛ دنیا کی ایک بڑی طاقت امریکا کا نائب صدر کراچی کے براڈکاسٹنگ ہاؤس میں بیٹھا ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کررہا تھا۔

اور ’جلوے‘ کی بات کچھ ایسی مبالغہ آمیز بھی نہ تھی؛ تقریباً پندرہ برس بعد، جنوری ۱۹۶۹ء میں جب یہی رچرڈ نکسن امریکا کے سینتیسویں صدر بنے تو ۱۹۵۳ء میں ریڈیو پاکستان کراچی میں محفوظ ہونے والا وہ لمحہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی تاریخی بن گیا۔

یوں کراچی ریڈیو کے اِبتدائی چھ برسوں کی یہ داستان واقعی ’جُگاڑ سے جلوے تک‘ کا سفر ثابت ہوتی ہے۔ وسائل کم تھے، مشکلات بہت تھیں، مگر کام کرنے والوں میں ہُنر، حوصلے اور کچھ کر گزرنے کی لگن کی کمی نہ تھی۔ ایک ناکارہ فَوجی ٹرانسمیٹر سے اُبھرنے والی آواز چند ہی برس میں ایک باقاعدہ اور باوقار نَشریاتی اِدارے کا روپ دھار چکی تھی۔

یہی ریڈیو پاکستان کے اُس شاندار ماضی کا اَصل جلوہ تھا—اور بفضلِ خدا، یہ جلوہ آج بھی قائم و دائم ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

Address

Radio Pakistan, D Ground, Peoples Colony No. 1
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category