FM 101 Faisalabad (Official)

FM 101 Faisalabad (Official) This is a lounge for all the family member 's of 101. You are a listener or a Rj,
this is the right place for every one who wish to have fun.

Your feed back will be important to us as you are. Have FuN
with FM 1o1

15/09/2026
01/09/2026

*کراچی کا بڑا سلیم*

جَنوری ۱۹۷۴ء میں عُبیدُاللّٰہ علیم کی ‘چاند چہرہ ستارہ آنکھیں’ کی تقریبِ رُونُمائی کے موقع پر مُنعقدہ مُشاعرے میں دونوں سلیم پہلی مرتبہ عَوامی طَور پر اِکٹھے ہوئے۔ دونوں نے ہی اپنی اپنی غزلیں سُنائیں اور اِتفاق یہ تھا کہ دونوں کے مَقطعوں میں ‘سلیمؔ’ ہی تَخلُّص تھا؛ اَندازِ بَیان بھی یَکساں بے باکانہ اور اَشعار بھی یکساں طاقت وَر اور جِگر دوز!

ایسا لگتا تھا کہ دونوں سلیم ماہر تیر اَندازوں کی طرح اپنی اپنی شِعری تَرکش سے اَشعار کے تیر نکال نکال کر سامعین کے دِلوں کی طرف داغ رہے ہیں۔ اَہلِ کراچی کو یہ مُشاعرہ بہت دیر تک یاد رہا۔

مُشاعرہ کس نے لُوٹا، یہ سوال ایک طرف؛ اب اَہلِ کراچی کیلئے بڑا سوال یہ تھا کہ دونوں شُعرا میں تَفریق کیسے کریں؟

دِلچسپ بات یہ ہے کہ اِنہی برسوں میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو بھی ایک جیسے ناموں کا مسئلہ دَرپیش ہوا۔ ۱۹۷۵ء میں نوجوان منظور حسین قومی ٹیم میں شامل ہوئے تو فُل بیک منظور الحسن کی پہلے سے ٹیم میں موجودگی کے سبب ایک کو ‘منظور سینئر’ اور دوسرے کو ‘منظور جونیئر’ کا نام دے دیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر ہاکی کے کمنٹیٹر بھی بِلا تَکلُّف اُنہیں منظور جونیئر اور منظور سینئر کہہ کر میچ کا اَحوال سُناتے۔

کراچی میں بسنے والے چاہتے تو اپنے دونوں شاعروں کو بھی ‘سلیم سینئر’ اور ‘سلیم جونیئر’ کہہ سکتے تھے، مگر نہ جانے کیوں عَوامی مَحفلوں نے کھیل کے میدان کی اِصطلاح قبول کرنے کے بجائے زیادہ گھریلو اور بے تَکلُّف نام پسند کیے: ‘بڑا سلیم’ اور ‘چھوٹا سلیم’۔

سلیم احمد کراچی میں رہنے والوں کے لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔ شاید اِس لیے کہ بٹوارے کے بعد ہی سے وہ اُسے اپنے شہر کی اَدبی نشستوں اور شِعری مَحفلوں میں دیکھ اور سُن رہے تھے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھا؛ شِعری میدان میں مَعرکے بَرپا کرتا تھا اور اپنی الگ راہ نکالتا تھا۔ چُنانچہ اَہلِ کراچی کی نِگاہ میں وہ پہلے سے موجود، زیادہ تَجربہ کار اور اَدبی مَرتبے میں سینئر سلیم تھا—اِس لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔

دوسری جانب سلیم کوثر سَتّر کی دَہائی میں، ۱۹۷۲ء میں، کبیروالا سے کراچی آئے۔ کراچی کے مَنچ پر اُن کی آمد تاخیر سے ہوئی اور چُونکہ وہ سلیم احمد سے عُمر میں بیس برس چھوٹے اور کراچی کی حَد تک شُہرت میں بھی قَدرے پیچھے تھے، اِس لیے اُنہیں ‘چھوٹا سلیم’ کہا گیا۔

بڑے سلیم، یعنی سلیم احمد، تو اُن دنوں مُشاعروں میں کم کم دِکھائی دیتے تھے، لیکن چھوٹے سلیم نے کراچی پہنچنے کے بعد نہ صرف یہاں کے ہر مُشاعرے میں شِرکت کی بلکہ کئی ایک مُشاعروں کو تو اُنہوں نے حقیقی مَعنوں میں ‘لُوٹا’ بھی۔

یہ نام بِظاہر بے تَکلُّف بلکہ کسی قَدر گُستاخانہ مَعلوم ہوتے ہیں، لیکن کراچی کی اَدبی فَضا میں اُن کے اَندر تَحقیر نہیں، اَپنائیت پوشیدہ تھی۔ ‘بڑا’ عُمر، تَجربے اور پہلے سے قائم اَدبی مَرتبے کی علامت تھا اور ‘چھوٹا’ اُس نِسبتاً نوجوان شاعر کی شناخت، جو ابھی ابھی شہر میں آیا تھا مگر بہت تیزی سے اُس کی شِعری مَحفلوں پر چھاتا جارہا تھا۔

چھوٹا سلیم ہمیشہ بڑے سلیم کیلئے رَطبُ اللِّسان رہا ہے اور اب تک یہی کہتا ہے کہ ‘سلیم بھائی مجھ سے بہت مَحبّت کرتے تھے’۔

یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو ‘بڑا سلیم’، چھوٹے سلیم اور اپنے دیگر چاہنے والوں کو داغِ مُفارقت دے گیا۔ ‘چھوٹا سلیم’ علیل ہے اور اب وہ کراچی کا اِکلوتا سلیم ہے۔

آج کراچی والوں کے ‘بڑے سلیم’ اور اَدبی دنیا کے بھی ایک بڑے سلیم، سلیم احمد کی ۴۳ ویں بَرسی ہے۔

کراچی کے اِس ‘بڑے سلیم’ کا اَصلی نام سلیم احمد اور تَخلُّص ‘سلیمؔ’ تھا۔ وہ سیّد شرافت علی کے صاحب زادے تھے اور یکم دسمبر ۱۹۲۷ء کو ضلع بارہ بنکی کے قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے میں حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کرنے کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوگئے۔

میرٹھ کا زمانہ سلیم احمد کی فِکری اور اَدبی زندگی میں بڑی اَہمیت رکھتا ہے۔ وہاں اُنہیں پروفیسر کرّار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی جیسی شخصیات کی رَفاقت نصیب ہوئی۔ بالخصوص محمد حسن عسکری کے اَفکار نے اُن کے ذہن اور تنقیدی شُعور پر گہرا اَثر ڈالا۔ سلیم احمد نے ۱۹۴۴ء ہی میں شاعری شروع کردی تھی، گویا ہجرت سے پہلے ہی اُن کے اندر کا شاعر بیدار ہوچکا تھا۔

سلیم احمد نومبر ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور اپنی باقی تعلیم یہیں مکمل کی۔ ۱۹۵۰ء میں وہ ریڈیو پاکستان سے مُنسلک ہوئے۔ یہ وابستگی محض سرکاری مُلازمت تک محدود نہیں رہی؛ ریڈیو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بڑا وسیلہ بن گیا۔ اُنہوں نے ریڈیو کیلئے متعدد ڈرامے لکھے، پروگرام ترتیب دیے اور اَدبی و فِکری نشریات میں حِصّہ لیا۔

سلیم احمد بعدازاں وفاقی وزارتِ اطلاعات میں بھی کچھ عرصہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے مُشیر کی حیثیت سے مامور رہے۔ ریڈیو کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور اسٹیج کیلئے بھی ڈرامے تحریر کیے۔ نسیم حجازی کے معروف ناول ‘آخری چٹان’ کی ڈرامائی تشکیل بھی اُنہی کے نمایاں کاموں میں شامل ہے۔

سلیم احمد کا فَنّی سفر صرف ریڈیو اور ٹیلی وژن تک محدود نہیں رہا۔ اُنہوں نے فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور منظرنامے بھی لکھے۔ پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم کہی جانے والی ‘راز کی کہانی’ کی کہانی بھی اُنہی کے قلم سے نکلی اور اِس پر اُنہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ عطا کیا گیا۔

یوں ‘بڑا سلیم’ شاعری اور تنقید کے ساتھ ساتھ ریڈیو، ٹیلی وژن، اسٹیج اور فلم—چاروں میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتا رہا۔

سلیم احمد نے صحافت میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ ۱۹۶۶ء میں اُنہوں نے روزنامہ ‘حریت’ کراچی میں ‘مجھے کہنا ہے کچھ’ کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی۔ روزنامہ ‘جسارت’ میں ‘رُوبرو’ کے عنوان سے کالم لکھے اور ہفت روزہ ‘زندگی’ میں کبھی اپنے نام سے اور کبھی مختلف قلمی ناموں سے سیاسی، سماجی اور فِکری موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے۔ اُن کے کالموں میں بھی وہی بے باکی، راست گوئی اور فِکری کاٹ موجود تھی جو اُن کے تنقیدی مضامین کی پہچان بنی۔

سلیم احمد بیک وقت شاعر، نقّاد، ڈراما نگار، فلم نویس اور کالم نگار تھے، لیکن اُن کی اَصل اَدبی شناخت شاعری اور تنقید سے قائم ہوئی۔ اُن کے شعری مجموعوں میں ‘بیاض’، ‘اکائی’، ‘چراغِ نیم شب’ اور ‘مشرق’ جبکہ تنقیدی کتابوں میں ‘اَدبی اقدار’، ‘نئی نظم اور پورا آدمی’، ‘غالب کون؟’، ‘اَدھوری جدیدیت’، ‘اقبال: ایک شاعر’ اور ‘محمد حسن عسکری: آدمی یا انسان؟’ نمایاں ہیں۔

دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق سلیم احمد اپنی زندگی کے آخری برسوں تک ریڈیو، ٹیلی وژن، کالم نگاری، شاعری اور تنقید کے میدانوں میں سرگرم رہے۔ یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو صرف پچپن برس کی عمر میں کراچی میں اُن کا اِنتقال ہوگیا اور وہ پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

سلیم احمد کا شعری مجموعہ ‘چراغِ نیم شب’ ۱۹۸۵ء میں اور ‘مشرق’ ۱۹۸۹ء میں، اُن کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

سلیم احمد کی شاعری اپنی مَخصوص آواز، فِکری گہرائی اور لِسانی جُرأت کے باعث اپنے عہد کے دوسرے شاعروں سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کلاسیکی غزل سے اپنا رِشتہ منقطع نہیں کیا، بلکہ اِسی روایت کے اندر رہتے ہوئے اِظہار کی نئی راہیں تلاش کیں۔

جدید اِنسان کی بے چینی، ذات کا اَکیلا پَن، جِسم اور رُوح کا باہمی تَعلُّق، مُحبّت کے پیچیدہ تَجربات اور مشرق و مغرب کا تہذیبی تَصادم سلیم احمد کی شاعری میں بار بار نئے زاویوں سے سامنے آتا ہے۔

سلیم احمد کے یہاں شاعری محض جذبات کے بے ساختہ اظہار کا نام نہیں؛ اُن کے اَشعار میں خیال اور اِحساس ایک دوسرے میں اِس طرح جذب ہوتے ہیں کہ فِکری بات بھی جیتی جاگتی کیفیّت بن جاتی ہے۔

سلیم احمد نے روزمَرّہ کے عام اور مانوس اَلفاظ، بلکہ اُن لفظوں کو بھی شاعرانہ وَقار بخشا جنہیں اُس زمانے میں شاعری کیلئے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اُن کے ہاں خیال کی گہرائی زبان کو بوجھل نہیں بناتی؛ سادہ لفظوں کے اندر مَعنی کی کئی تَہیں آہستہ آہستہ کُھلتی چلی جاتی ہیں۔

‘بیاض’ میں زبان کے رائج سانچوں کو توڑنے اور شاعری کیلئے نئے اِمکانات پیدا کرنے کی کوشش دِکھائی دیتی ہے۔ ‘اکائی’ میں جِسم اور رُوح ایک دوسرے کی ضِد نہیں رہتے بلکہ انسانی وُجود کی تَکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ‘مشرق’ میں مغربی تہذیب کے مقابل مشرقی اِنسان کی شِکست، بے یقینی اور وُجودی کَرب نمایاں ہے، جبکہ ‘چراغِ نیم شب’ میں سلیم احمد کا فِکری اور شاعرانہ شُعور زیادہ پُختہ صُورت میں سامنے آتا ہے۔

یوں سلیم احمد کی شاعری میں سادگی اور مَعنوی گہرائی، نَغمگی اور ڈرامائیت، نَرم اِحساس اور تیز فِکری کاٹ ایک ساتھ موجود ہیں۔ اُن کا شعر صرف کانوں کو بھلا نہیں لگتا، بلکہ ذہن میں اُتر کر دیر تک قاری سے مُکالمہ کرتا رہتا ہے۔

سلیم احمد کی یہ غزل دیکھیے:

جانے کِسی نے کیا کہا تیز ہَوا کے شور میں
مُجھ سے سُنا نہیں گیا تیز ہَوا کے شور میں

مَیں بھی تُجھے نہ سُن سکا، تُو بھی مُجھے نہ سُن سکا
تُجھ سے ہُوا مُکالمہ تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔ ۔

کَشتیوں والے بے خَبر بڑھتے رہے بَھنور کی سَمت
اور مَیں چیختا رہا تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

میری زَبانِ آتِشیں لَو تھی مِرے چَراغ کی
میرا چَراغ چُپ نہ تھا تیز ہَوا کے شور میں

جیسے خُروشِ بَحر میں شورِ پَرند ڈوب جائے
ڈوب گئی مِری صَدا تیز ہَوا کے شور میں

نَوحہ گَرانِ شامِ غَم، تُم نے سُنا نہیں مگر
کیسا عَجیب دَرد تھا تیز ہَوا کے شور میں

میرے مَکاں کی چھت پہ تھے طائِرِ شب ڈرے ڈرے
جیسے پَیامِ مَرگ تھا ، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

مِنّتِ گوشِ بے حِسّاں کون اُٹھائے اب سلیمؔ
نَوحۂ غَم مِلا دیا، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔

سلیم احمد نے تنقید کو محض اَدبی خوبیوں اور خامیوں کی نِشان دِہی تک محدود نہیں رکھا۔ اُن کے نزدیک کسی تَخلیق کو سمجھنے کیلئے اُس کے پس منظر میں موجود اِنسانی تَجربے، تہذیبی روایت، مذہبی شُعور اور عَصری صُورتِ حال کو سمجھنا بھی ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تنقید میں اَدب کے ساتھ ساتھ اِنسان، تہذیب، روایت، جدیدیت اور زندگی کے بنیادی سوالات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ وہ کسی مُسلّمہ رائے کو صرف اِس لیے قبول نہیں کرتے تھے کہ بڑے بڑے نام اُس کی تائید کرچکے ہیں؛ ہر اَدبی مسئلے کو اپنے مطالعے، تَجربے اور فِکری میزان پر پرکھتے تھے۔

محمد حسن عسکری سے سلیم احمد نے گہرا فِکری اَثر قبول کیا، مگر اُنہوں نے اپنے اُستاد کے خیالات کو محض دُہرایا نہیں۔ عسکری کے اُٹھائے ہوئے سوالات سلیم احمد کی تحریروں میں اُن کے اپنے مزاج، حِسّیت اور زاویۂ نِگاہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ عسکری صاحب کی نثر میں عِلمی اِنضباط اور اِستدلال کی شان نمایاں تھی، جبکہ سلیم احمد اُسی عِلمی مسئلے کو ایک زندہ اِنسانی تَجربے میں تبدیل کردیتے تھے۔ اُن کی تحریر پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نقّاد کسی دُور کے مَنبر سے فیصلہ نہیں سُنا رہا، بلکہ قاری کے سامنے بیٹھا اُس سے بات کررہا ہے۔

سلیم احمد کی تنقیدی نثر میں مکالمے کی رَوانی، دلیل کی مضبوطی، زبان کی شُگفتگی اور طنز کی تیزی ایک ساتھ مِلتی ہے۔ وہ پیچیدہ خیال کو عام فہم بنانے کا ہُنر جانتے تھے؛ مُجرّد مسئلہ اُن کی تحریر میں ٹھوس اور دُور کی بات قریب آجاتی تھی۔ غالب، اقبال، نئی نظم، جدیدیت اور محمد حسن عسکری پر لکھتے ہوئے اُنہوں نے کئی مَقبول اور مُسلّمہ خیالات کو چیلنج کیا۔ اُن کی بعض آرا سے شدید اِختلاف کیا گیا، لیکن اِس اَمر سے اِنکار ممکن نہیں کہ اُنہوں نے اُردو تنقید کو نئے سوالات، مختلف زاویے، تازہ فِکری پیمانے اور اپنی تہذیبی روایت پر اعتماد کے ساتھ سوچنے کا حَوصلہ عطا کیا۔

سلیم احمد کو ہم سے بچھڑے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُن کی شاعری، تنقید، ڈراموں اور فِکری مکالموں کی روشنی آج بھی قائم ہے۔

‘بڑا سلیم’ کبھی دو ہم نام شاعروں میں تَفریق کیلئے اختیار کیا گیا ، سلیم احمد ایک بے تَکلُّف نام تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ نام اُن کے بلند اَدبی قد، فِکری وُسعت اور تخلیقی عظمت کا اِستعارہ بن گیا۔

پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک سلیم احمد آج بھی کراچی کا ‘بڑا سلیم’ ہے۔

ریڈیو پاکستان اپنے سابق کارکن، اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر، اُردو کے ایک جَیّد نقّاد، ممتاز ڈراما نگار اور مُنفرد اِنسان سلیم احمد کو اُن کی تینتالیسویں بَرسی پر خراجِ عَقیدت پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



Radio Pakistan Bahawalpur RadioPakistan Karachi FM101abbottabad NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN Radio Pakistan Hyderabad

28/08/2026

‘اَبھی ڈُھونڈ ہی رہی تھی، تُمہیں یہ نَظَر ہماری’

ایک ہَمہ جِہَت شَخصِیَّت کے مالِک شاعِر کی بَرسی پر خُصُوصی تَحرِیر

اِحسان دانِش کا شاگِرد ہونا اُن کا پہلا تَعارُف تھا۔ ۱۹۵۵ء میں اِسی تَعارُف کے ساتھ اُنہوں نے فِلمی گیت نِگاری کے ذریعے اپنے فَنّی سَفَر کا آغاز کیا۔ پھر ۱۹۵۹ء کی فِلم ‘راز’ میں زُبیدہ خانم کی آواز میں گایا گیا، اُن کا لکھا ہوا یہ گیت:

‘میٹھی میٹھی بَتِیوں سے جِیا نہ جَلا
جا رے بَلَم، تُجھے دیکھ لیا۔۔۔’

مَقبُول ہوا اور ریڈیو پاکستان کے اِسٹیشنوں سے نَشر ہونے لگا تو اِحسان دانِش کے اِس شاگِرد کا ایک دوسرا تَعارُف بھی قائِم ہوگیا کہ وہ گیت بھی خوب لکھتے ہیں—اور واقعی اُنہوں نے گیت خوب لکھے۔ بعد میں مَقبُول ہونے والے اُن کے گیتوں میں ‘اَبھی ڈُھونڈ ہی رہی تھی تُمہیں یہ نَظَر ہماری’ (فِلم: ‘بے وَفا’، ۱۹۷۰ء؛ آواز: نورجہاں) اور ‘تیرا سایہ جہاں بھی ہو سَجنا، پَلکیں بِچھا دُوں’ (فِلم: ‘گھرانا’، ۱۹۷۳ء؛ آواز: نَیّرہ نُور) خُصُوصِیَّت سے شامِل ہیں۔ نَیّرہ نُور کے گائے ہوئے اِسی گیت پر اُنہیں پہلا ‘نِگار ایوارڈ’ بھی مِلا۔

اِسی دَوران اُن کا ایک تیسرا تَعارُف بھی مُستَحکم ہو چکا تھا۔ وہ یہ کہ اِحسان دانِش کا مَقبُول فِلمی گیت لکھنے والا یہ شاگِرد سَرتاپا عِشقِ نَبویﷺ کا پَیکر بھی ہے؛ مُشاعروں اور نَعتِیّہ مَحفِلوں میں نَعت پڑھتا ہے تو ایسے دَرد، کَرب اور وارَفْتَگی کے ساتھ پڑھتا ہے کہ اِسٹیج ہی پر اُن کی آنکھوں سے آنسو ٹَپکنے لگتے ہیں۔

پھر ۱۹۷۰ء کی دَہائی میں اُن کا چوتھا اور مُنفَرِد تَعارُف بھی سامنے آیا؛ وہ یہ کہ اُنہوں نے وَطن اور پاکستانی پَرچم کی مَحَبَّت میں ایسے لازَوال مِلّی نَغمے لکھے جو صِرف اُسی دَہائی میں مَقبُول نہیں ہوئے بلکہ آنے والی کئی دَہائیوں تک قَومی تَہواروں، یَومِ آزادی اور دوسرے قَومی دِنوں پر سُنے اور سُنوائے جاتے رہے۔ ‘اِس پَرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں’ (۱۹۷۵ء، آواز: نَیّرہ نُور اور ساتھی، مُوسِیقی: ایم اَشرف) اور ‘یہ وَطن تُمہارا ہے، تُم ہو پاسباں اِس کے’ (۱۹۷۸ء، آواز: مَہدی حَسن، مُوسِیقی: نِثار بَزمی) واقعی ایسے مِلّی نَغمے ہیں جِن میں وَطن سے مَحَبَّت، قَومی یَک جِہتی اور پاکستانی پَرچم سے عِشق نُمایاں ہے۔ یہ نَغمے کئی نَسلوں کے خُون کو گَرماتے اور اُن کے دِلوں میں وَطن کی مَحَبَّت جَگاتے رہے۔

اُن کی شَخصِیَّت کا پانچواں اَہم تَعارُف ریڈیو پاکستان لاہور سے اُن کی خُصُوصی نِسبت تھی۔ اُن کا نَعتِیّہ کَلام خُود اُن کی آواز میں ریڈیو سے نَشر ہوتا رہا، اُن کی غَزَلیں سامِعین تک پہنچتی رہیں اور اُن کے فِلمی اور مِلّی گیت بھی ریڈیو پاکستان کی نَشریات کا مُستَقِل حِصّہ بنے رہے۔ نورجہاں کی آواز میں گائی گئی اُن کی یہ نِہایَت مَقبُول غَزَل:

‘رات پھیلی ہے تِرے سُرمَئی آنچل کی طرح
چاند نِکلا ہے تُجھے ڈُھونڈنے پاگل کی طرح۔۔۔’

لاہور ٹیلی وژن کے پروگرام ‘تَرنُّم’ میں پیش کی گئی، تاہم بعد میں ریڈیو اور ٹیلی وژن سے بار بار سامِعین تک پہنچتی رہی اور آج بھی شَوق سے سُنی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کئی نَغمے خُصُوصی طور پر ریڈیو پاکستان کے لیے بھی لکھے، جِن میں مَہناز کی آواز میں پیش کیا گیا ‘یہ اَمن کا پَرچم’ خُصُوصِیَّت سے قابِلِ ذِکر ہے۔ یُوں وہ اپنی آواز، اپنے کَلام اور اپنے گیتوں کے ذریعے طَوِیل عَرصے تک ریڈیو پاکستان لاہور کے ساتھ جُڑے رہے۔

عُمر کے آخری حِصّے میں اُن کی بَصارت بہت کم ہوگئی تھی اور اُنہیں چلنے پِھرنے کے لیے سَہارے کی ضَرُورت پڑتی تھی، لیکن لاہور کے عِلمی، اَدَبی اور ثَقافَتی حَلقوں میں اُن کی تَکرِیم اور اِعتبار بَدَستور قائِم رہا۔

آج اِحسان دانِش کے اِسی شاگِرد، مَقبُول فِلمی نَغمہ نِگار، دَرْدمَند نَعت گو شاعِر، وَطن اور پَرچم سے مَحَبَّت کرنے والے مِلّی نَغمہ نِگار اور ریڈیو پاکستان لاہور سے گہری نِسبت رکھنے والے اِسی ہَمہ جِہَت شاعِر کَلِیم عُثمانی کی چھبیسویں بَرسی ہے۔

کَلِیم عُثمانی آج ہی کے دِن، ۲۸ اگست ۲۰۰۰ء کو ۷۲ بَرس کی عُمر میں لاہور میں اِس جَہانِ فانی سے رُخصَت ہوگئے تھے۔

کلیم عُثمانی کا اصل نام اِحتشام الٰہی اور تخلّص ‘کلیمؔ’ تھا۔ اُن کے والد فضل الٰہی بیکل بھی اپنے عہد کے اچھے شاعر تھے، چنانچہ شاعری میں اِبتدائی اِصلاح اُنہوں نے اپنے والد ہی سے لی۔ وہ ۲۸ فروری ۱۹۲۸ء کو دیوبند، ضلع سَہارن پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے خاندان کا تعلق معروف عالِمِ دِین مولانا شبیر احمد عثمانی کے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

تَقسیمِ ہند کے بعد ۱۹۴۷ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہِجرت کر کے لاہور آ گئے۔ یہاں اُنہوں نے ممتاز شاعر احسان دانش کی شاگردی اختیار کی اور مشاعروں میں اپنا کلام تَرَنُّم سے سُنا کر اَدبی حلقوں میں پہچان بنائی۔ تلاشِ معاش کے دوران اُنہوں نے کچھ عرصہ لاہور میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کی۔ کمپنی نے اپنا لاہور کا دفتر بند کر کے ملازمین کو کراچی منتقل ہونے کی پیش کش کی تو اُنہوں نے لاہور چھوڑنے کے بجائے ملازمت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اِس کے بعد ایک طویل عرصے تک قَلَم مزدوری ہی اُن کا بنیادی ذریعۂ معاش رہی۔

وہ ایک عرصے تک روزنامہ ‘امروز’ میں قِطعہ لکھتے رہے اور بعد میں روزنامہ ‘تجارت’ کے اِداریے بھی تحریر کیے۔ کچھ عرصہ سروس انڈسٹریز کے اِشتہاری ادارے ‘ایگزبٹس لمیٹڈ’ سے بھی وابستہ رہے۔ مشاعروں میں شرکت، فلموں کے لیے گیت نگاری اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے غزلیں، تَرَانے اور مِلّی نغمے لکھنا بھی اُن کے ذرائعِ آمدن میں شامل تھے۔

اُنہوں نے ۱۹۵۵ء میں فلم ‘انتخاب’ سے باقاعدہ فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ فلمی گیتوں کے علاوہ اُنہوں نے نعتیں اور غزلیں بھی لکھیں۔ اُن کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ‘ماہِ حرا’ (۲۰۰۱ء، بعد از وفات) اور مجموعۂ غزلیات ‘دیوارِ حرف’ (۱۹۸۵ء) کے نام سے شائع ہوئے۔

کلیم عُثمانی کا شمار اُن خوش نصیب شعرا میں ہوتا ہے جن کا تخلیق کردہ نعتیہ کلام اتنا کثیر تھا کہ وہ ایک مکمل نعتیہ مجموعۂ کلام کی شکل میں شائع ہوا۔ اُن کی نعتیہ شاعری عجز، عقیدت، احترام اور عشقِ رسولﷺ کی گہری وارَفتگی کا مظہر ہے۔ وہ پُرشُکوہ اور ثقیل الفاظ کے بجائے سادہ، رواں اور دل نشیں زبان میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں نعت محض لفظی مَدح نہیں رہتی بلکہ ایک دردمند اور محبت سے سرشار دل کی آواز بن جاتی ہے۔ اُن کا یہ شعر اِسی سادگی اور وارَفتگی کا آئینہ دار ہے:

ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
اُن پر نثار جان و دل، اُن پر دُرود اور سلام۔۔۔۔۔

غزل گوئی میں بھی کلیم عُثمانی کئی حوالوں سے منفرد رہے۔ اُن کی غزلیات میں کلاسیکی رومان، ہجر کی اُداسی، ذات کی تنہائی اور اپنے عہد کی بے چینی ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ اُن کی غزل کا بنیادی وصف سادگی، نغمگی، سہلِ ممتنع اور پیکرتراشی ہے۔ اُن کے الفاظ بظاہر نہایت مانوس اور عام فہم ہوتے تھے، مگر اُن کے اندر جذبے اور معنی کی کئی تہیں موجود رہتی تھیں۔ وہ داخلی تنہائی جیسے گہرے تجربے کو بھی نہایت سادہ شعر میں سمو دیتے تھے:

ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت۔۔۔
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت

کلیم عُثمانی کے فلمی گیتوں کی زبان سادہ، رواں اور روزمرّہ زندگی سے قریب تھی، لیکن اُن کے خیالات میں تازگی اور انفرادیت پائی جاتی تھی۔ وہ مانوس لفظوں سے نئے اور اَن چھوئے خیال پیدا کرتے اور فلمی صورتِ حال، کردار کے جذبے اور گلوکار کی آواز کو سامنے رکھ کر ایسے مصرعے تخلیق کرتے تھے جو پہلی سماعت ہی میں دل پر اثر کرتے تھے۔ اُن کے گیتوں میں الفاظ دُھن پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ موسیقی کے ساتھ بہتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وصف اُن کے گیتوں کو عوامی مقبولیت کے ساتھ ادبی وقار بھی عطا کرتا ہے۔

کلیم عُثمانی کے گیتوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی آوازوں نے اُنہیں گایا۔ مبارک بیگم اور احمد رشدی نے اُن کا دوگانا ‘کاہے جلانا دل کو، چھوڑو جی غم کے خیال کو’ گایا، جب کہ زبیدہ خانم کی آواز میں ‘میٹھی میٹھی بتیوں سے جِیا نہ جلا’ مقبول ہوا۔ رونا لیلیٰ نے ‘اُن کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا’، نورجہاں نے ‘پیار کر کے ہم بہت پچھتائے’ اور ‘ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تُمہیں یہ نظر ہماری’ کو اپنی آواز سے لازوال بنا دیا۔ احمد رشدی کی آواز میں ‘مستی میں جھومے فضا، گیت گائے ہوا’ اور مجیب عالم کی آواز میں ‘کوئی جا کے اُن سے کہہ دے، ہمیں یوں نہ آزمائیں’ بھی بے حد پسند کیے گئے۔

کلیم عُثمانی کے متعدد گیت مسعود رانا نے بھی گائے، جن میں ‘یہ مانا کہ تُم دل رُبا، نازنین ہو’، ‘میرا خیال ہو تُم، میری آرزو تُم ہو’، ‘ناراض نہ ہو تو عرض کروں، دل تُم سے محبت کرتا ہے’ اور ‘میری دُعا ہے کہ تُو بن کے ماہتاب رہے’ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔

مہدی حسن کی آواز میں ‘تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے’ نے مقبولیت کے آسمان کو چھوا۔ مہدی حسن ہی کی آواز میں ‘لاگی رے لاگی، لگن یہی دل میں’ اور ‘خاموش ہیں نظارے، اِک بار مسکرا دو’ جیسے گیت بھی بہت مقبول ہوئے۔

نیرہ نور کا گایا ہوا ‘تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں’ کلیم عُثمانی کے فَنّی سفر کا ایک یادگار سنگِ میل ثابت ہوا۔

کلیم عُثمانی لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں واقع کریم بلاک قبرستان میں مدفون ہیں۔ وہ نگاہوں سے اوجھل ضرور ہوگئے، مگر دلوں سے نہیں۔

لاہور کے کسی نعتیہ مشاعرے میں نعت پڑھتے ہوئے جب کسی شاعر کی آنکھوں سے آنسو جھلکتے ہیں تو اہلِ لاہور کو بے اختیار کلیم عُثمانی یاد آ جاتے ہیں۔

کسی رات ریڈیو پاکستان سے نورجہاں کی آواز میں اُن کی غزل ‘رات پھیلی ہے تِرے سُرمئی آنچل کی طرح’ نشر ہوتی ہے تو وہ اپنے چاہنے والوں کو بہت یاد آتے ہیں۔

قومی تہواروں پر جب ‘اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں’ کی آواز فضا میں گونجتی ہے تو ایک پوری نسل کے دل میں اُن کی یاد جاگ اُٹھتی ہے۔

تب یوں گمان ہوتا ہے جیسے کلیم عُثمانی کہیں پاس بیٹھے اپنا ہی ایک مصرع زیرِ لب دہرا رہے ہوں:

“ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی، تُمہیں یہ نظر ہماری۔۔۔”

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

26/08/2026

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جشنِ یومِ ولادت سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ ، 12 ربیع الاول 1448ھ 26 اگست ، 2026 پر پیغام*

12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت دن پر میں پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امتِ مسلمہ کو سید الانبیاء ،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر دلی مبارکباد اوراظہارِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

حضور ﷺ کی ذاتِ مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغامِ ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔

اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کو" نسلِ نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار"، سیرت النبی کی روشنی میں کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔ نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیۓ ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساسِ ذمہ داری جیسے اسلامی شعار انکی تربیت میں شامل کرنا ہونگے۔ تاکہ وہ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔

اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کے لیۓ مشعل راہ ہے۔ یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک دینِ اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرتِ النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔

دورِ حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کے لیۓ دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔

آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے۔ کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوۂ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

آئیے,اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پُرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا یومِ آزادی 14 اگست 2026 پر پیغام**پاکستان اور بیرون ملک مقیم تمام اہل وطن کو دل کی اتھاہ گہ...
14/08/2026

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا یومِ آزادی 14 اگست 2026 پر پیغام*

*پاکستان اور بیرون ملک مقیم تمام اہل وطن کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یومِ آزادی کی خوشیاں مبارک!*

آج پاکستان کی *آزادی کے 79 سال مکمل ہونے* کے پُرمسرت موقع پر تمام اہل وطن کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صد شکر کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مملکت خداداد کی صورت میں آزادی جیسی گرانقدر نعمت سے نوازا۔

یہ امر ہمارے لیۓ باعثِ عزت و افتخار ہے کہ جدوجہد آزادی میں بابائے قوم *قائداعظم محمد علی جناح*، مفکر پاکستان، شاعر مشرق *علامہ محمد اقبال* اور متعدد عظیم و بے مثل رہنماء شامل تھے۔ آج ہم من حیث القوم تحریک آزادی کے قائدین، کارکنان اور اسلافِ ملت کو سلام پیش کرتے ہیں۔

قائدِاعظم محمد علی جناح کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت،ہمارے آباو اجداد کی عظیم قربانیاں، *تحریک آزادی کے رہنماوں* کا غیرمتزلزل عزم اور اللہ تعالیٰ کی بے پایہ فضل و کرم کی بدولت آزاد مملکت کا خواب شرمندہِ تعبیر ہوا۔

تحریک آزادی کے تمام رہنماؤں کی ولولہ انگیز سیاسی جدوجہد نے مسلمانان ہند کو آزاد وطن کے نصب العین پر متحد کیا۔ ہمارے آباو اجداد نے لازوال قربانیوں، صعوبتوں اور تکالیف کی داستان رقم کی اور جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

14 اگست 1947ء کو ہمیں ایسی سر زمین میسر ہوئی جہاں ہم آزاد قوم کی حیثیت سے عزت و وقار اور دین و تہذیبی اقدار کے مطابق زندگی استوار کر سکیں۔ سرزمینِ پاکستان اسلامی تعلیمات اور باباۓ قوم کے نظریات کے تابع تمام شہریوں کے لئے بلا تفریقِ رنگ و نسل مکمل آزادی کی ضمانت ہے۔ آئین و قوانینِ پاکستان تمام شہریوں کے حقوق کے ضامن ہیں۔

آزاد مملکت کی ترقی و خوشحالی کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آزمائشوں کے باوجود تابناک مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ اہل وطن نے گزشتہ تمام تر *مشکلات کے باوجود* ہر شعبہ زندگی میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت کامیابیاں سمیٹیں۔
دفاع وطن، معیشت، صنعت و حرفت، عدلیہ، میڈیا، کھیل، تعلیم و ہنر، علماء، دانشور، اساتذہ، سائنسدان، زراعت و کاشتکاری اور بشمول عصر حاضر کے جدید شعبہ جات میں پاکستانی مرد و خواتین نے اپنی کاوشوں سے عزم وہمت کے باب رقم کئے۔
ہمارے باصلاحیت نوجوان، ہنر مند افرادی قوت، بہترین پیشہ ور ماہرین، جفا کش کسان اور محنت کش مزدور ملک و قوم کے تابندہ مستقبل کے ضامن ہیں۔
حکومت پاکستان نے *گزشتہ ڈھائی سالوں* میں نہایت مشکل مراحل عبور کر کے مستحکم معیشت کا ہدف حاصل کیا ہے اور اب ترقی یافتہ معیشت کی منزل کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 11.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو حکومتی پالیسیوں پر *اوورسیز پاکستانیوں* کے مسلسل اعتماد کا مظہر ہے۔

*جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی* سے لیس، جدت سے آراستہ دیر پا صنعتی و زرعی ترقی، عوامی فلاح وبہبود کے منصوبے، روزگار کے مواقع، عالمی معیار کا تعلیم وہنر کا نظام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

ہماری بہادر افواج نے ہر مشکل میں، دشمن کے ہر وار کے جواب میں مادر وطن کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا ہے۔پاکستان اپنی جری افواج پر فخر کرتا ہے۔ *معرکۂ حق* میں مسلح افواج نے، *فیلڈ مارشل سید عاصم منیر* کی قیادت میں اتحاد، عزم اور بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع اور سربلندی کی نئی تاریخ رقم کی۔

پاکستان اپنے دفاع اور آبی وسائل سمیت قومی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

آج پاکستان اقوام عالم میں ایک مضبوط، پُرعزم، باوقار اور امن کی توانا آواز کے طور پہچانا جاتا ہے۔

خطے کی مشکل اور چیلنجنگ علاقائی صورتحال میں پاکستان ایک ذمہ دار اور خطے میں استحکام کا ضامن ملک بن کر ابھرا ہے، جو امن، استحکام اور علاقائی تعاون کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ مکرمہ میں طے پانے والا *مشترکہ دفاعی معاہدہ* خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار اور ابھرتی ہوئی قوت کا اہم مظہر ہے۔

پاکستان، *مظلوم فلسطینی* عوام اور جموں و کشمیر کے اپنے بہنوں اور بھائیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے اور انکے لئے اپنی غیر متزلزل اصولی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت جموں وکشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، عالمی قوانین اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق سفارتی حل میں پوشیدہ ہے۔

آج یوم آزادی پر قوم اپنے تمام *شہداء* کو بھی دلی خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن عزیز کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پوری قوم بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دلیر جوانوں, غازیوں اور تمام شہداء کی مقروض ہے جنہوں نے قوم کے مستقبل کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔

آئیے، آج کے دن اپنے قومی عزم کی تجدید کریں کہ ہم یک جان ہو کر سرزمینِ پاکستان کی ترقی وخوشحالی ،امن و استحکام اور باہمی ہم آہنگی اور یگانگت کے لیے بھرپور انداز میں کام کریں گے۔ *آج میں پوری قوم بشمول تمام طبقات اور سیاسی جماعتوں کو پُرخلوص پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں متحد ہو کر ملکی سالمیت ،قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لئے تعمیری کام کریں*۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو دنیا میں عزت و وقار کی علامت بنائے اور کامیابیوں سے مزین درخشندہ مستقبل نصیب فرماۓ، آمین!

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقلیتوں کےقومی دن، 11 اگست 2026 پر پیغام*پاکستان ہر سال ملک میں اقلیتوں کی موجودگی، قومی دھ...
11/08/2026

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقلیتوں کےقومی دن، 11 اگست 2026 پر پیغام*

پاکستان ہر سال ملک میں اقلیتوں کی موجودگی، قومی دھارے میں انکی شمولیت اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے لیۓ قومی سطح پر اقلیتوں کا دن پُر عزم انداز میں مناتا ہے۔

پاکستان میں موجود اقلیتیں ہماری قومی اساس کا جُز خاص ہیں اور ہماری متنوع معاشرتی تہذیب کے حقیقی حسن کی آئینہ دار ہیں۔

11 اگست1947 کو دستور ساز اسمبلی کے پہلے تاریخی اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح نے دورانِ خطاب پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ناقابل تردید حیثیت واضح کی۔
"آپ آزاد ہیں؛ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مساجد میں جانے کے لیے آزاد ہیں یا ریاستِ پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔"

قائداعظم محمد علی جناح کے یہ تاریخ ساز الفاظ پاکستان کے نظامِ معاشرت، ضابطہِ حکومت اور مذہبی طرز عمل میں ناقابل فراموش حیثیت رکھتے ہیں۔

آج کا یہ دن مختلف طبقات و برادری میں اتحاد، پُرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور سب کے لیے مساوی ترقی کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی تجدید کا مظہر بھی ہے۔ پاکستان کے متنوع معاشرہ میں مختلف مذاہب، ثقافتوں، قومیتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر رہتے ہیں۔

تحریک آزادی اور قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اقلیتی برادریوں کا قومی زندگی کی ترقی و بقا میں کلیدی حصہ رہا ہے۔ اقلیتوں نے معاشی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اقلیتی برادریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ آئینی تحفظ کو ایک مؤثر قانونی نظام کی بھی تائید حاصل ہے۔ملکی قانون میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ، امتیازی سلوک کی ممانعت اور نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام سے متعلق مؤثر قانونی دفعات موجود ہیں۔

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیۓ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ 2025 منظور کیا گیا ہے جو بلا شبہ ایک قومی سنگ میل ہے۔ اس ایکٹ کے تحت وفاقی وزارتِ انسانی حقوق ایک خودمختار کمیشن کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ جو شکایات کے ازالے، آئینی و قانونی تحفظات کی نگرانی، حکومتی پالیسی اور قانون سازی سے متعلق سفارشات، عبادت گاہوں اور ملازمتوں میں مختص کوٹے سے متعلق امور کی نگرانی اور مساوات و شمولیت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کے فروغ کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی 2025 متعارف کرائی گئی ہے، جس کا مقصد مذہبی آزادی کا تحفظ، بین المذاہب مکالمے کا فروغ اور بلا امتیاز مساوی مواقع کی فراہمی ہے۔ حکومت قومی پالیسی برائے انسدادِ پُرتشدد انتہاپسندی 2024 پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے۔

وفاقی وزارتِ انسانی حقوق نے تمام فریقین کی مشاورت سے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 بھی متعارف کرایا ہے، جس میں اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ سے متعلق خصوصی اقدامات بھی شامل ہیں۔

حکومتِ پاکستان، صوبائی حکومت ، متعلقہ ادارے، سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک کے ہر شہری بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور پرامن، روادار اور متحد معاشرے کی منزل مقصود کے لیے بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی۔

*Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif's Message on National Minorities Day 11 August 2026*Pakistan commemorates Nation...
11/08/2026

*Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif's Message on National Minorities Day 11 August 2026*

Pakistan commemorates National Minorities Day every year with a firm resolve to acknowledge the invaluable presence of minorities, their inclusion in the national mainstream, and their significant contributions to the national progress and prosperity.

The minorities living in Pakistan are an integral part of our national fabric and reflect the true beauty of our diverse social and cultural landscape.

On 11 August 1947, while addressing the historic inaugural session of the Constituent Assembly, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah unequivocally affirmed the rights of minorities in Pakistan:
“You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in the State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed—that has nothing to do with the business of the State.”

These historic words of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah hold an enduring and unforgettable place in Pakistan’s social order, system of governance and religious ethos.
This day also serves as a reaffirmation of Pakistan’s unwavering commitment to unity among different segments and communities of society, peaceful coexistence, mutual respect, and equal opportunities for progress for all. Pakistan is a diverse society where people belonging to different faiths, cultures, nationalities and traditions live together in harmony.

From the Pakistan Movement and the creation of Pakistan to the present day, minority communities have played a pivotal role in the country’s progress and national development. They have rendered invaluable services in the economic, educational, social, cultural and political spheres.

The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan guarantees the protection of the rights and interests of minority communities. These constitutional safeguards are further reinforced by an effective legal framework. The country’s laws contain effective provisions for the protection of places of worship of minorities, prohibition of discriminatory practices, and prevention of hate speech.
The enactment of the National Commission for Minorities Act, 2025 to safeguard the rights of minorities is undoubtedly a significant national milestone. Under the aboce stated Act, the Ministry of Human Rights is taking the necessary steps for the establishment of an independent commission. The Commission will play its role in redressing grievances, overseeing constitutional and legal safeguards, making recommendations regarding government policies and legislation, monitoring matters relating to places of worship and employment quotas, and promoting equality and inclusion.

To promote interfaith harmony and social cohesion, the Interfaith Harmony Policy 2025 has been introduced, aimed at protecting religious freedom, promoting interfaith dialogue, and ensuring equal opportunities without discrimination. The Government is also implementing the National Policy for Countering Violent Extremism 2024.
The Ministry of Human Rights, in consultation with all relevant stakeholders, has also introduced the National Action Plan for Human Rights 2026, which includes specific measures for the protection and promotion of the rights of minority communities.

The Government of Pakistan, in collaboration with the provincial governments, relevant institutions and civil society, reaffirms its collective resolve to continue making every possible effort to protect the rights of every citizen, particularly those belonging to minority communities, ensure equal opportunities, and advance towards the goal of a peaceful, tolerant and united society.

Address

Pakistan Broadcasting Corporation, D-Ground, Peoples Colony
Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FM 101 Faisalabad (Official) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to FM 101 Faisalabad (Official):

Shortcuts

Share

Category