30/09/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اصحابُ الجنة
وہ لوگ جن کے لیے جنت تیار کی گئی
انسان کی پوری زندگی دراصل ایک سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جس کا اختتام دنیا کی کسی منزل پر نہیں ہوتا۔ مال ختم ہوجاتا ہے، جوانی گزر جاتی ہے، طاقت کم ہوجاتی ہے، انسان کے گرد موجود لوگ بدل جاتے ہیں، لیکن ایک منزل ایسی ہے جس کے بعد کوئی اختتام نہیں۔ وہ ہے *جنت*۔ قرآن مجید نے جنت والوں کے لیے کئی نام استعمال کیے ہیں۔ ان میں ایک تعبیر *اصحابُ الجنة* بھی ہے۔ یعنی: *جنت والے۔*
لیکن قرآن جب ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے تو صرف یہ نہیں بتاتا کہ انہیں جنت ملے گی، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں کیسے تھے، انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کیسا تعلق قائم کیا، لوگوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا، مشکلات میں کیا رویہ اختیار کیا اور کن صفات کی وجہ سے وہ اس عظیم کامیابی کے مستحق ہوئے۔
اصحابُ الجنة صرف ایک نام نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ مَا أَصْحَابُ الْجَنَّةِ* *ترجمہ:* جنت والے، جنت والے! کیا ہیں جنت والے! *(سورۃ الواقعہ: 8)* یہ انداز انسان کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے۔ آخر یہ جنت والے کون ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کا انجام اتنا عظیم ہوگا کہ قرآن ان کا ذکر اس شان سے کرتا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جنت کسی ایک طبقے، نسل، خاندان یا دنیاوی حیثیت کے لیے مخصوص نہیں۔ جنت کا راستہ ایمان، تقویٰ، اطاعت، اخلاص اور صالح عمل سے بنتا ہے۔
جنت کے وارث کون ہوں گے؟
قرآن مجید نے ایک مقام پر اہلِ جنت کی صفات کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے: *قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ* *ترجمہ:* یقیناً ایمان والے کامیاب ہوگئے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، جو بے فائدہ باتوں سے منہ پھیرتے ہیں، جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ *(سورۃ المؤمنون: 1–5)* پھر فرمایا: *وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ* *ترجمہ:* اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں، اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ یہی لوگ وارث ہیں، جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ *(سورۃ المؤمنون: 8–11)*
غور کیجیے۔ قرآن نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے صرف عبادات نہیں گنوائیں۔ نماز کے ساتھ *کردار* بھی ہے۔ ایمان کے ساتھ *امانت* بھی ہے۔ عبادت کے ساتھ *زبان کی حفاظت* بھی ہے۔ اور اللہ سے تعلق کے ساتھ *لوگوں کے حقوق* بھی ہیں۔ یہ قرآن کا ایک بہت اہم اصول ہے: *جنت کا راستہ انسان کی پوری شخصیت کی اصلاح سے گزرتا ہے۔*
نماز: اللہ کے سامنے جھکنے کی حقیقت
اصحابُ الجنة کی صفات میں نماز نمایاں طور پر آتی ہے۔ لیکن قرآن صرف نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ فرماتا ہے: *الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ* یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع رکھتے ہیں۔ خشوع صرف جسم کا سکون نہیں۔ یہ دل کا اللہ کے سامنے جھک جانا ہے۔ انسان نماز میں کھڑا ہو، لیکن دل بازار میں ہو، کاروبار میں ہو، لوگوں میں ہو، خواہشات میں ہو، تو نماز کی ظاہری شکل موجود ہوسکتی ہے مگر خشوع کی کیفیت کمزور ہوسکتی ہے۔ اصحابُ الجنة کی زندگی ہمیں نماز کو محض ایک فرض کے طور پر نہیں بلکہ *اللہ کے ساتھ تعلق* کے طور پر دیکھنا سکھاتی ہے۔
فضول چیزوں سے فاصلے کا ہنر
قرآن فرماتا ہے: *وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ* وہ لوگ جو لغو سے منہ پھیرتے ہیں۔ لغو وہ چیز ہے جس میں انسان کی زندگی کا حقیقی فائدہ نہ ہو، خواہ وہ بے مقصد گفتگو ہو، بے فائدہ مشغولیت ہو یا ایسا مشغلہ جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور کردے۔ یہ صفت آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے۔ انسان کے پاس پہلے بھی محدود وقت تھا، لیکن آج اس محدود وقت کو منتشر کرنے کے ذرائع بے شمار ہیں۔ ہر آواز ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے۔ ہر خبر ہماری توجہ چاہتی ہے۔ ہر بحث میں شامل ہونے کی دعوت ملتی ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ اصحابُ الجنة کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں: *ہر چیز جو توجہ مانگے، توجہ کے قابل نہیں ہوتی۔*
پاکیزگی اور نفس پر قابو
قرآن نے اہلِ ایمان کی ایک اور بنیادی صفت بیان کی: *وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ* وہ اپنی پاک دامنی کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک جسمانی حکم نہیں۔ یہ انسان کے اندر *نفس پر قابو* پیدا کرنے کا نظام ہے۔ خواہش انسان کے اندر رکھی گئی ہے، لیکن اسلام خواہش کا غلام بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ حلال راستہ اختیار کرنا اور حرام سے بچنا انسان کے کردار کو مضبوط بناتا ہے۔ اصحابُ الجنة وہ لوگ ہیں جو خواہش کو اپنا حاکم نہیں بناتے۔
امانت: جنت کے لوگوں کی پہچان
قرآن فرماتا ہے: *وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ* وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہاں قرآن نے ایک بہت گہری بات بیان کی ہے۔ امانت صرف کسی کے پیسے کو محفوظ رکھنا نہیں۔ ذمہ داری بھی امانت ہے۔ عہد بھی امانت ہے۔ کسی کا راز بھی امانت ہوسکتا ہے۔ کسی کا حق بھی امانت ہوسکتا ہے۔ اختیار بھی امانت ہے۔ علم بھی امانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ جنت کی صفات میں عبادت کے ساتھ *امانت داری* کا ذکر آتا ہے۔ ایک انسان مسجد میں عبادت گزار ہوسکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہو تو اسے اپنی اصلاح کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اصحابُ الجنة کی ایک بڑی صفت: صبر
قرآن بار بار اہلِ ایمان کو صبر کی تعلیم دیتا ہے۔ کیونکہ جنت تک پہنچنے کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی انسان کو غربت آزماتی ہے۔ کبھی بیماری۔ کبھی تنہائی۔ کبھی کسی عزیز کی جدائی۔ کبھی لوگوں کی مخالفت۔ کبھی اپنی ہی خواہشات۔ کبھی حق پر قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کے اندر موجود ایمان کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا* *ترجمہ:* اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔ *(سورۃ الإنسان: 12)* یہ آیت ایک عظیم حقیقت بتاتی ہے: *دنیا میں برداشت کیا ہوا ہر دکھ اللہ کے ہاں بے معنی نہیں۔*
جنت والوں کے دل کیسے ہوں گے؟
جنت کا سب سے خوبصورت پہلو صرف اس کے باغات، نہریں اور محلات نہیں۔ اصل نعمت یہ ہے کہ وہاں دلوں سے کدورت نکال دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ* *ترجمہ:* اور ہم ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ ہوگا اسے نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ *(سورۃ الحجر: 47)* ذرا تصور کیجیے۔ وہاں کسی کے دل میں حسد نہیں ہوگا۔ کسی کے دل میں بغض نہیں ہوگا۔ کسی پرانے جھگڑے کی تلخی نہیں ہوگی۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر دل نہیں جلے گا۔ کسی کے خلاف چھپی ہوئی نفرت نہیں ہوگی۔ دنیا میں انسان دوسروں سے لڑتے لڑتے اپنے دل کو بھی زخمی کردیتا ہے۔ جنت میں اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کے دلوں کو بھی پاک کردیں گے۔
جنت میں خوف نہیں ہوگا
دنیا میں انسان کتنی چیزوں سے ڈرتا ہے۔ موت سے۔ بیماری سے۔ غربت سے۔ تنہائی سے۔ مستقبل سے۔ اپنوں کے بچھڑنے سے۔ لیکن جنت میں یہ خوف ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ* *ترجمہ:* سن لو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ *(سورۃ یونس: 62)* یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے دنیا میں مکمل طور پر محسوس کرنا ممکن نہیں۔ دنیا میں خوشی ہمیشہ کسی نہ کسی خوف کے ساتھ آتی ہے۔ جنت میں خوشی کے ساتھ خوف نہیں ہوگا۔
نہ تھکن، نہ موت
دنیا میں ہر خوشی عارضی ہے۔ انسان خوبصورت گھر بناتا ہے، مگر ایک دن اسے چھوڑ دیتا ہے۔ دولت جمع کرتا ہے، مگر خود اسے چھوڑ جاتا ہے۔ محبتیں قائم کرتا ہے، مگر جدائی کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ جنت میں معاملہ مختلف ہوگا۔ قرآن فرماتا ہے: *لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ* *ترجمہ:* وہاں انہیں کوئی تھکن نہ پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ *(سورۃ الحجر: 48)* اور فرمایا: *لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ* *ترجمہ:* وہ وہاں پہلی موت کے سوا موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ *(سورۃ الدخان: 56)* یعنی جنت کی نعمت عارضی نہیں ہوگی۔ وہاں خوشی ختم ہونے کا خوف نہیں ہوگا۔
جنت کی سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟
جنت میں بے شمار نعمتیں ہیں۔ باغات، نہریں، پاکیزہ رزق، خوبصورت رہائش، امن، خوشی اور ہمیشہ کی زندگی۔ لیکن قرآن ایک ایسی نعمت بھی بیان کرتا ہے جو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ* *ترجمہ:* اور اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے۔ *(سورۃ التوبہ: 72)* یہاں اصل کامیابی سامنے آتی ہے۔ جنت کا سب سے بڑا انعام صرف جنت حاصل کرنا نہیں۔ بلکہ *اللہ کی رضا حاصل کرنا* ہے۔ دنیا میں انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ وہ چاہتا ہے کہ خاندان خوش ہو۔ دوست خوش ہوں۔ معاشرہ اسے پسند کرے۔ لیکن اصحابُ الجنة کی اصل کامیابی یہ ہے کہ ان کا رب ان سے راضی ہوجائے۔
جنت میں سلام ہی سلام ہوگا
قرآن جنت کے ماحول کو ایک لفظ میں بھی بیان کرتا ہے: *سلام۔* اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ* *ترجمہ:* جنت میں ان کی دعا یہ ہوگی: اے اللہ! تو پاک ہے، اور وہاں ان کی باہمی دعا سلام ہوگی۔ *(سورۃ یونس: 10)* اور فرشتے اہلِ جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: *سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ* *ترجمہ:* تم پر سلامتی ہو، اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ *(سورۃ الرعد: 24)* یہاں پھر صبر سامنے آتا ہے۔ جس انسان نے دنیا میں اللہ کے لیے برداشت کیا، اس کے لیے آخرت میں سلامتی ہوگی۔
کیا جنت صرف عبادت کرنے والوں کے لیے ہے؟
یہ سوال بھی سمجھنے کے قابل ہے۔ قرآن میں جنت کے مستحق لوگوں کی صفات میں ایمان اور عملِ صالح بار بار آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ* *ترجمہ:* اور جو کوئی نیک اعمال کرے، مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ *(سورۃ النساء: 124)* یہاں قرآن نے واضح کردیا کہ اللہ کے ہاں اصل معیار جنس، خاندان یا دنیاوی مرتبہ نہیں۔ ایمان اور صالح عمل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
لیکن جنت صرف اعمال کا معاوضہ نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ* صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: *وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ* *ترجمہ:* کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ *حوالہ: صحیح البخاری، صحیح مسلم* یہ حدیث انسان کو توازن سکھاتی ہے۔ عمل ضروری ہے۔ نیکی ضروری ہے۔ تقویٰ ضروری ہے۔ لیکن انسان اپنے اعمال پر مغرور نہیں ہوسکتا۔ آخرکار جنت اللہ کے *فضل و رحمت* سے ملے گی۔
جنت کی طرف جانے والا انسان کامل انسان نہیں ہوتا
یہ بات بہت اہم ہے۔ اصحابُ الجنة وہ لوگ نہیں جن سے کبھی کوئی غلطی نہ ہوئی ہو۔ انسان خطا کرسکتا ہے۔ لیکن اہلِ ایمان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غلطی کے بعد اللہ کی طرف واپس آتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: *وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ* *ترجمہ:* اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ *(سورۃ آل عمران: 135)* یہاں ایک امید چھپی ہوئی ہے۔ اگر انسان پھسل گیا ہے تو واپسی ممکن ہے۔ اگر گناہ ہوگیا ہے تو توبہ ممکن ہے۔ اگر زندگی کا ایک حصہ غفلت میں گزر گیا ہے تو باقی زندگی اللہ کے لیے وقف کی جاسکتی ہے۔
جنت کا راستہ دنیا ہی میں بنتا ہے
جنت آخرت میں ملے گی، لیکن اس کی تیاری دنیا میں ہوتی ہے۔ یہاں نماز ہے۔ یہاں صبر ہے۔ یہاں امانت ہے۔ یہاں پاکیزگی ہے۔ یہاں توبہ ہے۔ یہاں لوگوں کے حقوق ہیں۔ یہاں نفس کے ساتھ جدوجہد ہے۔ یہاں اللہ کی رضا کو اپنی خواہش پر ترجیح دینے کا موقع ہے۔ وہاں عمل کا وقت ختم ہوجائے گا۔ یہاں ابھی وقت باقی ہے۔
آج ہم اصحابُ الجنة سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اپنے ایمان کو صرف دعویٰ نہ بنائیں
ایمان کا اثر انسان کے کردار میں نظر آنا چاہیے۔
نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں
نماز صرف دن کے درمیان ایک فرض نہیں؛ یہ بندے اور رب کے تعلق کی تجدید ہے۔
زبان کی حفاظت کریں
ہر بات کہنا ضروری نہیں۔ ہر بحث میں کودنا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو جواب دینا ضروری نہیں۔
امانت میں خیانت نہ کریں
لوگوں کے حقوق کو عبادت سے الگ نہ سمجھیں۔
اپنی خواہشات کو قابو میں رکھیں
ہر خواہش پوری کرنا آزادی نہیں۔ اپنے نفس کو اللہ کی حدود میں رکھنا حقیقی بندگی ہے۔
مشکل وقت میں صبر کریں
ہر آزمائش فوری طور پر ختم نہیں ہوتی۔ کچھ آزمائشیں انسان کو بدلنے آتی ہیں۔
دل کو صاف رکھیں
دوسروں کے لیے بغض اپنے ہی دل کو کھاتا ہے۔ معافی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر دل کو کینہ سے آزاد کرنا بہت بڑی نعمت ہے۔
اللہ کی رضا کو آخری مقصد بنائیں
لوگ خوش ہوں یا ناراض، اصل سوال یہ ہے: *میرا رب مجھ سے راضی ہے یا نہیں؟*
ایک دن وہ آواز آئے گی
دنیا میں انسان کامیابی کی بہت سی آوازیں سنتا ہے۔ کسی کا کاروبار کامیاب ہوگیا۔ کسی نے دولت حاصل کرلی۔ کسی نے شہرت حاصل کرلی۔ کسی نے بڑا گھر بنا لیا۔ لیکن قرآن کامیابی کا ایک ایسا منظر دکھاتا ہے جو دنیا کی تمام کامیابیوں سے مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي* *ترجمہ:* اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں شامل ہوجا، اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ *(سورۃ الفجر: 27–30)* یہی وہ منزل ہے جس کے لیے مومن دنیا میں کوشش کرتا ہے۔ نہ صرف جنت۔ بلکہ: *راضی ہونے والی جان۔* *راضی ہونے والا رب۔* اور پھر: *میری جنت میں داخل ہوجا۔*
آخری بات
*اصحابُ الجنة* کا تصور ہمیں دنیا سے بھاگنے نہیں سکھاتا۔ یہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے اپنی سمت درست کرنے کا درس دیتا ہے۔ کاروبار کریں، مگر امانت نہ چھوڑیں۔ مال کمائیں، مگر دل کا مالک مال کو نہ بنائیں۔ خوش رہیں، مگر اللہ کو نہ بھولیں۔ لوگوں سے محبت کریں، مگر اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں۔ مشکل آئے تو ٹوٹیں نہیں۔ گناہ ہوجائے تو مایوس نہ ہوں۔ دل میں کینہ آئے تو اسے پالیں نہیں۔ اور ہر رات سونے سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کریں: *اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو، تو کیا میں اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار ہوں؟* کیونکہ جنت کسی خواب کا نام نہیں۔
یہ ایک حقیقی منزل ہے۔
اور اصحابُ الجنة وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی عارضی زندگی میں اپنے رب کو پہچانا، اس کی طرف جھکے، اپنے نفس کی اصلاح کی، لوگوں کے حقوق ادا کیے، آزمائشوں میں صبر کیا اور اس کی رحمت سے اس منزل تک پہنچ گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان، اخلاص، تقویٰ، صالح عمل، سچی توبہ اور اپنی رضا نصیب فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن سے کہا جائے: *فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي*
"میرے بندوں میں شامل ہوجا، اور میری جنت میں داخل ہوجا۔"
*آمین یا رب العالمین۔*