08/04/2025
آپ ایک کمرے میں بند ہیں… دروازہ کھلا ہے، باہر روشنی ہے، خوشبو ہے، کامیابی آپ کو آوازیں دے رہی ہے۔ مگر آپ چلنے کو تیار نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ دروازے کے اس پار کیا ہے، راستہ بھی صاف نظر آ رہا ہے، لیکن آپ پھر بھی بیٹھے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ نے جان لیا… مگر عمل نہیں کیا۔
یہی ہے ہماری المیہ داستان — علم حاصل کر لینا، لیکن اس پر عمل نہ کرنا۔
لوگ کہتے ہیں پاکستان میں مواقع نہیں۔ حالات سازگار نہیں۔ سرمائے کی کمی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ صرف سیکھنے پر یقین رکھتے ہیں، کرنے پر نہیں۔ ہم ایک ایسی نسل پیدا کر چکے ہیں جو یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھ کر خود کو بزنس مین سمجھتی ہے، لیکن جب سرمایہ لگانے یا سڑک پر اترنے کا وقت آتا ہے تو بریک لگا لیتی ہے۔
2019 کا وہ لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے جب میرے بھائی فواز احمد، جو کہ ایک کالج کے ڈائریکٹر تھے، میرے پاس آئے۔ کورونا نے ان کی جاب کو جھٹکا دیا تھا۔ میں نے کہا، “ای کامرس کرو۔” ہم نے بیٹھ کر صرف 17,000 روپے سے "پنجیری" کا ایک آن لائن کاروبار شروع کیا۔ پہلے مہینے میں چند مسائل آئے، لیکن اگلے ہی مہینے اس کاروبار نے دو لاکھ روپے کا منافع دیا۔
بس وہی فرق تھا — ہم نے صرف سوچا نہیں، قدم بھی اٹھایا۔
یہ کامیابی اکیلے ہمارے لیے نہیں تھی۔ ہم نے اسے سینکڑوں نوجوانوں تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔ "ایف بی کامرس" کے نام سے ہم نے نیکسٹ ایج سولوشنز میں ایک پریکٹیکل کورس لانچ کیا۔ یہ صرف لیکچرز پر مشتمل نہیں تھا — ہم طلباء کو خود مارکیٹ لے گئے۔ شاہ عالم بازار کی گلیوں میں لے جا کر دکھایا کہ نچ سیلیکشن کیا ہوتی ہے، کن دوکانداروں سے مال اٹھانا ہے، کس پراڈکٹ پر مارجن زیادہ ہے، اور کیا بک سکتا ہے۔
ہم نے ایک مشہور فیس بک سیلر خاتون کی خدمات حاصل کیں جو لائیو آکر چیزیں بیچتی تھیں۔ طلباء کو ان کے ساتھ کام کرایا تاکہ لائیو سیلنگ کا حقیقی تجربہ حاصل ہو۔
اور پھر نتائج آئے۔
ہمارے تقریباً 25 سے 30 فیصد طلباء نے نہ صرف کاروبار شروع کیا، بلکہ کامیابی سے اسے جاری بھی رکھا۔ لیکن 70 فیصد وہیں کھڑے رہے جہاں کورس شروع کیا تھا۔
کیا ان کو علم نہیں تھا؟ تھا۔
کیا انہیں سہولت نہیں دی گئی؟ دی گئی۔
کیا انہیں رہنمائی نہیں ملی؟ ملی۔
پھر بھی وہ ناکام کیوں ہوئے؟
کیونکہ انہوں نے عمل نہیں کیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے کورس بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ میرا مقصد صرف کورس بیچنا نہیں تھا، تبدیلی لانا تھا۔
آپ نے بھی شاید کئی بار کہا ہوگا، "اب تو سب کچھ سیکھ لیا ہے، بس عمل شروع کرنا ہے۔" لیکن وہ "شروع" کبھی آتا نہیں۔ آپ انتظار کرتے رہتے ہیں "صحیح وقت" کا۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ سچ یہ ہے: کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو پہلے قدم اٹھاتے ہیں۔
علم بغیر عمل کے صرف ایک بوجھ ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو "گدھے جن پر کتابیں لدی ہوں" (سورۃ الجمعہ: آیت 5) قرار دیا۔ سیکھنا عبادت ہے، لیکن جب سیکھا ہوا زندگی میں لاگو نہ کیا جائے تو وہ علم زنگ کھا جاتا ہے۔
اور پھر ایک دن وہ وقت آتا ہے جب آپ کے دل میں صرف “کاش” باقی رہ جاتا ہے۔
کاش میں نے کورس کے بعد سٹور بنا لیا ہوتا…
کاش میں نے صرف دو مہینے کی محنت سے اپنا بزنس سیٹ کر لیا ہوتا…
کاش میں نے ہمت کر لی ہوتی…
آج، جب میں پیچھے دیکھتا ہوں، تو اُن طلباء پر فخر ہوتا ہے جنہوں نے قدم بڑھایا۔ وہ اب کم از کم اپنی مالی خودمختاری کی طرف گامزن ہیں۔ اور افسوس ان پر ہوتا ہے جنہوں نے سب کچھ جان کر بھی کچھ نہ کیا۔ سچ پوچھیں تو علم کا نقصان جہالت سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ جاہل کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا، لیکن نصف عالم کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
تو سوال اب آپ سے ہے:
آپ نے آج تک جو کچھ سیکھا… کیا اس پر عمل کیا؟
کیا آپ بھی ان 70 فیصد لوگوں میں شامل ہیں جو صرف سیکھتے ہیں، یا ان 30 فیصد میں جو کچھ کر گزرتے ہیں؟
یاد رکھیں، دنیا یاد رکھتی ہے کرنے والوں کو… جاننے والوں کو نہیں۔
Copyed