Eye News

Eye News Eye News is a Pakistani news channel launched in 07 September 2021.

A bilingual news channel in English and Urdu, it is a part of the eye news Network, which is a subsidiary of eye news Group eye s an acronym of Mian Asif Ceo Eye News

28/04/2022
09/09/2021

Eye News is a Pakistani news channel launched in 07 September 2021. A bilingual news channel in English and Urdu, it is a part of the eye news Network, which is a subsidiary of eye news Group eye s an acronym of Mian Asif Ceo Eye News

09/09/2021

یوم دفاع وشہدا آج منایاجارہاہے جس کا مقصد شہیدوں اورغازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اور اس عزم کا اظہارکرنا ہے کہ تمام خطرات میں مادر وطن کا دفاع کیاجائے گا۔

1965ء میں آج ہی کے دن بھارتی فوجیوں نے پاکستان پرحملہ کرنے کیلئے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کی لیکن قوم نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ۔
اس سال یوم دفاع وشہدا کا موضوع ہے ”ہمارے شہدا،ہمارا فخر ، غازیوں اورشہیدوں کے تمام عزیز واقارب کو سلام ،، مساجد میں نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی وخوشحالی اور غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی بھارت کے جابرانہ چنگل سے آزادی کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔

شہدا کیلئے فاتحہ اورقرآن خوانی بھی کی جائے گی ۔دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں اکتیس اور صوبائی دارلحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ریڈیوپاکستان اور ٹیلی ویژن مادر وطن کا دفاع کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملی نغموں اور شہیدوں اورغازیوں کے اہل خانہ کے انٹرویوز پرمبنی خصوصی پروگرام نشر کررہاہے۔

09/09/2021

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔

چیف سلیکٹر محمدوسیم نے کہا ہےکہ نیوزی لینڈکےخلاف پاکستان کی ہوم سیریز17ستمبرسےشروع ہوگی ، آئی سی سی ورلڈٹی20کاآغاز17اکتوبرسےیواےای میں ہوگا،موجودہ ٹیم نیوزی لینڈاورانگلینڈکےسیریزمیں حصہ لےگی،قومی اسکواڈمیں تجربہ کارکھلاڑی موجودہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آصف علی اور خوشدل شاہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہےجبکہ سابق کپتان سرفراز احمد اور عماد وسیم باہر ہوگئے ہیں۔

قومی ٹیم کے 15 رکنی اسکواڈ میں 5 بیٹسمین، 2 وکٹ کیپرز، 4 آل راؤنڈرز اور 4 فاسٹ بولرز کو شامل کیا گیا ہے اور یہی ٹیم نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی شرکت کرے گی۔

09/09/2021

مالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے دورانِ آپریشن بارودی سرنگ دھماکے کے باعث دو جوان شہید ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں دوسالی میں کلیئرنس آپریشن کیا، آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بارودی سرنگ پھٹنے سے دو جوان شہید ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہداء میں 25 سالہ ضیاء اکرم اور 20 سالہ مصور خان شامل ہیں۔ دونوں کا تعلق مظفر آباد اور باجوڑ سے سے تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی تلاش کے لیے آپریشن کیا اسی دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشتگرد مارا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، پاک فوج نے علاقے کو محاصرہ میں لیکر دہشتگردوں کی تلاش شروع کر دی ہے، مزید دہشتگردوں کی تلاش جاری ہے۔

09/09/2021

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں نئی صورتحال کو نئے تناظر سے دیکھا اور ایک حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق کے مطابق انداز فکر اپناتے ہوئے آگے بڑھا جائے، ہمیں افغان عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی اور ان کی حمایت کرنا چاہیے،افغانستان کے استحکام میں ہمسایہ ممالک کا براہ راست مفاد ہے۔

وزیر خارجہ کا افغانستان کی صورتحال پر وزارتِ خارجہ میں علاقائی وزرائے خارجہ ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ عالمی برادری اس کلیدی ونازک مرحلے پر اپنے رابطے برقرار رکھے،سفارتی اور عالمی موجودگی کی تجدید سے افغان عوام کو ایک نیا یقین واعتماد میسر آئے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے ہمارے خطے کو عالمی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ غیرمتوقع اور اچانک وقوع پزیر ہونے والے ان واقعات سے قطع نظر اہمیت اس امر کی ہے کہ دہائیوں سے جاری خون خرابہ دوہرایا نہیں گیا۔ طویل تنازعے اور خانہ جنگی کا امکان بظاہر ٹل گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود صورتحال پیچیدہ اور غیرمستحکم ہے۔تاہم ایک بات یقینی ہے کہ ہم سب افغانستان میں تبدیل شدہ حقیقت کے ساتھ تگ ودو میں مصروف عمل ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان نے عبوری حکومت کا اعلان کردیا ہے۔ ہم نے اس پیش رفت کو دیکھا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سیاسی صورتحال جلد ازجلد مستحکم ہوگی اور حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئی صورتحال متقاضی ہے کہ پرانی عینک ترک کر کے ، نئے تناظر کو دیکھا جائے، ایک حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق کے مطابق انداز فکر اپناتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ہماری کوششوں کا بنیادی محور ومرکز افغان عوام کی فلاح وبہبود اور بہتری ہونا چاہیے جو چالیس سال سے زائد عرصہ پر محیط تنازعے اور عدم استحکام سے بے پناہ متاثر ہوئے ہیں۔افغانستان میں رونما واقعات کے تمام چھ ہمسایہ ممالک کے لئے واضح مضمرات کے تناظر میں ہم نے قریبی رابطوں اور اشتراک پر اتفاق کیاتھا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ہماری ہونے والی مشاورت سے درج ذیل امور سامنے آئے ہیں جن پر بدلتی صورتحال میں مشترک سوچ درکار ہے۔سرحدوں کے ساتھ سلامتی کی صورتحال ، افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچانا ، مہاجرین کی نئی لہر کے آنے کا امکان ،منشیات اور کثیرالقومی جرائم کی روک تھام، انتہا پسند عناصر کے پھیلاو کے انسداد، کورونا وبا سے متعلق مشکلات ومسائل، خطے کو جوڑنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی اتفاق کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہوجائے تو اس کے بے پناہ ثمرات ہیں جن میں محفوظ سرحدیں، افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ ، افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے امکانات، معاشی استحکام اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری، خطے کو جوڑنے کے منصوبہ جات کو تعبیر دینا، علاقائی معاشی یکجائی میں اضافہ شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پرامن، مستحکم، خوش حال اور باہم ایک دوسرے سے جُڑے خطے کی ہماری مشترکہ سوچ کو آگے بڑھانے کے لئے افغانستان کو اس قابل ہونا ہوگا کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی سے نکلے اور اپنی بھرپور صلاحیت کو بروئے کار لائے۔ ہماری دانست میں کئی کلیدی نکات اور ترجیحات ہیں جو اس سمت میں ہماری کوششوں میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہاکہ اول ہمیں افغان عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کرتے ہوئے ان کی حمایت کرنا چاہیے۔

دوم، ہمیں ایک متحد، خود مختاری اور جغرافیائی سالمیت کے حامل افغانستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کرنا ہوگا۔

سوم، ہمیں زور دینا ہوگا کہ افغان مسئلے کا افغان حل ہی ہونا چاہیے۔

چہارم، ہمیں واضح کرنا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

پنجم، ہمیں افغان کثیرالنسلی نوعیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قومی مفاہمت کی اہمیت پر زور دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے تناظر میں کلیدی ترجیحات یہ شامل ہیں کہ انسانی نوعیت کا بحران جنم نہ لے جس سے افغانوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں۔ اسی قدر یہ بھی اہم ہے کہ افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔اگر انسانی نوعیت کے بحران کو جنم لینے سے روکا جائے اور معاشی استحکام کو یقینی بنالیا جائے تو امن کی بنیاد مستحکم ہوسکتی ہے اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی یلغار سے بچا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری خاص طورپر اس کلیدی ونازک مرحلے پر اپنے رابطے برقرار رکھے۔ سفارتی اور عالمی موجودگی کی تجدید سے افغان عوام کو ایک نیا یقین واعتماد میسر آئے گا۔ اقوام متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کے قائدانہ کردار میں انسانی نوعیت کی فوری امداد سے اعتماد سازی کے عمل کو نئی تقویت ملے گی۔مالی وسائل تک افغانستان کی رسائی ملک کو مکمل انحطاط سے بچانے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں کلیدی ہوگی۔

وزیر خارجہ نے تجویز پیش کی کہ ہمسایہ ممالک کے اس اہم پلیٹ فارم کو مستقل اور باضابطہ مشاورتی نظام میں بدل دیاجائے اور مستقبل میں افغانستان کو اس میں مدعو کرنے پر بھی سوچا جاسکتا ہے۔افغانستان کی اس میں شمولیت سے فورم کے موثر ہونے اور افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے ہمارے مشترکہ مقاصد پر پیش رفت کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کے استحکام میں ہمسایہ ممالک کا براہ راست مفاد ہے۔عالمی برادری کے لئے ہماری مشترکہ آواز پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے پیغام کو تقویت دے گی جو نہ صرف داخلی طورپر پرامن ہو بلکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی امن وآشتی کا حامل ہو۔

یاد رہے کہ کانفرنس کی میزبانی پاکستان نے کی،ورچوئل کانفرنس میں چین، ازبکستان،ترکمانستان ،تاجکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

reaking

Address

Office 214 B Centre Point Plaza Kohinoor Faislabad
Faislabad
38000

Telephone

+923064388531

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eye News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Eye News:

Share